Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

رافع بس کر یار بہت پی لی تو نے آج گھر چل رات کے ایک بجے وہ اسے شراب خانے سے باہر لے کر جارہا تھا بلکہ یہ کہنا ٹھیک ہوگا کہ وہ اسے گھسیٹ رہا تھا………….
تو جا یہاں سے رافع نے اسے دھکا دیا اور خود لڑکھڑا کر گر گیا……..
ٹھیک سے کھڑا تو ہوا نہیں جارہا ہے اور باتیں کر رہا ہے اس نے پھر سے اسے سہارا دے کر کھڑا کیا……..
چل میں تجھے گھر چھوڑ دیتا ہوں انکل بھی پریشان ہورہے ہوگے تجھے کوئی فکر نہیں ہیں اس نے اسے سہارا دے کر کار میں بیٹھایا اور خود نے کار ڈرائیو کرنے لگا…….
مجھے نہیں جانا گھر رافع نشے سے دھت آواز میں بولا……
اچھا پھر کہاں جانا ہے اس نے اس کی جانب دیکھا ……..
مجھے تو یہاں چھوڑ دے رافع باہر کی طرف اشارہ کیا جہاں کچھ لڑکے بیٹھے نشہ کررہے تھے……
اچھا میں وہاں سے تمہیں اس لیے لایا ہوں تاکہ تمہیں یہاں چھوڑ دوں اس نے رافع کو گھورا اور نظرے سامنے جما لی…….
رافع نے آنکھیں موند لی اسے پتہ تھا وہ نہیں مانے گا اسے گھر چھوڑ کر ہی دم لے گا کچھ دیر کے سفر کے بعد وہ ایک عالیشان گھر کے سامنے کھڑے تھے وہ گھر اور کسی کا نہیں بلکہ رافع صاحب کا تھا………
اس نے رافع کو گاڑی سے سہارا دے کر باہر نکالا اور اندر لے گیا اندر احمد صاحب رافع کے منتظر تھے احمد صاحب کو دیکھ کر رافع چھپنے لگا…..
رافع احمد صاحب کی آواز گونجی……
ہیلو پاپا رافع نے کہا رافع کی آواز سے صاف ظاہر ہورہا تھا کہ وہ اس وقت کہاں سے آرہا ہے…….اور احمد صاحب کے لیے بھی یہ سب نیا نہیں تھا………
اپنے کمرے میں جاوُ ہم صبح بات کرے گے احمد صاحب نے کہا……
شکریہ علی بیٹا جو تم اس کو یہاں لے آتے ہو احمد صاحب نے کہا….انکل بیٹا بھی کہتے ہیں اور شکریہ بھی علی نے خفگی سے کہا……
ارے نہیں بیٹا تمہیں میں صرف بیٹا کہتا نہیں مانتا بھی ہوں احمد صاحب نے علی کے سر پر ہاتھ پھیرا…..
اچھا پھر آئندہ یہ شکریہ نہیں کہنا آپ ورنہ پھر میں ناراض ہوجاوُنگا آپ سے علی نے کہا تو احمد صاحب ہنس دیے ٹھیک ہے نہیں کہتا…….
چلے اب میں چلتا ہوں علی نے کہا…..
ٹھیک ہیں بیٹا خیر سے جاوُ احمد صاحب نے کہا اور اندر کو چل دیے ….


