Dil Dosti Pyaar By Misbah Khalid Readelle50329 (Dil Dosti Pyaar) Episode 1
No Download Link
Rate this Novel
(Dil Dosti Pyaar) Episode 1
”کسی نے پوچھا دوستی کیا ہے
میں نے کانٹوں پر چل کر دیکھا دیا
پوچھا کتنا پیار کرتے ہو دوست سے
میں نے پورا آسمان دیکھا دیا
پوچھا کیسے رکھو گے دوستی کو
میں نے مہکتا ہوا گلاب دیکھا دیا
پوچھا کیسے رہو گےاس کے ساتھ
میں نے زمین پر اپنا سایا دیکھا دیا“
وہ متلاشی نظروں بےچین دل کے ساتھ ہواٸی اڈے کے انتظار گاہ میں کھڑا تھا اگلے ہی پل اس کی آنکھیں روشن دیپ کے ماند چمک اٹھیں تھیں
چیکینگ کے مراحل عبور کرتا اس کا جان سے پیارا عزیز از دوست کم بھاٸی عاہن حسین چہرے پر ہمیشہ کی طرح دلنشین مسکراہٹ سجاۓ ایک ہاتھ میں اپنا سفری بیگ تھامے دوسرے ہاتھ میں اپنا اوور کوٹ تھامے اپنی کالی گہری آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگاۓ ناک کی سیدھ میں چلتا بیس قدم کا فاصلہ دس قدم میں طے کرتا اپنے پیارے دوست ژیال مرتضیٰ کی طرف بڑھ رہا تھا جو کب سے انتظار کی سولی پر لٹکا ہوا تھا
وہ سامنے سے آتے اپنے دوست کی طرف بڑھتا ہوا درمیان میں حاٸل لوگوں کے ہجوم کو چیرتا ہوا اپنے جان سے پیارے دوست سے جا لپٹا تھا
دیکھنے والوں کو وہ کوٸی دیوانہ معلوم ہورہا تھا
اس کے عزیزاز جان دوست نے اپنے ہاتھ میں تھاما بیگ زمین پر پٹکا تھا اور مسکراتے ہوۓ اس کو خود میں بھینچا تھا
پل بھر کو دونوں کی آنکھیں نم ہوٸیں تھیں
پانچ سال کے طویل انتظار کے بعد عاہن حسین اور ژیال مرتضیٰ نے ایک دوسرے کا محبت بھرا لمس محسوس کیا تھا بھاٸیوں جیسے پیٹھ تھپکتے ہاتھ کی گرمی محسوس کی تھی بے چین دلوں کو قرار آیا تھا اپنی دنیا میں مگن ہوکر ایک دوسرے کو فراموش کرنے کے خدشات دل سے نکل کر کہی دور جا سوۓ تھے
”کچھ دوست
دوست نہیں
دل کا سکون ہوتے ہیں “
”چل اب بس بھی کر تیری محبوبہ نہیں ہوں میں “ عاہن مسکراتا ہوا اپنے یار کی پیٹ تھپکتا اس سے جدا ہوا تھا
”ہاں ہاں یاد ہے مجھے محبوبہ نہیں محبوب ہے توں میرا “
ژیال نے شریر انداز میں عاہن کو اپنے ساتھ لگایا تھا
”ہٹ پیچھے خدا کو مان لوگ ہمیں مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں“
عاہن نے اپنی کوہنی اس کے پیٹ پرچڑتے ہوۓ اسے پیچھے دھکیلا تھا
”آہ یار کیا باڈی بلڈر بن کر آیا ہے توں کسی پہاڑ سے کم نہیں لگ رہا“
ژیال کراہتا ہوا پیٹ پر ہاتھ دھرتا اس کے کسرتی جسم کو دیکھتا گویا ہوا تھا
”ساری باتیں یہی کرلے گا گھر لے کر نہیں چلے گا بڑی بھوک لگی ہے یار“
عاہن پیٹ پکڑ کر کہتا سچ میں اس کو یقین دلا رہا تھا کہ وہ بھوکا ہے
”اچھا چل گھر چلتے ہیں پھر توں بتانا مجھے کتنی گوری میم تیرے پیار میں تڑپتی اس دنیا سے رخصت ہوگٸیں“
ژیال اپنے وجیہہ دوست کے سرخ و سفید چہرے کو دیکھتا بولا تھا
”جی جی کیوں نہیں صاحب ایک آپ ہی تو ہیں جو ہماری عشق معشوقی کی داستانے ملاحظہ فرماتے ہیں “
عاہن اپنی بات مکمل کرتا زور سے ہنسنے لگا تھا جس میں اب اس کے دوست کے قہقے بھی شامل تھے ۔
رات کی سیاہی ہر شے پر قابض تھی دونوں دوستوں نے ہنستے کھیلتے ہواٸی اڈے سے گھر تک کا سفر طے کیا تھا
رات کی فلاٸیٹ ہونے کی وجہ سے دونوں کو گھر پہنچتے ہوۓ رات کے دو بج گۓ تھے
گھر میں داخل ہوۓ تو سنناٹے نے ان کا استقبال کیا
