Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4


ماما چلی گئی تھی میرے اتنی دعا کرنے کے بعد بھی اللہ نے میری دعا قبول نہیں کی تھی میں نے بہت اٹھایا انہیں لیکن وہ نہیں اٹھی..
اس وقت مجھے لگا تھا میں اگلے پل سانس نہیں لے پاوُنگا میں بہت رویا اس کے بعد بس میری آواز گونج رہی تھی وہاں لیکن میرے رونے چیخنے چلانے دعائیں مانگنے سے کچھ نہیں ہوا تھا میری دعائیں قبول نہیں ہوئی میری دنیا مجھے چھوڑ کر چلی گئی کہتے ہیں ماں کے پیروں تلے جنت ہے لیکن میری جنت کو مجھ سے دور کردیا بعد پھر اس کے بعد سے جب میری پسندیدہ چیز مجھ دے چھین لی گئی تھی تو بس اس کے بعد میں نے وہ سب کرنا شروع کردیا جو اللہ کو نہیں پسند میں نہیں کرنا چاہتا تھا یہ سب لیکن جب جب مجھے ماما کی یاد آتی میں ٹوٹ جاتا تھا میں نے لوگوں کے سامنے رونا چھوڑ دیا تھا پھر میں بے سیگریٹ پینا شروع کردی تمہیں پتہ رات کو میں سو نہیں پاتا تھا میں نے نیند کی گولیاں لینی شروع کردی تھی پھر یونی میں مجھے کچھ دوست ملے ان کے ساتھ ایک بار میں کہیں گیا تھا انہوں نے مجھے شراب پلا دی پہلے مجھے نہیں پتہ تھا میرا دل اجازت نہیں دے رہا تھا لیکن پھر وہ سب یاد آتا تھا تو میں نے شراب پینی شروع کردی میں راتوں کو گھر نہیں آتا تھا پوری پوری رات شراب خانے میں ہوتا میں نے اپنی وجہ سے پاپا کو بہت پریشان کیا ہے رافع آہستہ آہستہ بول رہا تھا اور آنسوں تھے کہ تھم نہیں رہے تھے……
ایمان بھی اسے روتا دیکھ کر رو رہی تھی…..
پتہ ہے ایمان میں خود کو دنیا کی بھیڑ میں بہت اکیلا محسوس کرتا ہوں رافع نے ایمان کے طرف دیکھا…..
آپ اکیلے نہیں ہے پاپا ہیں اور آپ کے دوست بھی تو ہیں ایمان نے اپنے آنسوں صاف کیے…..
دوست رافع تلخی سے مسکرایا ایمان میرے دوست مجھ سے بس میرے پیسوں کی حد تک پیار کرتے ہے انہیں مجھ سے نہیں میرے پیسوں سے مطلب ہے وہ سمجھتے ہے یہ بات مجھے نہیں پتہ لیکن میں سب جانتا ہوں اور پاپا تو ہمیشہ سے میرے ساتھ ہے لیکن میں ان سے بیٹھ کر ٹھیک سے بات نہیں کرتا کیونکہ وہ مجھے…. رافع خاموش ہوگیا…..
کیونکہ وہ آپ کو ان سب کاموں کے لیے منع کرتے ہے ایمان نے اس کی بات مکمل کی…..
ہاں رافع نے سر جھکا لیا…….
میں بھی تو ہوں نہ آپ کے ساتھ میں آپ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گی ایمان نے رافع کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا……
رافع نے ایمان کی طرف دیکھا اسے اتنے سالوں بعد پہلی بار ایسا لگا کہ واقع وہ اکیلا نہیں ہے…….
رافع آپ سے ایک بات کہوں ایمان نے پوچھا….
ہاں رافع نے اپنے آنسوں صاف کیے…..
رافع آپ غلط فہمی میں جی رہے ہیں ایسا نہیں ہے اللہ پاک کسی کے ساتھ غلط نہیں کرتا ہے سب کا وقت مقرر ہے ہر کسی کو ایک نہ ایک دن اس دنیا سے جانا ہے لوگ کہتے ہے دنیا فانی ہے لیکن میرا کہنا ہے دنیا نہیں انسان فانی ہے کیونکہ دنیا سے انسان جاتا ہے انسان سے دنیا نہیں دنیا تو آخر میں ختم ہونی ہے تو دنیا کیسے فانی ہوئی….
