Dil Dosti Pyaar By Misbah Khalid Readelle50329

Dil Dosti Pyaar By Misbah Khalid Readelle50329 Last updated: 10 November 2025

355.5K
5

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Dosti Pyaar By

Mishbah Khalid

حمد کو بنا موقع فراہم کیے حمد کے بال اپنی مٹھی میں جکڑے تھے خود کے اتنے قریب کرلیا کہ مقابل کی گرم سانسیں عاہن کو اپنے چہرے پر محسوس ہورہیں تھیں ”کس بات کی اکڑ ہے تم میں ہاں مجھے کس لیے نخرے دیکھاتی ہو پانچ سال قبل چھوڑا تم نے مجھے تھپڑ تم نے مجھے مارا غصہ تم نے کیا مجھ پر پھر مجھے کس گناہ کی سزا دے رہی ہو “ عاہن کا چہرا غصے کی زیادتی سے سرخ ہوا رہا تھا دماغ کی نسیں واضح نظر آرہیں تھیں حمد اپنی نکلیف بھولاۓ عاہن کا طیش سے بھرا چہرا تک رہی تھی ”جواب دو مجھے کیوں حمد کیوں مجھے کس گناہ کی سزا دے رہی ہو مجھ سے ایسی کونسی خطا ہوگٸ جو تم مجھ سے کلام کرنا بھی پسند نہیں کرتیں“ عاہن دھاڑا تھا حمد آنکھیں میچ گٸ تھی ”عاہن مجھے درد ہورہا ہے بال چھوڑیں میرے پلیز “ حمد کی آنکھوں سے گرم سیال بہہ رہا تھا گلاب کے ماند چہرا ذرد پڑ گیا تھا عاہن نے ایک جھٹکے سے حمد کے بال چھوڑے تھے حمد زمین بوس ہوتے ہوتے بچی تھی ”حمد مجھے جواب چاہیے میری دماغ کے نسیں پھٹ جاٸیں گیں آخر تم اتنا کیسے بدل گٸیں؟ پانچ سال پہلے جو تم نے میرے ساتھ کیا اس کی وجہ کیا تھی؟ کیا تم واقف تھیں ژیال اور اپنے رشتے سے ؟“ حمد کو ڈرتا دیکھ عاہن تھوڑا نرم پڑا تھا عاہن بے بس ہوگیا تھا ان پانچ سالوں میں اسے پل پل حمد کی یاد آتی تھی اس کا اچانک سے بیگانگی کا اظہار کرنا عاہن کو اندر ہی اندر کھلتا تھا ”اس دن جب آپ مجھ سے آخری دفع ملنے آۓ تھے اس سے ایک دن قبل میں نے خالا جان تایا جان اور ژیال کے درمیان ہونے والی گفتگو سن لی تھی “ حمد ژیال کے حکم پر منہ بسورتی تین کپ چاۓ بنا کر تایا کے کمرے کے باہر کھڑی تھی اس سے پہلے وہ دروازہ کھولتی اندر سے آنے والی آوازوں نے حمد کے قدم شل کردیٸے ”یہ آپ لوگ کیسی باتیں کررہے ہیں میں حمد کے بارے میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا میں اس کو اپنی چھوٹی بہن سمجھتا ہوں جیسے نمل ہے ویسے ہی حمد ہے میرے لیے میں کیسے اس سے شادی کرلوں “ ژیال نے اپنے ماں باپ کا احترام کرتے ہوۓ دھیمے لہجے میں اپنی بات اپنے والدین کو سمجھانے کی کوشش کی تھی ”بیٹا ہم جانتے ہیں اس رشتے کو قبول کرنا تمھارے لیےآسان نہیں لیکن تمھارے مرحوم چاچا چاچی اور دادی کی یہ ہی خواہش تھی تم بیس سال کے ہو حمد پندرہ سال کی ہے شادی حمد کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد کرے گے یا جب تم کہو گے جب کردیں گے “ ”تمھیں ہم نے اسے لیے یہ سب ابھی بتایا کہ تم خود کو ذہنی طور پر تیار کرلو لڑکیوں کا کیا ہے وہ اپنے ماں باپ کی خواہش پر لبیک کہہ دیتی ہیں “ مرتضیٰ صاحب نے ژیال کو رسان سے سمجھایا لیکن ژیال غصے کا تیز الٹی کھوپڑی کا مالک اس نے ہمیشہ ہر چیز اپنی خواہش سے لی تھی تو شریکِ حیات اپنی مرضی کی کیوں نہیں یہ ہی سوچ کر اس کا دماغ خراب ہورہا تھا وہ اپنا غصہ ضبط کرتا بنا کوٸی جواب دٸیے