Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode


رافع یہ کیا ہوا آپ کو رافع چپکے چپکے گھر میں داخل ہورہا تھا جب ایمان کی نظر اس پر پڑی…..
کچھ نہیں رافع نے اِدھر اُدھر دیکھ کر کہا…..
پھر یہ بینڈیج کروانے کا شوق ہورہا تھا آپ کو ایمان نے اسے گھورا…..
آرام سے بولو یار پاپا نہ آجائے تم کمرے میں چلو رافع آہستہ آواز میں بولا…..
رافع ایمان کو لے کر کمرے میں آگیا…
اب بتائے کیسے لگی یہ چوٹیں ایمان نے کہا…..
گر گیا تھا میں رافع نے جھوٹ بولا….
رافعع جھوٹ نہیں بولیں پلیز ایمان نے کہا…..
اچھا بھئی میری گاڑی کا بریک فیل ہوگیا تھا تو میں گاڑی سے کود گیا تو بس جبھی یہ چوٹیں آئی ہے رافع نے ہار مان لی اور سب سچ سچ بتا دیا……
لیکن کیسے بریک فیل ہوگیا؟ جب آپ گئے جب تو سب ٹھیک تھا؟ ایمان نے پوچھا…..
ارے مجھے کیا پتہ ہوگیا ہوگا رافع نے ماہم والی بات اسے نہیں بتائی…..
اچھا سنو تم پاپا کو مت بتانا وہ پریشان ہوجائے گے رافع نے کہا…..
ٹھیک ہے لیکن رافع ایمان نے کچھ کہنا چاہا…..
ایمان میرے سر میں درد ہورہا ہے پلیز چائے بنا دو رافع نے اس کے سوالوں سے بچنے کے لیے سر درد کا ناٹک کیا…..
آپ آرام کرے میں لاتی ہوں ایمان نے کہا اور کمرے سے نکل گئی…..
شکر رافع نے سکون کی سانس لی….
وہ ایمان کو بتا کر اسے پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا……


رات کو میں نے کچھ ایسا ہی خواب دیکھا تھا اور آج رافع کے ساتھ یہ سب ہونا کون کروا رہا ہے یہ یا یہ سب میرا وہم ہے اففف مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ہے رافع بھی سہی سے کچھ نہیں بتا رہے یااللہ تو ہی مدد کر سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھ آمین……
ایمان کچن میں کھڑی اپنی ہی سوچوں میں گھم تھی……


شام میں رافع ماہم کے گھر پہنچ گیا….
السلام و علیکم آنٹی ماہم ہے رافع نے گھر میں داخل ہوتے ہوئے کہا…..
وعلیکم السلام ہاں بیٹا وہ اپنے کمرے میں ہے ماہم کی والدہ نے کہا….
ٹھیک ہے رافع کہتا ہوا اوپر ماہم کے کمرے میں چلا گیا…..
اوہ آج میرے گھر کا راستہ کیسے بھول گئے ماہم نے رافع کو دیکھ کر کہا…..
مجھے اندازہ نہیں تھا تم اتنا گر سکتی ہو رافع نے خونخوار نظروں سے اسے گھورتے ہوئے کہا…..
کیا کیا میں نے؟ ماہم انجان بنی….
اوہ بس میرے سامنے معصوم بننے کی ضرورت نہیں ہے تمہیں رافع نے غصے سے کہا…..
رافع اب تمہیں پتہ چل ہی گیا ہے تو کیا چھپانا چلو ایک ڈیل کرتے ہیں تم ایمان کو چھوڑ دو اور مجھ سے شادی کرلو پھر میں کسی کو نقصان نہیں پہنچاوُں گی بولو منظور ہے ماہم نے مسکرا کر کہا اور ہاتھ آگے بڑھایا…..
کبھی نہیں رافع نے اس کا ہاتھ جھٹک دیا….
تو پھر اگلی بار کے لیے تیار رہنا ماہم نے کہا…..
ہر بار تم ناکام ہوگی کیونکہ تم غلط ہو اور جو لوگ دوسروں کا برا چاہتے ہے وہ خود کبھی خوش نہیں رہ پاتے اب فیصلہ تمہیں کرنا ہے کہ تم اچھے راستے پر جانا چاہتی ہو یا برے پر رافع نے کہا……
میں بس تمہیں چاہتی ہوں اور کچھ نہیں ماہم رافع کے قریب آئی…..
