Dil Dosti Pyaar By Misbah Khalid Readelle50329 (Dil Dosti Pyaar) Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
(Dil Dosti Pyaar) Episode 2
نمل منہ بسورتی فریش ہونے چلی گٸ
”کیا پک رہا ہے “
عاہن سے زیادہ دیر حمد کی بے رخی برداشت نہیں ہوٸی سو خود ہی ہتھیار ڈالتا کچن میں نازل ہوگیا تھا
”ناشتہ بنا رہی ہوں آپ ڈاٸینیگ ٹیبل پر بیٹھیں میں لا رہی ہوں ناشتہ“
حمد سپاٹ لہجے میں جواب دیتی پراٹھا بیلنے میں مصروف ہوگٸ تھی جسے کچن میں اس کے علاوہ کوٸی ذی روح موجود نہ ہو
”آخر مسلٸہ کیا ہے تمھارے ساتھ“
عاہن نے حمد کا بازوں اپنی مضبوط گرفت میں جکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا تھا
عاہن کا ضبط جواب دے گیا تھا اس کو حمد کی بلاوجہ کی بے رخی ایک آنکھ نہیں بہارہی تھی یہ ظلم الگ تھا کہ حمد کے اندر اتنے بدلاٶ کی وجہ کیا ہے شوخ چنچل سی حمد سگھڑ گھریلوں دوشیزہ کیسے بن گٸ
”یہ کیا بد تمیزی ہے چھوڑیں میرا بازوں“
حمد کا غصہ بھی عروج پر تھا
”پہلے وجہ بتاٶ تمھاری اس بے رخی کی پانچ سال پہلے تو میں خاموشی سے چلا گیا تھا لیکن اب میں وجہ جانے بنا خاموش نہیں رہنے والا “
عاہن کا ضدی لہجہ حمد کو سہما گیا تھا
”پلیز عاہن چھوڑ دیں کوٸی دیکھ لے گا تو کیا سوچے گا پلیز“
حمد کی آنکھوں میں بوندہ باندی کے اثار واضح نظر آ رہے تھے کچھ دیر میں زورو شور سے بارش کا بھی امکان تھا
عاہن میں دوبارہ ہمت نہیں تھی حمد کی آنکھوں کو برستا دیکھنے کی
وہ حمد کا بازوں جھٹکتا کچن سے باہر نکل آیا
حمد آنسوں پونچتی پیچھے مڑی تو جلا ہوا پراٹھا حمد کو منہ چڑھا رہا تھا
”بھااااااٸی “
عاہن کچن سے باہر ہی نکلا تھا سامنے سے تیز گام کی رفتار سے آتی نمل اس کے سینے سے آلگی
”ارے صبح ہوگٸ کیا ہماری گڑیا کی“
عاہن نمل کے بالوں پر مان بھرا ہاتھ پھیرتا ہوا گویا ہوا
”یہ کیا طریقہ ہے بھاٸی سے ملنے کا نہ سلام نہ دعا بس باٶلوں کی طرح شور کرتی ہوٸیں حاضر ہوگٸیں “
نمل کے اتنے پرجوش استقبال پر صدف بیگم نمل پر برس پڑیں
”کوٸی بات نہیں ماما مجھے نمل کا استقبال کرنے کا یہی انداز پسند آیا “
عاہن نے اپنی پیاری بہن کی حمایت میں بولنا ضروری سمجھا
”آجاٸیں سب ناشتہ کرلیں“
حمد کی آواز پر سب حمد کی طرف متوجہ ہوۓ
”شرم کرو لڑکی حمد تم سے چھوٹی ہے لیکن ہر کام میں تم سےآگے ہے جیسے حمد اس گھر کی بیٹی ہے ویسے ہی تم بھی ہو تمھیں بھی ہاتھ بٹانا چاہیے بہن کے ساتھ کام میں “
