Dil Dosti Pyaar By Misbah Khalid Readelle50329 (Dil Dosti Pyaar) Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
(Dil Dosti Pyaar) Episode 4
قسط نمبر ”4“
حال
حمد دوسرے دن صبح وقت پر بیدار ہوگٸ تھی
اس کی سرخ آنکھیں رات بھر نہ سونے کی چغلی کررہی تھیں
عاہن کی بھی ساری رات انگاروں پر گزری تھی اس کا دل درد سے پھٹ رہا تھا اپنی محبت خود قربان کردینا اس کے لیے آسان نہیں تھا
”وحشت ہوں روگ ہوں افسوس ہوں میں
سر سے پاٶں تک لپٹا ایک سوگ ہوں میں “
”خالا جان ژیال نہیں اٹھے ابھی تک وہ تو مجھ سے پہلے اٹھ کر کھانے کی میز پر بیٹھے ہوتے ہیں “
”بیٹا اس کی آج ضروری میٹینگ تھی تو جلدی چلا گیا آفس تم پریشان نہیں ہو“
صدف بیگم نے حمد کا ڈر دور کیا تھا
”خالا جان نمل اٹھ جاۓ اس کے ساتھ ناشتہ کروں گی“
”اچھا چلو جیسی تمھاری مرضی تم کچن سنبھال لو میں ذرا ماسی سے سفاٸی کروا لوں “
صدف بیگم حمد کا رخسار تھپکتی کچن سے باہر نکل گٸیں
حمد کچن سمیٹنے میں مصروف ہوگٸ
ژیال کا رویہ حمد کے ساتھ روکھا سا ہوگیا تھا اس نے حمد کو ڈانٹنا اس پر غصہ کرنا یہاں تک کے اپنے کام کروانا بھی چھوڑ دیا تھا وہ خود کردیتی تو کروا لیتا ورنہ اپنے سارے کام صدف بیگم سے ہی کرواتا تھا
دوسرے لفظوں میں وہ حمد سے بلکل لاتعلق ہوگیا تھ
سب حیران بھی تھے اور خوش بھی کہ وہ اب حمد کو تنگ نہیں کرتا شاید وہ حمد کو پسند کرنے لگا ہے
لیکن حمد کا سکون غارت ہوکر رہ گیا تھا
ژیال کی آنکھوں کا سرد پن اسے کسی بڑی سزا کا سیگنل دے رہا تھا لیکن وہ خاموش رہنے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتی تھی کیونکہ اس کی خیریت بھی اسی میں تھی
ماضی
حمد اور عاہن کی نزدیکیاں بڑھ رہیں تھیں دونوں جب ساتھ ہوتے تو سب کی ناک میں دم کیے رکھتے دونوں کے مزاج ایک جیسے تھے چنچل شوخ شریر
ان دونوں کی شرارتوں کا اکثر نشانہ ژیال بنتا تھا کیونکہ وہ ان دونوں کے مقابلے میں کافی سنجیدہ تھا
حمد کم عمر تھی پیار محبت جیسے جذبات کا تو اسے علم نہیں تھا لیکن عاہن کے بنا رہنا اس کے بس میں نہیں تھا وہ سارا سارا دن عاہن کے گھر گزار کر آتی عاہن کی والدہ بھی بہت نرم دل کی خاتون تھیں ان کو بھی حمد اپنی بیٹی جیسی لگتی تھی حمد کے آجانے سے ان کا بھی دل لگا رہتا تھا
حمد کو اپنی پندرہویں سالگرہ پر معلوم ہوا عاہن اپنی فیملی کے ساتھ لندن شفٹ ہورہا ہے اس دن وہ بہت روٸی عاہن سے سارا دن بات نہیں کی
عاہن بھی دکھی تھا حمد سے دور جانے کا سن کر پر وہ مجبور تھا ماں باپ کے بنا کیسے اکیلا رہتا
عاہن کی لاکھ کوششوں وعدوں قسموں کے بعد حمد مان گٸ عاہن نے اس کو موباٸل بھی گفٹ کیا جس سے وہ روز ویڈیو کال پر حمد سے بات کرنے کا عہد کرچکا تھا