کمرے سے نکل آیا تھا حمد ژیال کے دروازے کی طرف بڑھتے قدموں کی چھانپ سن کر ہی بھاگ گٸ تھی گلدان کی میز کے اوپر رکھی چاۓ کی ٹرے پر ژیال کی نظر پڑی تو وہ سمجھ گیا حمد سب سن چکی ہے اس کے چہرے پر پراسرار سی مسکراہٹ چمکی تھی ”حمد بی بی دیکھو اب میں کیا کرتا ہوں تم خود منا کرو گی اس رشتے سے اتنا زچ کروں گا تمھیں کہ میرے نام سے بھی کانپوں گی“ ژیال خود کلامی کرتا اپنے کمرے میں چلا گیا تھا چاۓ کی ٹرے لینے کے ارادے سے آتی حمد ژیال کی خود کلامی سن کر سچ میں کانپ گٸ تھی اس نے دل میں عہد کیا تھا چاہے کچھ بھی ہوجاۓ وہ پوری ایمانداری سے یہ رشتہ نبھانے کی کوشش کے گی ۔ ”اس دن مجھ پر جو انکشاف ہوا عاہن وہ میرے لیے میری روح نکالنے جیسا تھا میں کیسے اپنے مرحوم ماں باپ کی خواہش کو رد کردیتی اس لیے میں نے آپ کو خود سے دور کردیا اور خود کو ژیال کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا “ ”اس دن کے بعد ژیال بات بات پر مجھ پر غصہ کرتے ایک دو دفع تو تھپڑ بھی مارا تھا وہ مجھے اپنا ذر خرید غلام سمجھتے تھے اپنا سارا کام مجھ سے کرواتے مجھے زلیل کرنے کا موقع کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے“ ”خالا اور تایا جان ان کو سمجھاتے تو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے شاید میرے نصیب میں ژیال کے ہاتھوں پھٹکار ہی لکھی ہے پیار تو دور کی بات ہے مجھے آج تک ان کے لہجے میں نے اپنے لیے نرمی تک کا عنصر نہیں پایا“ حمد خاموش ہوچکی تھی اس کی آنکھیں اشک بار تھیں عاہن کا دل درد سے پھٹ رہا تھا اس کی حمد جس کو اس نے کانٹا بھی چوبھنے نہیں دیا تھا وہ کتنا سہتی رہی لیکن ابھی بھی اس کے دماغ میں ایک سوال گردش کررہا تھا جس کو اس نے زبان دی تھی ”حمد کیا تم ژیال سے محبت ۔۔۔“ ”نہیں عاہن نہیں جس نے میری زندگی کے پانچ سال اذیت میں بدل دٸیے مجھے اس سے کیسے محبت ہوسکتی ہے عاہن میں چاہ کر بھی آپ کو اپنے دل سے نہیں نکال پاٸی میں آج قبول کرتی ہوں محبت ہے مجھے آپ سے لیکن ہماری محبت کی تکمیل ناممکن ہے چلیں جاٸیں آپ واپس چلیں جاٸیں“ حمد عاہن کا گریبان جکڑے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ”نمل کی شادی ہوجاۓ میں چلا جاٶں گا واپس کبھی نہ آنے کے لیے ویسے بھی میں تمھیں اپنی نظروں کے سامنے کسی اور کا ہوتے ہوۓ نہیں دیکھ سکتا عاہن حسین حمد سلطان کو کبھی اپنی شکل نہیں دیکھاۓ گا “ عاہن کی آنکھوں میں مرچی سی بھر گٸ آنکھیں لال ہوگٸیں تھیں آنسوں جھلکنے کو بے تاب تھے وہ حمد کے ہاتھوں سے اپنا گریبان آزاد کرواتا رخ پھیر گیا تھا حمد منہ پر ہاتھ رکھتی روتی ہوٸی نیچے چلی گٸ تھی عاہن کی آنکھوں کے کناروں پر ٹھیرے آنسوں رخساروں پر بہہ نکلے تھے ”میں اداس شام کا گیت ہوں وہ کرن ہے صبح کے اجالے کی “ ”میں منظر ہوڈوپتے سورج کا وہ موسم ہے بہار کا“ میں سایہ ہوں کالی رات کا وہ امید ہے نۓ دن کی “ ”میں صحرا میں بھٹکتا مسافر وہ منزل ہے اڑتے پرندوں کی “ ”میں جھونکا ہوں سرد ہوا کا وہ روشنی ہے جگمگ کرتے ستاروں کی“ ”میں اداس شام کا گیت ہوں وہ کرن ہے صبح کے اجالے کی “ @@@@@@@@@@@@@@@@@@@