Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5


چلو میں تمہیں ایمان سے ملواتا ہوں رافع نے کھانے سے فارغ ہوکر کہا…..
تم دونوں کہاں چلے رافع نے طلحہ اور اسد کو آتے دیکھا تو پوچھا…..
بھابھی سے ملنے دونوں نے کہا…..
میں نے کب کہا کہ میں تمہیں ایمان سے ملواوُں گا رافع نے کہا….
ابھی طلحہ بولا….
میں نے صرف ماہم کو کہا ہے چلیے آپ اپنی تشریف باہر لان میں لے جائے رافع نے کہا……
دونوں منہ بناتے ہوئے باہر چلے گئے علی بھی ان کے ساتھ ہولیا…..
رافع ان دونوں کی نیچر سے باخوبی واقف تھا اور اس کا دل نہیں مانا کہ وہ ایمان کو ان دونوں سے ملوائے ہاں علی کی بات اور تھی وہ ایسا نہیں تھا اور علی ایمان سے مل چکا تھا وہ بھی بس اس نے سلام دعا کی اور چلا گیا……
رافع ماہم کو ایمان کے پاس لے گیا ایمان اپنے کمرے میں تھی…..
اس سے ملو ایمان یہ ماہم ہے میری کلاس فیلو اور دوست…..
اور ماہم یہ میری بیوی ہے ایمان رافع نے دونوں کا تعارف کروایا…..
السلام و علیکم ماہم ایمان نے سلام کیا…….
وعلیکم السلام ماہم نے جواب دیا اور اوپر سے نیچے تک ایمان کو دیکھنے لگی…..
(گوری رنگت،لمبے سِلکی کمر تک آتے بال،بڑی بڑی آنکھیں اور اوپر سے اس نے اس وقت بلیک کلر کا سوٹ پہنا ہوا تھا جو اس کی گوری رنگت پر خوب جچ رہا تھا)….
تم بہت پیاری ہو ماہم نے کہا…..
شکریہ ایمان مسکرا دی….
آخر بیوی کس کی ہے رافع نے شرارت سے کہا….
ہاہاہا ماہم ہسنے لگی…..
چلو تم یہاں کیا کررہے ہو لڑکیوں میں جاوُ ماہم نے رافع کو بھاگانا چاہا…..
اچھا بھئی میں جارہا ہوں رافع باہر چلا گیا….
ماہم صوفے پر آکر بیٹھ گئی ایمان وہی بیڈ پر بیٹھ گئی……
ارینج میرج یا لو میرج ؟ ماہم نے پوچھا….
سمجھی نہیں ایمان نے کہا…
ارے تمہاری اور رافع کی ارینج میرج ہے یا لو میرج ماہم نے کہا….
ارینج ایمان نے جواب دیا…..
ایمان نے ماہم کو دیکھا اسے تھوڑا عجیب محسوس ہوا وہ اس سے برعکس تھی ماہم نے وائٹ کلر کا ٹاپ پہن رکھا تھا سنہرے بال آگے کو کیے ہوئے تھے چہرے پر ہلکا سا میک اپ کیے وہ بہت پیاری لگ رہی تھی تھی تو وہ بھی بہت پیاری یونی کے لڑکے اس سے بات کرنے کو ترستے تھے لیکن اس میں بہت غرور تھا اپنی خوبصورتی کا وہ کسی کو گھاس نہیں ڈالتی تھی اس وجہ سے کسی کی ہمت نہیں ہوتی تھی اس سے بات کرنے کی وہ ایک امیر باپ کی بگڑی ہوئی بیٹی تھی اتنے امیر ہونے کے باوجود ناجانے کیوں وہ رافع کے پیچھے پڑ گئی تھی کہتی تو وہ یہی تھی کہ اسے اس کی جائداد سے محبت ہے لیکن اصل وجہ کیا تھی پیسہ یا محبت یہ وہ ہی جانتی تھی……
اوہ تو میں بھی سوچو رافع نے تمہارے جیسی لڑکی سے کیسے شادی کرلی ماہم نے اس پر طنز کیا…..
کیا مطلب آپ کا ؟ ایمان نے اس کے الفاظ پر چونک کر کہا…..
نہیں میرا مطلب کہ اسے ماڈرن لڑکیاں پسند ہے اور تم ماڈرن بلکل نہیں ماہم نے جلدی سے کہا…..
ایمان خاموش ہوگئی…..
ایمان نے کچھ نہیں کہا…..بس نظریں نیچے کیے آنگھوٹی کو تک رہی تھی…..
اوہ یہ آنگھوٹی تو بہت پیاری ہے کس نے دی ماہم نے آنگھوٹی کی طرف دیکھا تو۔بے اختیار بول پڑی…..
رافع نے دی ہے ان کی ماما کی آنگھوٹی ہے ایمان نے مسکرا کر کہا……
تم مجھے یہ دوگی میں پہن کر دیکھنا چاہو گی ماہم نے کہا….(اس آنگھوٹی کی حقدار میں تھی) ماہم نے دل میں سوچا…..
سوری بٹ نہیں رافع نے کہا تھا میں اس کو سنبھال کر رکھو ایمان نے کہا….
اوہ تو میں گھم تو نہیں کر رہی ماہم نے منہ بنایا…..
سوری ایمان نے کہا…..
ایک دن یہ میرے ہاتھ میں ہوگی ماہم نے دل میں سوچا…..
کچھ سوچ کر ماہم نے ایمان نے کہا….
ایمان مجھے تم سے ہمدردی ہے میں تمہیں ایک بات بتاوُ ماہم بیڈ پر آکر بیٹھ گئی….
ہاں ایمان نے کہا….
رافع اور میں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہے لیکن اس نے بس اپنے پاپا کے کہنے پر تم سے شادی کرلی ہے ماہم نے سوچا اگر وہ اسے ایسا کہے گی تو شاید وہ رافع سے بدگمان ہوجائے…..
رافع نے تو کچھ ایسا نہیں بتایا ایمان کہنے لگی اسے ماہم سمجھ نہیں آرہی تھی اس کی بات پر یقین کرنے کا اس کا دل نہیں کیا……
کیسے بتاتا وہ ماہم نے اتنا ہی کہا تھا کہ رافع کمرے میں آگیا اور ماہم خاموش ہوگئی…..
کون کیا بتاتا رافع نے آ کر کہا….
کوئی نہی نہیں ماہم گھبرا گئی….
ایمان نے ماہم کو دیکھا وہ رافع کے آنے پر گھبرا گئی تھی ایمان کو کچھ گڑبڑ لگی لیکن وہ خاموش رہی……
اچھا چلو وہ لوگ جارہے ہے بلا رہے ہیں رافع نے کہا تو ماہم ایمان کو اللہ حافظ کہہ کر چلی گئی……


