Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

پورا کمرا گلاب کی خوشبو سے مہک رہا تھا بیڈ پر ایک نازک سی لڑکی خود میں سیمٹی بیٹھی تھی اور جس کے لیے اسے سجایا گیا تھا وہ نا جانے کہاں غائب تھا گھڑی رات کا ایک بجا رہی تھی لیکن رافع کا آتہ پتہ نہیں تھا کافی دیر انتظار کے بعد جب وہ نہ آیا تو وہ وہی تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئی ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی اس کے آنکھ لگ گئی تھی اتنے میں ایک ذور دار آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور وہ چونک کر اٹھ گئی شراب کے نشے میں دھت شخص اندر داخل ہوا وہ لڑکھڑا رہا تھا پہلے پہل تو وہ ڈر گئی کہ نا جانے کون کمرے میں گھس آیا ہیں لیکن پھر غور کرنے پر وہ اسے پہچان گئی کہ یہ اور کوئی نہیں بلکہ رافع ہے………..
رافع اندر آیا اور واپس ذور سے دروازہ بند کردیا اور لڑکھڑاتا ہوا بیڈ پر گرنے والے انداز میں لیٹ گیا اسے اس سے کوئی غرض نہیں تھا کہ کوئی تھی جو کب سے اس کے انتظار میں تھی……
ایمان نے ایک نظر اپنے مجازی خدا کو دیکھا اور ایک گہری سانس بھری پھر اپنا شرارا سنبھالتی ہوئے ڈریسنگ روم کا رخ کیا……
اسے تو پتہ بھی نہیں تھا کہ جس کے ساتھ وہ بندھن میں بننے جارہی ہیں وہ ایسا ہے اس نے تو ماں باپ کے فیصلے پر سر جھکا لیا تھا خیر اب وہ جیسا بھی تھا اسے نبھانا تھا یہ رشتہ……


صبح فجر کی آذان کی آواز سے اس کی آنکھ کھلی اٹھ کر اس نے ایک نظر اپنے برابر میں دنیا سے بے خبر سوئے ہوئے رافع پر ڈالی……
کچھ دیر بیٹھی وہ سوچتی رہی کہ وہ اسے اٹھائے یا نہیں وہ جھجک رہی تھی کہ ناجانے وہ کیسا رییکٹ کرے گا لیکن اسے اپنی ماما کی بات یاد آئی کہ کسی کو نماز کے لیے تین بار ضرور دعوت دو اگر وہ پھر بھی نہ پڑھے تو پھر اس کی مرضی ہیں ایمان نے ہمت کر کے اسے اٹھایا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا جب کافی کوشش کے بعد بھی وہ نا اٹھا تو اس نے ہار مان لی اور خود وضو کرنے چلی گئی…….
نماز سے فارغ ہوکر وہ قرآن پاک کھول کر بیٹھ گئی اور سورة رحمن پڑھنے لگی جب بھی اس کا دل بے سکون ہوتا تو وہ سورة رحمن پڑھا کرتی اور سورة رحمن پڑھ کر اس کے دل کو ایک سکون سا مل جاتا تھا آج بھی اس کا دل پریشان تھا وہ بے سکون تھی رات سے رافع کو اس طرح نشے کی حالت میں دیکھ کر اس نے کبھی نہیں سوچا تھا اس کا ہمسفر ایسا ہوگا وہ۔اس سے بہت مختلف تھی…….
آج بھی سورة رحمن پڑھ کر اس کی پریشانی ختم ہوتی جارہی تھی ہر ایک لفظ اس کے دل کو سکون دے رہا تھا اللہ کی محبت کا یقین دل میں پختہ ہوتا جارہا تھا ہر ایک لفظ اللہ کی محبت کا یقین دلا رہا تھا….