صدف بیگم ایک بار دوبارہ شروع ہوچکیں تھیں
”خالا جان کوٸی بات نہیں اتنا تو کوٸی کام نہیں ہوتا ویسے بھی کچھ دنوں کی تو بات ہے پھر یہ اپنے گھر سدھار جاۓگی آرام کرنے دیں اسے کچھ دن “
حمد سے اپنی پیاری سہیلی پلس بہن پلس کزن کی درگت برداشت نہ ہوٸی تو اس کی حمایت میں بول پڑی
”ہاں ہاں خوب آرام کرواٶ تم سب نے تو بگاڑا ہے اس کو“
صدف بیگم خفگی سے گویا ہوٸیں
حمد صدف بیگم کو خالا جبکہ مرتضیٰ صاحب کو تایا کہتی تھی کیونکہ اس کا کہنا تھا ننھیالی رشتے داروں میں ایک خالا تو ہے اس کی اگر وہ ان کو بھی تاٸی کہے گی تو ننھیال میں کوٸی رہے گا ہی نہیں وہ اپنے ننھیالی رشتوں کو قاٸم رکھنا چاہتی تھی اسی میں اس کی خوشی جانتے ہوۓ کسی نے کچھ کہا بھی نہیں اس کو
”ماما مجھے بھوک لگی ہے باقی کے شکوے بعد میں کر لینا آپ“
نمل پیٹ پکڑتی بولی تو سب مسکرادیے
@@@@@@@@@@@@@@@@@@@
حمد کی پیداٸش کے بعد گھر میں ہر وقت رونق لگی رہتی تھی حمد کبھی دادا کے پاس ہوتی تو کبھی نانا کے پاس تو کبھی تاٸی کے پاس
ژیال نمل بھی بہت خوش تھے ژیال پورے گھر میں چھوٹی سی گڑیا کو لیے لیے گھومتا
حمد ایک سال کی ہوگٸ تھی ژیال چھے سال نمل تین سال کی ہوگٸ تھی تینوں بچوں میں بہت ایکا تھا ژیال اسکول سے آکر اپنی دونوں بہنوں کے ساتھ خوب کھیلتا
ایک دن ژیال ننھی حمد کو گود میں لے کر گول گول گھوم رہا تھا
ایک دم سے اس کا پیر مڑا اور حمد سمیت گِر پڑا
حمد کے سر پر چوٹ آٸی تھی وہ درد کی شدت سے پورا منہ کھولے رو رہی تھی
ژیال کی بھی کہنی چھیل گٸ تھی پاٶں میں بھی درد کی ٹیس اٹھ رھیں تھیں لیکن وہ اپنا درد بھلاۓ حمد کو اٹھانے بھاگا
”حمد گڑیا تم ٹھیک ہو نہ“
”یہ یہ کیا تمھارے تو خو خون نکل رہا ہے“
حمد کا خون بہتا دیکھ ژیال کی آنکھیں برسنے لگیں تھیں شور کی آواز سن کر گھر کے بڑے بھی بھاگے آۓ تھے
”میری بچی یہ کیسے ہوگیا “
سدرہ بیگم نے ژیال کی گود سے حمد کو لے کر اپنے آغوش میں لیا تھا
”سدرہ چلو اس کو ہاسپٹل لے کر چلتے ہیں“ سلطان صاحب جلدی سے سدرہ بیگم حمد کو لے کر نکل گۓ
”یہ کیسے ہوا ژیال “
صدف بیگم غصے سے بھری ہوٸی ژیال کے سر پر پہنچیں
”ماما میں تو بس جھولا جھولا رہا تھا میرا پیر مڑا اور وہ گِر گٸ“
ژیال نے روتے ہوۓ ساری بات صدف بیگم کو بتادی