ہر انسان کچھ دن کا مہمان ہے اس دنیا میں….
(انا للہ وانا الیہ راجعون)
ترجمہ:
ہم یقیناً اللہ کے ہی ہے اور اس کی ہی طرف لوٹ کر جانا ہے…..
رافع آپ جانتے ہیں جب حضرت ابراہیمؓ (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے)فوت ہوئے تھے تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اے ابراہیم تیرے جانے سے آنکھ روتی ہے دل غمگین ہے لیکن زبان سے ایسا لفظ نکالنے ہے جس سے میرا رب راضی رہے رافع ہم ان کی امت ہیں ہماری تو خوش نصیبی ہے یہ کہ اللہ نے ہمیں اپنے محبوب کا امتی بنا دیا ہے لوگ کسی کے مرنے پر بہت روتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے ہے جو صرف اس لیے روتے ہے کہ دنیا والے یہ نہ کہے اس کو دیکھو بھلا گھر میں میت پڑی ہے رو بھی نہیں رہا مرنے کا کوئی دکھ اسے تو ایسا لگ رہا ہے جیسے جان چھوٹی ہو خدا سے ڈرنا چاہیے ایسے الفاظ کہتے ہوئے تم کیا اس کے دل میں جھانک سکتے ہو جو ایسے کہہ رہے ہو ہوسکتا ہے وہ ضبط کر رہا ہو میں یہ نہیں کہتی کہ کسی کہ مرنے پر رو بھی نہ جانتی ہوں دکھ ہوتا ہے کہ جو کل ہمارے ساتھ تھا آج نہیں ہے اور نہ آنے والے پل ہوگا لیکن اللہ کی چیز تھی اللہ نے واپس لے لی جب ہمارے پاس ہوتی ہے تو کیا کبھی ہم اس چیز کا شکر ادا کرتے ہے نہیں نہ نہیں کرتے تو پھر جب لے لی جائے تو کیسا شکوہ ناراض تو اللہ پاک کو ہونا چاہیے لیکن وہ نہیں ہوتا ہمارے اتنے گناہوں کے باوجود ہمیں نوازتا ہے بدلے میں کچھ نہیں مانگتا لوگ اس کو بھول جاتے ہے جب دل کیا جاتے ہے جب دل نہ کیا نہیں جاتے پانچ وقت اس کا بلاوا آتا ہے ہم نہیں جاتے بہت کم لوگ ہے جو جاتے ہے اس کے بلانے پر رافع اللہ کو ہماری عبادت کی ضرورت نہیں ہے اس کے پاس تو لاکھوں فرشتے ہے جو دن رات اس کی عبادت کرتے ہیں نماز پڑھنا اد کی عبادت کرنا اس میں بھی ہمارا ہی فائدہ ہے ہم احسان نہیں کرتے اس کے اوپر ایمان ٹہر ٹہر کر بول رہی تھی اور رافع بس خاموشی سے نظریں جھکائے سب سن رہا تھا…..
رافع اللہ پاک کسی کے ساتھ برا نہیں کرتا نہ اس نے آپ کے ساتھ برا کیا برا تو تب ہوتا نہ جب آپ بلکل اکیلے ہوتے آپ کے پاس پاپا ہے میں ہوں پھر کیسے آپ اکیلے ہوئے پاپا بتا رہے تھے علی بھائی آپ کے بہت اچھے دوست ہیں وہ بھی تو آپ کے ساتھ ہے ہر اچھے برے وقت میں آپ کے پاس تو سب ہے رافع کچھ لوگ ہیں دنیا میں جن کے پاس کچھ نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں آپ کے پاس تو پھر سب ہے رافع اللہ پاک نے آپ کو موقع دیا ہے توبہ کا در کھلا ہے آپ پلیز اس بدگمانی میں مت جیئے پلیز آپ جس راہ پر چل رہے ہیں اس کی منزل اچھی نہیں ہے آپ پلیز اللہ کی طرف لوٹ آئے آپ کی ماما بھی یہی چاہتی ہوگی ایمان نے آخر میں رافع سے التجا کی……
رافع نے اس کی آخری بات پر سر اٹھا کر اسے دیکھا……
رافع،ایمان نے رافع کو دیکھا تو وہ رو رہا تھا اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھی…..