آپ نے تو نہیں بتایا کہ کوئی لڑکی بھی آپ کی دوست ہے رافع رات کو جب آیا تو ایمان نے پوچھا…..
کیوں تم جیلیس ہورہی ہو رافع نے شرارت سے کہا…..
نہیں ایسی بات نہیں ایمان نے جلدی سے کہا….
پھر کیسی بات ہے رافع نے ہنستے ہوئے کہا…..
کچھ نہیں ایمان خاموش ہوگئی….
رافع نے نوٹ کیا تھا جب سے ماہم اس سے مل کر گئی ہے وہ خاموش خاموش ہے…..
کیا ہوا اس نے کچھ کہا کیا؟ رافع نے اب سنجیدگی سے پوچھا…..
نہیں ایمان نظریں چرا گئی….
ادھر دیکھو بتاوُ کچھ کہا کیا اس نے رافع نے تھوڑی سے پکڑ اس کا چہرہ اپنی طرف کیا…..
وہ مجھے عجیب لگی جب آپ تھے جب تک تو سہی اچھی طرح بات کر رہی تھی لیکن جیسے آپ گئے اس نے پتہ نہیں کیا کیا باتیں نکال کر بیٹھ گئی اور وہ مجھے کہہ رہی تھی کہ آپ اور وہ ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے بٹ آپ کی شادی مجھ سے ہوگئی ایمان نے ساری بات رافع کو بتا دی…..
اور تم نے اس کی بات کا یقین کرلیا رافع نے اس کی آنکھوں جھانکا….
نہیں مجھے نہیں یقین ہوا اس کی بات پر میرا دل نہیں مان رہا تھا کہ میں اس کی بات کا یقین کروں لیکن ایمان کہتے کہتے خاموش ہوگئی….
لیکن۔۔؟رافع نے پوچھا….
لیکن رافع مجھے وہ لڑکی ٹھیک نہیں لگتی آپ اس سے دور رہا کرو ایمان نے نظریں جھکا کر کہا تھا رافع اس کی بات پر مسکرا دیا…..
ایمان ماہم سے ملنے کے بعد انسکیور فیل کررہی تھی اسے لگ رہا تھا وہ رافع کو اس سے چھین لے گی….
جیسا آپ کا حکم رافع نے مسکرا کر کہا اور ایمان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا…..
ایمان رافع کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی…..
ماہم تمہیں تو میں چھوڑوں گا نہیں اتنا بڑا جھوٹ تم نے کہا بھی تو کیسے رافع نے دل میں کہا وہ صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا کیونکہ یہ وقت نہیں تھا بات کرنے کا…