”تمھیں کتنی بار منع کیا تھا میں نے چھوٹی ہے وہ ایسے کھیل نہیں کھیلا کرو اس کے ساتھ تمھارے سمجھ میں نہیں آٸی میری بات دیکھو اب وہ بچی تمھاری وجہ سے کس حال میں پہنچ گٸ ہے “
صدف بیگم نے سختی سے ژیال کو دونوں بازٶوں سے پکڑ کر جھنجوڑا تھا
”سوری ماما میں نے اپنے آپ سے نہیں کیا حمد ٹھیک تو ہوجاۓ گی نہ “
ژیال نے برستی آنکھوں سے امید بھری نظروں سے صدف بیگم کو دیکھا تھا
”خبردار جو اب تم اس کے قریب بھی گۓ تو دور رہنا تم اس سے“
”بہو بس بھی کرو بچہ ہے کتنا ڈانٹو گی “
”ژیال بیٹا آپ رو نہیں چاچو گۓ ہیں نہ اس کو لے کر وہ ٹھیک ہوجاۓ گی آپ اپنے کمرے میں جاٶ “
ارتضیٰ صاحب نے پہلے صدف بیگم کو خاموش کروایا پھر ژیال کو خاموش کروا کر کمرے میں بھیجا
ژیال کمرے میں بیٹھا اپنی چھیلی ہوٸی کوہنی پر سی سی کرتا مرہم لگا رہا تھا تب ہی نمل ہاتھ میں بھالو اٹھاۓ کمرے میں داخل ہوٸی
”بھاٸی توت لدی ہے آپ تو“
(بھاٸی چوٹ لگی ہے آپ کو )
نمل اپنی توتلی زبان میں ژیال سے اس کی چوٹ کے بارے میں پوچھ رہی تھی
”ہاں گڑیا چوٹ لگی ہے لیکن کسی کو میری چوٹ نظر نہیں آٸی“
ژیال روتے ہوۓ نمل سے اپنا دل ہلکا کیا
”بھاٸی لو نہیں مدے بھی لونا آدۓ دا“
(بھاٸی رو نہیں مجھے بھی رونا آجاۓ گا)
نمل نے اپنے ننھے ہاتھوں سے ژیال کے چہرے پر بہتے اشک صاف کیے تھے
”نہیں رو رہا میں چپ ہوگیا بس “
ژیال اپنا بھیگا چہرا صاف کرتا مسکرادیا
اس دن سے ژیال مرتضیٰ حمد سلطان سے دور ہوگیا تھا
وہ اب اس کے ساتھ کھیلتا بھی نہیں تھا گھر والوں کے لاڈپیار کی وجہ سے وہ تھوڑی ضدی بھی ہوگٸ تھی
ژیال اور زیادہ چڑنے لگ گیا تھا حمد سے
@@@@@@@@@@@@@@@@@@@
ناشتے کے بعد سب ہی اپنے کام میں مصروف ہوگۓ تھے عاہن اکیلا بیٹھا بیٹھا بور ہوگیا تھا تو صدف بیگم سے ژیال کے آفس کا پتا معلوم کرکے آفس کے لیے نکل گیا
”سنیں سر آپ کون ہیں “
عاہن ژیال کے آفس کی طرف بڑھ رہا تھا اسے اپنے عقب سے نسوانی آواز آٸی عاہن پیچھے مڑا تو
صدف بیگم سے ژیال کے آفس کا پتا معلوم کرکے آفس کے لیے نکل گیا
”سنیں سر آپ کون ہیں “
عاہن ژیال کے آفس کی طرف بڑھ رہا تھا اسے اپنے عقب سے نسوانی آواز آٸی عاہن پیچھے مڑا تو اپنے آپ کو عباۓ میں چھپاۓ ایک لڑکی کھڑی اپنی ہرنی جیسی آنکھوں سے عاہن کو گھور رہی تھی
عاہن پہلے حیران ہوا پھر خود کو سنبھالتے ہوۓ آیت کو جواب دینے کے بجاۓ سوال داغ دیا
”میں جو کوٸی بھی ہوں آپ سے مطلب “