صبح کے آٹھ بجے رافع کی آنکھ کھلی رافع کو اپنے سر میں درد محسوس ہوا وہ اٹھ کر بیٹھا اسے رات والا واقع یاد آیا تو سر پکڑ لیا اب تو میری خیر نہیں رافع نے خود کلامی کی پھر اس کی نظر گھڑی پر گئی تو جلدی سے اٹھا اور شاور لینے بھاگا…….
آج تو دیر ہوگئ رافع جلدی سے تیار ہوا اور اپنا بیگ اٹھا کر نیچے بھاگا…….
گڈ مارننگ پاپا رافع کرسی کھینچ کر بیٹھا ……
السلام وعلیکم احمد صاحب نے کہا رافع نے کوئی جواب نہیں دیا….
رافع، احمد صاحب کی آواز تھوڑی سی بلند ہوئی…….
وعلیکم السلام رافع نے بے زاری سے کہا اور جگ سے گلاس میں جوس نکالا……
رافع بیٹے یہ سب کب تک چلے گا احمد صاحب نے تاسف سے اسے دیکھا…….
کیا؟ وہ انجان بنا…….
کب چھوڑوں گے یہ سب بیٹا ہمارے مذہب میں یہ سب حرام ہے احمد صاحب نے نرم لہجے میں اسے سمجھایا…….
اچھا میں جارہا ہوں دیر ہورہی ہیں مجھے رافع نے کہا اور اپنا بیگ اٹھا کر باہر نکل گیا…..
احمد صاحب اسے تاسف سے جاتا دیکھتے رہے…..

(یہ سب پہلی بار نہیں تھا وہ جب بھی سمجھاتے وہ ایسے ہی بہانے بنا کر چلا جاتا تھا احمد صاحب بہت پریشان رہتے رافع کے لیے اور رہتے بھی کیوں نہ ان کا ایک ہی تو سہارا تھا ان کا بیٹا ان کا سب کچھ……..


رافع احمد ، احمد صاحب کا اکلوتا بیٹا تھا جو بہت منت مرادوں کے بعد جا کر ان کے گود میں آیا رافع سب کا ہی لاڈلا تھا اور احمد صاحب اور ارم بیگم (رافع کی والدہ) کی تو جان بستی تھی اس میں وہ تھا ہی اتنا پیارا کہ کو دیکھتا اسے اس پر پیار آتا سب ہی ٹھیک چل رہا تھا لیکن اچانک سے ایک دن ارم بیگم کا ایکسیڈینٹ ہوا ہوگیا ڈاکٹر نے کہہ دیا تھا صرف اللہ ہی انہیں بچا سکتا ہے رافع کی تو جان نکل گئی تھی یہ بات سن کر لیکن اس نے خود کو سنبھالا اور مسجد بھاگا وضو کر کہ وہ اللہ سے اپنی ماں کی زندگی کی دعا کرنے بیٹھ گیا آنسوں سے کے تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے اللہ پاک مجھ سے تو چاہے میرا سب کچھ لے لے میں افف تا نہیں کرونگا لیکن پلیز میری ماما کو مت چھینے پلیز میں نہیں رہ سکتا ہوں ان کے بغیر تو میری زندگی بھی انہیں دے دے رافع رو رو کر دعائیں کررہا تھا جب علی بھاگتا ہوا آیا اور کہا جلدی چل آنٹی بار بار تیرا نام لے رہی ہیں رافع بھاگتا ہوا ہسپیٹل پہنچا……….
رافع میری جان ادھر میرے پاس آوُ ارم بیگم نے آہستہ سے کہا…….