رافع جاگ چکا تھا اس نے لیٹے لیٹے سامنے دیکھا وہ صوفے پر بیٹھی تلاوت کر رہی تھی سفید دوپٹہ چہرے کے گرد لپیٹا ہوا تھا اور وہ قرآن پاک پڑھنے میں مگن تھی اس نے۔محسوس کیا کہ وہ رو رہی ہے اور اس کی آواز بہت خوبصورت تھی وہ مسکرا دیا گال پر ڈمپل عود آیا اسے اس طرح سے دیکھ کر اسے اپنی ماں کی یاد آئی وہ بھی صبح صبح قرآن پاک کی تلاوت کرتی تھی ارم بیگم کی یاد آتے ہی مسکراہٹ کہی غائب ہوگئی تھی رافع کا چہرہ بجھ گیا چہرے پر سختی عود آئی اس نے ذور سے آنکھیں میچی دو آنسو آنکھوں سے آزاد ہوئے رافع نے کشن کانوں پر رکھ لیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا…..
ایمان اب پرسکون محسوس کر رہی تھی اس کی ساری پریشانی جھاگ بن گئی تھی اسے یقین ہوگیا تھا اس کے پیچھے اللہ کا کوئی مقصد ہے کہ اس نے اسے رافع کی زندگی میں شامل کیا بے شک اللہ اپنے بندوں کے ساتھ برا نہیں کرتا اس نے سوچ لیا تھا وہ پتہ کرے گی کہ ایسا کیا ہوا تھا جو وہ ایسا ہوگیا ہے ایمان نے قرآن پاک چوما اور غلاف میں لپیٹ کر رکھ دیا……
اب وہ سوچ رہی تھی کہ وہ کیا کرے گھر پر تو سب جلدی اٹھ جاتے تھے تو وہ کاموں میں لگ جاتی تھی اب یہاں کا اسے پتہ نہیں تھا خیر وہ کچھ سوچ کر اٹھی اور رافع کے کپڑے نکال کر پریس کرنے لگی کپڑے پریس کر کے وہ بیڈ پر آکر بیٹھ گئی اور رافع کو دیکھنے لگی
بے اختیار اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی کافی دیر وہ یونہی اسے دیکھتی رہی اور ناجانے کیا کیا سوچتی رہی وہ مہبوت سی اسے دیکھ رہی تھی
جب رافع نے پٹ سے آنکھیں کھولی……
کیا دیکھ رہی ہو رافع نے سنجیدگی سے کہا…..
ایمان گڑبڑا گئی کچھ نہیں….
ویسے کون ہو تم؟ رافع نے اسے تنگ کرنا چاہا اس کا یوں پریشان ہونا اسے اچھا لگا تھا…..
ایمان نے حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر رافع کو دیکھا اسے لگا تھا کہ واقع وہ اسے نہیں جانتا…..
آپ مجھے نہیں جانتے ؟ اس نے حیرت سے پوچھا….
ہاں کون ہو تم میں تو پہلی بار تمہیں دیکھ رہا ہوں رافع نے مسکراہٹ چھپائے سنجیدگی سے کہا…….
میں آپ کی بیوی ہوں کل ہی تو ہمارا نکاح ہوا ہے بھول گئے آپ وہ جتنا حیران ہوتی اتنا کم تھا کہ جس شخص سے نکاح ہوئے پورے چوبیس گھنٹے تک نہیں ہوئے وہ شخص اسے پہچاننے سے انکاری کر رہا ہے……..
اچھا لیکن میری تو کوئی شادی نہیں ہوئی میں تو تمہیں جانتا تک نہیں اس بار رافع ہنس دیا تھا کیونکہ ایمان نے ایسی شکل بنا رکھی تھی کہ اگر رافع کے جگہ اور کوئی بھی ہوتا تو ہنس دیتا…..
اسے ہنستا دیکھ کر ایمان سمجھ چکی تھی وہ اسے بس پریشان کررہا ہے…..
