Dil Dosti Pyaar By Misbah Khalid Readelle50329 (Dil Dosti Pyaar) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
(Dil Dosti Pyaar) Last Episode
قسط نمبر ”5“(آخری قسط)
سر میرے بابا میری شادی کروانا چاہتے ہیں “
آیت نے گردن جھکا کر دھیمے لہجے میں جواب دیا
ژیال کی حالت تو ایسی ہوگٸ تھی کاٹوں تو خون نہیں بدن میں چہرا ذرد پڑ گیا تھا لب کچھ بھی بولنے سے انکاری تھے
کوٸی جواب نہ پاکر آیت نے نظریں اٹھا کر دیکھا
ژیال ساکت بیٹھا خالی خالی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا
”سر آپ ٹھیک ہیں“
ژیال کا ایسا ردِ عمل آیت کو تجسس میں دھکیل گیا تھا
”کیوں کررہے ہیں شادی “
”میرا مطلب ہے کس سے کر رہے ہیں یہ یہ تو خوشی کی بات ہے نہ تم رو کیوں رہی ہو “
ژیال نے آیت کی الجھی نظریں خود پر مرکوز پاکر جملہ درست کیا
”سر میرے لیے یہ خوشی کی بات نہیں بللکہ مرنے کا مقام ہے کیونکہ میرے بابا میری شادی اپنی عمر کے ایک آدمی سے کررہے ہیں وہ شرابی ہے بابا کو بہت سارے پیسے دے رہا ہے ایک طرح سے میرے بابا نے میرا سودا کیا ہے“
آیت شدت سے رودی تھی
ژیال کے اوپر حیرت کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے
”کوٸی اپنی ہی بیٹی کو اس طرح بھی رسوا کرسکتا ہے اپنی عیاشی کے لیے اپنی بیٹی کی قیمت لگا سکتا ہے “
ژیال کا دل لرز اٹھا تھا
اس نے وقت ضاٸع کیے بنا ایک فیصلہ کیا تھا اور اگلے ہی پل اس فیصلے پر عمل درآمد کیا تھا
”آیت “
”جی سر “
”کیا تم میری شریکِ حیات بننا پسند کرو گی ؟“
آیت نے اپنی بھیگی جھکی پلکیں اٹھاٸیں تھیں ژیال کی آنکھوں میں اپنے لیے محبت کے چمکتے دیپ دیکھ کر دوبارہ نظریں جھکا گٸ تھی
”بولو نہ آیت کیا میرا ساتھ قبول کرو گی زندگی بھر کے لیے میں تم پر ترس نہیں کھا رہا یا احسان نہیں کررہا میں تمھیں پسند کرتا ہوں میرے جذبات مجھ پر آج عیاں ہوۓ ہیں جب تم نے اپنی شادی کے بارے میں بتایا اس لیے میں نے وقت ضاٸع کیے بنا تم سے اظہار کردیا اب تم بتاٶ کیا میری زندگی میں شامل ہوکر میری زندگی خوبصورت بنانا پسند کرو گی “
ژیال خاموش ہوچکا تھا اس کی نظریں اس کا دل آیت کے جواب کی منتظر تھیں
”آیت کچھ توہولو پلیز “
ژیال بے صبری سے گویا ہوا
”سر میں کیسے میں آپ کے لاٸق نہیں میں تو معمولی سی غریب لڑکی ہوں میرا اور آپ کا کیا جوڑ“
آیت اپنے لرزتے لبوں سے صرف اتنا ہی کہہ پاٸی
”آیت میں جانتا ہوں تم گھبرا رہی ہو ڈر رہی ہو تم پریشان نہیں ہو میں سب سنبھال لوں گا تمھارے اور میرے گھر والوں کو راضی کرنا میرا کام ہے تم بس ہاں بولو “
ژیال نے آیت کو اپنی طرف سے حوصلہ دیتے ہوۓ کہا
آیت یقین بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا تھی ”ژیال جیسے امیر ذادے کو بھلا میرے جیسی عام سی لڑکی کیسے بہاگٸ“
آیت نے تو کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا ژیال جیسا مرد اسے اپنی زندگی میں شامل کرے گا لیکن وہ ناشکری نہیں تھی اس نے اسی میں اپنے رب کی رضا جان کر سر کو اثبات میں ہلا دیا
آیت کا خاموش اقرار ژیال کو سرشار کرگیا
”آیت شکریہ مجھ پر بھروسا کرنے کے لیے تم اب بے فکر ہوجاٶ اور ہاں ہمارا نکاح ابھی اسی وقت ہوگا “
”سر یہ کیسی باتیں کررہے ہیں آپ مجھے پہلے گھرجا کر امی سے اجازت لینی ہوگی ان کی مرضی کے بنا میں کوٸی فیصلہ نہیں لے سکتی “