”دیکھیں پہلے آپ بتاٸیں آپ کون ہیں اور اگر سر سے ملنا چاہتے ہیں تو پہلے آپ کو اپاٸنٹمینٹ لینی ہوگی سر ایسے کسی سے نہیں ملتے “
آیت اپنے سیکیٹری ہونے کا فرض پوری سچاٸی سے ادا کررہی تھی یہ جانے بغیر کہ سامنے کون کھڑا ہے
”مجھے آپ کے ژیال سر سے ملاقات کے لیے کسی اپاٸنٹمینٹ کی ضرورت نہیں میں ان سے کسی بھی وقت مل سکتا ہوں سو میں چلتا ہوں“
عاہن دوبارہ رخ موڑے ژیال کے آفس کی طرف بڑھا تھا
”نہیں میں ایسے نہیں جانے دوں گی آپ کو سر بزی ہونگے“
آیت اب عاہن کے سامنے تن کر کھڑی ہوگٸ تھی
عاہن نے ایک بے زار سی سانس خارج کی
”اففففف کیا مسلٸہ ہے تمھارا عبایا گرل جانے دو نہ “
عاہن نے جھنجلاتے ہوۓ کہا
”آپ…..“
”کس بات کا شور ہے یہ “
آیت کے الفاظ منہ میں ہی رہ گۓ تھے ژیال کی آمد پر
ژیال ان دونوں کی بحث سن کر باہر آیا تھا سامنے کھڑے عاہن کو دیکھ کر اس کو سارا معاملہ سمجھ آگیا تھا
”سر یہ بنا اپاٸنٹمینٹ کے آگۓ ناجانے کون ہیں اور کب سے آپ سے ملنے کے لیے باضد ہیں “
آیت نے اپنی طرف سے بات صاف کی
”ہمممم ٹھیک ہے آیت آپ جاٸیے دوکپ اسٹارنگ سی کافی بنا کر میرے آفس میں لاٸیں “
ژیال نرمی سے کہتا عاہن کو اندر آنے کا اشارہ کرتا خود بھی اندر چلا گیا تھا
آیت ناسمجھی سے دیکھتی رہی پھر کندھے اچکا کر کافی بنانے چلی گٸ
”آفس آنا تھا تو مجھے کال ہی کردیتے“
ژیال نے شکایتی لہجے میں کہا
”اچھا میں کال کردیتا بے مروت آدمی توں جو مجھے بنا بتاۓ تین عورتوں کے رحم وکرم پر چھوڑ آیا بے وفا آدمی تجھ سے یہ نہ ہوا دوست کے آنے کی خوشی میں ایک دن کی چھٹی کرلیتا میں ہی پاگل تھا جو اتنی دور سے چلا آیا اپنے دوست کے لیے مجھے کیا معلوم تھا میرے دوست کے پاس تو وقت ہی نہیں اپنے بچپن کے دوست کے لیے “
عاہن نے ایک کے بعد ایک سارے ہی شکوے کرڈالے تھے
”ان تین عورتوں نے کیا تجھ سے جھاڑو پوچا لگوا لیا جو وہاں سے بھاگ آیا مجھے تو لگ رہا تھا شہزادے صاحب آرام کے موڈ میں ہونگے میری چھٹی کا کوٸی فاٸدہ نہیں ہوگا اسی لیے میں آفس چلا آیا سوچا تھا دوپہر تک لوٹ آٶں گا لیکن تم تو خود ہی نازل ہوگۓ ہو “
ژیال نے بھی ایک ایک کرکے عاہن کے سارے شکوے دور کردیے
”اچھا یہ تو بتا یہ عبایا گرل کون ہے“
عاہن کو اب آیت کا خیال آیا تھا
”وہ سیکیٹری ہے میری آیت “
ژیال کے لہجے میں آیت کے ذکر پر انتہا کی نرمی تھی
عاہن کو شک نے آگھیرا” کہی ژیال آیت کو پسند تو نہیں کرتا “
کیونکہ اس نے جتنی نرمی سے ژیال کو آیت سے بات کرتے دیکھا تھا اتنی نرمی سے اس نے کسی لڑکی سے بات نہیں کی تھی سواۓ نمل کے
عاہن کے دل میں موہم سی امید جاگی ژیال اور آیت کو ایک کرکے حمد تک رساٸی کی
”سر میں آٸی کم اِن “
آیت اجازت طلب کرتی دروازے کے پار کھڑی تھی
کم اِن ژیال نے نرمی سے اجازت دی
”سر یہ کافی“
آیت نے کافی کی ٹرے ٹیبل پر رکھ دی تھی
”تھینکیو آیت اب آپ جاسکتی ہیں کوٸی کام ہوگا تو میں بولا لوں گا آپ کو “
ژیال مشکور انداز میں جواب دیتا
عاہن کو جھٹکے پر جھٹکے دے رہا تھا
عاہن نے ژیال کا امتحان لینا ضروری سمجھا
مس آیت عاہن نے کافی کا کب لبوں سے ہٹا کر آیت کو پکارا
”جی سر “
وہ جو دروازے تک پہنچی تھی دوبارہ پلٹ کر ژیال کے سامنے آکھڑی ہوٸی تم
”مس آیت میں نے پکارا تھا آپ کو آپ کے باس پیتے ہوگے ایسی کڑوی پھیکی کافی میں ذرا میٹھا تیز بینے کا عادی ہوں آپ یہ کپ لے جاٸیں اور اس میں چینی ڈال کر لاٸیں “
عاہن کے حاکمانہ انداز پر آیت نے ایک نظر ژیال کو دیکھا جس نے گردن کی ہلکی سی جنبش سے اجازت دی
آیت خاموشی سے کب لے کر آفس سے باہر نکل گٸ
”یہ کیا حرکت تھی ٹھیک تو ہے کافی میں میٹھا “
آیت کے جانے کے بعد ژیال نے عاہن کو اڑے ہاتھوں لیا
عاہن جو کب سے ژیال کے چہرے کے بگڑتے زاویے دیکھ رہا تھا
معنی خیزی مسکرایا
”اب تمھاری اس مسکراہٹ سے کیا مطلب اخذ کروں میں “
”وہ تمھیں پسند ہے“
عاہن نے سیدھی مدعے کی بات کی
”دماغ ٹھیک ہے تمھارا منگنی شدہ ہوں میں“
ژیال نے تپ کر کہا
”نکاح شدہ تو نہیں ہو اور ویسے بھی منگنی کوٸی اتنا مضبوط رشتہ نہیں منگنی کے بعد بھی دل میں کسی اور کے بسنے کی گنجاٸش رہتی ہے “
”یہ تم اپنی لندن والی سوچ نہ اپنے پاس رکھو “
”مان لو ژیال مت برباد کرو حمد کی زندگی تم نہیں چاہتے اسے تمھارے لہجے اور نظروں میں کبھی میں نے حمد کے لیے وہ انسیت اور نرمی نہیں دیکھی جو آج آیت کے لیے دیکھی ہے “
عاہن نے صاف گوٸی کا مظاہرا کیا
”یار بند کر یہ بکواس نکاح کے بعد خود ہی سب ٹھیک ہوجاتا ہے“
ژیال بے زار ہوگیا تھا اس بحث سے
”ہمممم ٹھیک ہے جیسے تمھاری مرضی“
عاہن خاموش ہوگیا تھا
ژیال اپنی ٹھنڈی ہوتی کافی کو اپنے اندر انڈلنے لگا تھا
@@@@@@@@@@@@@@@@@@@
ماضی
گھر میں کہرام مچا تھا دو جوان لاشیں ایمبولینس ابھی ان کے سپرد کرکے گٸ تھی سلطان صاحب سدرہ بیگم اس جہاں فانی سے کوج کرگۓ تھے