ایمان کیا میں واقع غلط ہوں؟ کیا میں واقع کسی غلط فہمی کا شکار ہوگیا ہوں ؟رافع نے روتے ہوئے ایمان سے۔پوچھا…..
ہاں رافع آپ غلط ہیں آپ غلط سوچ رہے ہیں آپ کی ماما کی بس اتنی ہی زندگی تھی ان کا وقت مقرر تھا وقت آنے پر سب کو جانا ہے ایمان نے نم آنکھوں سے کہا……
کیا مجھے اب معافی مل جائے گی؟ رافع نے کہا….
ہاں رافع اللہ بہت مہربان ہے وہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے مجھے پورا یقین ہے وہ آپ کو بھی معاف کردیگا ایمان کو بے حد خوشی تھی کہ وہ اپنے کام میں کامیاب ہوگئی تھی اسے یقین تو تھا کہ وہ سب ٹھیک کر دے گا لیکن اس کا نہیں پتہ تھا کہ یوں اچانک اتنی جلدی رافع سب سمجھ جائے گا اور سب ٹھیک ہوجائے گا
جب دعائیں یوں قبول ہوجائے تو کتنی خوشی ہوتی ہے نہ ایمان نے آج وہ خوشی محسوس کی تھی یوں تو بہت سی دعائیں تھی جو اس کی قبول ہوئی تھی لیکن یہ وہ پہلی دعا تھی جو اس نے اپنے خدا سے اپنے مجازی خدا کے لیے کی تھی…..
اللہ اکبر اللہ اکبر…….
فجر کی اذان ہونے لگی….ایمان نے رافع کی طرف دیکھا رافع جائے رب کا بلاوا آگیا منا لیجیئے رب کو ایمان نم آنکھوں سے مسکرا دی…..


رافع مسجد کے باہر کھڑا تھا اندر جانے کی ہمت نہیں تھی کہ کیا منہ دیکھائے گا کس منہ سے جائے وہ اندر کام تو سارے اس رب کو ناراض کرنے والے کیے ہے رافع سوچوں میں گھم تھا جب پیچھے سے کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا رافع نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو علی کھڑا تھا……
رافع کیا سوچ رہے ہو علی نے مسکراتے ہوئے پوچھا اسے یہاں دیکھ کر وہ بے حد خوش ہوا تھا…..
یہی کہ کس منہ سے جاوُں میں اندر رافع نے دکھ سے کہا…..
رافع چلو تم میرے ساتھ یہ اللہ کا گھر ہے اور وہ بہت مہربان ہے علی نے رافع کا ہاتھ پکڑا اور اسے مسجد کے اندر لے گیا آج پورے پانچ سال بعد اس نے مسجد میں قدم رکھا تھا ان پانچ سالوں میں وہ بہت بدل گیا تھا اور آج وہ ان پانچ سالوں میں ہونے والی غلطیوں کی معافی مانگنے آیا تھا……
اللہ پاک مجھے تو سہی سے دعا کرنی بھی نہیں آتی ہے بس مجھ سے بہت بڑی بھول ہوگئی ہے مجھے معاف کردے میں اتنے سال تک تجھ سے منہ مڑے جیتا رہا یا اللہ میں جانتا ہوں میرے گناہ بہت بڑے ہیں لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تیری ذات سب سے بڑھ کر ہے تو بہت رحیم ہے مجھ پر رحم فرما میرے مالک مجھے بخش دے
میں نے اتنے سالوں میں ایک بار بھی تیری عبادت نہیں کی لیکن تو نے مجھے ہر شئے دی کسی چیز سے محروم نہ رکھا میں تجھ سے اتنے سال غافل رہا لیکن تیری رحمت میں کوئی کمی نہیں آئی اللہ پاک تو بہت رحیم و کریم ہے..