آیت نے جلدی سے بولا ژیال نکاح ہی نہ پڑھوا دے کہی
”میں ابھی ڈراٸیور کو بھیج کر تمھاری امی کو بولوا لیتا ہوں راضی بھی میں خود کرلوں گا ان کو “
ژیال نے بنا دیر کیے جواب دیا ڈراٸیور کو کال کرکے آیت کے گھر کا پتا سمجھا دیا
ژیال ایک دو بار دیر ہونے کی وجہ سے آیت کو گھر چھوڑنے گیا تھا تو اسے آیت کے گھر کا پتا پہلے سے معلوم تھا
ژیال نے دوسری کال عاہن کو کی
”ہیلو ژیال گھر کب آۓ گا یار ٹاٸم دیکھ کتنی دیر کردی ہے توں نے “
عاہن کال اٹھاتے ہی شروع ہوگیا تھا
”او چپ تو ہو مجھے تو بولنے دے بک بک کیے جارہا ہے “
ژیال نے عاہن کی چلتی زبان کی بریک لگوایا
”اچھا چپ ہوگیا اب توں بول “
عاہن منہ بناتا بولا
”میری بات دھیان سے سن ایک عدد قاضی اور نمل کو لے کر میرے آفس پہنچ کوٸی پوچھے تو کہہ دینا ژیال نے بلایا ہے شاپینگ پر جارے ہیں ہم“
” کیا کیوں قاضی کس لیے اور نمل کو لے کر کیوں آٶں “
عاہن کے سر پر سے گزر گٸ تھی ژیال کی ساری باتیں
”یار عاہن توں آفس تو پہنچ بتاتا ہوں تجھے پھر میں سب“
ژیال اپنی کہہ کر کال کاٹ چکا تھا
عاہن الجھ کر رہ گیا تھا
”نمل ژیال شاپینگ کے لیے بلا رہا ہے ابھی کال آٸی تھی اس کی میرے پاس چلو چلتے ہیں“
عاہن نے لاٶنج میں بیٹھی نمل سے کہا
”کیا شوپینگ لیکن انہوں نے تو مجھ سے کوٸی ذکر نہیں کیا تھا شوپینگ کا “
نمل متجسس سی گویا ہوٸی
”مجھے ابھی اس نے کال کرکے تمھیں لےکر آنے کا کہا ہے کیا معلوم وہ تمھیں سرپراٸیز دینا چاہتا ہو “
عاہن نے نمل کو آنکھوں سے اشارہ کرتے ہوۓ کہا
”بیٹا چلی جاٶ بہت خوش نصیب ہو جو بھاٸی شوپینگ کروا رہا ہے ورنہ آج کل کے لڑکے تو شوپینگ کے نام سے دور بھاگتے ہیں “
صدف بیگم نے بھی اپنا حصہ ڈالا
”اچھا بھاٸی میں ابھی حمد کو بھی لے کر آتی ہوں ہم اس کو بھی ساتھ لے کر چلتے ہیں “
نمل چہکتی ہوٸی صوفے سے اٹھ کھڑی ہوٸی
”نہیں نہیں صرف تمھیں اور مجھے بلایا ہے ژیال نے جلدی تیار ہوکر آجاٶ میں باہر تمھارا انتظار کررہا ہوں “
عاہن اپنی بات پوری کرتا گھر سے باہر نکل گیا تھا
نمل اور صدف بیگم ایک دوسرے کو افسوس سے دیکھتی رہ گٸیں
کچن میں کام کرتی حمد کی آنکھوں سے دو موتی بے مول ہوۓ تھے
”کیا اس کا حق نہیں تھا کہ وہ بھی سب کے ساتھ باہر جاۓ اپنی مرضی سے خریداری کرے “
حمد یہ سب بس سوچ ہی سکی تھی
”سر آپ اتنی جلدی کیوں کررہے ہیں نکاح میں مجھے وقت تو دیں کچھ “
آیت جھیجکتی ہوۓ بولی تھی
”آیت نکاح میں اس لیے کررہا ہوں اگر تمھارے والد تمھارا نکاح زبردستی اس شرابی سے کرنا بھی چاہیں تو نہیں کروا سکیں نکاح کے بعد مجھے حق مل جاۓ گا میں تمھاری بہتر طور پر حفاظت کرسکوں گا اور کسی کو باتیں بنانے کا موقع نہیں ملے گا پھر میں ایک دو دن میں اپنے گھر والوں کو تمھارے گھر رشتہ لے کر بھی بھیج دوں گا “
ژیال نے نرمی سے آیت کو اپنا موقف بیان کیا
”ٹھیک ہے جیسا آپ ٹھیک سمجھیں “
آیت ژیال کی بات سے متفق ہوٸی تھی وہ اپنے باپ کو جانتی تھی اس کے باپ کا بھروسا نہیں تھا وہ مار پیٹ کر بھی آیت کا نکاح زبردستی کروا سکتا تھا ایسے میں اسے ژیال کی بات درست لگی
”یہاں کیوں گاڑی روکی ہے بھاٸی ہم تو ژیال بھاٸی کے ساتھ مال جارہے تھے شوپینگ پر “
عاہن کو مسجد کے سامنے گاڑی روکتے دیکھ نمل نے استفسار کیا