رافع ان کے پاس جاکر بیٹھ گیا…..
بیٹا میرے بعد تمہیں اپنا اور اپنے پاپا کا خیال رکھنا ہے انہیں زیادہ تنگ مت کرنا ٹھیک ہے میری جان ارم بیگم نے پھیکی سے مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا….
نہیں ماما ایسے تو مت کہے نہ پلیز آپ کہی نہیں جارہی مجھے اور پاپا کو چھوڑ پاپا دیکھے نا ماما کو کیا کہ رہی آپ سمجھائے انہیں رافع نے روتے ہوئے کہا…….احمد صاحب خاموش تھے ان کے پاس الفاظ ہی نہیں تھے……
بیٹا ایک دن تو سب کو جانا ہے نہ میرا وقت آگیا ہے ارم بیگم نے مسکرا کر کہا وہ اس وقت کس اذیت سے گزر رہی ہے
یہ صرف وہی جانتی تھی کہ کس طرح سے وہ جھوٹی مسکان سجائے اپنے جان سے پیارے بیٹے کو الوداع کہہ رہی تھی جب کہ اس کا ان کا دل بھی رو رہا تھا ارم بیگم نے زور سے کلمہ پرھنا شروع کیا…….ماما ماما دیکھے نہیں جائے نہ پلیز میں نہیں رہ سکتا آپ کے بغیر آپ کیسے جاسکتی ہیں اپنے رافع کو چھوڑ کر مت جائے نہ پاپا دیکھے ماما کو پاپا دیکھے نہ رافع چیخ رہا تھا کیونکہ اب ارم بیگم دنیا میں نہیں رہی تھی نرس نے ارم بیگم کی آنکھیں بند کی اور منہ پر چادر ڈال دی….ماما ماماااا رافع چیخ رہا تھا وہاں کھڑے ہر شخص کی آنکھ نم تھی…..مامااا پلیز میرے ساتھ ایسا مت کرے ماماااا پلیز آنکھیں کھول لے پلیز ماماا پلیز رافع وہی ان کے سرہانے بیٹھ گیا علی نے آکر اسے اٹھایا تو وہ اس کے گلے لگ گیا وہ دن تھا اور آج کا دن تھا رافع اس دن کے بعد کبھی کسی کے سامنے نہیں رویا اس کے بعد اس نے خود کو کمرے تک محدود کر لیا پھر احمد صاحب کی وجہ سے اس نے پھر سے اپنی پڑھائی شروع کی لیکن اس کے بعد سے وہ اللہ سے دور ہوگیا تھا پہلے وہ کبھی کبھی نماز پڑھ لیا کرتا تھا لیکن اب اس نے سب چھوڑ دیا تھا اب وہ رات کو دیر سے گھر آتا اکثر تو وہ گھر آتا ہی نہیں تھا دوستوں کے ساتھ شراب پینی شروع کردی وہ اللہ سے دور ہوتا جارہا تھا احمد صاحب نے بہت کوشش کی اسے سمجھانے کی لیکن وہ بس ہمیشہ بات ٹال دیتا علی سے بھی اس نے ملنا کم کردیا تھا کیونکہ وہ بھی اسے اس سب کے لیے منع کرتا تھا یونی کے دوست اس کے اچھے نہیں تھے شراب وغیرہ پینا ان کے لیے عام تھا انہی سے رافع کو بھی لت لگ گئی
وہ یونہی راتوں کو شراب خانوں میں ہوتا تھا جب وقت زیادہ ہوجاتا تو علی اسے وہاں سے لے کر آتا کیونکہ اسے پتہ تھا کہ ایک وہی اس کا ٹھکانہ ہے )


