Husan E Nikah by Haadi Khan NovelR50689 Husan E Nikah (Episode 02)
Rate this Novel
Husan E Nikah (Episode 02)
Husan E Nikah by Haadi Khan
جاگتی آنکھوں کو خواب ملا ہے
مجھےمحبوب لاجواب ملا ہے
زیست کی راہیں روشن ہو گئیں
مجھےایسااک مہتاب ملا ہے
اسےچوم کر آنکھوں سےلگاتاہوں
میرےخط کا جوجواب ملا ہے
اس سانحہ سےکیسےسنبھل پاؤں
مجھےاس کے ہجرکاعتاب ملاہے
مجھےمیرےخوابوں کی تعبیرمل گئی
اس کی چاہت کا تحفہ نایاب ملاہے
یہ میری خوش نصیبی نہیں توکیاہے
جو اس سےدیوانےکاخطاب ملا ہے




























“جب آپ لوگوں کایہ ہی المیہ ہےکہ اس کوکام والی ہی بناناہےتومیرے بھائیو! تم اب تک عورت کو سمجھ ہی نہیں پاۓ” ذیشان ان کی جاہلیت کااندازہ لگاکربولا
“توکہناکیاچاہتاہےکہ ہم ذن مریدی ٹھپہ لگوالیں خود پر؟ بیوی جو کہے بیٹھ جاؤ تو بیٹھ جائیں، کھڑے ہوجاؤ تو ہوجائیں”جاوید نےمزید تنقیدکی
“اب میں نےایسابھی نہیں کہا… بس اس کوسمجھو، وہ سب کچھ چھوڑکرآتی ہےتواس کوفکرہوتی ہے نا تمہاری، اوراگروہ چند سوالات پوچھ بھی لیتی ہے تو تمہاری ہی فکرمیں پوچھتی ہے نہ کہ لڑائی کی نیت سے” ذیشان نے ان کو قائل کرنے کی پہلی ضرب لگائی
“میں نہیں مانتا عورت کی اوقات ہی نہیں ہے اتنی، اسے بس مردسےڈر کر رہنا چاہیے، نہ کہ مرد کےسرپر چڑھی رہے” ہاشم نےاپنے خیالات کااظہار کیا
“عورت عزت کادینےکانام ہے نہ کہ اس پرحکمرانی کرنےکا، بےشک کہاگیاہے کہ مرد عورت کامجازی خدا ہےپراسکایہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ اس پر حکومت کرنی چاہیے، خداکا درجہ دیاہے توسچ میں خدا نہیں بنناچاہیے ” ذیشان کی باتوں کابس ہاشم پر اثرہوا، جواب خاموش ہوگیاتھا
“جوبھی کہو عورت توہوتی ہی مارکےقابل ہے، میں توجب تک ہفتےمیں اک باراپنی بیوی کومارنہ لوں مجھےچین نہیں آتا نہ ہی اس کوسکون ملتاہے، یہ ہوتی ہےمردانگی، میں تو اس کو زبان ہی نہیں کھولنےدیتا”جاویدنےاپنی جھوٹی مردانگی کا جھنڈا لہرایا
“یہ مردانگی نہیں ہے جاویدبھائی! مردانگی تو یہ ہے کہ آپ اپنی عورت کی آنکھوں میں آنسو نہ آنےدو،، مردکی مردانگی طاقت کےنشےمیں چور ہو کر کسی پر حاوی ہونانہیں بلکہ احساس کا ا ک دیپ اپنےاندرجگاکررکھنا اصل مردانگی ہے”ذیشان نے جاوید کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر باورکروایا
اب کی بارتو محفل کےدو لوگ توجواب ملنےپرصم بکم ہوگئےتھے