”کوٸی شوپینگ پر نہیں جارہے ہم جھوٹ بولا تھا میں نے تمھارا بھاٸی کوٸی ایڈوینچر سرانجام دینے والا ہے جس کے لیے اسے ایک عدد قاضی اور ہم دونوں کی ضرورت ہے اب تم چپ چاپ بیٹھو میں قاضی کو لے کر آتا ہوں “
عاہن نمل کو ہدایت دیتا کار سے اتر گیا
نمل تکے لگانے میں مصروف ہوگٸ تھی
”سر میں لے آیا میڈم کو“
ڈراٸیو نے مہذب انداز میں ژیال کو اطلاع دی
آیت نے اپنی والدہ کو کال کرکے ڈراٸیور کے ساتھ
آفس آنے کا پہلے ہی کہہ دیا تھا
وہ پریشان ہوتی فوراً آگٸیں تھیں
”میری بچی سب ٹھیک تو ہے مجھے کیوں بلایا توں نے اتنی جلدی میں “
امبر بیگم نے آتے ہی آیت کو گلے سے لگاتے ہوۓ پوچھا
”امی سب ٹھیک ہے سر آپ سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں “
آیت نے امبر بیگم کا دھیان سامنے کرسی پر بیٹھے ژیال کی طرف کیا
وہ سب اس وقت ژیال کے کیبن میں تھے ژیال اپنی کرسی پر بیٹھا تھا آیت اپنی ماں کو لے کر صوفے پر براجمان ہوگٸ تھی
”اَلسَلامُ عَلَيْكُم “ آنٹی
ژیال نے ادب سے سلام کیا
”وَعَلَيْكُم السَّلَام بیٹا آپ کو کیا بات کرنی ہے مجھ سے “
امبر بیگم نے گھبراتے ہوۓ کہا
”آنٹی میں آپ کی بیٹی آیت سے ابھی اسی وقت نکاح کرنا چاہتا ہوں بس آپ کی اجازت درکار ہے “
ژیال کی بات سن کر امبر بیگم حیران و پریشان ہوگٸیں
”بیٹا یہ آپ کیسی باتیں کررہے ہیں میں ایسے کیسے نکاح کردوں اپنی بیٹی کا مجھے اپنے شوہر سے بھی بات کرنی ہوگی اس سلسلے میں اور اگر آپ میری بیٹی سے شادی کرنا بھی چاہتے ہو تو اپنے گھر والوں کو رشتہ لے کر بھیجو ہمارے گھر میری بیٹی مجھ پر بوجھ تو نہیں جو اس کو ایسے ہی بیاہ دوں “
امبر بیگم نے ایک اچھی ماں ہونے کا ثبوت دیتے ہوۓ ژیال کو سمجھانے کے انداز میں جواب دیا
”آنٹی آپ کی بات بلکل درست ہے میں ایک دو دن میں اپنے گھر والوں کو رشتہ لے کر بھیجوں گا اورجہاں تک آپ کے شوہر کی بات ہے وہ تو مجھے آیت کے ذریعے معلوم ہی ہوگیا ہے کہ وہ کتنے ذمہ دار باپ ہیں کوٸی باپ اپنی ہی بیٹی کی قیمت کیسے لگا سکتا ہے آنٹی آپ نہیں چاہتی کیا آپ کی بیٹی بھی خوش رہے اسے بھی ایک اچھا شریکِ حیات ملے “
”بیٹا آپ ٹھیک کہہ رہے ہو لیکن کیا کروں بیٹی کی ماں ہوں نہ ڈر لگتا ہے میری بچی نے بہت دکھ سہے ہیں بہت محنت کی ہے اس نے میں کیسے کسی پر جلدی سے یقین کرلوں “
امبر بیگم نے آیت کو خود سے لگاتے ہوۓ کہا
آیت خاموش بیٹھی ژیال اور اپنی ماں کے درمیان ہونے والی گفتگو سن رہی تھی
”آنٹی ایک مرتبہ آیت سے میرا نکاح کروا دیں میں آپ کے سارے شک و شہبات دور کردوں گا اور یقین دلاتا ہوں آیت کو اور آپ کو کبھی اپنے اس فیصلے پر پشتاوا نہیں ہوگا “
ژیال کے لہجے میں مضبوطی اور آنکھوں میں سچاٸی دیکھ کر امبر بیگم کا سر خود بہ خود اثبات میں جنبش کرگیا تھا
کچھ دیر میں عاہن اور نمل بھی پہنچ چکے تھے دونوں کو ژیال کے نکاح کا سن کر سو والٹ کا جھٹکا لگا تھا
لیکن ژیال نے دونوں کو باقی بات نکاح کے بعد بتانے کا کہہ کر نکاح شروع کروا دیا تھا
دونوں بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپتے رہے اس نکاح کا مقصد جاننے کے لیے لیکن ژیال نے دونوں کو آنکھیں دیکھا کر خاموش کروا دیا
اعجاب و قبول کے بعد سب نے ژیال کو مبارک باد دی جو ژیال نے خوشی خوشی وصول کی
ژیال کے ساتھ ایک ڈراٸیور ایک چوکیدار اور عاہن تھے