تم دونوں کو رافع کی شادی کا پہلے سے پتہ تھا تو مجھے بتایا کیوں نہیں ماہم دونوں پر چیخ رہی تھی…..
ہمیں بھی کل ہی پتہ چلا تھا اور چیخنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہم پر سمجھی تم اسد نے غصے سے کہا…..
اور پہلے پتہ چل جاتا بھی تو کیا کرلیتی تم کچھ کر تو۔سکتی نہیں بے وجہ طس چیخنا آتا ہے طلحہ نے اس کا مزاق اڑایا….
میں کیا کرسکتی ہوں اس کا اندازہ نہیں ہے تم لوگوں کو ماہم نے کہا اور وہاں سے چلی گئی…..
بھائِی کیا کرے گی یہ طلحہ نے پوچھا……
باتیں کرتی ہے بس کچھ نہیں کرسکتی اسد اب تک غصے میں تھا……
ماہم کہاں ہے رافع نے آکر پوچھا….
کیوں طلحہ نے الٹا سوال کیا….
آکر بتاوُں گا ابھی بتاوُ تم کہ ماہم کہاں ہے رافع نے کہا….
وہاں اس طرف گئی ہے طلحہ نے اشارہ دے کر بتایا تو رافع اس صرف تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا چلا گیا…..
اسے کیا ہوا ؟ طلحہ نے پوچھا….
آئے گا تو پوچھ لینا اسد نے کہا….


ہائے ماہم نے رافع کو آتا دیکھ کر کہا….
تم نے کیا کہا ہے ایمان سے رافع نے غصے سے اس کا بازو دبوچا….
کیا کہا میں نے میں نے تو کچھ نہیں کہا ماہم انجان بنی….
تم نے نہیں کہا کیا کہ تم اور میں ایک دوسرے سے پیار کرتے ہے ہاں میں نے تم سے کب کہا ایسا جو تم یہ سب ایمان کو کہہ کر آئی ہو رافع نے دانت پیس کر کہا….
رافع میرا بازو چھوڑو مجھے درد ہورہا ہے ماہم چیخی….
آواز نیچی رکھو تم سمجھتی کیا ہو خود کو ہاں میں نے تمہیں اچھا دوست سمجھا اور تم میری بیوی اور میرے میں غلط فہمی پیدا کر رہی ہو رافع غصے سے لال ہورہا تھا…..
میں یہ بات ہر گز برداشت نہیں کرونگا کہ میرے بارے میں کوئی غلط بیانی کرے آئندہ خیال رکھنا مجھ سے اور ایمان سے دور رہنا رافع نے ماہم کا ہاتھ جھٹکے سے چھوڑا اور جانے کے لیے مڑا…..
رافع میں تم سے پیار کرتی ہوں تم نہیں کرسکتے میرے ساتھ ایسا ماہم چیخی…..
لیکن میں نے تم سے نہ کوئی وعدے کیے ہے نہ ہی کبھی یہ کہا کہ میں تم سے پیار کرتا ہوں تو میں نے کچھ غلط نہیں کیا رافع نے کہا….
رافع اگر تم میرے نہیں نہ تو کسی اور کے بھی نہیں ماہم چیخ رہی تھی رافع چلا گیا……