“اسےسرپربٹھالیاجاۓتو زبان چلاتی ہےپھر”ایازاک دم بڑھک اٹھا
“توپھریہ توآپکوبہتر پتا ہونا چاہیے…”ذیشان نےایاز کی طرف اشارہ کیا
ہاشم اورجاویدنے بھی ہاں میں سرہلادیا
“کیامطلب اب مجھےکیا پتاھوگا؟” ایاز نےحیرت سے پوچھا
“بہن کومارپڑےتوبہت برا ہوا، ظلم ہوگیا، اگربیوی کو مارو تو مردانگی،،
ہیں تودونوں ہی عورتیں پھردونوں میں فرق کیوں، جس پرآپ ہاتھ اٹھاتےوہ بھی تو بہنیں ہی ہیں کسی کی، جس دن آپ بیوی پرہاتھ اٹھاناچھوڑ دو گے اس دن آپ کی بہنوں پربھی ہاتھ اٹھنابند ہوجاۓگا… “ذیشان بولتاگیا جب کہ وہ تینوں اسکی باتوں کو غورسےسن رہے تھے
“بس آخری بات یہ اتنی ساری بس کہ…” ذیشان اک لمحے کوچپ ہوا
“عورت ماں بہن ہوتی ہے چاہے کسی کی بھی ہو، اسے یوں بیچ چوراہوں پر بحث ومباحثوں کی نذرنہیں کرناچاہیے” اتنا کہتےہی ذیشان کرسی سے اٹھااورچلاگیا
ذیشان کے اس بدلے رویے پر وہ تینوں دھنگ رہ گئے
وہ تینوں آپس میں اک دوسرے کودیکھتےرہے مگر کسی کےمنہ سے اک لفظ نانکلا..
پھراک دم ہی ان کی نظریں خودبخودجھک گئیں
انسان کوجب تک کوئی سمجھاتارہےاس کوس سمجھ نہیں آتی، مگرجب یہ سمجھانےوالاسلسلہ ختم ہوجاۓتو اک ہی احساس باقی رہتاہےاوروہ احساس پچھتاوےکاہوتاہے




























“اگرمیں نہ ملتاتوپھرکیاہوتا؟، کسی اورکیلئےدعاہوتی کیا…”ذیشان نےبیڈ کی دوسری جانب بیٹھتے ہوۓ کہا
“یہ ہوہی نہیں سکتاتھا میں نےاپنےلئےاک بہترین اورکامل ہمسفرکی دعاکی تھی، میرے لئےمیرے اللھ کا انتخاب آپ ہیں تواس میں کوئی شک نہیں کہ آپ پرفیکٹ ہیں…” بشری نےاک پختہ یقین سےکہا
“کہاں سےسوچ لیتی ہو ایسی باتیں…”
یہ میں نے جامعہ سے سیکھاہے، وہاں ہماری اک باجی یاسمین ہوتیں تھیں، ان سے مل کرلگااسلام اک مکمل دین ہے، ان سےجوبھۂ
ان سےجوبھی ملتاہےبس انہی جیساہوجاتاہے”بشری نےبال سنوارتےہوۓکہا
“انہوں نے بتایایہ سب اور نکاح کاموضوع اس انداز سے سمجھایاکہ ہمارےاندر اک نامحرم کی محبت مردہ ہوگئی…”
“توکیاتمہیں کبھی محبت نہیں ہوئی…” ذیشان نے اک دم سوال کیا
“میرےلئےاس کی محبت کافی تھی اس کے علاوہ مجھ پرکسی کی محبت حاوی نہیں ہوسکی،جامعہ میں ہی میری اس بارے میں بہت اصلاح ہوئی ہے…” بشری اک وثوق سے بتانےلگی
“افسوس! میراتوجامعہ میں داخلہ ہی نہ ہوسکا…”ذیشان نےبےترتیبی سےکہا
“کیاکہا؟ آپ کو جامعہ جانا ہے…؟ بشری نےہنستے ہوۓ کہا