یا اللہ میں تیرا شکر گزار ہوں کہ تو نے مجھے توبہ کرنے کی توفیق دی میں تیرا شکر گزار ہوں کہ تو نے ایمان جیسی لڑکی کو میرا ہمسفر بنایا شاید اگر وہ نہ ہوتی تو آج بھی مجھے ہوش نہ آتا یا اللہ میں تیرا نافرمان بندہ ہوں مجھے معاف فرما میں جانتا ہوں جیسا تو چاہتا تھا میں ویسا نہیں بن پایا لیکن اب میں پوری کوشش کرونگا کہ میں ویسا بن جاوُں جیسا تو چاہتا ہے اللہ پاک مجھ پر رحم فرما مجھ کو بخش دے میں اب آئندہ کبھی ایسا نہیں کرونگا پلیز اس بار معاف کردے اللہ پاک تو نے شیطان سے کہا تھا کہ میرا بندہ جب جب مجھ سے توبہ کرے گا میں اس کی توبہ قبول کرونگا یاالہی میری توبہ قبول فرما رافع اللہ رو رو کر اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کررہا تھا…….


اللہ پاک میں تیری شکر گزار ہوں کہ تو جلد ہی میری ہر دعا پر کن فرما دیتا ہے یااللہ میری ایک اور دعا قبول فرما اللہ پاک رافع کو معاف کردے اللہ پاک میں نہیں جانتی تھی میری دعا یوں قبول ہوجائے گی مجھے جو کام بہت مشکل لگ رہا تھا وہ اتنی آسانی سے ہوگیا کچھ ہی پل میں سب بدل گیا رافع کے ذہن میں جو بدگمانی تھی وہ ختم ہوگئی میں کس طرح تیرا شکر ادا کروں مجھے سمجھ نہیں آرہا یا اللہ تو ہمیں بے حساب بخشتا ہے تیرا احسان تو ہم کبھی چکا نہیں سکتے ہے اللہ پاک بس تو رافع کے گناہوں کو بھی بخش دے اور جو لوگ بھٹک گئے ہیں ان کو بھی سیدھی راہ پر لے آ میری دعاوُں پر فرشتوں کی آمین فرما…..
ایمان نے فجر کی نماز ادا کر کے دو نفل شکرانے کے ادا کیے اور قرآن پاک پڑھنے بیٹھ گئی…….


رافع یار آج تجھے یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی قسم سے میں ترس گیا تھا اس دن کے لیے علی نے رافع کو گلے لگاتے ہوئے کہا…..
ہمم یار دیر سے سہی لیکن ہوش آگیا مجھے رافع آپ پہلے سے بہت بہتر محسوس کررہا تھا دل پر ایک بوجھ تھا جو اب اتر گیا تھا اتنے سالوں سے وہ جس سکون کی تلاش میں تھا وہ اسے آج میسر ہوا تھا ساری تھکاوٹ ساری بے چینی سب دور ہوگئی تھی بے شک اللہ کے در پر ہی سکون ہے کچھ لوگ زمانے میں سکون تلاش کرتے ہے لیکن زمانے میں کیسے سکون ملے گا جب اللہ کے در پر ہی نہیں جاوُ گے سکون تو اللہ کی یاد میں ہیں اور اب رافع وہ سکون محسوس کررہا تھا……
اچھی بات ہے بہت علی مسکرا دیا…..
یار میں تجھ سے معافی مانگنا چاہتا ہوں پلیز تو بھی مجھے معاف کردے رافع نے علی کے آگے ہاتھ جوڑے…..
پاگل ہوگیا ہے کیا یار علی نے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ پکڑے……
نہیں یار میں نے تیرا بھی دل دکھایا تجھے اتنا اگنور کیا شاید برا بھلا بھی کہا ہو جب میں اپنے ہوش میں نہیں تھا رافع نے کہا……
نہیں یار تو نے کچھ نہیں کہا مجھے تو ایسے معافی مت مانگ علی نے کہا…..
اچھا رافع نے کہا….
ہاں بس پہلے کی طرح ہوجا علی نے مسکرا کر کہا…….


رافع کمرے میں آیا تو ایمان اس کی منتظر تھی……
تمہارا بہت بہت شکریہ ایمان رافع نے ایمان کو دیکھتے ہوئے کہا…..
کس لیے؟ ایمان نے پوچھا….
مجھے اس سب سے باہر لانے کے لیے اللہ سے ملانے کے لیے سہی راستہ بتانے کے لیے میری آنکھوں پر بندھی بدگمانی کی پٹی کو کھولنے کے لیے رافع نے ایمان کا ہاتھ پکڑ کر کہا…..
اس میں میرا کوئی کمال نہیں اللہ پاک چاہتے تھے یہ سب بس ایمان مسکرا دی……
ایمان تم بہت اچھی بہت بہت بہت اچھی رافع مسکرایا……
بس اتنی تعریف نہ کرے کہیں میں مغرور نہ ہوجاوُں جو میں ہونا نہیں چاہتی ہوں ایمان اس کے بولنے کے انداز پر ہنس دی……
اچھا رافع مسکرا دیا….
اب آپ کیسا محسوس کر رہے ہیں ایمان نے پوچھا……
بہت اچھا مجھے ایسا لگ رہا ہے دل سے ڈھیروں بوجھ اتر گیا ہو بہت پرسکون محسوس کر رہا ہوں ایمان تمہیں پتہ ہے میں جب دعا کر رہا تھا مجھے ایسا لگ رہا تھا۔جیسا اللہ پاک بس مجھے سن رہے ہیں ایمان بہت خوبصورت احساس تھا میں بتا نہیں سکتا رافع مسکرا مسکرا کر کہہ رہا تھا اور اس پر اس کے چہرے پر خوشی ہی خوشی تھی بس جس کو رب مل جاتا ہے اسے سب مل جاتا…..
بہت اچھی بات ہے رافع میں بھی بہت خوش ہوں رافع اب سے سب برے کام بند اور شراب کو تو ہاتھ بھی نہیں لگانا ایمان پہلے خوشی سے پھر وارننگ دینے والے انداز میں کہنے لگی……
سب کام بند اور شراب کو ہاتھ لگانا تو کیا اب دیکھوں گا بھی نہیں رافع نے مسکرا کر کہا…..
گڈ ایمان بھی مسکرا دی…..
اس وقت ایمان کے دل میں صرف ایک آیت آرہی تھی…..
فبای الا ربکما تکذبان
ترجمہ:
اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاوُ گے…..


السلام وعلیکم پاپا رافع نے احمد صاحب کو لان میں بیٹھے دیکھا تو وہی آگیا…..
احمد صاحب پہلے تو حیران ہوئے کہ یہ رافع ہی ہے نہ کیونکہ رافع نے سلام تک کرنا چھوڑ دیا تھا کیوں یہ وہ ہی جانتا تھا….
وعلیکم السلام احمد صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا….
آج یہ تبدیلی کیسے ؟احمد صاحب نے سوال کیا….
رافع نے ساری بات ان کے گوش گزار دی رافع صاحب کو بے حد خوشی ہوئی
انہوں نے اٹھ کر رافع۔کو گلے سے لگا لیا اور ماتھے کو چوما بیٹا میں بہت خوش ہوں تمہارے لیے اللہ نے میری سن لی آخر یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے سب ٹھیک ہوگیا احمد صاحب خوشی۔سے پھولے نہ سما رہے تھے……
پاپا آپ مجھے معاف کردے میں نے آپ کو بہت پریشان کیا ہے نہ رافع نے احمد صاحب سے معافی مانگی…..
کوئی بات نہیں بیٹا احمد صاحن نے مسکرا کر کہا اور رافع کو پھر ایک بار گلے سے لگا لیا….
ماں باپ ایسے ہی تو ہوتے ہے ہماری ہر بڑی سے بڑی غلطی کو جھٹ سے معاف کردیتے ہے……
پاپا میں نے آج اسد ماہم اور طلحہ کو گھر پر انوئیٹ کیا ہے رافع نے بتایا….
بیٹا لیکن احمد صاحب نے کچھ کہنا چاہا….
پاپا کل ہی میں انہیں انوئیٹ کرچکا ہوں اب منع کرنا اچھا نہیں لگتا۔میں جانتا ہوں آپ ان سب کو پسند نہیں کرتے لیکن بس یہ پہلی اور آخری بار ہے پلیز رافع نے احمد صاحب کو منانا چاہا……
ٹھیک ہے لیکن تم نے علی کو نہیں بلایا اور اسے بتایا سب احمد صاحب نے کہا…..
ہاں پاپا مجھے صبح ملا تھا میں نے بتادیا اس کو اور گھر آنے کا بھی کہہ دیا رافع نے کہا….
ٹھیک ہیں چلو ناشتہ کرتے ہے احمد صاحب نے اندر کے جانب قدم بڑھائے…


یار رافع تمہارا گھر تو بہت پیارا ہے طلحہ نے گھر کی تعریف کی……
شکریہ رافع نے کہا……
ایک دن یہ سب میرا ہوگا کتنا مزا آئے گا پھر ماہم نے دل میں سوچا…..
یہ کون ہے ماہم نے علی کو دیکھ کر پوچھا….
یہ میرے بچپن کا دوست ہے علی رافع نے علی کا تعارف کروایا…..
السلام وعلیکم علی نے سلام کیا….
وعلیکم السلام تینوں نے یک زبان جواب دیا…..
سب لاونج میں آکر بیٹھ گئے احمد صاحب اپنے کمرے میں ہی تھے انہوں نے ان کو یہاں آنے کی اجازت دی یہی بہت تھا……
سن اوئے اگر ماہم کو پتہ چل گیا کہ رافع کی شادی کا ہمیں پہلے سے علم تھا تو پھر ہماری تو خیر نہیں طلحہ نے کہا….
تو اتنا ڈرتا کیوں ہے اس سے کچھ نہیں ہوگا وہ کچھ کہے گی تو کیا ہم چپ چاپ سن لے گے اسد نے کہا…..
چڑیل ہے پوری خون پی جائے گی ہم دونوں کا طلحہ نے کہا….
کوئی بات نہیں تو بھی تو جن ہے نہ میں تجھے پیش کردونگا اس کے آگے اسد نے ہنستے ہوئے کہا….
طلحہ نے اسے کہونی ماری……
کیا باتیں ہورہی ہے ماہم ان دونوں کے پاس آ کر بیٹھ گئی….
ہر بات بتانے کی نہیں ہوتی اسد نے کہا تو ماہم تپ گئی اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئی…..
چلو پہلے کھانا کھا لیتے ہیں باتیں تو ہوتی رہے گی رافع نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا….


کھانا تو بہت مزے دار بنا ہے یار کس نے بنایا اسد نے کھانا کھاتے ہوئے کہا….
تمہاری بھابھی نے رافع نے مسکرا کر جواب دیا…..
رافع یار تمہارا کوئی بھائی بھی ہے تم نے بتایا نہیں کبھی ماہم نے کہا….
میرا تو کوئی بھائی نہیں کس نے کہا تم سے رافع نے کہا…..
پھر بھابھی؟ ماہم نے بس اتنا کہا…..
ارے میری بیوی تم لوگوں کی بھابھی ہوئی نہ رافع نے گویا ماہم کے سر پر بم پھوڑا……
ماہم کو پھندا لگ گیا رافع نے
اسے پانی دیا ماہم نے پانی پیا……
تمہاری بیوی تم نے شادی کب کی ماہم نے پوچھا….
ان دونوں نے بتایا نہیں میں نے کہا بھی تھا بتا دینا سوری شادی پر نہیں بلا پایا جبھی بس یہ دعوت دی رافع نے معذرت کی…..
ماہم نے غصے بھری نظر طلحہ اور اسد پر ڈالی تو دونوں کھانسنے لگے….
کیا ہوگیا ہے طبیعت تو ٹھیک ہے تم لوگوں کی رافع نے پوچھا….
ہاں ہاں ان کے بدلے ماہم نے جواب دیا….
ان دونوں نے نہیں بتایا مجھے خیر مبارک ہو بہت بہت اور کب ملوا رہے ہو اپنی بیوی سے ماہم نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا…..
کھانا کھا لو پھر ملواتا ہوں رافع نے کہا….
ماہم بمشکل مسکرا دی..

جاری_ہے