شاید قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا حمد کو اپنے اور ژیال کے رشتے کا معلوم ہوگیا تھا اپنے ماں باپ کی یہ خواہش پوری کرنے کے لیے حمد نے عاہن کو خود سے دور کردیا تھا
عاہن کا تحفے میں دیا ہوا موباٸل حمد کے پاس آج تک ویسا کا ویسا رکھا تھا
وہ سمجھدار ہوگٸ تھی عاہن کی آنکھوں اور اس کے ہر عمل سے حمد کو اپنے لیے محبت جھلکتی نظر آتی تھی
محبت تو حمد کو بھی تھی اس کی کچی عمر کی محبت اس کے لیے ناسور بن گٸ تھی جو حمد کو نہ جینے دیتی تھی نہ مرنے دیتی تھی
دن اپنی رفتار سے گزر رہے تھے دو سال پہلے حفصہ بیگم بھی اس دنیا سے رخصت ہوگٸیں تھیں نمل اور حمد نے گریجوشن کے بعد پڑھاٸی کو خیر آباد کردیا تھا
ایک سال پہلے مرتضیٰ صاحب نے اچھا لڑکا دیکھ کر نمل کی منگنی کردی تھی اب دھوم دھام سے شادی کررہے تھے
نمل کی شادی کے دن قریب آرہے تھے
ارتضیٰ اور مرتضیٰ صاحب بھی بسنس ٹریپ سے واپس آگۓ تھے
گھر میں ہر سوں رنگ و بوں کا سما تھا
لیکن عاہن اور حمد تو جیسے سب کچھ ہار چکے تھے
ژیال نے کل ہی تو نمل کی مایوں والے دن اپنے اور حمد کے نکاح کا علان کیا تھا سب ہی خوش تھے سواۓ حمد اور عاہن کے
اب تو وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے سوچنے کا حق بھی کھونے والے تھے دونوں میں مکمل طور پر بات چیت بند تھی لیکن ایک دوسرے کے درد سے وہ دونوں اچھی طرح واقف تھے
آخر کار وہ دن بھی آگیا تھا جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا
آج شام نمل کے مایوں تھی اور دوپہر کو ظہر کے بعد نمل کے ساتھ ہی حمد اور ژیال کا نکاح کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا
رو رو کر اب تو حمد کے آنسوں بھی خشک ہوگۓ تھے آنکھیں تھک گٸیں تھیں سر میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں لیکن زبان پر قفل لگاۓ خالی خالی نظروں سے سب کے مسرت بھرے چہرے دیکھ رہی تھی
نکاح کا وقت ہوگیا تھا صدف بیگم اور نمل حمد کے کمرے میں اس کے پاس ہی تھیں نمل کا نکاح ہوچکا تھا اب حمد کی باری تھی
صدف بیگم نے ایک سرخ کڑاھی دار خوبصورت سا دوپٹہ حمد کے سر پر اوڑا دیا تھا
حمد کسی بت کی طرح بیٹھی تھی وہ جاہ کر بھی یہ سب قبول نہیں کرپارہی تھی
”حمد ولد سلطان ارتضیٰ ۔۔۔۔۔۔“
حمد سر جھکاۓ قاضی صاحب کے جملوں پر غور کرنے لگی کہی یہ میرا وہم تو نہیں
اتنے میں قاضی صاحب کی آواز پھر اس کے کانوں سے ٹکراٸی
حمد نے جب بھی کوٸی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا
کسی نے دھمی آواز میں اس کے کان میں سرگوشی کی
”حمد بولو سب تمھارے جواب کے منتظر ہیں“
آواز دھیمی ضرور تھی لیکن حمد کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ یہ آواز کس کی ہے اپنے اوپر ظلم کرنے والے کی آواز کوٸی کیسے فراموش کرسکتا ہے