“لیکن میں توشرم کےمارے مسجد بھی نہیں جاسکتا لوگ کیاکہیں گے مجھے تونمازبھی ٹھیک سےنہیں یاد، بھول چکا ہوں پتانہیں آخری بارکب پڑھی تھی …” ذیشان مایوسی سےبولا
“بس اتنی سی بات…؟” بشری نےپوچھا
“تواورکیا میں تمہیں دیکھتاہوں توسوچتاہوں تم کتنی اچھی ہو اورمیں خود بہت براہوں…”
“کیامیں آپ کوسکھاؤں؟”اک پل کودونوں کےدرمیان خاموشی چھاگئی
“اک عورت مجھےسکھاۓ گی…؟”ذیشان نےپہلےمن میں سوچا
“کیاسوچ رہےہیں؟ میں آپ کی بیوی ہوں اگرسمجھا بھی دیاتو کوئی فرق نہیں پڑےگا” بشری معصومیت سےبولی
“کیاایسا ہےکہ بیوی شوہر کو کچھ سکھاۓ…؟”
“ہاں نا نکاح میں ایسی طاقت ہے کہ اس میں اک دوسرےکوسمجھنےاور سمجھانے کی صلاحیت ہوتی ہے یہ رشتہ ہی اتناخوبصورت ہے” بشری نے نکاح کی شان بتائی
“تو میں سب سےپہلےکیا کروں…؟”ذیشان کےچہرے پراک چمک آگئی
“سب سےپہلےآپ وضوکریں، آج ہم نماز عشاء اک ساتھ اداکریں گے…” بشری نےخوش ہوکرکہا
“میں ابھی آیا…” ذیشان وضوکرنے اٹھا




























جواپنا یار تھا اجنبی بن گیا
جو غیرتھا وہ زندگی بن گیا
اس کےدل کےتار چھیڑے
وہ اک پیاری راگنی بن گیا
عشق جب انتہا کو پہنچا
تومیرےلیےبندگی بن گیا
جب وہ مجھ میں سماگیا
یہ رشتہ روحانی بن گیا
زمانہ جسےبھلا نہ سکےگا
ہمارا پیارایسی کہانی بن گیا




























“چلو چلتےہیں جوجولیناہے لے لینا”
“نہیں ذیشان مجھےکچھ بھی نہیں چاہیے ابھی توآپ لےکرگئے تھےمجھے” بشری نےانکارکردیا
“یہ کیابات ہوئی بھلااب…”ذیشان کےماتھےپربل پڑ گئے
“سب لڑکیاں توشاپنگ کا نام سن کر ایسے خوش ہوتی ہیں جیسے شدید بھوک میں کھانا کھلنےکا اعلان ہو” ذیشان نے ہنس کرکہا
“افسوس ہے ان عورتوں پر جوفضول خرچےپر خوش ہوتی ہیں، ان کو چاہیے جو مل جاۓ اس پرقناعت کریں اور جو نہ ملےاس پرصبرکریں…”بشری نے آہ بھر کرکہا
“مگرکیا شوہراگراپنی مرضی سےلےجاناچاہے تو اس کومنع کر کے ناراض کرنا چاہیے…؟”ذیشان اداس سے لہجےمیں شکوہ کرنے لگا
“نہیں میرا یہ مطلب تو نہیں تھااب، مگرجو چیز میسرہوتو مزید لےکر کیا کرنا ہے…” بشری فضول خرچی سےپرہیز کرتی تھی
“شایدپھرآپ نے وہ حدیث نہیں سنی ہوگی…”ذیشان بولا
“کون سی…”
“میاں بیوی پرخرچ کرنا”
“میرے علم میں نہیں”بشری نےکہا
“ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اک دینار وہ ہےجوتم نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، اک دینار وہ ہےجس سےتم نے اک غلام آزادکروایا، اک دیناروہ ہےجوکسی مسکین کو تم نے صدقے کےطور پر دیا، اک دیناروہ ہےجو تم نےاپنی بیوی پرخرچ کیا، ان میں سے سب سے ذیادہ اس دینارکاہے جوتم نے اپنی بیوی پرخرچ کیا_(مسلم)” ذیشان نےپوری حدیث بیان کی_