گھر میں سب سوچکے تھے سواۓ ایک ذی روح کے جو اس وقت لاٶنج میں رکھے صوفوں میں سے ایک پر براجمان بڑی انہماک سے بیٹھی ٹی وی پر ناگن ڈارامہ دیکھنے میں غلطہ تھی ۔
ژیال کے چہرے پر ناگواری اور ماتھے پر بل نمودار ہوۓ تھے ہاتھوں کی مٹھیاں غصے سے بھینچی تھیں
”اس لڑکی کی لاپرواٸی اور بچپنے سے میں تنگ آگیا ہوں“
وہ بڑابڑاتا ہوا اس کے مقابل جاکھڑا ہوا تھا
ژیال کو اپنے سامنے غصے سے سرخ ہوتا چہرا لیے کھڑا دیکھ کر حمد سلطان کے ہاتھ پاٶں کانپے تھے آدھے کندھے پر آدھا صوفے کی زینت بنا دوپٹا اٹھا کر ادب سے سر پر سجایا تھا
”ا اسلام عا علیکم“
صوفے سے کھڑی ہوتی بامشکل خود کو سنبھالتی اپنےکبکپاتے لب سے سلام ادا کرنے میں کامیاب ہوگٸ تھی وہ
”کب عقل آۓ گی تمھیں ہوش ہے تمھیں کوٸی گھر میں داخل ہوا ہے اتنی لاپروا بنی تم یہ اپنی سگیوں کا ڈرامہ ملاحظہ فرما رہیں تھیں جس دن میرا صبر کا پیمانہ لبریز ہوا نہ اس دن دماغ درست کرنے میں دیر نہیں لگاٶں گا میں تمھارا“
ژیال بے دردی سے اس کا بازوں اپنی مضبوط گرفت میں جکڑتا حمد پر برس پڑا تھا
اس کا دوست ششدر سا کھڑا اپنے دوست کا غصہ دیکھ رہا تھا جو پانچ سال میں کم ہونے کے بجاۓ اور پروان چڑھ گیا تھا
”سو سوری“
اس نے اپنے ننھے سے دل کو قابوں میں کرتے ہوۓ بڑی مشقت سے لب پھڑ پھڑاۓ تھے
”جاٶ جا کر کھانا لگاٶ ہم دونوں کے لیے ہم فریش ہوکر آرہے ہیں“
اس نازک سی جان کا بازوں جھٹک کر احسان ہی کیا تھا اس کو جانے کا کہہ کر
اپنی جان بخشی پر ہلکی سے سر کو جنبش دیتی کچن کی طرف دوڑی تھی
اپنے گلابی رخساروں پر بہتے اشکوں کو ہتھیلی سے رگڑا تھا لیکن کوٸی فاٸدہ نہ ہوا اس ظالم کے ظلم یاد کرکے پہلے سے زیادہ مقدار میں بہتے اشک اس کا گلابی چہرا بھیگو رہے تھے
”تیرے برتاٶ پر روتی ہوں تو ڈر جاتی ہوں
یہ میرے آنسوں کہیں لے ہی نہ ڈوبیں تجھے“
”یار کیوں ڈانٹا اس کو اتنی بڑی تو کوٸی خطا نہیں ہوٸی تھی اس سے جتنا زیادہ تو نے اس پر غصہ کیا ہے“
عاہن نے حمد کے حق میں بولا تھا
”یار توں نہیں جانتا اس لڑکی کو دماغ خراب کیا ہوا ہے اس نے میرا اس کا یہ لاپروا انداز مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتا“
ژیال اپنا غصہ قابوں کرتا اپنے دل کی بات زبان پر لایا تھا
”تجھے کیا یار اس کی شادی ہوگی تو اس کا شوہر خود ہی سدھار لے گا اس کو تو کیوں ہلکان ہوتا ہے اس کی خیرخواہی میں“
عاہن اپنی طرف سے شرارتن بول گیا تھا لیکن ژیال کے زبان سے ادا ہونے والے الفاظ اس کو ساکت کرگۓ تھے
”کیونکہ بدقسمتی سےاس کا وہ شوہر میں ہی بننے والا ہوں بچپن سے ہم دونوں کا رشتہ پکا ہوا ہے بتایا کسی کو نہیں اس لیے میں منگنی پر بھروسہ نہیں رکھتا ٹوٹ بھی جاتی ہیں نکاح کا بندھن ہی ایک مضبوط ڈور ہوتی ہے جب وہ بندھن بندھے گا تو سب ہمارے رشتے کے متعلق بھی جان جاٸیں گے “
وہ پتھر ہوا تھا دل میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی دماغ پھٹنے کے در پے تھا
”نہیں نہیں یہ خواب ہے جھوٹ ہے ایسا نہیں ہوسکتا وہ میری ہے وہ میری ہے“
”نہیں مجھے ایسا نہیں سوچنا چاہیے وہ میرے دوست کی امانت ہے “
دل و دماغ میں جنگ چھڑ چکی تھی
”اوۓ توں کہاں گھوم ہوگیا چل تجھے تیرا کمرا دیکھاٶں “