وہ دیکھو آگیا میرا یار اسد نے رافع کو آتے دیکھ کر کہا……
کیسے ہو ہیرو ماہم نے رافع کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر خوشگوار لہجے میں کہا….
ٹھیک ہوں تم کیسی ہو رافع نے اس کے چہرے سے بال ہٹائے……
میں بھی ٹھیک ماہم نے چہرے پر دلکش مسکراہٹ سجائے کہا…..
ہم بھی ہیں طلحہ نے پیچھے سے آکر کہا……
کیا کروں جب ماہم سامنے ہو کوئی دیکھتا ہی نہیں رافع نے شرارت سے کہا…..
اوہ رئیلی ماہم نے رافع کو دیکھا……
جی ہاں رافع نے اسی کے انداز میں کہا….
ویسے بہت اچھی لگ رہی ہو آج تم رافع نے اسے دیکھتے ہوئے کہا……
تھینک یو ماہم نے اپنے بال آگے کو کیے….
چلو بھئ کلاس مس ہوجائے گی اسد نے کہا تو سب کلاس میں چلے گئے……


چلو سب کینٹین چلتے ہے آج تو سر میں درد ہوگیا میرے سر کا لیکچر سن کر ماہم نے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر پکڑا…….
ہاں چلو اسد نے کہا….
تم چلو میں آتا ہوں رافع نے کہا تو سب اندر چلے گئے……
رافع کینٹین میں آنے لگا تو ایک لڑکے سے ٹکر ہوگئی اور اس کے ہاتھ سے چائے رافع کی شرٹ پر گر گئی……
اندھے ہو دیکھائی نہیں دیتا تمہیں دیکھ کر نہیں چل سکتے کیا رافع نے غصے سے کہا…….
میری غلطی نہیں ہیں آپ کو دیکھ کر آنا چاہیے تھا میں تع اپنے راستے جارہا تھا لڑکے نے کہا……
اوہ تو غلطی میری ہے تم جانتے ہو میں کون ہوں رافع نے غصے میں کہا……
ہاں میری طرح ایک انسان لڑکے نے اطمینان سے کہا…..لگتا ہے یونی میں نئے ہو جبھی مجھے جانتے نہیں ہو کوئی بات نہیں جان جاوُ گے ابھی اپنا تعارف کروا دیتا ہوں رافع نے کہا اتنے میں بھیڑ دیکھ کر رافع کا گروپ بھی وہی پہنچ گیا…….
میں رافع احمد ہوں رافع احمد میں چاہوں تو ابھی تمہیں اس یونی سے باہر کرسکتا ہوں لیکن میں ایسا نہیں کرونگا تم نئے ہو تو میں سب کی پہلی غلطی معاف کر دیتا ہوں لیکن دوسری نہیں اچھا ہوگا آئندہ میرے راستے میں مت آنا ورنہ تمہارے لیے اچھا نہیں ہوگا سمجھے تم رافع نے بلند آواز میں کہا……
ہوگیا اب میں جاوُ لڑکے نے اس کی بات کا کوئی اثر نہیں لیا…..
پہلے یہ سب صاف کرو رافع نے زمین پر اشارہ کیا جہاں چائے پڑی تھی…….
میں کیوں کروں میرا کام نہیں یہ لڑکے نے کہا…..
میں نے کہا نہ مجھے نہ سننا پسند نہیں ہے رافع نے کہا…….
پلیز یار کرلے پیچھے سے لڑکے کے دوست نے آکر کہا…..
لیکن اس نے کچھ کہنا چاہا…..
میں کہہ رہا ہوں نہ اس نے کہا تو وہ نیچے بیٹھ گیا……
رافع مسکراتا ہوا باہر نکل گیا…….
(رافع ایسا تھا نہیں وہ کسی سے اس طرح بات نہیں کرتا تھا بس وقت نے اسے ایسا بنا دیا تھا بگڑا ہوا اور بدتمیز…..)
اففف یار ہم نے تو آرڈر بھی دے دیا یہ کہاں چلا گیا بِل کون دے گا ماہم نے کہا….
چلو سب اپنا اپنا بِل نکالو اسد نے کہا……


(رافع امیر ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ہینڈسم بھی تھا دراز قد،کسرتی جسم،کالے بال، گوری رنگت اور اوپر سے اس گال پر پڑتا ڈمپل اس اور بھی پر کشش بناتا تھا وہ جب مسکراتا تو اگلا دیکھتا رہ جاتا یونی کی ہر لڑکی دیوانی تھی اس کی لیکن وہ زیادہ کسی سے بات نہیں کرتا تھا بلکہ یوں کہنا ٹھیک ہوگا ماہم کسی لڑکی کو اس کے پاس بھٹکنے نہیں دیتی تھی…….)