کیا ہوا ہے رافع طلحہ نے اسے واپس آتے دیکھ کر کہا……
با ایمان سے کہہ کر آئی ہے کہ ہم دونوں کا ریلیشن رہ چکا ہے ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے رافع نے بتایا اور وہاں سے چلا گیا…..
یار یہ ماہم تو پوری پاگل ہے کیا ضرورت تھی اس سب کی طلحہ نے کہا…..
چھوڑ تو اسے لیکن یار مجھے رافع کی فکر ہورہی ہے اسد نے کہا….
خیریت ہے تجھے رافع کی فکر ہورہی ہے تجھے اس کی فکر کب سے ہونے لگی طلحہ نے کہا….
یار ماہم کا بھروسہ نہیں وہ کچھ کر بھی سکتی ہے وہ بہت جنونی ہے اگر وہ رافع کو چاہتی ہے تو وہ کچھ ضرور ایسا کرے گی اور ہم نے ہمیشہ رافع۔کے پیسوں سے مطلب رکھا ہے یار لیکن اس نے ہمیشہ ہمیں اپنا اچھا۔دوست سمجھا ہے اور میں اب واقع اپنی دوستی کا فرض ادا کرنا چاہتا ہوں اگر ماہم نے کوئی سازش کی تو میں رافع کا ساتھ دونگا اسد نے کہا….
ہمم تو سہی کہہ رہا ہے طلحہ بھی شرمندہ ہوا تھا….
آج ناجانے کہاں سے یہ بات اسد کے دل میں آئی تھی……


رافع ڈرائیو کررہا تھا جب ایک دم سے سامنے سے ایک ٹرک سے اس کی کار ٹکرا گئی اور رافع کی گاڑی پیڑ میں جالگی رافع کا سر ذور سے اسٹرینگ پر لگا اور رافع بے ہوش ہوگیا……
رافععع ایمان ذور دار چیخ مار کر اٹھ گئی…..
کیا ہوا ایمان ؟رافع اس وقت جاگ رہا تھا اسے یوں دیکھ گھبرا کر اس کے پاس آیا…..
ایمان نے رافع کو دیکھا اور رونا شروع کردیا…..
کیا ہوا ایمان کوئی برا خواب دیکھا؟ رافع نے اسے اپنے ساتھ لگایا…..
ایمان بس روئے جارہی تھی…..
پلیز ایمان رو مت ہوا کیا بتاوُ تو رافع واقع گھبرا گیا تھا اسے یوں اس طرح روتا دیکھ کر….
کوئی برا خواب دیکھا کیا؟ رافع نے اس کے آنسو صاف کیے….
ایمان نے سر اثبات میں ہلایا…..
کیا دیکھ لیا ایسا میں مر گیا تھا کیا خواب میں رافع نے ہنستے ہوئے کہا….
ایمان اس سے دور ہٹی اور غصے اور خفگی سے ملے جھلے تعاثر سے اسے دیکھا…..
اچھا نہیں کہتا سوری اب بتاوُ کیا دیکھا رافع نے کان پکڑے……
ایمان نے خواب اسے بتادیا…..
کچھ نہیں ہوتا مجھے یار خواب تھا بس تم رو مت ایسے میں پریشان ہوگیا کہ پتہ نہیں کیا ہوگیا رافع نے اس کے آنسو صاف کیے اور جگ میں سے پانی نکال کر پانی پلایا…..
تھوڑی دیر کی کوشش کے بعد ایمان سوگئی……