ژیال عاہن کی دل و دماغ کی حالت سے انجان اس کو ہاتھ پکڑ کر سڑھیاں عبور کرکے عاہن کو اس کے کمرے میں چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلا گیا تھا
”یہ کیسے ہو سکتا ہے کیا حمد یہ بچپن سے جانتی تھی اس نے پیار کے نام پر میرے جذبات سے کھیلا کیوں حمد کیوں کیا میں تمھیں اسی لاٸق لگا “
عاہن کے اندر یکدم حبس سا بھر گیا تھا وہ اپنے اندر کی گھٹن کم کرنے کے لیے کمرے سے باہر نکل آیا اس کا ارادہ کچن میں کام کرتی حمد کے دل میں اپنے اندر کی گھٹن اتارنا تھا
”مبارک ہو حمد “
حمد کی سماعتوں میں داخل ہوتی یہ آواز حمد کو پانچ سال پیچھے کھینچ لاٸی تھی
”حمد کہاں جارہی ہو یار میں کل لندن چلا جاٶں گا خاص طور پر تم سے ملنے آیا ہوں تم سیدھے منہ بات بھی نہیں کررہیں“
”مجھے کوٸی بات نہیں کرنی آپ سے مہربانی کریں مجھ پر جاٸیں یہاں سے اور آٸندہ میرا راستے میں حاٸل ہونے کی کوشش نہیں کریے گا عاہن حسین “
حمد نے اپنے سامنے تن کے کھڑے عاہن کو انگلی اٹھا کر آگاہ کیا تھا
حمد کا یہ روپ تو عاہن نے کبھی دیکھا نہ تھا وہ صدمے کی سی کیفیت میں گھڑا چہرے پر سنجیدہ تاصورات لیے کھڑی حمد سلطان کو دیکھ رہا تھا
جس کا دل پتھر آنکھیں جذبات سے عاری تھیں
حمد ایسا کیوں کررہی ہو کیا ناراض ہو میں تمھیں چھوڑ کر جارہا ہوں عاہن نے اپنے برابر سے گزرتی حمد کی بے تابی سے کلاٸی تھامی تھی
اگلے ہی لمحے حمد کا ہاتھ اٹھا تھا عاہن کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا تھا
”خبردار آٸندہ مجھے ہاتھ لگایا تو اپنی حد میں رہیں تو بہتر ہوگا آپ کے لیے“
حمد ایک بار پھر عاہن حسین کے جذبات کو پیروں تلے روند کر چلی گٸ تھی
عاہن کی آنکھ سے ضبط کے باوجود شبنم کے موتی کے ماند دو موتی حمد سلطان کی محبت کو بہا لے گۓ تھے
””کبھی سینے سے لگا کر سن وہ دھڑکن
جو ہر پل تیرے ساتھ جینے کا ورد کرتی ہیں““
”حمد سلطان ماضی کے جھرکوں سے لوٹ آٶ تمھیں کوٸی حق نہیں مجھے اپنی یادوں میں بھی سوچنے کا“
عاہن کی سخت تنبیہ پر
حمد ماضی کی تلخ یادوں سے لوٹ آٸی تھی
حمد نے رخ موڑ کر عاہن کو دیکھا تھا اور اس کی نظریں وہیں ٹھیر گٸیں تھیں
گورا رنگ کالی گھیری آنکھیں سیاہ سلکی بال کھڑی ناک عنابی لب کسرتی جسم یہ پانچ سال پہلےوالا پتلا دبلا عاہن نہیں وجاہت سے بھرپور جوان مرد تھا
”آ آپ جاٸیں یہاں سے مجھے کوٸی بات نہیں کرنی آپ سے“
حمد کی خوبصورت شہد رنگ آنکھیں جو جھلکنے کے درپے تھیں جن میں کبھی زندگی نظر آتی تھی آج سواۓ درد کے اور کچھ نہیں تھا
میدے جیسی رنگت بڑی بڑی شہد رنگ آنکھیں تیکھی ناک پتلے پتلے لب کندھے سے تھوڑے نیچے آتے بھورے بال لمبا قد پندرہ سالہ حمد ایک جوان خوبصورت لڑکی بن چکی تھی عاہن مبہوس سا رہ گیا تھا اپنے جذبات پر قابوں پاتا وہ حمد پر برس پڑا تھا
” حمد سلطان میری ایک بات جان لو میرے ساتھ جو تم نے کیا میں خاموشی سے سہہ گیا اگر تم نے میرے دوست کے ساتھ بھی وہی سب کیا تو میں تمھیں کہی منہ دیکھانے لاٸق نہیں چھوڑوں گا بڑا گھمنڈ ہے نہ تمھیں اپنی خوبصورتی پر سب فنا ہوجاۓ گی صرف رہ جاۓ گی تو تمھاری مکروہ صورت اور تمھارا سیاہ دل جو آباد ہونے کے لاٸق نہیں “
عاہن نے آج حمد کو باور کروا دیا تھا عاہن حسین اپنے دوست ژیال مرتضیٰ کا وفادار ہے
”یہاں کیا ہورہا ہے “