نمل امبر بیگم آیت تینوں الگ کمرے میں موجود تھیں
نمل کو اپنی آیت بھابھی بہت اچھی لگی اس نے بھی پرجوش انداز میں آیت کے گلے لگ کر اس کو مبارک باد دی
امبر بیگم کی آنکھیں بار بار خوشی سے اشک بار ہورہی تھیں
آیت اور امبر بیگم کو اپنی طرف سے مطمٸن کرکے ژیال نے ڈراٸیور کے ساتھ گھر چھوڑوا دیا تھا
اس نے محرم ہونے کے باوجود آیت کا چہرا دیکھنے کی خواہش ظاہر نہیں کی تھی اس کا کہنا تھا
” وہ ایک ہی دفع صحیح سے دیکھے گا جب آیت اس کے گھر میں آۓ گی “
”فقط توں ہی میرا قل سرمایا ہے
باقی سب بےمطلب بےمایا ہے “
جبکہ نمل نے آیت کی خوبصورتی کی بہت تعریف کی تھی جس پر ژیال مسکراتا رہا تھا
سب کے رخصت ہوتے ہی عاہن اور نمل نے ژیال کو آڑے ہاتھوں لیا
ژیال نے بنا چوں چراں کیے سارا قصہ دونوں کو سنا ڈالا
دونوں کو آیت کے بارے میں جان کر کافی دکھ ہوا تھا
”ژیال حمد کا اب کیا ہوگا تم نے اس کے بارے میں نہیں سوچا وہ بیچاری کیا کرے گی “
عاہن کو حمد کی فکر ستانے لگی تھی
”جی بھاٸی حمد کا کیا ہوگا اب “
نمل نے بھی حمد کے لیے فکر ظاہر کی
”حمد کو توں رکھ لے عاہن “
ژیال نے سنجیدگی سےکہا
”کیا بکواس کررہا ہے توں حمد کوٸی بے جان شے نہیں جس کے بارے میں ایسا کہہ رہا ہے وہ جیتی جاگتی لڑکی ہے توں کیوں اس کے جذبات سے کھیل رہا ہے “
ژیال کی بے تکی بات پر عاہن کے تیور بگڑے تھے
”جی بھاٸی عاہن بھاٸی ٹھیک کہہ رہے ہیں کیوں کرتے ہیں حمد کے ساتھ اتنی نا انصافی وہ خاموش رہتی ہے لیکن اس کی ویران آنکھوں میں درد کی گہری چھاپ ہے کیا آپ کو نظر نہیں آتی اس کی تکلیف“
”او شٹ اپ یار تم لوگ میری پوری بات تو سن لو حمد کے وکیل بنے ہوۓ ہو دونوں “
ژیال کی دھاڑ پر دونوں کی چلتی زبان کو قرار آیا تھا
”اور تم کیا کہہ رہے تھے میں حمد کے جذبات سے کھیل رہا ہوں تمھارا اپنے بارے میں کیا خیال ہے یہ جو تم ہشاش بشاش نظر آتے ہو نہ سب دیکھاوا ہے اندر سے تم بھی ٹوٹے ہوۓ تمھارا یہ دل “
ژیال نے عاہن کے دل کے مقام پر اپنی شہادت کی انگلی رکھی تھی
”کٸ ٹکڑوں میں تقسیم ہوا ہے جس کو صرف حمد جوڑ سکتی ہے “
ژیال کے آخری جملے پر عاہن نے اپنا جھکا سر اٹھایا تھا
نمل نے بھی حیرانگی سے اپنے بھاٸی کو دیکھا تھا
”کی کیا مطلب تو تم کیا کہنا چاہتے ہو “
عاہن کی زبان بھی اس کا ساتھ دینے سے انکاری تھی
”یہ ڈرامہ کرنا بند کرو میں تم دونوں کے دلوں کے حال سے اچھی طرح واقف ہوں اس رات تم
دونوں چھت پر جو گفتگو کررہے تھے وہ میں سب سن چکا ہوں تم دونوں ایک دوسرے سے محبت
کرتے ہو وہ بھی بچپن سے“
” حمد سلطان تو ژیال مرتضیٰ کی کبھی تھی ہی نہیں اس کے دل پر تو کچی عمر میں ہی عاہن حسین کا نام نقش ہوچکا تھا تم دونوں اپنی محبت قربان کررہے تھے مجھ جیسے خود غرض کے خاطر جس نے تمھارا دردِ دل جاننے کے باوجود اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹاۓ طیش میں آکر نکاح کا علان تک کر بیٹھا تھا “
”لیکن جب آج آیت نے اپنی شادی کے بارے میں بتایا تو میرے جذبات میرے دل و دماغ پر حادی ہوگۓ تم نے صحیح کہا تھا عاہن مجھے آیت سے محبت ہوگٸ ہے اب میں مزید تم دونوں پر ظلم نہیں کرسکتا اس لیے میں نے فیصلہ لیا ہے میری شادی آیت اور تمھاری حمد سے ہوگی پھر لے جانا اپنے پری کو اپنے ساتھ “
ژیال اپنی چہرے پر آٸی نمی صاف کرتے ہوۓ خاموش ہوگیا تھا