رافع میری بات سنو آکر احمد صاحب نے
رافع کو آتا دیکھ کر آواز دی اور اپنے کمرے میں چلے گئے…….
رافع گہری سانس بھرتا ان کے عقب میں چل دیا…….
جِی پاپا رافع نے کمرے میں داخل ہوتے ساتھ کہا…..
دو گھڑی باپ کے ساتھ بھی بیٹھ جایا کرو جب دیکھو اپنے ان بے شرم دوستوں کے ساتھ رہتے ہو احمد صاحب نےکہا…..
ارے پاپا ایسی بات نہیں ہے رافع احمد صاحب کے پاس آ کر بیٹھ گیا…..
ہاں بس پتہ ہے کیسی بات ہے احمد صاحب نے خفگی سے کہا…..
نہیں ہے ایسی بات آپ کے لیے میرے پاس بہت وقت ہے رافع نے پیار سے کہا…..
چھوڑو یہ سب مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے احمد صاحب مدعے پر آئے….
جی کیا بات کرنی ہے رافع وہی ان کے پاس کرسی پر بیٹھ گیا…..
بِیٹا میں چاہتا ہوں تم شادی کرلو احمد صاحب نے مانو بم پھوڑا……
پاپا مجھے نہیں کرنی شادی وادی مجھے کیا ضرورت ہے شادی کی رافع نے کہا……
کیا مطلب کیا ضرورت شادی کی ہمیشہ اکیلے رہو گے آج ہوں میں کل نہیں ہوں میرے بعد کون خیال رکھے گا تمہارا احمد صاحب بولتے بولتے ہانپنے لگے……
پاپا ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ میں اسے خوش نہیں رکھ پاوُنگا پھر میں کیسے ایک لڑکی کی زندگی تباہ کردوں رافع نے کہا…..
اور آپ بھی مجھے چھوڑ کر جانے کا کہہ رہے ہیں میرا ہے ہی کون آپ کے سوا پہلے ماما چلی گئی اور اب آپ ایسی باتیں کر رہے ہیں رافع نے نم آنکھوں سے احمد صاحب کو دیکھا……..
میری جان میں نہیں جارہا ہوں بس تمہیں خوش دیکھنا چاہتا ہوں اور تمہیں پتہ ہے تمہاری ماں کے کتنے ارمان تھے تمہاری شادی کو لے کر اور تم اکیلے کیسے گزاروں گے پوری زندگی ہمارا گھر عورت کی نعمت سے محروم رہا ہے اس گھر کو ضرورت ہے تمہیں ضرورت ہے بیٹا احمد صاحب نے پیار سے سمجھایا…….
رافع سوچ میں پڑ گیا کہ وہ کیا کرے ٹھیک ہے پاپا مجھے کچھ وقت دے آپ رافع نے کہا اور کھڑا ہوگیا……
ٹھیک ہے بیٹا جاوُ اب تم آرام کرو احمد صاحب نے کہا……
احمد صاحب مطمئن ہوگئے کیونکہ انہیں لگ رہا تھا کہ رافع ہاں کردے گا انہوں نے رافع کی شادی کا فیصلہ اس لیے کیا کہ شاید رافع میں کچھ بدلاوُ آجائے کیونکہ جس لڑکی کا انہوں نے انتخاب کیا تھا انہیں یقین تھا کہ وہ رافع کو سنبھال لے وہ جو اتنے سال سے بدگمانی میں جی رہا ہے وہ اسے اس سب سے باہر لے آئے گی………..


لا الا اللہ محمد رسول اللہ ارم بیگم نے مشکل سے الفاظ ادا کیے اور چہرے پر ایک پھیکی مسکراہٹ سجائی موت کی ایک آخری ہچکی آئی اور ان کی روح پرواز کر گئی……
ماما پلیز آنکھیں کھولے رافع چیخ رہا تھا اس کے بعد نرس نے چہرے پر چادر ڈال دی علی اسے سنبھال رہا تھا میت کو گھر پہنچا دیا تھا رافع گم سم سا بیٹھا تھا خاموش چپ چپ سا بکھرے بال آنکھیں سوجی ہوئی ہر ایک کو اس کے حال پر ترس آرہا تھا…….
رافع جنازے کو کندھا دو آوُ احمد صاحب کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی…….
نہی نہیں میں ماما کو کہی نہیں جانے دونگا وہ بس سورہی ہے اٹھ جائے گی ابھی آپ لوگ جائے سب یہاں سے رافع نے کہا…..
رافع بیٹا چلو احمد صاحب نے نرم۔لہجے میں کہا…..
پاپا میں نے کہا نہ میں کہیں نہیں جارہا اور نہ ماما رافع دیوانہ وار بول رہا تھا….
جب احمد صاحب نے رافع کو ایک زور دار تھپڑ مارا رافع میں نے کہا نہ چلو کندھا دو نہیں رہی تمہاری اب اس دنیا میں احمد صاحب نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا……..
علی رافع کے پاس آیا اور اسے لے کر آگے بڑھ گیا…..
تدفین ہوگئی تھی رافع کا ضبط پھر سے ٹوٹا تھا وہ وہی قبر کے پاس بیٹھ گیا ماما کیوں چلی گئ آپ آنسوں روانی سے بہنے لگے……..
مامااااا رافع چیخ مار کر اٹھا وہ پسینے میں شرابور ہورہا تھا ہر طرف اندھیرا تھا اس نے محسوس کیا وہ اپنے کمرے میں ہے وہ اکثر ایسے خواب دیکھا کرتا تھا وہ رات وہ کبھی بھول نہیں پارہا تھا رافع نے سائیڈ ٹیبل سے فوٹو فریم اٹھایا وہ تصویر ارم بیگم کی تھی……
آنسوں پھر سے بہنے لگے رافع ماضی میں کھو گیا…..