ژیال نے حمد اور عاہن کو ایک دوسرے کے روبرو کھڑا پایا تو سنجیدگی سے گویا ہوا
حمد کی سانس اٹکی تھی لیکن عاہن کے جواب پر اس کی سانس دوبارہ بحال ہوگٸ تھی وہ آنسوں حلق میں اتارتی کام میں مصروف ہوگٸ تھی
”ارے کچھ نہیں یار میں حمد سے کھانے کے بارے میں معلوم کررہا تھا گرم ہوا یا نہیں “
عاہن نے چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ جھوٹ کا سہارا لیا
”تم تو فریش ہونے گۓ تھے پھر یہاں کیا کررہے ہو“
ژیال کو عاہن کا جواب ہضم نہیں ہوا
”اصل میں مجھے بڑی زوروں کی بھوک لگی تھی اسی لیے فریش ہوۓ بغیر ہی آگیا اب تم کیا تفتیشی آفیسر بن گۓ ہو کھانا کھاتے ہیں “
عاہن ژیال کا ہاتھ پکڑ کر کھانے کی میز تک لے گیا
حمد اب میز پر سلیقے سے کھانا سجارہی تھی
حمد کو سلیقے سے کھانا لگاتے دیکھ عاہن کو جھٹکا لگا تھا یہ وہ لاابالی سی شریر سی حمد تو نہیں تھی جس کو وہ پانچ سال پہلے چھوڑ گیا تھا
حمد کا سنجیدہ چہرا عاہن کے دل کو چھلنی کررہا تھا وہ کیوں ایسی ہوگٸ تھی
عاہن کا شدت سے دل کیا حمد کو زور زور سے جھنجوڑ ڈالے آخر یہ سب کرنے کی وجہ کیا ہے
وہ تو سمجھتا تھا حمد اپنی زندگی میں خوش ہوگی لیکن حمد کا ہر جذبات سے عاری چہرا ویران آنکھیں عاہن کو کھٹک رہیں تھیں
”عاہن کھانا کھا یار کیا سوچ رہا ہے“
ژیال نے عاہن کا شانہ ہلاکر کھانے کی طرف متوجہ کیا
”ہاں کچھ نہیں کھا رہا ہوں“
عاہن اپنی سوچوں کی دنیا سے باہر آکر کھانے کی طرف متوجہ ہوگیا
” حمد چاۓ لے آٶ ہم کھانا کھاچکے ہیں “
ژیال کی آواز پر حمد بوتل کے جن کی طرح چاۓ لے کر حاضر ہوٸی
چاۓ پینے کے بعد عاہن اور ژیال اپنے کمرے میں چلے گۓ تھے حمد اپنا کام ختم کرکے چھت پر چلی گٸ تاکہ اپنے دل کا غبار نکال سکے
وہ جب بھی اداس ہوتی چھت پر جاکر تنہاٸی میں خدا سے شکوہ شکایت کرکے اپنا دل ہلکا کرتی
آج بھی عاہن کو دیکھ کر اس کے زخم ہرے ہوۓ اور ان پر نمک کا کام عاہن کی باتوں نے سر انجام دیا تھا
”کیوں آٸیں ہیں وہ واپس کیوں اتنی مشکلوں سے تو خود کو سنبھالا تھا کیا پھر مجھے امتحان سے گزرنا ہوگا “
””اے اللہ توں گواہ ہے میری محبت کا میں نے یہ راز کٸ سالوں سے اپنے دل میں دفن کیا ہوا ہے میں نے کبھی عاہن سے اظہار محبت نہیں کیا کہ یہ مجھے زیب نہیں دیتا لیکن ان کے اظہار سے پہلے ہی میں نے خود اپنے ہاتھوں سے ان کے جذبات کا گلا گھونٹ دیا جس کی وجہ توں جانتا ہے میرے رب میں نے کبھی عاہن کو دکھ دینے کا نہیں سوچا تھا لیکن میں عاہن کو چنتی تو میرے اپنے رشتے مجھ سے روٹھ جاتے میرے ماں باپ کے بعد یہی سب تو میرے اپنے ہیں پھر میں ان کے کیے فیصلے کی نفی کیسے کرتی “
حمد آسمان کی طرف رخ کیے اپنے خدا سے محو گفتگو تھی آنسوٶں کا نہ تھمنے والا سلسلہ شروع ہوچکا تھا
”میرے دل کا درد کس نے دیکھا ہے
ہمیں تو تڑبتی صرف رب نے دیکھا ہے
ہم تنہاٸی میں بیٹھ کر روتے ہیں
لوگوں نے تو ہمیں بس اکثر ہنستے دیکھا ہے “
ژیال تو اپنے کمرے میں جاکر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہا تھا لیکن دوسری طرف عاہن کی نیند اس سے روٹھ چکی تھی
عاہن اپنی بھری بھری لمبی انگلیوں کے درمیان سیگریٹ دباۓ کمرے میں مسلسل چکر کاٹ رہا تھا
”حمد تم میرے لیے پہلی بنتی جارہی ہو آخر چل کیا رہا ہے تمھارے دل و دماغ میں نہ تم خوش ہو نہ کچھ بولتی ہو کیا وجہ ہے آخر تمھاری خاموشی کی“