عاہن بھی اپنی آنکھ کے بھیگے گوشوں کو صاف کرتا ژیال کے گلے لگ گیا تھا
نمل نے بھی اپنا بھیگا چہرا اپنے آنچل سے پونچا وہ خوش تھی اپنی عزیزاز جان کزن کے لیے
اس کے بعد تینوں نے حمد کو نکاح والے دن سرپراٸیز دینے کا فیصلہ کیا تھا
راستے سے تھوڑی بہت خریداری کرنے کے بعد وہ تینوں گھر واپس آگۓ تھے عاہن نے کچھ چیزیں اپنی پسند سے حمد کے لیے بھی لیں تھیں جو نمل نے اپنے نام سے دے دیں تھیں
حمد نے خاموشی سے سارا سامان لے کر الماری میں بند کردیا تھا اس کو چاہ نہیں تھیں ان چیزوں کی وہ تو بس ژیال کے خوف سے آزاد ہوکر جینا چاہتی تھی جو اس کو ناممکن سی خواہش لگی
رات کو سب کھانے کے بعد اپنے اپنے کمرے میں چلے گۓ تھے ایک ژیال تھا جو اپنے دادا کے کمرے کے باہر جکر کاٹ رہا تھا
وہوہ بار بار دروازے کے لاک پر ہاتھ رکھتا اور پیچھے ہٹا لیتا
کمرے میں بیٹھے ارتضیٰ صاحب بھی مشکوک نظروں سے دروازے کو دیکھ رہے تھے ان کو بھی گمان ہوا جیسے کمرے کے باہر کوٸی کھڑا ہے
وہ کچھ لمحے تو خاموش بیٹھے رہے
پھر کڑکدار آواز میں گویا ہوۓ
”کون ہے دروازے کے باہر اندر آٶ “
ارتضیٰ صاحب کی آواز پر ژیال کے قدم تھمے تھے پیشانی پر پسیںے کی بوندیں چمکی تھیں
”کون ہے باہر جواب دو“
ارتضیٰ صاحب چھڑی کی مدد سے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے وہ اپنے ضعیف قدم اٹھاتے دروازے کی طرف چل پڑے تھے
”دادا جان میں ہوں “
ارتضیٰ صاحب کے دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی ژیال دروازہ کھول کر کمرے میں داخل ہوچکا تھا
”برخوردار کیا تم اتنی دیر سے ہمارے کمرے کے باہر چکر لگا رہے تھے “
ارتضیٰ صاحب چھڑی رکھ کر دوبارہ اپنے بستر پر براجمان ہوگۓ تھے
”جی دادا جان وہ اصل میں مجھے آپ سے ضروری بات کرنی تھی “
ژیال نے اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے ہوۓ جواب دیا
”اچھا اچھا آجاٶ یہاں بیٹھو ہمارے پاس “
ارتضیٰ صاحب اپنے شفیق لہجے میں بولے
ژیال سر جھکاۓ ارتضیٰ صاحب کے سامنے بیٹھ گیا
”ہاں اب بولو بیٹا کیا بات کرنی ہے تمھیں ہم سے “
”وہ دادا جان مجھے حمد اور اپنے متعلق آپ سے بات کرنی ہے“
ژیال نے بامشکل اپنا جھکا سر اٹھا کر ارتضیٰ صاحب کے چہرے کے تاثرات جانچنا چاہے تھے
”جی بیٹا بولو ہم سن رہے ہیں “
”وہ دادا جان وہ میں حمد سے شادی نہیں کرنا چاہتا میں کسی اور کو پسند کرتا ہوں “
”ژیال تم اپنے حواسوں میں تو ہو یہ کس قسم کی باتیں کررہے ہو تم نے قسم کھاٸی ہوٸی ہے اس بچی کو اذیتوں کے کنوے میں دھکیلنے کی “
ارتضیٰ صاحب کی نرمی سختی میں تبدیل ہوٸی تھی
”دادا جان کیا آپ کو کبھی بھی ہم دونوں کی آنکھوں میں ایک دوسرے کے لیے پسندیدگی نظر آٸی ہے یا ہمارے کسی عمل سے آپ کو ایسا لگا کہ ہم ایک دوسرے میں دلچسپی رکھتے ہیں “
ژیال کی بات پر ارتضیٰ صاحب بھی متفق ہوتے نظر آۓ لیکن بولے کچھ نہیں
”دادا جان وہ لڑکی ہے ہوسکتا ہے وہ اس رشتے کو نبھا بھی لے لیکن یہ ان چاہا رشتہ میں نہیں نبھا سکوں گا میں اس کو وہ محبت نہیں دے پاٶں گا جو ہر بیوی اپنے شوہر سے چاہتی ہے
دادا جان میں نے بہت ذیادتی کی ہے اس کے ساتھ مزید نہیں کرسکتا پلیز دادا جان میری بات مان لیں “
ژیال ارتضیٰ صاحب کے دونوں ہاتھ تھامتا اپنی بات مکمل کرگیا تھا