حمد نے بنا کسی تاثر کے قبول ہے کہا تو سب جگہ مبارک ہو کی آوازیں گونج اٹھیں
صدف بیگم اور نمل نے محبت سے حمد کو گلے لگایا حمد تو سب کچھ سمجھنے کی کوشش کررہی تھی اسے سب خواب جیسا لگ رہا تھا
اس کے اردگرد کیا ہورہا ہے اسے معلوم نہیں تھا وہ تو بس کچھ دیر پہلے ہونے والے نکاح کے لمحوں میں ہی کھوٸی تھی کمرے سے سب جا چکے تھے سواۓ ایک شخص کے وہ تھا
” ژیال مرتضیٰ “
”حمد عاہن حسین مبارک ہو تم کو یہ شادی تمھاری صدا خوش رہو یہ دعا ہے ہماری “
ژیال نے حمد کے سامنے بیٹھتے ہوۓ دعا دی تو حمد بے یقینی سے ژیال کی طرف دیکھنے لگی
”مجھے ایسے نہیں دیکھو تمھارے شوہر کو برا لگے گا“
حمد نے ژیال پر الجھی نظر ڈالی تو وہ مسکرا دیا
اتنے میں دروازہ کھلا نمل عاہن کے ساتھ کمرے میں داخل ہوٸی
عاہن کی خوشی اس کے خوبصورت چہرے کی چمک سے جھلک رہی تھی
عاہن سرشار سا بیڈ پر آکر بڑے حق سے حمد کے پہلو میں براجمان ہوگیا
نمل بھی عاہن کے سامنے کچھ فاصلے پر بیٹھ گٸ ژیال حمد کے سامنے بیٹھا تھا
وہ آنکھوں میں سوال لیے تینوں کو دیکھ رہی تھی لیکن زبان سے ابھی بھی کچھ نہ بولی تھی یا شاید اس میں ہمت نہیں تھی اسے لگ رہا تھا ابھی اس کی آنکھ کھولے گی اور سب خواب کی طرح غاٸب ہوجاۓ گا
”ہم جانتے ہیں تم کیا سوچ رہی ہو لیکن میری پیاری بہن یہ سب سچ ہے تمھیں تمھاری محبت مل گٸ ہے جس کی تم حقدار بھی تھیں “
نمل نے پیار سے حمد کا چہرہ ہاتھوں میں لیے نرمی سے کہا
”جی واٸفی یقین کرلو اب تم صرف عاہن حسین کی ہو تمھیں مجھ سے کوٸی جدا نہیں کرسکتا “
عاہن اپنی آنکھوں میں محبت کا جہاں سماۓ گویا ہوا
”تم سوچ رہی ہوگی نہ یہ سب کیسے ہوا تو سنو “
اب سب کی توجہ کا مرکز ژیال تھا جس نے حمد کو پوری کہانی سنانی تھی
”ایک ہفتے پہلے ۔۔۔““
”آیت آپ ابھی تک گھر نہیں گٸیں آفس ٹاٸم تو ختم ہوچکا ہے “
میز پر سر جھکاۓ بیٹھی آیت کو اپنی پشت سے ژیال کی آواز سناٸی دی تو وہ اپنے آنسو صاف کرتی اٹھ کھڑی ہوٸی
”جی سر بس جاہی رہی تھی “
”آیت ایک منٹ روکو یہاں دیکھو میری طرف اوپر کرو چہرا “
ژیال آیت کو آنسو صاف کرتے دیکھ چکا تھا
آیت نے مصنوعی مسکراہٹ سجاۓ ژیال کی طرف دیکھا مگر آنکھیں اس کا ساتھ نہ دیں پاٸی
”آیت تم رو رہیں تھیں کیا بات ہے مجھے بتاٶ کوٸی پروبلم ہے کیا تمھاری مما کی طبیعت تو ٹھیک ہے نہ “
ژیال نے اپنی طرف سے اندازہ لگایا
”جی سر اللہ کا شکر ہے امی ٹھیک ہیں“
آیت نے بے اختیار آنے والے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا
”یہاں بیٹھو پلیز تم“
ژیال نے پاس رکھی کرسی پر اشارہ کرتے ہوۓ کہا
آیت خاموشی سے بیٹھ گٸ
”اب بتاٶ مجھے کیا بات ہے کیوں رو رہیں تھیں “
ژیال نے دوسری کرسی پر حمد کے سامنے بیٹھتے ہوۓ استفسار کیا
جاری ہے ۔۔۔۔