رافع نے ٹائم دیکھا اور جلدی سے اٹھ کر واش روم بھاگا تھوڑی دیر بعد وہ فریش ہو کر آیا بیلو جینز کے اوپر وائٹ شرٹ پہنے گیلے بال وہ واقع بہت ہینڈسم لگ رہا تھا….
ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑے ہوکر وہ بال بنانے لگا ایمان سامنے بیڈ پر ہی بیٹھی تھی وہ پھر سے اسے تکنے لگی…..
نظر لگاوُ گی کیا وہ قتلانہ مسکراہٹ اچھلاتا ہوا مڑا…….
ایمان کو اس کا ڈمپل بہت پسند آیا تھا وہ اسے دیکھنے سے کو خود باز رکھتی ہوئی بولی نہیں ایسی بات نہیں ہے……
اوہ رئیلی رافع ایک بار پھر مسکرا دیا…..
جی ایمان نے اس بار اسے دیکھنے سے گریز برت رہی تھی…..
سنو ،ایمان باہر جانے لگی جب رافع کی آواز پر رک گئی….
جی ایمان نے مڑ کر کہا….
ادھر آوُ رافع نے اشارے سے اسے بلایا….
جی ایمان نے جی کو لمبا کھینچا……
ادھر آوُ کھا نہیں جاوُ گا رافع نے کہا….
ایمان اس کے پاس جا کر کھڑی ہوگئی رافع نے اس کا ہاتھ پکڑا اور صوفے پر جا کر بیٹھا دیا اور خود بھی اس کے برابر میں بیٹھ گیا…..
دیکھو ایمان میں سے سب باتیں کلئیر کرنا چاہتا ہوں میں نہیں چاہتا کل کو تمہیں یہ باتیں کسی اور سے پتہ چلے اور تمہیں مجھ سے کسی بھی قسم کا شکوہ شکایت ہو وہ لمحے بھر کو سانس لینے کے لیے رکا…..
میں شراب بھی پیتا ہوں سیگریٹ بھی پیتا ہوں اور بہت سے برے کام کرتا ہوں میں ایک بہت برا شخص ہوں میں نہیں جانتا پاپا نے تمہیں میرے بارے میں کیا بتایا ہے لیکن میں تمہیں دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا ہوں اس لیے یہ سب پہلے بتا رہا ہوں کیا تم رہ لو گی میرے ساتھ وہ ٹہرا اور اسے دیکھنا لگا جو پہلے سے ہی مہبوت سی اس کی باتیں سن رہی تھی……
رافع اس کو پل پل حیران کر رہا تھا اتنی سی دیر میں نا جانے وہ اپنے کتنے روپ دیکھا چکا تھا…….
ہاں میں رہ لونگی لیکن ایمان بولتے بولتے روکی …..
لیکن رافع نے کہا…
آپ شراب کیوں پیتے ہیں یہ تو ہمارے….
مذہب میں حرام ہیں نہ رافع نے اس کی بات مکمل کی…
ہاں مجھے پتہ ہے لیکن میں بس ایک انسان ہوں میرا کوئی مذہب نہیں رافع نے نرم لہجے میں کہا…..
ایسا کیوں ایمان نے پوچھا…
پھر کبھی بتاوُں گا رافع نے ٹال دیا ایمان نے پھر پوچھا بھی نہیں بس خاموش ہوگئی……..
اچھا سنو رافع نے اس کو خاموش پا کر کہا….
جی رافع ایمان نے کہا….
اتنی عزت نہ دو اتنی عزت کا عادی نہیں ہوں بس رافع کہہ سکتی ہو رافع نے ہنستے ہوئے کہا…..
اس کی بات پر ایمان بھی ہنس دی……
خیر کل رات کے لیے ایم سوری یار میں آتے ہی سو گیا مجھے ہوش ہی نہیں رہا میں جانتا ہوں ہر لڑکی کے بہت ارمان ہوتے ہے شادی کو لے کر اور میں نے تمہارے سارے ارمانوں پر پانی پھیر دیا ایم سو سوری میں آئندہ سے خیال رکھوں گا اور پوری کوشش کرونگا تمہیں خوش رکھنے کی رافع نے دھیمے لہجے میں کہا…..