”بیٹا تمھاری بات درست ہے لیکن تم نے خود نکاح کا کہا تھا اس دن اور پھر اس کے ماں باپ کی بھی تو یہ ہی خواہش تھی میں کیسے ان دونوں کی خواہش رد کردوں “
ارتضیٰ صاحب نے ژیال کی بات سمجھتے ہوۓ تحمل سے جواب دیا
”دادا جان مجھے یقین ہے چاچو چاچی حیات ہوتے تو وہ یہ رشتہ خود ہی ختم کردیتے کون سے ماں باپ ہوں گے جو اپنی بیٹی ایسے شخص کے حوالے کرے گا جو اس سے محبت تو کیا نرمی سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتا جہاں تک نکاح کی بات ہے وہ اسی دن ہوگا جس دن طے پایا تھا آپ اس کی طرف سے بے فکر ہوجاٸیں حمد کے لیے میں نے لڑکا ڈھونڈ لیا ہے جو اسے بہت چاہتا ہے وہ بھی بچپن سے اور مجھے یقین ہے آپ کو بھی اسے اپنا داماد بنانے میں کوٸی مسلٸہ نہیں ہوگا “
”کیا لڑکا کون لڑکا ہمیں بھی بتاٶ “
ارتضیٰ صاحب تجسس کے ہاتھوں مجبور ہوکر گویا ہوۓ
”وہ لڑکا عاہن ہے دادا جان وہ بہت چاہتا ہے حمد کو وہ تو رشتے کی بات کرنے والا تھا لیکن ہماری منگنی کا سن کر خاموش ہوگیا اب بتاٸیں آپ کا کیا فیصلہ ہے دادا جان “
ژیال ارتضیٰ صاحب کے جواب کا منتظر تھا
”بیٹا عاہن تو ماشاءاللہ سے بہت اچھا بچہ ہے ہمیں بھی وہ بہت پسند ہے پر ہمیں پہلے حمد سے بات کرنی ہوگی اس کی مرضی کے بنا ہم اتنا بڑا قدم نہیں اٹھا سکتے “
”دادا جان حمد کو کچھ نہیں معلوم ہونا چاہیے ہم سب اس کو سرپراٸیز دینا چاہتے ہیں جب اسے عاہن جیسا محبت کرنے والا شوہر ملے گا اور مجھ جیسے جلاد سے جان چھٹے گی تو وہ خود ہی خوش ہوجاۓ گی “
ژیال نے اپنا سرپراٸیز خراب ہوتے دیکھا تو فوراً جھوٹ کا سہارا لیا وہ حمد کا کردار کسی کی نظروں میں مشکوک نہیں کرنا چاہتا تھا عاہن کے لیے حمد کی سچی محبت کی وہ قدر کرتا تھا
”ژیال بیٹا یہ تو ناانصافی ہوگی اس کے ساتھ ہم ایسا نہیں کرسکتے “
ارتضیٰ صاحب کو اچھا نہیں لگا حمد سے یہ بات چھپانا
”دادا جان پلیز مان جاٸیں پلیز پلیز کیا آپ کو بھروسا نہیں اپنے پوتے پر“
ژیال نے معصوم سی صورت بنا کر بچوں کے سے انداز میں کہا تو ارتضیٰ صاحب مسکرا دیے
”اچھا ٹھیک ہے برخوردار جیسا تم چاہو گے ویسا ہوگا لیکن پہلے ہم عاہن بیٹے سے بات کرے گے پھر ہی کوٸی فیصلہ کرے گے “
”شکریہ دادا جان اب آپ آرام کریں میں بھی چلتا ہوں “
ژیال اٹھنے ہی لگا تھا ارتضیٰ صاحب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر دوبارہ بیٹھا لیا
”بچے اتنی جلدی کیا ہے پہلے ہمیں اپنی پسند کے بارے میں تو بتاٶ“
”اوہ دادا جان میں تو بھول ہی گیا “
ژیال سچ میں یہ بات فراموش کر گیا تھا
”اچھا اب بتاٶ کون ہے وہ لڑکی “
ارتضیٰ صاحب کا پوچھنا تھا کہ ژیال نے پوری کہانی سنا ڈالی یہاں تک کے اپنے نکاح سے بھی آگاہ کردیا ارتضیٰ صاحب کو کیونکہ وہ جانتا تھا اس کا آیت سے نکاح کا فیصلہ غلط نہیں تھا
ارتضیٰ صاحب ژیال کے اس اقدام سے بہت خوش ہوۓ
”برخوردار تم نے تو ہمارا سر فخر سے اونچا کردیا ہمیں گرو ہے تم پر “
ارتضیٰ صاحب نے کھڑے ہوکر ژیال کو گلے سے لگا لیا محبت سے اس کی کمر تھپکی
”تو بتاٶ کب ملوا رہے ہو ہمیں ہماری بہو سے “
”دادا جان کل ہی چلیں جاٸیں آپ رشتہ لے کر آیت کے گھر ماما بابا کے ساتھ ان کو تو اب آپ خود منا لیں گے نہ“
ژیال نے شرارت سے کہا تو ارتضیٰ صاحب مسکراتے ہوۓ گردن ہلا گۓ
”تو اب آپ مجھے اجازت دیں مجھے بہت نیند آرہی ہے“