ماما میں نے آپ کو منع کیا ہے نہ کیوں کرتی ہے آپ کام دیکھے اب دیکھے اگر میں وقت پر نہیں آتا تو گر جاتی آپ کو کس نے کہا تھا گرمی میں چھت پر جا کر کپڑے پھیلانے کو مجھے کہہ دیتی رافع ارم بیگم کے پاوُں دباتے ہوئے بول رہا تھا……
اچھا میں بیٹھ جاوُ تو کام کون کرے گا تمہاری بیوی ارم بیگم نے اس کے سر پر چپت لگائی……
ہاں آئیڈیا اچھا ہے ویسے میری شادی کردے آپ پھر آپ کو کام نہیں کرنا پڑے گا رافع نے شرارت سے کہا…..
ہاں بھئی شادی کی کچھ زیادہ جلدی نہیں ارم بیگم نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا….
نہیں میں تو بس آپ کے لیے کہہ رہا تھا رافع نے کہا…..
اچھا جی ارم بیگم نے کہا….
ہاں جی رافع نے بھی انہیں کے انداز میں کہا
ہاں بھئی میں اپنے بیٹے کے لیے چاند سی بہو لاوُں گی دھوم دھام سے کروں گی میں اپنے رافع کی شادی ارم بیگم نے خوشی سے کہا…..
رافع ماضی کی یادوں سے باہر آیا تو ارم بیگم کی تصویر پر ہاتھ پھیرا اور نم آنکھوں سے مسکرا دیا……ماں کتنی بڑی نعمت ہے نہ ماں ہر کسی کی جگہ لے سکتی ہے لیکن ماں کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا………
رافع کافی دیر یونہی ارم بیگم کی تصویر لیے بیٹھا رہا نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی رافع نے سائیڈ ٹیبل دراز سے سیگریٹ نکالی اور سیگریٹ پینے لگا……….


پاپا ٹھیک ہے میں تیار ہوں شادی کے لیے رافع نے ناشتہ کرتے ہوئے کہا……
بہت اچھا فیصلہ ہیں بیٹا تمہارا خوش رہو تمہاری ماں آج ہوتی تو کتنی خوش ہوتی احمد صاحب کو بے اختیار ارم بیگم کی یاد آئی…..
رافع کی آنکھیں نم ہوگئی ہمیشہ ارم بیگم کے ذکر پر اس کی آنکھیں نم ہوجاتی تھی اس نے انگلی سے آنکھ کا کنارا صاف کیا…….
رافع مجھ سے ایک وعدہ کرو کہ آئندہ تم شراب اور سیگریٹ کو ہاتھ نہیں لگاوُ گے بیٹا ہمارے مذہب میں یہ سب حرام ہیں تم کوشش کرو اور اپنے ان دوستوں سے دوستی ختم کرو وہ اچھے نہیں ہیں احمد صاحب نے ایک بار پھر کوشش کی تھی کہ شاید رافع سمجھ جائے….
پاپا مجھے دیر ہورہی ہیں ہم اس بارے میں بعد میں بات کرے گے بائے رافع نے پھر بات ٹال دی……