اور میں تمہیں بتا چکا ہوں میں تمہیں نہیں چاہتا ہوں ایمان میری بیوی ہے اور میں اسی سے محبت کرتا ہوں رافع اس سے دور ہوا……
ایمان ایمان ایمان آخر کیا ہے اس ایمان میں جس کی وجہ سے تم مجھے چھوڑ رہے ہو ماہم چیخی…..
وہ تم سے لاکھ درجہ اچھی ہیں اور میں تمہارے ساتھ تھا ہی کب جو تم کہہ رہی ہو میں تمہیں چھوڑ رہا ہوں رافع نے دانت پیس کر کہا……
ماہم جتنی جلدی تم یہ سمجھ جاؤ کہ میں تمہارا نہیں ہوسکتا اتنا تمہارے لیے بہتر ہوگا رافع نے کہا اور کمرے سے باہر نکل آیا اور ذور سے دروازہ بند کیا کہ ماہم کانپ گئی……
رافع تم ایسا نہیں کرسکتے میرے ساتھ اگر تم میرے نہیں تو کسی کے بھی نہیں ایک بار پلان فیل ہوا ہے ہر بار تو ایسا نہیں ہوگا نہ ماہم کمرے میں اِدھر سے اُدھر چکر لگا رہی تھی…….


“سنو آسان نہیں ہوتا
کسی کو یوں بھلا دینا..
پھر اس کو یاد نہ کرنا..
سنو آسان نہیں ہوتا
کہ جس پہ جان دی جاۓ..
پھر اس سے دور جایا جاۓ..
پھر اس کو یوں بھلایا جاۓ..
سنو آسان نہیں ہوتا”. 💔


ایمان چلو یار کہیں باہر چلتے ہے رافع نے کہا…..
کیوں؟ ایمان نے پوچھا….
یار کافی دن ہوگئے ہیں گھر میں بیٹھے بیٹھے بور ہوگیا ہوں چلو تیار ہوجاؤ آئسکریم کھا کر آتے ہیں رافع نے کہا….
اوکے ایمان مسکرا کر اٹھ گئی….
تم نیچے آجانا میں ویٹ کر رہا ہوں پاپا سے بھی اجازت لے لوں رافع نے مسکرا کر کہا اور کمرے سے نکل گیا…..


ایمان نے عبایا پہنا اور حجاب کر کے نیچے چلی گئی جہاں رافع اس کا منتظر تھا…..
آج وہ رافع کے ساتھ پہلی بار کہیں باہر جارہی تھی ایمان بہت خوش تھی….
رافع کی نظر جب ایمان پر پڑی تو اس کے لب بے اختیار مسکرا اٹھے……
ایمان کار میں آکر بیٹھ گئی…..
تم عبایا بھی پہنتی ہو کبھی بتایا نہیں رافع نے ڈرائیو کرتے ہوئے کہا….
آپ نے کبھی پوچھا بھی تو نہیں اور یہ کوئی بتانے والی بات بھی نہیں ایمان نے کہا…..
اچھا ویسے تم بہت اچھی لگتی ہو حجاب میں رافع نے اسے دیکھتے ہوئے کہا….
شکریہ اور میرا خیال ہے آپ کو اس وقت ڈرائوینگ پر دیھان دینا چاہیے ایمان نے کہا…
تو رافع ہنسنے لگا اور سامنے دیکھ کر ڈرائیو کرنے لگا آئسکریم پالر کے آگے رافع نے کار روکی اور خود اتر کر آئسکریم لینے چلا گیا کیونکہ اسے لگا کہ ایمان اندر کمفرٹیبل فیل نہیں کر پائے گی…..
ایمان کو بہت خوشی ہوئی تھی کہ رافع بن بولے اس کی بات سمجھ جاتا ہے ایمان نے دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ اللہ نے اسے اتنا خیال رکھنے والا ہمسفر دیا….
رافع آئسکریم لے کر آچکا تھا دونوں نے کار میں ہی آئسکریم کھائی وہ جانے ہی لگے تھے کہ رافع کی نظر سامنے پھولوں کے اسٹال پر پڑی تو وہ ایمان کو پانچ منٹ میں آنے کا کہہ کر پھول لینے چلا گیا….