ژیال نے نیند سے بوجھل آنکھوں کو مسلتے ہوۓ کہا
مرتضیٰ صاحب بستر پر دراذ ہوگۓ ژیال کمرے کی بتی بجھاتا کمرے سے نکل گیا
دوسرے دن مرتضیٰ صاحب نے عاہن سے ژیال کی بات کی تصدیق کی تو عاہن نے بلا جھیجک ہامی بھر لی اور ارتضیٰ صاحب کو یقین بھی دلایا کہ وہ حمد کو بہت خوش رکھے گا زندگی میں کبھی بھی ان کو اپنے فیصلے پر ندامت نہیں ہوگی
ارتضیٰ صاحب قاٸل ہوگۓ تھے پھر انھوں جانے کس طرح مرتضیٰ صاحب اور صدف بیگم کو راضی کیا
صدف بیگم کے تو دل میں سکون ہی سکون اترا تھا اپنی ایکلوتی بہن کی نشانی کو عاہن کو سونپتے ہوۓ وہ ان دونوں کی دوستی سے بچپن سے واقف تھیں اور حمد کے نزدیک عاہن کی پسندیدگی جان کر وہ مطمٸن ہوگٸ تھیں
کیونکہ زبردستی حمد سے رشتہ بندھنے کی سزا ژیال تو دے رہا تھا اس معصوم کو لیکن اب اسے محبت کرنے والا شخص مل رہا تھا وہ بہت خوش تھیں
مرتضیٰ صاحب بھی حمد اور ژیال کے مابین تعلق سے اچھی طرح واقف تھے وہ بس بچوں کو بسا ہوا اور خوش دیکھنا چاہتے تھے یہ ہی وجہ تھی ان کے راضی ہونے کی
شام کو ہی وہ لوگ آیت کے گھر رشتہ لے کر گۓ اور پہلی ملاقات میں ان کو باپردہ آیت پسند آگٸ
نمل اور حمد کے ساتھ ہی ژیال کی شادی کا فیصلہ کیا گیا
عاہن نے بھی اپنے ماں باپ کو بلالیا تھا وہ دونوں ہی حمد کو بہت پسند کرتے تھے ان دونوں کی دلی مراد بر آٸی تھی دونوں اپنے بیٹے کی خوشی میں خوش تھے
ژیال نے اپنے اسرورسوخ سے آیت کے والد کو کچھ دن کے لیے جیل میں ڈلوا دیا تھا تاکہ وہ شادی میں کوٸی بدمزگی پیدا نہ کرسکیں اور ان کی عقل بھی ٹھیکانے آجاۓ
آیت اور امبر بیگم کو دکھ تو ہوا تھا لیکن ان کو ژیال کا فیصلہ درست لگا
”اور بس پھر ہمارا آج نکاح ہوگیا اب تم میری بیوی ہو جس کو مجھ سے کوٸی نہیں چھین سکتا کوٸی نہیں “
عاہن چہچہاتا ہوا شوخ لہجے میں بولا تو سب کھلکھلا اٹھے
حمد شرما کر نظریں جھکا گٸ شرمگیں مسکراہٹ اس کے چہرے پر سجی تھی
ژیال نے بھی حمد سے اپنے سابقہ برتاٶ کی معافی مانگ لی تھی حمد نے دل سے ژیال کو دل سے معاف کردیا تھا
بارات ولیمے کی تقریب بہت اچھے سے ہوگٸ تھی
نمل رخصت ہوکر اپنے سسرال سدھار گٸ تھی
آیت کی بارات والے دن ژیال نے زاہد صاحب کو رہا کروا دیا تھا
کچھ دن جیل میں گزار کر اور پولیس کے ڈنڈے کھا کر زاہد صاحب سدھر گۓ تھے آیت کی رخصتی کے وقت وہ بھی آبدیدہ ہوگۓ تھے آیت کو اپنے سینے سے لگا کر اپنے ثابقہ رویے کی معافی کے ساتھ ڈھیروں دعاٶں کے حصار میں انھوں نے اپنی بیٹی کو رخصت کیا تھا
حمد اور عاہن ایک دوسرے کا ساتھ پاکر بہت خوش تھے حمد کی ویران آنکھوں کی چمک لوٹ آٸی تھی عاہن اس کو زندگی کی طرف دوبارہ لے آیا تھا
”چاندنی رات تھی
وہ میرےساتھ تھی
میری زندگی کی
وہ خوبصورت رات تھی “
رات کا وقت تھا چاند کی چاندنی اپنے عروج پر تھی
چھت پر بیٹھے دونفوس ایک دوسرے میں کھوۓ ہوۓ چاند کا عکس ہی معلوم ہورہے تھے
حمد اور عاہن کا آج اس گھر میں آخری دن تھا کل ان دونوں کی لندن کی فلاٸٹ تھی
عاہن کے والدین ولیمے کے دوسرے دن ہی واپس لندن چلے گۓ تھے
”حمد اس دن کا ہم نے کتنا انتظار کیا تھا اتنی اذیت کے بعد ہم ایک دوسرے کے ہوہی گۓ“
عاہن چاند کی روشنی میں دمکتا ہوا حمد کا چہرا اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرتا محبت سے گویا ہوا