کوئی بات نہیں ایمان بس اتنا ہی کہہ پائی…..
اوہ تمہاری منہ دیکھائی تو میں دینا ہی بھول گیا رافع نے اپنا سر پر ہاتھ مارا اور پھر اٹھ کر الماری سے ایک لال رنگ کی چھوٹی سی ڈبیا نکال کر لایا پھر اس کو کھولا تو اس میں ایک خوبصورت سی ہیرے کی انگھوٹی تھی رافع نے انگھوٹی نکال کر ہاتھ میں لی اور دوسرا ہاتھ ایمان کی طرف بڑھایا ایمان نے جھجھکتے ہوئے ہاتھ اس کے ہاتھ میں دے دیا رافع نے اسے انگھوٹی پہنا دی اور اس کا ہاتھ ہونٹوں تک لے جا کر ہاتھ پر بوسہ دیا اور مسکرا دیا……
ایمان نے شرم سے نظریں جھکا لی….
ایمان تمہیں پتہ ہے یہ انگھوٹی میری ماما کی ہیں وہ ہمیشہ کہتی تھی یہ میں اپنی بہو کو دونگی یہ انگھوٹی اب وہ نہیں ہے تو میں نے تمہیں دی مجھے اس سے اچھا گفٹ نہیں ملا تمہارے لیے یہ انگھوٹی میری ماما کو بہت عزیز تھی اور مجھے میری ماما اس کو گھم مت کرنا کبھی بھی ورنہ میں نہیں جانتا میں کیسے پیش آوُگا رافع اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے کہہ رہا تھا…….
ایمان جو خاموشی سے اس کی بات سن رہی تھی اس کی آخری بات پر ڈر گئی تھی لیکن ظاہر نہیں کیا……
شکریہ ایمان نے مسکرا کر کہا…..
جواباً رافع بھی مسکرا دیا……
آپ کہیں جارہے ہے ایمان نے پوچھا….
ہاں میں یونی جارہا ہوں آج جلدی جانا تھا مجھے دیر ہوگئی رافع نے اپنا سامان سمیٹتے ہوئے کہا……
آپ ناشتہ نہیں کرے گے ایمان نے پوچھا….
نہیں تم پلیز بس مجھے چائے لا دو مجھے دیر ہورہی ہے رافع نے ٹائم دیکھتے ہوئے کہا……
ٹھیک ہے ایمان سر ہلاتی ہوئی کمرے سے نکل گئی…..


رافع رافع بیٹا آج جانا ضروری ہے کیا احمد صاحب نے رافع کو یونی کے لیے تیار دیکھا تو بول پڑے….
پاپا بہت ضروری کام ہے اس لیے بس رافع نے بالوں میں ہاتھ پھیرا…..
اچھا ناشتہ تو کرتے جاوُ احمد صاحب پھر سے گویا ہوئے…….
نہیں پاپا میں نے چائے پی لی ہے بس اب دیر ہورہی ہے بائے رافع کہتا ہوا نکل گیا…….
یہ لڑکا بھی نہ احمد صاحب نفی میں سر ہلاتے ہوئے آکر بیٹھ گئے……
السلام وعلیکم انکل ایمان نے آتے ہی احمد صاحب کو سلام کیا…..
وعلیکم السلام بیٹا خوش رہو اور مجھے انکل نہیں کہا کرو اب رافع کی طرح تم بھی پاپا کہا کرو میں تمہیں بہو نہیں بیٹی بنا کر لایا ہوں اب سے یہ گھر تمہارا بھی ہے احمد صاحب نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا…..
ٹھیک ہے انکل۔۔سوری پاپا ایمان نے کہا…..