رافع پھول لے کر واپس آ ہی رہا تھا کہ ایک کار تیزی سے آئی اور اس سے رافع کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ایمان چیخی اور کار سے باہر نکلی ایمان نے پہلے رافع کو اور پھر نظروں سے دور جاتی کار کو دیکھا اس میں سے ایک لڑکی نے کار کی وینڈو سے باہر جھانکا ایمان اسے پہچان گئی تھی وہ اور کوئی نہیں ماہم تھی….
ماہم نے گاڑی کا شیشہ اوپر کیا اور زن سے گاڑی بھاگا لے گئی…..
ایمان جیسے تیسے کر کر رافع کو اسپتال لے کر گئی….ایمان نے احمد صاحب کو فون کیا وہ اور علی بھی اسپتال آگئے تھے….رافع کا اندر آپریشن ہورہا تھا احمد صاحب دعا کر رہے تھے کہ جو پچھلے پانچ سال پہلے ہوا تھا وہ آج نہ ہو ڈاکٹر باہر آئے تو احمد صاحب اور ایمان ان کی جانب گئے….
کیا ہوا ڈاکٹر رافع ٹھیک ہے نہ اب؟ احمد صاحب نے پوچھا….
جی وہ اب بہتر ہے جلدی اسپتال لانے کی وجہ سے ان کی جان بچ گئی ہے تھوڑی دیر میں انہیں ہوش آجائے گا آپ مل لیجئے گا ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا…..
یااللہ تیرا شکر ہے ایمان نے نم آنکھوں سے کہا….
شکریہ ڈاکٹر احمد صاحن نے کہا….
میرا نہیں اللہ کا شکر ادا کرے ڈاکٹر صاحب کہہ کر آگے بڑھ گئے…..
اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے تو نے میرے بچے کو بچا لیا احمد صاحب کی آنکھیں نم تھی……


رافع کو روم میں شفٹ کردیا تھا ایمان روم میں آئی اور رافع کے بیڈ کے پاس پڑی چیئر پر بیٹھ گئی….
ماہم یہ سب کچھ کیوں کر رہی ہے کیا واقع وہ رافع کو چاہتی ہے لیکن رافع نے تو کہا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ان دونوں کے بیچ پھر وہ یہ سب کیوں کر رہی ہے ایمان نے ایک نظر رافع کو دیکھا ایمان کی آنکھوں سے دو اشک ٹوٹ کر رخسار پر گرے……
تم رو کیوں رہی ہو رافع جاگ چکا تھا…..
نہیں کچھ نہیں ایمان نے آنسوں صاف کیے…..
ارے یار اگر میری وجہ سے پریشان ہو تو پریشان مت ہو میں بلکل ٹھیک ہوں رافع نے اسے تسلی دی…..
رافع یہ سب ماہم نے کیا ہے وہ کیا چاہتی ہیں ہم سے ایمان رونے کو تھی……
تمہیں کیسے پتہ رافع نے تعجب سے اسے دیکھا….
جس گاڑی سے آپ کا ایکسیڈنٹ ہوا اس میں وہ تھی ایمان نے بتایا….
اب چھپانے کو کچھ تھا ہی نہیں تو رافع نے ساری بات اس کے گوش گزار دی…..
رافع کیا اس دن جو سب ماہم نے مجھے کہا وہ سچ تھا کیا؟ ایمان نے پوچھا…..
نہیں یار کچھ سچ نہیں وہ سب جھوٹ کہہ رہی تھی میں نے کبھی اسے نہیں کہا کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور اس نے بھی کبھی ایسا نہیں کہا میرے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ میرے بارے میں یہ سب سوچتی ہے وہ بس میری اچھی دوست تھی اور شاید اب وہ بھی نہیں رہی رافع نے کہا…..
تو پھر کیوں کر رہی ہے وہ یہ سب ایمان نے کہا…..
وہ پاگل ہوگئی ہے اسے ڈاکٹر کی ضرورت ہے رافع نے غصے میں کہا….
اچھا یار تم تو مت رو رافع نے ایمان کو روتا دیکھ کر کہا….