”آہہہہہہ میرا دماغ پھٹ جاۓ گا حمد “
عاہن ایک بار پھر اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس کررہا تھا وہ کمرے سے نکل کر تازہ ہوا کھانے کے غرض سے چھت کی طرف چل دیا
”وفا سے بےوفاٸی کرنے والی کو بھی
آج پگھلتے دیکھا ہے میں نے“
”اس پتھر پر کس نے ضرب لگا دی جو یہاں بیٹھ کر سمندر بنانے کی کوشش کی جارہی ہے “
عاہن کو دکھ تو ہوا حمد کو بلک بلک کر روتا دیکھ لیکن طنز مارنے سے خود کو باز نہ رکھ سکا
عاہن کا طنز حمد کے سینے میں کسی تیر کی طرح لگا
وہ اپنے آنسوں اپنے آنچل سے پونچتی اٹھ کھڑی ہوٸی
”رو کیوں رہی تھیں “
حمد کو خاموشی سے چھت کی سڑھیوں کی طرف جاتے دیکھ عاہن نے سرعت سے حمد کی کلاٸی تھامی تھی
اپنے جذبات کی رو میں بہہ کر چہرے پر سنجیدگی طاری کیے سوال پوچھا گیا تھا
حمد نے چونک کر عاہن کی طرف دیکھا تھا
عاہن کی آنکھوں میں اپنے لیے فکر کی معمولی سے رمتق دیکھ کر حمد کا چہرا قیمتی موتیوں سے تر ہوا تھا
دونوں کی نظریں ملیں تھی ایک کی آنکھوں میں شکوہ تھا ایک کی آنکھوں میں اشک کا طوفان
”حمد رونا بند کرو مجھے بتاٶ کیا ہوا ہے“
عاہن نے ایک جھٹکا دے کر حمد کو اپنے روبروح کھڑا کیا تھا
”عاہن دعا کریں میں مرجاٶں میں مرجاٶں“
حمد روتی روتی عاہن کے سینے سے جا لگی
عاہن پہلے تو حیران ہوا پھر حمد کے لفظ سن کر تڑپ اٹھا عاہن نے حمد کے دونوں بازوٶں کو اپنی مضبوط گرفت میں قید کرکے زور سے جھنجوڑتے خود سے دور کیا
”دماغ خراب ہے تمھارا خبردار جو تم نے آٸندہ اپنی زبان سے یہ الفاظ نکالے زبان کھینچ لوں گا میں تمھاری“
عاہن کے لہجے میں پہلے والی نرمی کی جگہ سختی تھی
عاہن کی مضبوط گرفت اپنے باذٶوں پر محسوس کرکے حمد اپنے حواسوں میں لوٹی تھی
حمد نے ایک نظر سامنے جبڑے بھینچے کھڑے عاہن پر ڈالی اگلے ہی لمحے عاہن کے سینے پر اپنے دونوں ہاتھوں کا دباٶں ڈالتی اس سے دور ہوٸی تھی
”آپ چلیں جاٸیں واپس چلیں جاٸیں“
حمد ہذیانی انداز میں چیختی الٹے قدم چھت کی سیڑھیاں عبور کرتی اپنے کمرے میں بند ہوگٸ تھی
عاہن کھڑا حالت کی سگینی سمجھنے کی کوشش کررہا تھا حمد کی اس حالت کی وجہ کیا ہے
عاہن کو وہ کسی نفسیاتی مریضہ سے کم نہ لگی
عاہن کو کچھ غلط ہونے کا شدت سے احساس ہورہا تھا لیکن وہ کیا ہےوہ سمجھنے سے قاصر تھا کچھ نہ سمجھ آنے پر عاہن وہی سگریٹ سلگا کر بیٹھ گیا تھا۔
آسمان اپنی کالی چادر اتار کر سفید اجلا لباس دھار چکا تھا جس کی سفیدی ہر شے کو اپنی چھاٶں میں لپیٹتی نکھار گٸ تھی
کھڑکی سے جھن کر آتی کرن اپنے چہرے پر محسوس کرکے حمد کی آنکھوں میں جنبش پیدا ہوٸی آنکھ کھلتے ہی اس نے خود کو بستر کے بجاۓ دروازے کے ساتھ لگے پایا
رات کو چھت سے واپس آکر حمد دروازے سے لگی روتے روتے نیند کے آغوش میں چلی گٸ تھی
حمد کی نظر یکدم دیوار گیر گھڑی پر گٸ جو نو کا ہندسہ پار کرنے کو تھی
”میں اتنی دیر تک کیسے سوتی رہی ژیال تو جاچکے ہوں گے آفس واپس آکر خوب جھاڑ پلاۓ گے مجھے“
حمد کو ژیال نے سختی سے صبح آٹھ بجے اٹھنے کا کہا ہوا تھا وہ صبح جلدی آفس جاتا تھا اسی لیے ابھی سے حمد کو اپنا پابند کررہا تھا وہ شادی کے بعد کوٸی بد مزگی نہیں چاہتا تھا
لیکن آج حمد اپنی شامت کو دعوت دے چکی تھی