بیٹا ادھر آوُ ادھر بیٹھو میں تمہیں کچھ بتانا چاہتا ہوں احمد صاحب نے نرم لہجے میں کہا….
ایمان احمد صاحب کے برابر والے صوفے پر جاکر بیٹھ گئی…..
دیکھو بیٹا میں تمہیں رافع کے بارے میں کچھ باتیں بتانا چاہتا ہوں جو تمہارے لیے جاننا ضروری ہے بیٹا رافع ہمیں بہت عزیز ہے بہت منتوں مرادوں کے بعد جا کر رافع ہمیں ملا ہے رافع پہلے ایسا نہیں تھا جیسا وہ اب ہے اس کی ماں کے انتقال کے بعد بلکل بدل گیا ہے اس نے بہت سے برے کام شروع کردیے میں نے بہت روکا لیکن وہ نہیں سنتا میری میں نے بہت کوشش کی لیکن سب بے سود بیٹا تمہیں دیکھ کر مجھے لگا کہ تم اسے بدل سکتی ہو اس کی اندھیری زندگی میں اجالا لا سکتی ہو ایمان بیٹا وہ جیسا بھی ہے لیکن دل کا برا نہیں ہیں تم اس کی باتوں کا برا نہیں منانا تم اسے سمجھنا اسے سمجھانا شاید تمہاری باتیں سمجھ جائے میں اسے جہنم میں نہیں دیکھنا چاہتا وہ اللہ سے بدگمان ہوگیا ہے احمد صاحب نرم لہجے میں اسے سب بتا رہے تھے……
پاپا میں پوری کوشش کرونگی ایمان نےمسکرا کر کہا…..
احمد صاحب مطمئن ہوگئے تھے اب…….
ایمان بیٹا ایک بات پوچھو احمد صاحب گویا ہوئے…….
جی پاپا پوچھے ایمان بولی…..
بیٹا یہ شادی تمہاری مرضی سے تو ہوئی نہ میں نے تمہارے والد صاحب سے کہا تھا کہ تمہاری مرضی ہو تو بتانا ورنہ کوئی بات نہیں میں جانتا ہوں شاید تمہارے ساتھ میں نے غلط کیا رافع کے لیے میں تمہیں لے آیا لیکن بیٹا میں مجبور تھا مجھے اور کوئی راستہ نہیں دیکھا تھا اور کوئی ایسی لڑکی بھی نہیں جو رافع کو اس سب سے باہر نکال سکے مجھے امید تھی تم یہ کرلوگی بس جبھی تم خوش تو ہو نہ اس رشتے سے احمد صاحب ٹہر ٹہر کر بول رہے تھے……..
پاپا مجھے اللہ نے رافع کے نصیب میں لکھا ہے کچھ تو مقصد ہوگا نہ میں مطمئن ہوں اس رشتے سے کیونکہ مجھے یقین جو بھی ہوتا ہے اس میں کہیں نہ کہیں ہماری ہی بہتری ہوتی ہیں اور اللہ کے فیصلے غلط نہیں ہوتے ایمان نے مسکرا کر کہا….
مجھے تم سے یہی امید تھی احمد صاحب نے ایمان کے سر پر ہاتھ پھیرا…….
اچھا پاپا میں کچن میں جارہی ہوں آپ کو کچھ چاہیے ایمان نے اٹھتے ہوئے کہا…..
نہیں تم بیٹھو یہاں آج تمہارا پہلا دن ہے اس گھر میں اور ہم پہلے دن ہی دلہن سے کام نہیں کرواتے احمد صاحب نے کہا…..
پاپا ابھی آپ نے کہا یہ میرا اپنا گھر ہے اور میں آپ کی بیٹی ہوں اور اب ایک پل میں پرایا کر دیا ایمان نے مصنوعی خفگی سے کہا……
اچھا بھئ ٹھیک ہیں احمد صاحب نے کہا تو وہ مسکراتی ہوئی کچن کے جانب چل دی……


اوئے ایک بات تو بتا اسد نے ماہم سے کہا…..
کیا؟ ماہم نے پوچھا….
تو کیا رافع سے سچ میں پیار کرتی ہے اسد نے پوچھا…..
نہیں بھائی یہ صرف اس کے پیسے سے پیار کرتی ہے طلحہ نے ہنستے ہوئے کہا….
ہاں مجھے وہ اچھا لگتا ہے لیکن ہاں ویسے یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ مجھے رافع سے زیادہ رافع کے پیسوں سے پیار ہے ویسے بھی آج کل پیسہ ہی تو سب کچھ ہیں یہ پیسے کی دنیا ہے یہاں کوئی کسی کا نہیں ہے بس ایک بار رافع سے میری شادی ہوجائے پھر تو اس کا سب کچھ میرا ہوجائے گا بڑی عیش والی زندگی گزرے گی ماہم نے کہا…..
اور اس بات کہ کیا گرنٹی ہے کہ وہ تم سے ہی شادی کرے گا اسد نے آئبرو اچکائی…..
اوہ سوال اچھا ہے ماہم نے مزے سے کہا….
ہمم اس کا جواب دو پھر طلحہ نے کہا…
میں اس کو اپنا دیوانہ بنا دونگی میرے علاوہ اسے کوئی دیکھے گا بھی نہیں اور ویسے بھی وہ میرے علاوہ کسی کو دیکھتا بھی نہیں ہے میرے قابو میں ہے اور مجھے لگتا ہے کہ کافی حد تک میں اپنے پلان میں کامیاب ہوچکی ہوں ماہم نے مسکرا کر دونوں کو دیکھا تو وہ دونوں اپنی ہنسی کنڑول کر رہے تھے….
تم لوگ کیوں ہنس رہے ہو میں نے کوئی جوک سنایا کیا ماہم نے غصے بھری نظر دونوں پر ڈالی….
مس ماہم رافع اس لیے کسی اور کو نہیں دیکھتا کیونکہ وہ لڑکیوں کی بہت عزت کرتا ہے اور رہی آپ کی بات تو آپ نے نوٹ نہیں کیا وہ آپ کے پیچھے پیچھے نہیں بلکے دور دور رہتا ہے وہ تو تم ہمارے گروپ کا حصہ ہو جبھی کبھی کبھی تم سے تھوڑا بہت مزاق کر لیتا ہے اس کا ہر گز مطلب نہیں کہ وہ آپ سے شادی کرلے گا طلحہ نے اپنی بات مکمل کی اور ماہم کو دیکھا تو وہ غصے سے لال پیلی ہورہی تھی…..
رافع کو تو میرا ہونا پڑے گا ماہم نے کہا اور وہاں سے چلی گئی…..
ارے یہ تو پاگل ہے اسد نے کہا….
مجھے بھی یہی لگتا ہے طلحہ نے کہا…..
یہ بہت جنونی ہیں اگر اس نے تھان لی ہے کہ یہ رافع سے شادی کرے گی تو کچھ نہ کچھ تو کرے گی یہ مجھے یقین ہے اسد نے کہا……
یار ویسے اس کے پاس بھی تو پیسوں کی کمی نہیں ہے طلحہ نے کہا….
ہاں لیکن بہت کنجوس سے ہے دوسروں کے پیسے خرچ کرنا جانتی ہے اور رافع اپنی جائداد کا اکلوتا وارث ہے نا ماں نا بہن نا بھائی بس اس کی نظر اس کی جائداد پر ٹہر گئی ہے بہت لالچی ہے یہ اسد نے کہا……
تجھے کیا لگتا ہے رافع اس سے شادی کرے گا طلحہ نے کہا…..
نہیں اسد نے کہا…..
لیکن کیوں ؟ طلحہ نے پوچھا….
بس مجھے نہیں لگتا رافع اس سے شادی کرے گا اسے ایسی لڑکیاں نہیں پسند ہے اسد نے کہا….