وہ پھر سے آپ کو نقصان پہنچائے گی ایمان ڈر رہی تھی کہ رافع کو کچھ ہو نہ جائے…..
جب تک اللہ نے نہ چاہا کچھ نہیں ہوگا مجھے اتنا سمجھاتی ہو پھر خود اتنی خوف زدہ کیوں ہورہی ہو رافع نے کہا…..
جن کو ہم چاہتے ہے نہ ان کو کھونے سے ڈر لگتا ہے ایمان نے نم آنکھوں سے کہا…..
رافع مسکرانے لگا اسے سن کر اچھا لگا تھا…..
ماہم کو خبر ملی کہ رافع اس بار بھی بچ گیا تو وہ اسپتال پہنچ گئی…
ہر بار تم بچ کیسے جاتے ہو ماہم چیخی…..
ماہم یہ تمہارا گھر نہیں اسپتال آواز نیچی رکھو رافع نے دانت پیس کر کہا….
لک اچھا ہے تمہارا میری اتنی کوششوں کے بعد بھی تم بچ گئے کوئی بات نہیں ماہم کہتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی…..
ماہم نے ٹرے میں پڑی سیزر اٹھائی اور اپنی کلائی پر رکھ لی…..
تم اسے تلاق دو ابھی کے ابھی ورنہ میں اپنا ہاتھ کاٹ لونگی ماہم جنونی انداز میں کہہ رہی تھی….
ماہم پلیز ضد چھوڑو پھینکو اسے ایمان بولی….
تم چپ رہو ماہم ایمان پر چیخی…
تم پاگل ہو کیا چھوڑوں سیزر رافع نے غصے سے کہا….
نہیں پہلے اسے تلاق دو ماہم چیخی….
نہیں رافع نے انکار کیا….
تو ٹھیک ہے ماہم نے کہا اور سیزر سے ہاتھ کاٹ لیا طلحہ آواز سن کر کمرے میں داخل ہوا ماہم کے ہاتھ سے خون بہتا دیکھ کر اس کے پاس آیا….
ماہم تم پاگل ہوگئی ہو کیا کیا ہے یہ سب طلحہ نے اس کے ہاتھ سے سیزر چھینی….
ایمان فوراً باہر بھاگی نرس کو بلانے کے لیے…..
اسپتال میں ہونے کی وجہ سے فوراً ہی ماہم کا ٹریٹمینٹ ہوگیا تھا…..
تم ٹھیک ہو ایمان نے پوچھا….
کافی دیر تک تو وہ کسی سے بھی ملنا نہیں چاہ رہی تھی لیکن پھر بھی ایمان چلی گئی….
اسے دیکھ کر ماہم نے آنکھیں موند لی….
ماہم دیکھو میں نہیں جانتی تم کیا چاہتی ہو تمہارے دماغ میں کیا چل رہا ہے تم رافع سے محبت کرتی بھی ہو تو میں رافع کو تمہیں سونپ تو نہیں سکتی نہ وہ میرے شوہر ہے میں ان کو کیسے چھوڑ سکتی ہوں تم بھی تو سمجھو نہ تم اچھی ہو بہت تمہیں تو کوئی بھی مل جائے گا ایمان ماہم کو سمجھا رہی تھی…..
ایمان میں نے رافع اور ساتھ اتنا برا کیا پھر بھی تم مجھ سے اتنے اچھے سے بات کر رہی ہو کیوں؟ ماہم حیران تھی…..
جو ہونا تھا ہوچکا خیر اچھا ہوگا ہم پرانی باتیں بھول جائے ماہم کیا تم ایک اچھی زندگی نہیں گزرنا چاہتی؟ چاہتی ہو نہ تو پھر بھول جاؤ سب جب میں سب بھول کر نئی شروعت کر رہی ہو تو تم بھی بھول جاؤ سب ایمان پیار سے اسے سمجھا رہی تھی…..
ایمان تم بہت اچھی ہو میں نے کتنا غلط کیا تمہارا ساتھ پھر بھی تم اتنے اچھے سے بات کر رہی ہو مجھ سے ایم سوری ایمان مجھے پتہ نہیں کیا ہوگیا تھا میں نے شروع سے رافع سے شادی کے بارے میں سوچا تھا اور جب مجھے یہ سب پتہ چلا تو مجھے جنون سوار ہوگیا تھا رافع کو حاصل کرنے کا پلیز تم مجھے معاف کردو ماہم نے روتے ہوئے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے…..