”عاہن میں نے تو امید ہی چھوڑ دی تھی ایسا لگتا تھا میں گھٹ گھٹ کر ایک دن اس جہاں فانی سے رخصت ہوجاٶں گی لیکن مجھے آپ کا ساتھ میسر نہیں آۓ گا “
حمد کی آنکھوں سے شبنم کے قدرے گر رہے تھے
عاہن نے حمد کے رخسار پر بہتے اشک اپنے لبوں سے چنے تھے اور اسے خود میں بھینچ لیا تھا
”اس خدا کے سواۓ ہمیں کوٸی جدا نہیں کرسکتا جانِ عاہن“
”مجھے بھی یقین ہوگیا ہے ہمیں کوٸی جدا نہیں کرسکتا سواۓ اس خدا کے حمد صرف عاہن کی ہے“
”اور عاہن صرف حمد کا “
عاہن نے تکڑا جوڑا تھا
”دیکھ لیا میں نے کہا تھا نہ یہ ہیر رانجھا یہی ملے گے “
ژیال کی آواز پر دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوۓ تھے
”توں ہمیشہ کباب میں ہڈی بن کر آجایا کر
آیت تم سمجھاتی نہیں ہو اس کو “
عاہن نے ژیال کو جھاڑتے ہوۓ آیت کو بھی ہدایت کی تھی
”یہ کیا سمجھاۓ گی یہ خود میرے اشاروں پر جلتی ہے “
”ہاں تو تجھ جیسا جلاد شوہر ہوگا تو بیچاری اور کر بھی کیا سکتی ہے“
”اففف بھٸ چپ ہوجاٸیں آپ دونوں ژیال بھاٸی آپ بتاٸیں کیوں تلاش کر رہے تھے ہم دونوں کو“
حمد نے ان دونوں کے درمیان اپنی ٹانگ اڑاٸی
”نمل کی کال آٸی تھی وہ کچھ دیر میں آرہی ہے عفان کے ساتھ تو میں نے سوچا کل تم لوگ بھی رخصت ہوجاٶ گے تو ہم سب مل کر باہر کھانا کھانے چلتے ہیں “
”ہممم گڈ آٸڈیا چلتے ہیں سب “
عاہن پرجوش سا بولا
نمل اور اس کے شوہر عفان کے آنے کے بعد سب ہی باہر کھانے کے لیے نکل گۓ تھے
”حمد یہ عاہن کا بچہ تمھیں تنگ کرے نہ ایک کال کرنا دماغ ٹھیک کردوں گا میں اس کا “
وہ سب ہواٸی اڈے پر کھڑے تھے ژیال کتنی دیر سے حمد کو ہدایت کررہا تھا
”توں ساتھ کیوں نہیں چل لیتا ہمارے کب سے بھڑکا رہا ہے میری بیوی کو“
عاہن جل کر گویا ہوا تھا
”توں تو برا ہی مان گیا میں تو مزاق کررہا تھا “
ژیال عاہن سے بغلگیر ہوتا بولا
”اچھا چل خدا حافظ خیال رکھنا سب کا اور ہوسکے تو لندن بھی چکر لگا لینا آیت کو بھی ساتھ لانا “
”ہاں جلد چکر لگاٶں گا“
دونوں دوبارہ بغلگیر ہوۓ تھے پھر اپنی اپنی منزل کی طرف چلدیے تھے
”ژیال یہ ٹینا کون تھی “
”کون ٹینا آیت “
”بنے مت زیادہ عاہن بھاٸی نے مجھے سب بتا دیا ہے آپ کے اور آپ کی سیکیٹری کے بارے میں“
آیت خفگی سے گویا ہوٸی
”عاہہہہہہن چھوڑوں گا نہیں تجھے میں “
ژیال پیچھے مڑ کر خود سے دور جاتے عاہن کو گھورتا اننچی آواز میں بولا تھا
”پکڑ تو لے پہلے“
عاہن نے وہی سے ہانک لگاٸی تھی پھر ہنستا ہوا حمد کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گیا تھا
آیت میری جان یہ عاہن جھوٹ بول کر گیا ہے تم سے تم مجھ پر یقین نہیں ہے “
ژیال نے محبت سے آیت کا نقاب میں چھپا چہرا اپنے ہاتھوں کے پیالے میں تھاما تھا
”مجھے یقین ہے آپ پر میں تو بس عاہن بھاٸی کا دل رکھنے کے لیے تھوڑی سی خفا ہوٸی تھیں آپ سے بہن کا فرض بھی تو ادا کرنا تھا نہ “
آیت نے اپنی عجیب سی منطق سناٸی
”اوکے چلو تمھیں آنٹی انکل سے ملوانے لے کر چلتا ہوں پھر گھر چلے گے“
وہ دونوں اپنی منزل کی طرف روانہ ہوگۓ تھے
دلوں سے کدورت مٹ گٸیں تھیں ایک خوشحال اور پرسکون زندگی ان چاروں کی منتظر تھی
””ایک دوست میری زندگی میں ایسا ہے
پھولوں میں ایک گلاب جیسا ہے“
”میری دوستی کی حد اس پر ختم ہے
زمین پر رہتا ہے مگر چاند جیسا ہے ““
”””ختم شدہ “““
