355.5K
5

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

(Dil Dosti Pyaar) Episode 3

حمد کو بنا موقع فراہم کیے حمد کے بال اپنی مٹھی میں جکڑے تھے خود کے اتنے قریب کرلیا کہ مقابل کی گرم سانسیں عاہن کو اپنے چہرے پر محسوس ہورہیں تھیں
”کس بات کی اکڑ ہے تم میں ہاں
مجھے کس لیے نخرے دیکھاتی ہو
پانچ سال قبل چھوڑا تم نے مجھے
تھپڑ تم نے مجھے مارا
غصہ تم نے کیا مجھ پر
پھر مجھے کس گناہ کی سزا دے رہی ہو “
عاہن کا چہرا غصے کی زیادتی سے سرخ ہوا رہا تھا
دماغ کی نسیں واضح نظر آرہیں تھیں
حمد اپنی نکلیف بھولاۓ عاہن کا طیش سے بھرا چہرا تک رہی تھی
”جواب دو مجھے کیوں حمد کیوں مجھے
کس گناہ کی سزا دے رہی ہو مجھ سے ایسی کونسی خطا ہوگٸ جو تم مجھ سے کلام کرنا بھی پسند نہیں کرتیں“
عاہن دھاڑا تھا
حمد آنکھیں میچ گٸ تھی
”عاہن مجھے درد ہورہا ہے بال چھوڑیں میرے پلیز “
حمد کی آنکھوں سے گرم سیال بہہ رہا تھا گلاب کے ماند چہرا ذرد پڑ گیا تھا
عاہن نے ایک جھٹکے سے حمد کے بال چھوڑے تھے
حمد زمین بوس ہوتے ہوتے بچی تھی
”حمد مجھے جواب چاہیے میری دماغ کے نسیں پھٹ جاٸیں گیں
آخر تم اتنا کیسے بدل گٸیں؟
پانچ سال پہلے جو تم نے میرے ساتھ کیا اس کی وجہ کیا تھی؟
کیا تم واقف تھیں ژیال اور اپنے رشتے سے ؟“
حمد کو ڈرتا دیکھ عاہن تھوڑا نرم پڑا تھا
عاہن بے بس ہوگیا تھا ان پانچ سالوں میں اسے پل پل حمد کی یاد آتی تھی اس کا اچانک سے بیگانگی کا اظہار کرنا عاہن کو اندر ہی اندر کھلتا تھا
”اس دن جب آپ مجھ سے آخری دفع ملنے آۓ تھے اس سے ایک دن قبل میں نے خالا جان تایا جان اور ژیال کے درمیان ہونے والی گفتگو سن لی تھی “
حمد ژیال کے حکم پر منہ بسورتی تین کپ چاۓ بنا کر تایا کے کمرے کے باہر کھڑی تھی اس سے پہلے وہ دروازہ کھولتی اندر سے آنے والی آوازوں نے حمد کے قدم شل کردیٸے
”یہ آپ لوگ کیسی باتیں کررہے ہیں میں حمد کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا میں اس کو اپنی چھوٹی بہن سمجھتا ہوں جیسے نمل ہے ویسے ہی حمد ہے میرے لیے میں کیسے اس سے شادی کرلوں “
ژیال نے اپنے ماں باپ کا احترام کرتے ہوۓ دھیمے لہجے میں اپنی بات اپنے والدین کو سمجھانے کی کوشش کی تھی
”بیٹا ہم جانتے ہیں اس رشتے کو قبول کرنا تمھارے لیےآسان نہیں لیکن تمھارے مرحوم چاچا چاچی اور دادی کی یہ ہی خواہش تھی تم بیس سال کے ہو حمد پندرہ سال کی ہے شادی حمد کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد کرے گے یا جب تم کہو گے جب کردیں گے “
”تمھیں ہم نے اسے لیے یہ سب ابھی بتایا کہ تم خود کو ذہنی طور پر تیار کرلو لڑکیوں کا کیا ہے وہ اپنے ماں باپ کی خواہش پر لبیک کہہ دیتی ہیں “
مرتضیٰ صاحب نے ژیال کو رسان سے سمجھایا لیکن ژیال غصے کا تیز الٹی کھوپڑی کا مالک اس نے ہمیشہ ہر چیز اپنی خواہش سے لی تھی تو شریکِ حیات اپنی مرضی کی کیوں نہیں یہ ہی سوچ کر اس کا دماغ خراب ہورہا تھا
وہ اپنا غصہ ضبط کرتا بنا کوٸی جواب دٸیے کمرے سے نکل آیا تھا
حمد ژیال کے دروازے کی طرف بڑھتے قدموں کی چھانپ سن کر ہی بھاگ گٸ تھی