“واہ ذیشان ماءشااللہ سے آپ کےپاس توبہت علم ہے…”بشری پہلےتو حیران سی رہ گئی پھر اس نے ذیشان کو کھلے دل سے سراہا
“توآپ کوکیالگتاہےمجھے بس روائیتی مردوں کی طرح 4 شادیوں کےاحکام ہی یادہونگے…؟”ذیشان نے منہ پھلاکرکہاتوبشری کی ہنسی نکل گئی
“نہیں نہیں اب میں نے ایسابھی نہیں کہا”وہ اپنی ہنسی روکتےہوۓبولی
“اچھاچلیں یہ بتائیں مرد کو4 شادیوں اور عورت کو صرف اک کاہی حکم کیوں ہواہے، برابری کیوں نہیں ہے…”ذیشان کےسوالوں کی کتاب کھل چکی تھی
“یہاں پر اسلام نےیہ حکم اس لئےدیاکیونکہ دنیامیں عورتوں کی تعداد مردوں سےذیادہ ہے اور اس کی دوسری اہم وجہ یہ کہ اگر عورت بھی اک وقت میں مردکی طرح دو شادیاں کرتی تو بربادی ہوتیں…”
“بربادی کیسی…؟”
“اگرعورت دوشوہر رکھتی اک وقت میں تو اپنے بچے کو نام کس کا دیتی کیونکہ مرد کو بچے کی ماں کا پتاہوتاہے مگرعورت کو بچے کےباپ کا کیسے پتاچل سکتاہے اس طرح نسلیں، وراث خراب ہوتی اور یہ مسئلہ بہت بڑا ہوتاپھر…”
“درست کہابےشک اسلام ایک کامل دین ہے…”ذیشان نےتفصل سےآگاہ کیاتو بشری کےمنہ بےاختیارنکلا
“اور مجھے فخرہے تم جیسی بیوی پر…”وہ اظہار تشکرسے بولا
“اور مجھے بھی کہ آپ جیسا بیوی کو سمجھنے والاشوہر میرانصیب ہے… بشری نے بھی پرسکون ہوکر کہا
“اچھاچلوپھر چلتےہیں میری خوشی کی خاطرہی سہی…”ذیشان نےاک بار پھر منانےکی کوشش کی
“اچھاجی میں عبایہ پہن کرآتی ہوں پھر…” بشری اسکی محبت کےآگےہارگئی
“جلدی آناتیاریوں میں نا لگ جانا…”ذیشان نے آواز دے کر کہا
“اچھا جی میں بس ابھی آئی…” بشری کہہ کر کمرے میں چلی گئی




























“بھائی دوآئسکریم تو دینا ذرا..”ذیشان نے آئسکریم کے ٹھیلے کےپاس موٹر بائیک روکی
“کون سی والی بھائی..؟” ٹھیلے والے نےپوچھا
“کون سی سی ہیں..؟ذیشان نے مینیوپوچھا
“کارنیٹو، اومورکاچاکلیٹ فلیور، قلفہ، فیسٹ اور میگنم…” ٹھیلے والے پیشہ ورانہ انداز میں فلیورز گنواۓ
ذیشان بشری کودیکھنےلگا “مجھےکیادیکھ رہے ہیں آپ کوجوپسند ہے لےلیں…” بشری نے بات اسی پر ڈال دی
“بھائی دوکارنیٹو دے دو…” ذیشان نےکہااور پیسےدےکردونوں اک قریبی پارک میں آکربیٹھ گئے
بینچ پربیٹھ کر ذیشان نے بشری کو اک کارنیٹو تھمائی