پلیز ہاتھ مت جوڑو کوئی بات نہیں تمہیں سمجھ آگئی یہی بہت ہیں ایمان نے اس کے جوڑے ہاتھ پکڑے…..
رافع کو بھی میری طرف سے سوری کہہ دینا پلیز ماہم نے کہا…..
نہیں ان سے اس بارے میں تم خود بات کرنا ایمان نے کہا…..
لیکن ماہم نے کچھ کہنا چاہا…
تم اب آرام کرو میں رافع کے پاس جارہی ہوں ایمان نے کہا….
ٹھیک ہے ماہم لیٹ گئی…..
اور ایمان روم سے باہر آگئی…..


چند دن بعد…..
رافع کی طبعیت اب کافی بہتر تھی…..
کیسے ہو؟ماہم نے پوچھا…….
ماہم رافع سے ملنے آئی تھی….
ٹھیک رافع نے مختصر سا جواب دیا….
ناراض ہو؟ ماہم نے پوچھا….
رافع نے کوئی جواب نہیں دیا…
رافع ایم سوری پلیز مجھے معاف کردو میں نے جو کیا میں اس پر بہت شرمندہ ہوں میں ایمان سے بھی معافی مانگ چکی ہوں پلیز تم بھی مجھے معاف کردو ماہم واقع بہت شرمندہ تھی…..
میں تمہیں معاف نہیں کرسکتا میں وہ سب کبھی بھول نہیں سکتا رافع کے چہرے پر سختی عود آئی….
رافع آپ جب اللہ سے معافی کی امید رکھتے ہے تو پھر دوسروں کو کیوں معاف نہیں کردیتے، رافع اللہ معاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے بیچ میں ایمان بول پڑی…..
رافع سوچ میں پڑگیا…
واقع جب ہم اللہ سے معافی مانگتے ہے تو یہی توقع رکھتے ہے کہ وہ ہمیں معاف کردے جب کے ہم کتنے گناہگار ہے لیکن وہ رب ہمیں پھر بھی معاف کردیتا ہے لیکن جب کوئی ہم سے معافی مانگتا ہے ہم اپنی انا بیچ لے آتے ہے کہ اس نے ایسا کیا ویسا کیا یہ نہیں دیکھتے کہ وہ شرمندہ ہے معافی مانگ رہا ہے دیکھتا ہے تو بس وہ جو گزر چکا ہوتا ہے…..
ٹھیک ہے ماہم میں نے تمہیں معاف کیا لیکن اب آئندہ کبھی ایسا نہیں ہونا چاہیے رافع نے کہا…..
شکریہ رافع تم نے میرے دل کر بوجھ اتار دیا اور آئندہ ایسا کرنے کے لیے میں یہاں ہوگی ہی نہیں جو کرونگی ماہم نے مسکرا کر کہا….
مطلب؟ رافع نے نا سمجھی سے اسے دیکھا…..
رافع میں امریکہ جارہی ہوں اپنی باقی کی اسٹڈی میں وہی کرونگی بس آخری بار تم سے ملنے اور معافی مانگنے آئی تھی تم دعا کرنا اللہ پاک بھی مجھے معاف کردے ماہم نے کہا…..
لیکن کیوں؟ رافع نے پوچھا…..
بس مت پوچھو بس تم دعا کرنا میرے لیے ماہم بمشکل مسکرائی تھی……
ماہم اللہ پاک تمہیں ضرور معاف کردیگا اس کے ننانوے ناموں میں ایک نام رحمن بھی ہے تم اداس مت ہو ایمان نے مسکرا کر کہا…..
تم ٹھیک کہہ رہی ہو اچھا اب میں چلتی ہوں تھوڑی دیر بعد میری فلائٹ ہے ماہم نے اپنا پرس اٹھایا اور کھڑی ہوگئی….
ٹھیک ہے خیال رکھنا اپنا رافع نے کہا….
تم بھی ماہم نے کہا اور رافع اور ایمان کو اللہ حافظ کہہ کر چلی گئی جاتے وقت ایک بار بھی وہ نہیں مڑی تھی…..