گلدان کی میز کے اوپر رکھی چاۓ کی ٹرے پر ژیال کی نظر پڑی تو وہ سمجھ گیا حمد سب سن چکی ہے
اس کے چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ چمکی تھی
”حمد بی بی دیکھو اب میں کیا کرتا ہوں تم خود منا کرو گی اس رشتے سے اتنا زچ کروں گا تمھیں کہ میرے نام سے بھی کانپوں گی“
ژیال خود کلامی کرتا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا
چاۓ کی ٹرے لینے کے ارادے سے آتی حمد ژیال کی خود کلامی سن کر سچ میں کانپ گٸ تھی اس نے دل میں عہد کیا تھا چاہے کچھ بھی ہوجاۓ وہ پوری ایمانداری سے یہ رشتہ نبھانے کی کوشش کے گی ۔
”اس دن مجھ پر جو انکشاف ہوا عاہن وہ میرے لیے میری روح نکالنے جیسا تھا میں کیسے اپنے مرحوم ماں باپ کی خواہش کو رد کردیتی اس لیے میں نے آپ کو خود سے دور کردیا اور خود کو ژیال کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا “
”اس دن کے بعد ژیال بات بات پر مجھ پر غصہ کرتے ایک دو دفع تو تھپڑ بھی مارا تھا وہ مجھے اپنا ذر خرید غلام سمجھتے تھے اپنا سارا کام مجھ سے کرواتے مجھے زلیل کرنے کا موقع کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے“
”خالا اور تایا جان ان کو سمجھاتے تو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے شاید میرے نصیب میں ژیال کے ہاتھوں پھٹکار ہی لکھی ہے پیار تو دور کی بات ہے مجھے آج تک ان کے لہجے میں نے اپنے لیے نرمی تک کا عنصر نہیں پایا“
حمد خاموش ہوچکی تھی اس کی آنکھیں اشک بار تھیں
عاہن کا دل درد سے پھٹ رہا تھا اس کی حمد جس کو اس نے کانٹا بھی چوبھنے نہیں دیا تھا وہ کتنا سہتی رہی لیکن ابھی بھی اس کے دماغ میں ایک سوال گردش کررہا تھا جس کو اس نے زبان دی تھی
”حمد کیا تم ژیال سے محبت ۔۔۔“
”نہیں عاہن نہیں جس نے میری زندگی کے پانچ سال اذیت میں بدل دٸیے مجھے اس سے کیسے محبت ہوسکتی ہے عاہن میں چاہ کر بھی آپ کو اپنے دل سے نہیں نکال پاٸی میں آج قبول کرتی ہوں محبت ہے مجھے آپ سے لیکن ہماری محبت کی تکمیل ناممکن ہے چلیں جاٸیں آپ واپس چلیں جاٸیں“
حمد عاہن کا گریبان جکڑے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی
”نمل کی شادی ہوجاۓ میں چلا جاٶں گا واپس کبھی نہ آنے کے لیے ویسے بھی میں تمھیں اپنی نظروں کے سامنے کسی اور کا ہوتے ہوۓ نہیں دیکھ سکتا عاہن حسین حمد سلطان کو کبھی اپنی شکل نہیں دیکھاۓ گا “
عاہن کی آنکھوں میں مرچی سی بھر گٸ آنکھیں لال ہوگٸیں تھیں آنسوں جھلکنے کو بے تاب تھے
وہ حمد کے ہاتھوں سے اپنا گریبان آزاد کرواتا رخ پھیر گیا تھا
حمد منہ پر ہاتھ رکھتی روتی ہوٸی نیچے چلی گٸ تھی
عاہن کی آنکھوں کے کناروں پر ٹھیرے آنسوں رخساروں پر بہہ نکلے تھے
”میں اداس شام کا گیت ہوں
وہ کرن ہے صبح کے اجالے کی “
”میں منظر ہوڈوپتے سورج کا
وہ موسم ہے بہار کا“
میں سایہ ہوں کالی رات کا
وہ امید ہے نۓ دن کی “
”میں صحرا میں بھٹکتا مسافر
وہ منزل ہے اڑتے پرندوں کی “
”میں جھونکا ہوں سرد ہوا کا
وہ روشنی ہے جگمگ کرتے ستاروں کی“
”میں اداس شام کا گیت ہوں
وہ کرن ہے صبح کے اجالے کی “