“کھالو اب کیاٹھنڈاہونے کاانتظارکررہی ہو…”ذیشان نےاک دم بےاختیاری میں چاۓکا ذہن میں رکھ کرکہہ دیاتو یاد آنےپر دونوں ہنسنےلگ گئے
ذیشان نے بشری کو جانب اپناہاتھ بڑھایا اوراس کے ہاتھ کی طلب کی…
بشری نے شرماتے ہوۓ اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ میں دیا…
اب ذیشان کی انگلیوں نے بشری کےنرم و نازک ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں سمیٹ لیا…
وہ دونوں شادی کےبہت کم عرصے میں ہی اک دوسرےکی محبت میں گرفتارہونےلگےتھے
“”محبت کرنےکیلئے “نکاح” جیسا جائز رشتہ ہوناضروری ہے، محبت تو اچھی ہی محرم کے لئے لگتی ہے، محبت کی خوبصورتی ہی اسی میں ہے کہ اس جذبے کووہاں بنایا جاۓ جہاں اس کا جائز حق ہو، محرم کی محبت میں ہی دلی سکون ملتاہے اور اللہ کی رضابھی اسی میں ہوتی ہے””




























پاس بیٹھےجوڑے نےاک دوسرےکاہاتھ پکڑاہواتھا..
ثمن نےاپناسرحسن کےکندھےپررکھاہواتھا..وہ دونوں کسی اورہی جہاں کی باتیں کررہےتھے
اب کہ ذیشان کا پورا دھیان ان کی طرف تھا…
بشری آیسکریم کھانے میں مگن تھی، اچانک سے اسکی نظرذیشان پرپڑی تو
وہ اس خوشحال سے خوبصورت جوڑےکو بناپلک
جھپکےتک رہاتھا
بشری نے اسے ڈسٹرب کرنا ٹھیک نہ سمجھااور خود بھی اس جوڑے کی جانب متوجہ ہوگئی…
“ہم دونوں ساتھ ہی جائیں گےہمیشہ جدھربھی گئے” حسن نے اس کے چہرے پراپنی نظرجماکرکہا
“ہاں بالکل ہم شادی کریں گےاوراک دوسرے کی ہمراہی میں ہنسی خوشی
رہیں گے”ثمن کےلہجے میں پختہ یقین تھا
اتناسنناتھا کہ ذیشان اور بشری کے اک لمحےکوتو حوش ہی اڑگئے
“اگرکسی کو پتاچل گیاتو….؟” ثمن نے خطرےکا اندیش ظاہرکیا
“کچھ نہیں ہوتامیری جان! اک بارہماری شادی ہوجاۓ پھرہم اس جہاں سے اس جہاں ہونگے…”حسن نے ارادےباندھے
“حسن تمہاری یہ ہی باتیں مجھےقائل کرلیتی ہیں، پتا نہیں کب مجھے تمہاری انہی باتوں اپنادیوانہ بنالیا ہے…” ثمن نےاپنی محبت کی وجہ بتائی
اب ذیشان نےاپنامنہ بشری کے جانب کرلیا
“ارے…کیاہوا بشی روکیوں رہی ہو…”ذیشان نے حیرت سےپوچھا
“کچھ نہیں بس ایسے ہی…”بشری نےاپنی نظریں جھکالیں
“دیکھیں نا یہ کتنی بڑی غلطی کررہے ہیں…” بشری نےشرمندگی سےکہا
میں یہ سوچ نہیں سکی کہ ایک شخص آج سے ۱۴۰۰ سال پہلے ہم جیسوں کے لیے رو رو کر دعا کرتا رہا ۔۔
ہم تو اُن کی بتائ ہوئ سنت کو بھی بھول گئے ہیں۔
“قیامت کےدن کیا جواب دیں گےکیا،دھوکہ دے رہے ہیں خودکو بھی اوراپنے والدین کوبھی…”بشری بولتی ہوگئی