یا اللہ میں نہیں جانتی کہ اس خواب کو دیکھانے کا کیا مقصد تھا لیکن میں ڈر گئی ہوں میں رافع کو کھونا نہیں چاہتی میں ان کو ہمیشہ اپنے ساتھ دیکھنا چاہتی ہوں اللہ پاک تو ان کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا آمین….
فجر کی نماز کے بعد ایمان قرآن پاک پڑھ رہی تھی جب رافع کمرے میں آیا اور اس کے پاس آکر بیٹھ گیا ایمان پڑھ کر فارغ ہوئی رافع کو دیکھا….
ایمان تمہاری آواز بہت خوبصورت ہے رافع نے مسکرا کر کہا….
اچھا جی شکریہ ایمان بھی مسکرا دی…..
ہاں قسم سے جب میں نے پہلی بار تلاوت کرتے سنا تھا نہ مجھے بہت خوبصورت لگی تمہاری آواز میرا دل کیا میں سنتا جاؤں رافع مسکرا مسکرا کر کہہ رہا تھا…..
آپ نے پہلی بار کب سنی میری آواز؟ ایمان نے پوچھا….
شادی کی پہلی صبح جب تم سورة رحمن پڑھ رہی تھی….اچھا ایک بات بتاؤ تم اس دن پڑھتے ہوئے رو کیوں رہی تھی؟ رافع نے غور سے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا…..
رافع میرا دل جب بھی اداس ہوتا ہے میں سورة رحمن پڑھتی ہوں میری ساری پریشانی ختم ہوجاتی ہے اس کا ایک ایک لفظ مرہم کا کام کرتا ہے اس دن بھی میں پریشان تھی اور سورة رحمن پڑھ کر ایک بار پھر مجھے سکون میسر ہوا تھا ایمان نے مسکراتے ہوئے بتایا…
کیوں پریشان تھی؟ رافع نے پوچھا….
آپ اس رات شراب میں دھت کمرے میں آئے تھے اور میں یہ بات نہیں جانتی تھی کہ جس سے میرا نکاح ہوا ہے وہ شخص شراب وغیرہ پیتا ہے ایمان نے نظریں جھکا کر بتایا……
ایم سوری ایمان رافع شرمندہ ہوا….
کوئی بات نہیں ایمان نے کہا….
ایک بات پوچھوں؟ رافع پھر سے گویا ہوا….
جی ایمان بولی….
تم نے یوں بنا جانے میرے بارے میں کیسے ہاں کردی؟ رافع بے پوچھا….
آپ اللہ کا انتخاب تھے تو بھلا مجھے کیا اعتراض ہوتا اللہ پاک نے کچھ سوچ کر ہی مجھے آپ کی زندگی میں شامل کیا ہے ایمان نے مسکرا کر کہا…..
اس کا جواب سن کر رافع کو لگا وہ دنیا کا سب سے خوش قسمت انسان ہے جو اللہ نے اسے ایمان جیسی بیوی دی…….
رافع مسکرا رہا تھا اور ایمان اس کے ڈمپل کو فیکھ رہی تھی….
رافع آپ کی مسکراہٹ بہت پیاری ہے اور مجھے یہ آپ کا ڈمپل بہت پسند ہے ایمان بے اختیار بولی اور پھر آنکھیں میچ کر دانتوں سے ہونٹ کاٹنے لگی…..
اس کی بات پر رافع کی مسکراہٹ اور گہری ہوگئی اور اس کی اس حرکت کو دیکھ کر رافع نے ایک ذور دار قہقہ لگایا……
ایمان نے ایک آنکھ کھولی اور دیکھا تو رافع اسے ہی دیکھ رہا تھا ایمان نے پھر آنکھ بند کرلی….
پھر سے کہنا رافع اب اسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا….
ایمان نے نفی میں سر ہلایا…..
اچھا آنکھیں تو کھولو رافع نے مسکراہٹ دبائے کہا….
آپ جاؤ یہاں سے پہلے ایمان نے چہرے پر ہاتھ رکھ لیے….
ہیں یہ کیا بات ہوئی بھئی تم مجھے کمرے سے نکال رہی ہو رافع نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا….
نہیں نہیں ایمان نے چہرے سے ہاتھ ہٹا کر کہا…..
پھر؟ رافع نے پوچھا…
ویسے ہی کہہ دیا ایمان نے کہا…
اچھا اب میں تو نہیں جارہا رافع نے مسکراہٹ دبائے کہا…..
کیوں؟ ایمان نے پوچھا….
اب تو چہرے سے ہاتھ ہٹا لیے تم نے رافع نے ہنستے ہوئے کہا…..
اوہ ہاں ایمان نے اپنے سر پر ہاتھ مارا پھر خود بھی ہنسنے لگی…..