@@@@@@@@@@@@@@@@@@@
ماضی
سدرا بیگم سلطان صاحب کو دنیا سے رخصت ہوۓ ایک ماہ گزر گیا تھا سب ہی اپنی زندگی میں مصروف ہوگۓ تھے لیکن حمد کی زندگی جیسے تھم گٸ تھی
ژیال اور حمد کے درمیان دوریاں ذرا کم ہوٸی تھیں
سنجیدہ تو وہ بچپن سے ہی تھا لیکن حمد کے چہرے پر مسکان لانے کے خاطر وہ نمل کے ساتھ مل کر چھوٹی موٹی شرارت کرتا رہتا تھا تاکہ حمد ماں باپ کے غم سے باہر آۓ
سب گھر والے بھی ہر طرح سے حمد کا خیال رکھتے سدرہ بیگم تو اس کو سینے سے لگا کر رکھتی تھیں اس کی پسند کے کھانے پکاتی لیکن حمد تو جیسے جینا بھول گٸ تھی
وہ اکثر لان میں لگے پھولوں کے پاس پاٸی جاتی وہ پھول اس نے سدرہ بیگم کے ساتھ مل کر خود لگواۓ تھے اس کو وہاں اپنی ماں کی خوشبوں محسوس ہوتی تھی
آج بھی وہ پھولوں کی کیاری کے پاس اکیلی بیٹھی تھی آنسوٶں سے چہرا تر تھا
”اے پیاری گڑیا کیوں رو رہی ہو “
اپنے قریب سے غیر شناسا آواز سن کر حمد جلدی سے اٹھ کھڑی ہوٸی تھی
سامنے ہی ژیال کی عمر کا ایک خوبصورت سا لڑکا کھڑا تھا
”آپ کون ؟“
حمد نے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوۓ ناک چڑا کر پوچھا
”کیوٹ گرل میں پڑوسی ہوں آپ کا کل ہی شفٹ ہوۓ ہیں ہم لوگ آپ کے برابر والے گھر میں “
اس لڑکے کو سامنے کھڑی گلابی فراک پہنے وہ چھوٹی لڑکی ان گلوں میں سے ہی ایک لگی جن کے پاس وہ بیٹھی تھی
”ایکسکیوز می کون ہو ؟“
”تم گھر میں کیسے آۓ ؟“
اپنی پشت سے مردانہ آواز سن کر وہ لڑکا پیچھے مڑا تھا
”ہیلو میں عاہن حسین ہوں آپ کا پڑوسی کل ہی شفٹ ہوۓ ہیں ہم آپ کے برابر والے گھر میں آپ کے گھر کا دروازہ کھولا تھا تو میں آگیا سوری“
عاہن کے جواب پر زیال کے چہرے پر پھیلے سخت تاثرات نرم پڑے تھے
”اوہ اچھا کوٸی بات نہیں تو آپ لوگوں نے خریدا ہے صدیقی انکل کا گھر“
ژیال مسکراتا ہوا گویا ہوا تھا
”جی ہاں ہم نے خریدا ہے
ویسے آپکی تعریف؟“
عاہن نے ژیال کی طرف مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوۓ استفسار کیا تھا
”میرا نام ژیال مرتضیٰ ہے “
ژیال نے عاہن کا بڑا ہوا ہاتھ تھامتے ہوۓ کہا
”اچھا اس پری کا نام کیا ہے “
عاہن نے پھولوں کو تکتی حمد کی طرف اشارہ کرتے پوچھا تھا
”کوٸی نام نہیں میرا سمجھے آپ ہنہہ“
حمد اپنے مختلف نام اس لڑکے کی زبان سے سن سن کر چڑ گٸ تھی
وہ عاہن کو جھاڑتی ناک منہ چڑاۓ اندر چلی گٸ تھی
”سوری وہ یہ تھوڑی اپسیٹ ہے اس کے پیرینڈس کی وفات ایک ماہ قبل ہی ہوٸی ہے تو چڑ چڑی ہوگٸ ہے “
ژیال نے حمد کی طرف سے معزرت کی تھی
”اوہ سو سیڈ کوٸی بات نہیں مجھے بلکل برا نہیں لگا “
عاہن کو سچ میں برا نہیں لگا تھا اس کو تو یہ چھوٹی لڑکی پہلی نظر میں ہی بہا گٸ تھی
”چلو تم اندر آٶ سب گھر والوں سے ملواتا ہوں “
ژیال کو خوش مزاج سا عاہن اچھا لگا تھا اس لیے پہلی ہی ملاقات میں وہ اسے گھر کے اندر لے گیا تھا
”عاہن اپنے ماں باپ کا ایکلوتا سپوت تھا بزنس کی وجہ سے عاہن کے والد حسین صاحب رہاٸش تبدیل کرتے رہتے تھے