ایمان تم مجھ سے محبت کرتی ہو؟ رافع نے پوچھا….
آپ کو کیا لگتا ہے؟ ایمان نے الٹا اس سے سوال کیا….
ہاں لیکن تم خود بتاؤ پہلے میں نے پوچھا تھا….
رافع مجھے نہیں لگتا محبت ظاہر کرنے کے لیے لفظ ضروری ہے محبت لفظوں کی محتاج نہیں ہوتی محبت ایک احساس ہے جیسے محسوس کرنے کی ضرورت ہے ایمان نے مسکرا کر کہا…..
لیکن کبھی کبھی اظہار کرنا اچھا لگتا ہے رافع نے کہا…..
اچھا آپ بتائے آپ کو کبھی کسی سے محبت ہوئی؟ ایمان نے پوچھا….
نہیں محبت نہیں عشق ہوا ہے رافع مسکرا دیا….
کس سے ؟ ایمان نے پوچھا….
ہے کوئی رافع نے اسے تنگ کرنا چاہا…..
کون؟ ایمان نے اسے گھورا…..
وہ لڑکی اس وقت میرے سامنے بیٹھی ہے اور میں اسے بتانا چاہتا ہوں کہ میں اس سے محبت نہیں عشق کرتا ہوں کب سے یہ تو نہیں پتہ لیکن اب اس کے بغیر رہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا جس نے مجھے سدھار دیا میری دنیا کو سدھار دیا رافع جذبات سے چور لہجے میں کہہ رہا تھا…..
لیکن مجھے تو یہاں کوئی نظر نہیں آرہا ایمان نے مسکراہٹ دبائی…..
میں تمہاری بات کررہا ہوں میرے سامنے تم ہی بیٹھی ہو نہ سارے موڈ کی ایسی کی تیسی کردی رافع نے ایمان کو گھورا…
ہاہاہاہا رافع کی بات سن کر ایمان نے ایک ذور دار قہقہ لگایا…..
تمہیں بہت ہنسی آرہی ہے نہ ابھی بتاتا ہوں تمہیں میں رافع نے کشن اٹھا کر مارا….
ایمان اٹھ کر بھاگنے لگی رافع اس کے پیچھے بھاگا…..
پکڑ لیا اب کہاں جاؤ گی رافع ڈیویل کی طرح ہنسا…..
ایمان رافع کے بازؤں کے حصار میں تھی…..
رافع وہ دیکھے وہ کیا ہے ایمان نے اس کا دیھان بھٹکانا چاہا…..
تم ایک بار مجھے ایسے پاگل بنا چکی ہو اب نہیں بننے والا رافع ہنسنے لگا….
ایمان دانتوں سے لب کاٹنے لگی…..
ایمان تم بہت خوبصورت ہو جب میں نے تمہیں پہلی بار دیکھا تھا نہ تم قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھی اس وقت تم مجھے بہت خوبصورت لگی تھی شادی میں تو تمہیں سہی سے دیکھا ہی تھا لیکن سنا تھا تم بہت خوبصورت لگ رہی تھی شاید مجھے تم سے پہلے دن ہی محبت ہوگئی تھی اور تمہاری ان پیاری پیاری باتوں کی وجہ سے یہ محبت عشق میں بدل گئی اور میں وعدہ کرتا ہوں تمہاری ہر خواہش پوری کرونگا تمہارا بہت خیال رکھوں گا رافع ایمان کے دونوں ہاتھ تھامے محبت بھری نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا……
ایمان نے نظریں اٹھا کر رافع کو دیکھا تو وہ مسکرا رہا تھا ایمان ایک بار پھر سے سب کچھ بھولے رافع کے ڈمپل کو دیکھنے لگی تھی….
اس ڈمپل کا کچھ انتظام کرنا پڑے گا مجھ سے زیادہ تو تم اسے دیکھتی ہو رافع نے منصوئی خفگی سے کہا….
رافع آپ بلکل پاگل ہے ایمان نے ہنستے ہوئے کہا….
تمہارے لیے رافع نے مسکرا کر کہا اور ایمان کو اپنی باہوں میں سمو لیا…..


چھ ماہ بعد…..