حمد خود کو ملامت کرتی فریش ہونے چلی گٸ تھی
ژیال کے مزاج آج کافی خراب تھے وہ حمد کی رات والی حرکت فراموش نہ کرسکا تھا وہ ایک اور غلطی کر بیٹھی تھی
”گڈ مارنینگ سر“
آفس روم میں داخل ہوتے ہی اپنے سامنے آیت کو دیکھ کر ژیال کا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھا تھا
اس پورے آفس میں ژیال کو اس صنف نازک سے الگ ہی انسیت تھی وہ چاہ کر بھی اس پر غصہ نہیں کرپاتا تھا
”گڈ مارنینگ مس آیت تو کیا شیڈیول ہے آج کا“ ژیال نے اپنی سربراہی کرسی پر براجمان ہوتے ہوۓ استفسار کیا تھا
آیت نے بنا وقت کا ضیا۶ کیے ژیال کو آج کے شیڈیول کے متعلق بتانا شروع کردیا تھا
آیت کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی
آیت کی والدہ امبر بیگم صوم وصلوٰة کی پابند تھیں آیت بھی اپنی والدہ کا پرتوں تھی وہ اپنی ماں کی طرح پانچ وقت نماز کی پابند پرہیزگار باپردہ تھی
خوبصورتی تو جیسے اس کو خدا کی طرف سے تحفہ تھا اس پر چہرے پر جھلکتا نور ،گورا رنگ ، لمبا قد، ہرنی جیسی خوبصورت چمکتی آنکھیں ، چھوٹی سی ناک ، بھرے بھرے ہونٹ ، روٸی کے گالے جیسے پھولے پھولے رخسار، لمبے گھنے بھورے بال ، ہاتھ لگاٶ تو میلی ہوجاۓ
لیکن وہ خود کو چھپا کر رکھتی تھی اس نے جب سے ہوش سنبھالا تھا پردے کو اپنا ساتھی بنا لیا تھا اس کو کبھی کسی غیر مرد نے نہیں دیکھا تھا وہ خود کو اپنے محرم کی امانت سمجھتی تھی اسے دیکھنے محسوس کرنے اور محبت کرنے کا حق صرف اس کے محرم کو تھا
آیت کے والد زاہد صاحب بہت اچھے انسان تھے لیکن جب سے انھیں نشے کی لت لگی وہ سارے رشتے فراموش کرگۓ اکثر وہ نشے کی حالت میں امبر بیگم کو مارتے پیٹتے پیسوں کا مطالبہ کرتے ان کے پاس جو ہوتا وہ دے دیتیں گھر میں فاقوں کی نوبت آن پڑی امبر بیگم کی طبیعت بھی ناساز رہنے لگی ایسے میں آیت نے نوکری کرنے کا فیصلہ کیا اس کی تعلیم صرف بارہویں تک تھی لیکن وہ محنتی اور ذہین تھی ہر چیز جلدی سیکھ جاتی تھی
اس نے بہت سی جگہ جاب کے لیے درخواست دی لیکن کوٸی اس کے حجاب پر اعتراز کرتا تو کوٸی اس کو اپنی مکروہ عزاٸم پورے کرنے کا سامان سمجھتا
ژیال اپنے ایک دوست سے اس کے آفس میں کسی پروجیکٹ کے سلسلے میں بات کرنے گیا تھا وہاں اسے حجاب روتی ہوٸی ملی
وہ لفٹ میں داخل ہوا تو کسی کی سسکی کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکراٸی لفٹ کے کونے پر نظر پڑی تو وہاں ایک لڑکی عباۓ میں ملبوس گھٹنوں میں منہ چھپاۓ رو رہی تھی
ژیال کے سمجھ نہیں آیا کیا کرے وہاں آس پاس کوٸی موجود بھی نہیں تھا
”سنیں آپ کیوں رو رہی ہیں “
ژیال نے تھوڑا جھک کر نرمی سے استفسار کیا
کسی مرد کی آواز اپنے اتنے قریب سے سن کر آیت نے جھٹکے سے سر اٹھایا
اس کے سامنے تھری پیس سوٹ میں ملبوس پچیس چھپیس سالہ نوجوان کھڑا تھا
بھوری آنکھیں براٶن بال 6 فٹ سے نکلتا قد چوڑے شانے گندمی رنگت لمبی گھنی پلکیں چہرے پر چمکتی ہلکی داڑھی اس نوجوان کی وجاہت میں اضافہ کررہی تھی
ایک پل کو وہ اس خوبرو مرد کے سحر میں کھوگٸ تھی اگلے ہی پل اس پر خوف طاری ہوگیا تھا وہ اس وقت ایک مرد کے ساتھ اس لفٹ میں تنہا موجود تھی یہ سوچ آتے ہی وہ گھبرا کر پیچھے دیوار سے جا چپکی
”مس آپ گھبراۓ نہیں میں کچھ نہیں کروں گا آپ کو پر سکون ہوجاٸیں“