وہ لوگ نٸ جگہ شفٹ ہوۓ تھے عاہن کا نہ کوٸی دوست نہ کوٸی جاننے والا وہ گھر میں بیٹھا اکتا گیا تو گھر سے باہر نکل آیا ژیال کے گھر کا دروازہ کھلا دیکھا تو جان پہچان کے ارادے سے گھر میں چلا آیا
پھولوں کے پودوں کے پاس بیٹھی حمد پر نظر پڑی تو اسی سے دوستی کرنے کا سوچا لیکن حمد سے تو دوستی ہوٸی نہیں ژیال سے ہوگٸ
حمد سے دوستی کرنے کا عاہن نے دل میں پکا ارادہ کرلیا تھا
کچھ ہی دنوں میں عاہن ژیال دونوں ہی گھل مل گۓ تھے دونوں کو ہی ایک بھاٸی کی کمی محسوس ہوتی تھی جو پوری ہوگٸ تھی
نمل سے بھی عاہن کی اچھی دوستی ہوگٸ تھی نمل ہر کسی سے جلدی گھل مل جاتی تھی
اداس اداس سی حمد کو دیکھ عاہن کے دل میں چھبن سی ہوتی تھی وہ اُس سے بات کرنے کی کوشش کرتا تو وہ منہ موڑ کر چلی جاتی تھی عاہن کے لیے حمد نامی ماہاز بہت مشکل ثابت ہورہا تھا لیکن جب انسان ارادوں کا پکا ہو تو اپنے مقصد میں کامیاب ہو ہی جاتا ہے
”ہیلو لٹل گرل “
حمد آج پھر سرخ گلاب بنی پھولوں کے پاس بیٹھی تھی رونے کی وجہ سے آنکھ اور ناک بھی سرخ ہوگٸیں تھیں
عاہن گھر میں داخل ہوا تو اسے اداس سی حمد نظر آگٸ وہ اسی کے پاس چلا آیا
لیکن عاہن کا طرزِ تخابل حمد کو ایک آنکھ نہ بھایا
”مسلٸہ کیا ہے آپ کے ساتھ کیوں تنگ کرنے آجاتے ہیں مجھے اور میرا نام حمد سلطان ہے سمجھے آپ “
حمد ناک پھلاتی عاہن پر برس پڑی
”اچھا اچھا سوری سوری پلیز غصہ نہیں کرو میں تو بس تم سے دوستی کرنا چاہتا ہوں “
حمد کے بگڑے تیور دیکھ عاہن نے جلدی سے کان پکڑ لیے تھے
عاہن کو کان پکڑے دیکھ حمد کے ہونٹ ذرا پھیلے تھے ساتھ وہ خود بھی پھیلی تھی
”ایسے معاف نہیں کروں گی اوٹھک بیٹھک کرکے دیکھاٸیں پہلے “
حمد اتراتی ہوٸی بولی تھی
”اوکے جو تم کہوگی میں وہ کروں گا لیکن اس کے بدلے میں تمھیں بھی میری ایک بات ماننی ہوگی “
عاہن نے موقعے سے فاٸدہ اٹھایا
”کونسی بات؟“
حمد نے سوالیہ نظروں سے اس کو دیکھا
”تمھیں مجھ سے دوستی کرنی ہوگی “
عاہن حسین حمد سلطان سے دوستی کرنے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار تھا آخر دل کا معاملا جو تھا
”اوکے اب آپ اوٹھک بیٹھک کریں“
حمد مسکاتی ہوٸی گویا ہوٸی
عاہن نے کان پکڑے اور اوٹھک بیٹھک شروع کردی جب جب وہ بیٹھتا اس کے سلکی بال آنکھوں پر آجاتے کھڑا ہوتا تو ایک ہاتھ سے بال پیچھے کرکے دوبارہ بیٹھ جاتا بال پھر آنکھوں پر آجاتے
حمد کو یہ منظر بہت لطف دے رہا تھا حمد اپنے خرافاتی دماغ میں کچھ سوچتی آگے بڑھی اور اپنے بالوں سے پین نکال کر عاہن کے کھڑے ہوتے ہی جلدی سے اس کے بالوں میں لگادی
عاہن ایک دم روکا سب کچھ اتنا جلدی ہوا عاہن کو سمجھ نہیں آیا جب اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا تو پین پر ہاتھ لگا اس اب سمجھ آیا تھا ہوا کیا ہے
حمد اس کے سامنے کھڑی ہنس ہنس کے لوٹ پوٹ ہورہی تھی
”حمد کی بچی ابھی بتاتا ہوں تمھیں “
عاہن مصنوعی خفگی چہرے پر سجاۓ حمد کے پیچھے بھاگا تھا
عاہن کا ارادہ بھانپ کر حمد پہلے ہی بھاگ لی تھی دونوں کے قہقے پورے لان میں سناٸی دے رہے تھے
لان میں لگے پھول پودے ان دونوں کے قہقے سن کر جھوم اٹھے تھے حمد کے اداس پھول بھی دلکشی سے مسکراۓ تھے
جاری ہے ۔۔۔۔۔