دس سالہ حمد اپنے ماں باپ کے جھلسے ناشے دیکھ کر اپنے ہوش کھو بیٹھی تھی پندرہ سالہ ژیال نے آگے بڑھ کر اس کو اپنی بانہوں کے حصار میں لیا تھا
سدرہ بیگم سلطان صاحب کچھ گھنٹوں پہلے گھر سے خریداری کے ارادے سے نکلے تھے حمد سے گڑیا کھلونے لانے کا وعدے کرکے وہ گھر سے رخصت ہوگۓ تھے
لیکن قسمت کی ستم ظریفی یہ تھی کہ وہ دونوں اس دنیا سے ہی رخصت ہوگۓ
جس مال میں وہ لوگ خریداری کرنے گۓ تھے وہاں بم دھماکے کی وجہ سے کٸ لوگ زخمی ہوۓ تھے تو
تو کٸ اپنے پیاروں سے بچھڑ گۓ تھے جن میں سدرہ بیگم سلطان صاحب بھی سرفہرست تھے
ہشاش بشاش رہنے والے ارتضی صاحب اپنے جوان بیٹے بہو کو دیکھ کر دل تھام بیٹھے تھے
حفصہ بیگم صدف بیگم ایک دوسرے کو دلاسے
دیتیں خود بھی رو رو کے ہلکان ہورہیں تھیں
مرتضیٰ صاحب بھی نم آنکھوں کے ساتھ سب کو حوصلہ دے رہے تھے جوان بھاٸی کی موت نے انھیں بھی اندر سے توڑ دیا تھا
ژیال ہوش سے بیگانہ حمد اور روتی بلکتی نمل کو لے کر کمرے میں آگیا تھا سب کو روتا دیکھ نمل بہت ڈر گٸ تھی
ژیال کو آج حمد کے لیے دکھ ہورہا تھا اس کی تو دنیا ہی لوٹ گٸ تھی نہ اس کے سر پر باپ کا شفقت بھرا ہاتھ تھا نہ ماں کی سکون بھری گود کچھ بھی تو نہیں رہا تھا اس کے پاس
@@@@@@@@@@@@@@@@@@@
حال
ژیال عاہن دوپہر کو کھانے کے وقت گھر لوٹے تھے
کچن میں کام کرتی حمد کو دیکھ کر ژیال کا صبح والا غصہ عود آیا تھا حمد کا دماغ ٹھیکانے لگانے کا ارادہ کرتا وہ اپنے روم میں فریش ہونے چلا گیا تھا
عاہن بھی ژیال کے ہمراہ اپنے کمرے میں چلا گیا تھا
کچھ ہی دیر بعد دونوں نکھرے نکھرے سے کمرے سے باہر نکلے تھے اور ڈاٸینیگ ٹیبل پر آکر اپنی اپنی جگہ سنبھالی تھی
”بچوں کب آۓ تم دونوں آفس سے“
صدف بیگم نے حیرت کا مظاہرا کیا
”جب آپ اپنے خوبصورت ہاتھوں سے کھانا بنا رہیں تھیں نہ تب آۓ ہم“
عاہن نے لطیف سا جواب دیا
”چل ہٹ شریر“
صدف بیگم اپنی چھنیپ مٹانے کو عاہن کو ڈانٹتیں کھانے کی طرف متوجہ ہوگٸیں
ژیال بھی خاموشی سے کھانا کھا رہا تھا
حمد نمل بھی ایک دوسرے سے جانے کونسی رازونیاز کی باتیں کرتیں کھانے سے لطف اندوز ہورہیں تھیں
” حمد ایک کپ چاۓ روم میں لے کر آٶ “
ژیال نیپکین سے ہاتھ پونچتا حمد کو حکم دیتا کمرے میں چلا گیا
حمد سمجھ گٸ تھی اس کی سزا ملنے کا وقت ہوگیا ہے اس نے بےبسی سے صدف بیگم کی طرف دیکھا
وہ بھی اس کو ہمدردانہ نظروں سے دیکھ رہیں
تھیں
حمد اپنا خوف دل میں دباۓ کچن میں چلی گٸ تھی
عاہن خاموش بیٹھا سب کچھ سمجھنے کی کوشش کررہا تھا
نمل ہر شے سے بےنیاز اپنی پیٹ پوجا میں مگن تھی
صدف بیگم بھی حمد کے پیچھے آٸیں تھیں
”بیٹا اب تم سے کونسی خطا سرزد ہوگٸ ہے جو ژیال تمھیں اپنے کمرے میں آنے کا حکم سنا کر گیا ہے“
صدف بیگم کی بات پر حمد کے کام کرتے ہاتھ تھمے تھے وہ رخ موڑ کر بھیگی آنکھوں سے صدف بیگم کو دیکھ رہی تھی
”کیا ہوا بیٹا کچھ بتاٶ تو صحیح مجھے“
صدف بیگم نے حمد کے رخسارہوں پر بہتے اشک اپنے انگھوٹھے کے پوروں سے صاف کیے تھے
”خالا وہ وہ مجھے ڈانٹے گے غصہ کرے گے مجھ پر میں صبح دیر سے اٹھی تھی نہ ان کو ناشتہ بھی نہیں دیا تھا “
”بیٹا یہ کوٸی اتنی بڑی بات تو نہیں جو وہ تمھیں سزا دے کیا کروں میں اس لڑکے کا جانے کس بات کا بیر ہے اس کو تم سے“
صدف بیگم اپنا سر ہاتھوں میں تھام گٸیں تھیں
”کیا ہوا ماما سب ٹھیک ہے نہ “
عاہن اپنے لیے چاۓ کا کہنے آیا تھا صدف بیگم کا آخری جملا سنا تو وہی روک کر استفسار کیا
”بیٹا اپنے دوست کو عقل دو اس بن ماں باپ کی بچی سے کس بات کے بدلے لیتا ہے وہ جب سے ہم نے اس کو حمد اور اس کی بچپن کی منگنی کا بتایا ہے تب سے اس نے حمد کو ذر خرید غلام سمجھا ہوا ہے ہم سمجھاتے ہیں تو کہتا ہے ہمارے درمیان میں مت بولیں زندگی ہمیں ساتھ گزارنی ہیں آپ لوگوں نے نہیں “
صدف بیگم نے چوق در چوق عاہن کے سر پر بم پھوڑے
عاہن نے ایک نظر حمد کو دیکھا وہ اپنے بے اختیار بہنے والے آنسوٶں کو روکنے کی کوشش کررہی تھی
عاہن کو حمد کے اتنے ھڑ ہونے کا تو راز معلوم ہوگیا تھا ژیال نے ڈرا ڈرا کر حمد کو بدل دیا تھا
”ماما آپ فکر نہیں کریں میں سمجھاٶں گا اس کو آپ جاٸیں روم میں جا کر آرام کریں“
عاہن نے صدف بیگم کو اطمینان کی ڈور تھماٸی
صدف بیگم آنسوں پونچتی کچن سے نکل گٸیں تھیں
اب عاہن کا رخ حمد کی طرف تھا
”تو یہ ہی وجہ ہے تمھارے ان آنسوٶں کی “
عاہن نے حمد کی آنکھوں سے گیرنے والا موتی کو اپنی شہادت کی انگلی پر لیا تھا
”عاہن آپ جاٸیں یہاں سے مجھے کوٸی بات نہیں کرنی آپ سے “
حمد عاہن سے نظریں چراتی رخ موڑ گٸ تھی
عاہن نے حمد کا بازوں اپنی مضبوط ہاتھ میں جکڑکر حمد کو اپنے مقابل کھڑا کیا
حمد کے منہ سے سسکی برآمد ہوٸی تھی
”کیا کررہے ہیں چھوڑیں مجھے درد ہورہا ہے “
حمد عاہن کی گرفت میں پھڑپھڑاتی گویا ہوٸی
”رات کو سب کے سونے کے بعد مجھے چھت پر ملنا “
عاہن نے حمد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا اسے ایک جھٹکے سے چھوڑا تھا
”میں نہیں آٶں گی نہ مجھے آپ سے ملنا ہے نہ کوٸی تعلق رکھنا ہے سمجھے آپ آٸندہ مجھے ہاتھ مت لگاٸیے گا “
حمد غراٸی تھی عاہن کی اس قدر نزدیکیاں حمد کو کمزور بنا رہیں تھیں وہ خود کو مضبوط ثابت کررہی تھی
”میرے سامنے کیسے زبان چل رہی ہے ژیال کے سامنے تو تم گویاٸی سے محروم معلوم ہوتی ہو
رات کو میں تمھارا چھت پر انتظار کروں گا اگر تم نہ آٸیں تو میں تمھارے کمرے میں آجاٶں گا تم اچھی طرح جانتی ہو میں ایسا کرسکتا ہوں “
عاہن حمد پر طنز کا تیر چلاتا اسے حکم سناتا کچن سے باہر چلا گیا تھا
عاہن کے بارے میں سوچنے کا وقت ابھی حمد کےپاس نہیں تھا عاہن کے جاتے ہی حمد نے شکر کا سانس لیا
دو کپ چاۓ کے سلیقے سے ٹرے میں سجا کر کچن سے باہر نکل آٸی تھی
ژیال کے کمرے کے قریب پہنچتے ہی جانے کہاں سے عاہن آ دھمکا
وہ بنا کچھ کہے حمد کے ہاتھ سے ٹرے لیتا ژیال کے کمرے میں چلا گیا
یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ حمد کو عاہن کو روکنے کا موقع بھی نہیں ملا حمد کو جب تک سب سمجھ آٸی عاہن چاۓ لے کر جاچکا تھا
”مجھے کیا میں تو بچ گٸ“
حمد کندھے اچکاتی اپنے کمرے میں چلی گٸ تھی
”تم کیوں لے آۓ چاۓ میں نے حمد کو کہا تھا “
”حمد ہی لا رہی تھی چاۓ میں تمھارے روم میں آرہا تھا تو میں لے آیا ”
”ہممم اچھا “
اصل بات تو یہ تھی کہ عاہن نے حمد کو ژیال کے غصے سے بچانے کے لیے یہ ترکیب اپناٸی تھی
رات کا وقت تھا تارے چمک رہے تھے چاند اپنی چاندنی ہر سوں پھیلا رہا تھا
ایک ہاتھ میں سیگریٹ دباۓ ایک ہاتھ سے اپنے سلکی سیاہ بال سنوارتا چھت پر بیٹھا عاہن حمد کا انتظار کررہا تھا
گرمی کے دن تھے ایسے میں رات کی ٹھنڈی ہوا اندر تک سکون بخش رہی تھی
”کیوں بلایا ہے مجھے یہاں “
کچھ پل گزارنے کے بعد عاہن کو اپنے پشت سے حمد کی آواز سناٸی دی
عاہن نے سیگریٹ زمین پر مسلی تھی پھر دونوں ہاتھوں کا دباٶ زمین پر ڈالتا وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا
ہاتھ جھاڑتا شہانا چال چلتا حمد کے مقابل کھڑا ہو گیا
حمد کو بنا موقع فراہم کیے حمد کے بال اپنی مٹھی میں جکڑے تھے خود کے اتنے قریب کرلیا کہ مقابل کی گرم سانسیں عاہن کو اپنے چہرے پر محسوس ہورہیں تھیں
جاری ہے۔۔۔۔