السلام و علیکم رافع یونی میں داخل ہوا تو سامنے ہی اسد اور طلحہ دیکھ گئے…
وعلیکم السلام دونوں نے یک زبان جواب دیا…..
کیسے ہو؟ طلحہ نے پوچھا…
ٹھیک ہوں تم لوگ کیسے ہو اور یہ شکلیں کیوں اتری ہوئی ہے رافع نے دونوں کے چہرے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا…..
کچھ نہیں یار بس اپنی کچھ غلطیوں کا احساس ہوگیا ہے اسد نے کہا….
بھائی کیسی غلطیاں رافع نے نا سمجھی سے کہا…
یار ہم نے ہمیشہ تیرے پیسوں سے مطلب رکھا بس اسی بات کا احساس ہوگیا ہے کہ ہم بہت غلط تھے دوستی تو ایک خوبصورت رشتہ ہے اور ہم نے اس کا مطلب ہی بدل دیا اب کی بار طلحہ نے کہا…..
کوئی بات نہیں تم لوگوں کو احساس ہوگیا یہ ہی بہت بڑی بات ہے رافع نے کھلے دل سے کہا….
ایم سوری بٹ آئندہ ایسا نہیں ہوگا اسد نے کہا….
کوئی بات نہیں یار رافع نے دونوں کو گلے لگا لیا….
رافع بہت خوش تھا ایک ایک کر کے سب ٹھیک ہورہا تھا وہ دونوں جیسے بھی تھے لیکن رافع کو بہت عزیز تھے…….
معافیاں مانگی جارہی ہے ماہم نے آتے ہوئے کہا…..
تم خاموش رہو تو اچھا ہے رافع نے انگلی اٹھا کر وارن کیا جب سے ماہم نے ایمان سے وہ باتیں کہیں تھی رافع کو ماہم کے شکل دیکھنے کا بھی دل نہیں کررہا تھا…..
رافع کیا ہم سکون سے بیٹھ کر بات کرسکتے ہیں؟ ماہم سے برداشت نہیں ہوا رافع کا اس سے اس طرح بات کرنا…..
نہیں رافع نے صاف انکار کیا اور چلا گیا اسد اور طلحہ بھی چلے گئے ماہم وہاں پر اکیلی رہ گئی تھی…..
یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے ایمان ماہم نے غصے سے کہا……


رافع یونی سے گھر جانے کے لیے نکلا تھا کہ راستے میں اسے اسد کی کال آئی….
رافع تیری گاڑی کے بریک فیل ہے تو گاڑی سے نکل اسد کی گھبرائی ہوئی آواز اسپیکر پر ابھری…..
پر کس نے کہا رافع بولا….
میں تجھے۔سب بعد میں بتاوُ گا پہلے تو گاڑی سے نکل اسد نے کہا….
اوکے رافع نے کہا…
رافع نے چیک کیا تو واقع گاڑی کے بریک فیل تھے سامنے سے ٹرک آرہا تھا…
آگے کوئی راستہ نہیں تھا رافع نے گاڑی سے چھلانگ لگا دی…..
رافع کلابازیاں کھاتا ہوا سائیڈ پر گر گیا رافع۔کو کچھ چوٹیں آئی تھی گرنے کی وجہ سے لیکن اگر اسد وقت پر فون نہ کرتا تو آج اس کی جان بھی جاسکتی تھی…


رافع نے اسد اور طلحہ کو بلایا وہ دونوں اسے وہاں سے اسپتال لے کر گئے بینڈیج
کروا کر وہ لوگ پاس کہیں کےفے میں آگئے….
تجھے کیسے پتہ کہ یہ سب ماہم نے کروایا ہے ؟ رافع نے پوچھا…
میں نے اسے کسی سے فون پر بات کرتے سنا تھا اسد نے جواب دیا….
وہ اس حد تک گر جائے گی مجھے اندازہ نہیں تھا رافع نے غصے سے کہا….
اندازہ تو۔ہمیں بھی نہیں تھا کہ وہ تمہیں نقصان پہنچائے گی طلحہ یہ بات سن کر حیران تھا کہ ماہم نے یہ سب کیا……


جاری_ہے