ایمان ایک گڈ نیوز ہے رافع کمرے میں آکر خوشی سے بولا….
کیسی گڈ نیوز ؟ ایمان نے نا سمجھی سے اسے دیکھا…..
سوچو کیا گڈ نیوز ہوسکتی ہے؟ رافع صوفے پر بیٹھ گیا…..
ہممم مجھے نہیں پتہ آپ بتا دے ایمان نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد کہا….
ہم چند دن بعد عمرے پر جارہے ہیں رافع نے خوشی سے کہا….
سچی ایمان بولی…
مچی رافع نے اسی کی انداز میں کہا….
رافع آپ سچ کہہ رہے ہیں نہ ایمان کو یقین نہیں آرہا تھا واقع کتنی خوشی ہوتی ہے نہ ایک دن یونہی پتہ چلے کہ اللہ نے اسے اپنے گھر بلایا ہے…..
ہاں میری جان میں سچ کہہ رہا ہوں ہم ویسے بھی کہیں گھومنے نہیں گئے نہ شادی کے بعد تو اب جارہے ہیں اور مجھے اس سے اچھی اور کوئی جگہ نہیں ملی جہاں میں تمہیں لے کر جاؤں رافع اٹھ کر اس کے پاس آیا…..
رافع میں بہت خوش ہوں میں بتا نہیں سکتی ایمان نم آنکھوں سے بولی…
میں بھی رافع نے کہا…..


بیت اللہ میں حاضری ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے لیکن وہاں جانا کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے اور اللہ جسے جوانی میں بلا لے اس کے لیے تو اس سے بڑی خوش قسمتی نہیں ہوتی جو دل اللہ اپنی محبت کے لیے چن لیتا ہے وہ دل بہت پاکیزہ ہوتے ہے اور زمانے والوں دے کچھ الگ ہوتے ہے اور اب ایمان اور رافع کی کہ خواہش پوری ہونے جارہی تھی…..
یااللہ میں تیرا گناہگار بندہ ہوں تو نے پھر بھی مجھے ہر نعمت سے نوازا ہے میں بہت غلطیاں کر چکا ہوں لیکن اب انہیں سدھارنا چاہتا ہوں مجھے موقع دے مجھے دلی سکون عطا فرما ! میرا دل اپنی طرف پھیر دے مجھے نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرما ! میری ماں کو جنت نصیب فرما ! یا اللہ دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی میرے نصیب میں لکھ دے…
یا اللہ میں تیری کس کس نعمت کا شکر ادا کروں تو ہمیں بے حساب نوازتا ہے میری دعائیں یوں قبول ہوجائے گی کبھی سوچا نہیں تھا اب تک یہ جگہ خواب میں یہ تصویروں میں دیکھی ہے لیکن آج یہاں میں حققیت میں کھڑی ہوں مجھے یقین نہیں آرہا ہے یا اللہ تو بہت رحیم ہے تو ہمارے گناہوں کو معاف فرما !
ہم سب کو دوزخ کی آگ سے بچا لینا….
اے رب کریم ہم سب کی جائز تمناوُں کو پورا فرما ! اور ہر مسلمان کو یہاں آنے کی سعادت نصیب فرما ! یا اللہ ہم سب کو دلی سکون نصیب فرما !
صحن حرم میں کھڑے وہ دونوں اپنی ہی دھن میں اپنے رب کو اپنے اپنے دل کا حال سنا رہے تھے کتنا خوبصورت احساس ہے نہ اس کے در پر اس کے گھر کے سامنے کھڑے ہوکر اس سے بات کرنا جو ہماری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے اس سے دل کا حال بیان کر کے کتنا سکون ملتا ہے نہ اور بے شک کوئی اس کے در سے خالی ہاتھ نہیں لوٹایا جاتا اور کتنا خوبصورت ہے یہ احساس کے جس ہستی سے ہم دل کے راز بیان کرتے ہے پہلے سے ہی سب سے واقف ہوتا ہے لیکن پھر بھی ہمارا حال سنتا ہے ہمیں سکون بخشتا ہے……
آج رافع اور ایمان کو سب مل گیا تھا کیونکہ جیسے رب مل جاتا ہے اسے سب مل جاتا ہے……..


ختم_شد