ژیال کے اتنے نرم اپناٸیت بھرے لہجے پر آیت کو گونہ سا سکون ملا وہ خاموشی سے اٹھ کھڑی ہوٸی
”کیا آپ مجھے بتاٸیں گی آب یہاں لفٹ میں بیٹھ کر کیوں رورہی تھیں “
”مجھے جاب کی اشد ضرورت ہے لیکن ہر کوٸی میرے پردے پر اعتراز کرتا ہے میری تعلیم بھی کم ہے مجھے کوٸی جاب نہیں دے رہا گھر میں فاقوں کی نوبت آگٸ ہے میں کیا کروں سمجھ نہیں آرہا“
آیت اب باقاٸدہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی
”اچھا آپ پریشان نہیں ہو کل آپ میرے آفس آٸیے گا یہ میرا کارڈ ہے “
ژیال کو آیت کے آنسوں دیکھ کر تکلیف ہوٸی
ژیال نے آیت کو نوکری دینے کا فیصلہ کرلیا تھا
آیت نے آنسوں پونچتے ہوۓ کارڈ تھام لیا
”اب آپ گھر جاٸیں کل نو بجے آفس میں ملے آپ مجھ سے“
ژیال نے سنجیدگی سے کہا
”جی سر میں پہنچ جاٶں گی بہت بہت شکریہ آپ ک“ا
آیت نے مسکراتے ہوۓ کہا
ژیال نقاب کی وجہ سے اس کی مسکراہٹ تو نہ دیکھ سکا لیکن اس کی آنکھوں میں خوشی کی چمک دیکھ کر ہلکا سا مسکایا تھا
”اچھا سنیں “
آیت جانے کو پلٹی تھی ژیال کی آواز پر رخ مڑ کر ژیال کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی
”یہ کچھ پیسے رکھ لیں“
ژیال نے ہزار کے چار پانچ نوٹ حجاب کے سامنے کیے
”نہ نہیں یہ میں نہیں لے سکتی“
آیت نفی میں گردن کو ہلاتے ہوۓ بولی
” میں آپ کو ادھار دے رہا ہوں یہ پیسے میں آپ کی تنخواہ میں سے کاٹ لوں گا “
آیت نے حیرانگی سے ژیال کی طرف دیکھا
تو کیا اسے جاب مل گٸ تھی
”ایسے کیا دیکھ رہی ہیں جاب مل گٸ ہے آپ کو“ ژیال نے نرمی سے کہا
”شکریہ سر “
آیت نے پیسے لیے اور وہاں سے نکل گٸ
ژیال کو ویسے بھی ایک سیکیٹری کی ضرورت تھی جس کے لیے وہ اشتہار دینے کا سوچ رہا تھا آیت کو دیکھ کر اس نے اس کو ایک موقع دینے کا سوچا اور اسکا آیت کو نوکری دینے کا فیصلہ درست ثابت ہوا
آیت ہر کام جلدی سیکھ گٸ تھی وہ بہت محنت اور لگن سے کام کرتی تھی
ژیال اس کے کام سے خوش تھا وہ ہر کام ویسا ہی کرتی جیسا وہ چاہتا تھا
ایک دفع اس کے دل میں خیال آیا
”کاش حمد آیت جیسی ہوتی“ لیکن ایسا نہیں ہوسکتا کوٸی کسی کی طرح نہیں بن سکتا
”ہاۓ میرا بچہ اتنے سال بعد آیا ہے یاد نہیں آٸی ذرا بھی تجھے اپنی اس ماں کی“
صدف بیگم عاہن کا ماتھا چومتی اس سےشکوہ بھی کررہی تھیں
”ماما مجھے آپ سب کی بہت یاد آتی تھی لیکن وہاں کی پڑھاٸی پھر آفس کا کام وقت ہی نہیں ملتا تھا لیکن اپنی بہن کی شادی میں ہر ذمہ داری پست پشت رکھتا بھاگا چلا آیا “
عاہن مسکراتا ہوا صدف بیگم کا شکوہ دور کر رہا تھا
”ہاں اچھا ہوا آگۓ نہیں تو میں خود پہنچ جاتی لندن اور کان سے پکڑ کر تمھیں واپس لاتی“
صدف بیگم نے بھی عاہن کو دھمکی دے ڈالی جس پر وہ عمل کرنے کا ارادہ رکھتی تھیں
”اچھا ماما یہ تو بتاٸیں ہماری دلہن بیگم اور دادا جان بابا سب کہاں ہیں نظر نہیں آرہے کہیں “
عاہن نے آس پاس کا معاٸنہ لیتے ہوۓ شرارت سے کہا
”تمھارے دادا جان اور بابا بزنس ٹریپ پر گۓ ہیں کچھ دن میں لوٹ آۓ گے“
”نمل سورہی ہے ابھی اٹھا کر لاتی ہوں میں اس کو“
صدف بیگم مسکراتے ہوۓ نمل کے کمرے میں کی طرف چلیں گٸیں
حمد روم سے باہر آٸی تو سامنے ہی صوفے پر عاہن بیٹھا نظر آیا
ایک پل کو دونوں کی نظریں ملیں لیکن دونوں ایک دوسرے کو نظر انداز کرگۓ
حمد نے کچن کی راہ لی
عاہن خود کو موباٸل میں مصروف دیکھانے کی بھر پور کوشش کررہا تھا
ارتضیٰ صاحب حفصہ بیگم کے دو ہی بیٹے تھے جو ان کی کل کاٸنات تھے انھوں نے دونوں بیٹوں کی تربیت میں کبھی کوٸی کوتاہی نہیں برتی کہنے کو تو وہ ان کے لاڈلے بیٹے تھےلیکن کبھی انھوں نے ان کو لاڈ پیار میں آکر کوٸی ناجاٸز خواہش پوری نہیں کی دونوں بیٹے صابر اور شاکر تھے
بڑے بیٹے کا نام مرتضیٰ اور چھوٹے بیٹے کا نام سلطان تھا دونوں بیٹوں نے پڑھاٸی مکمل کرنے کے بعد اپنا گارمینٹس کا خاندانی بزنس سنبھال لیا
جب حفصہ بیگم کو بیٹوں کی شادی کی فکر ستانے لگی تو انھوں نے رشتوں کی تلاش شروع کردی
ایک دن حفیظ صاحب اپنی دو بیٹیوں کے ہمراہ ارتضیٰ صاحب کے گھر تشریف لاۓ
حفیظ صاحب ارتضیٰ صاحب کے بہت اچھے دوست تھے ان کی بیوی اپنی چھوٹی بیٹی سدرہ کو پیدا کرنے کے کچھ دن بعد اس جہاں فانی سے کوج کرگٸیں تھیں اس وقت ان کی پڑی بیٹی صدف صرف چھے سال کی تھی
بیوی کے جانے کے بعد حفیظ صاحب نے کبھی دوسری شادی نہیں کی بللکہ اپنی بیٹیوں کو خود ہی سنبھالا اور ان کی پرورش کے ساتھ اچھی تربیت بھی کی
حفصہ بیگم نے صدف سدرہ کو دیکھا تو اپنے بیٹوں اور شوہر کی راضامندی پر حفیظ صاحب سے رشتے کی بات کی وہ خوشی خوشی مان گۓ
دونوں گھروں میں شادیوں کی تیاریاں زوروں شور سے شروع ہوگٸیں پھر وہ دن بھی آہی گیا جب صدف بیگم ارتضیٰ اور سدرہ بیگم سلطان صاحب کی شریکِ حیات بن کر اپنے اصلی گھر سدھار گٸیں
شادی کے ایک سال بعد ہی صدف بیگم کے یہاں ننھا سا ژیال آیا گھر میں پہلا بچہ ہونے کی وجہ سے وہ ہر کسی کا لاڈلہ تھا
ژیال جب تین سال کا ہوا تو چھوٹی سی نمل بھی اس دنیا میں تشریف لے آٸیں
شادی کے تین سال ہونے کے بعد بھی سدرہ بیگم اولاد کی نعمت سے محروم تھیں انھوں نے علاج بھی کروایا لیکن وہ بلکل ٹھیک تھیں سب ہی ان کو حوصلہ دیتے وہ ننھے ژیال اور چھوٹی نمل کو دیکھ کر بہت خوش ہوتیں
صدف بیگم سے زیادہ سدرہ بیگم ان دونوں کے نخرے اٹھاتیں
آخر کار شادی کے پانچ سال بعد سدرہ بیگم کو ان کے صبر کا پھل نازک سی پری حمد کی صورت میں ملا حمد کے آنے پر باقاٸدہ جشن منایا گیا سلطان صاحب کے پاٶں زمین پر نہیں ٹک رہے تھے وہ نازک پری کو دیکھ کر ایسے خوش ہوتے جیسے انھیں کوٸی کھلونا مل گیا ہو
سدرہ بیگم کی آنکھیں حمد کو دیکھ دیکھ کر بھر آتیں کتنی دعاٸیں کی تھیں انھوں نے آج ان کی دعاٸیں پوری ہوگٸیں تھیں وہ سجدہ شکر کر کر کے نہیں تھکتی تھیں
نمل بیٹا اٹھ جاٶ صبح ہوگٸ ہے عاہن بھی آگیا ہے تمھیں یاد کررہا ہے
عاہن بھاٸی آگۓ نمل جو اور سونے کا ارادہ رکھتی تھی عاہن کا سن کر کمبل خود پر سے اتار کر پھیکتی اٹھ بیٹھی
نمل نے عاہن اور ژیال کے درمیان کبھی کوٸی فرق نہیں کیا عاہن بھلے ہی نمل کا سگا بھاٸی نہیں تھا لیکن اس نے ہمیشہ نمل کو سگے بھاٸیوں جیسا مان دیا لیکن وہ حمد کے معاملے میں اپنے دل کو قابو میں نہ رکھ سکا حمد سلطان اس کی رگوں میں خون بن کر دوڑتی تھی
اففف لڑکی شادی ہونے والی ہے تمھاری یہ اوچھل خود تمھیں زیب نہیں دیتی اب اٹھو جلدی فریش ہوکر باہر آٶ عاہن ناشتے پر انتظار کررہا ہے تمھارا
صدف بیگم نمل کو جھاڑ پلاتی کمرے سے نکل گٸیں ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔
