Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 15)

Dhal Chuki Shab e Hijar by Esha Gul

بابا مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔

سماہر نے یونی سے آتے ہی بابا کے کمرے کا رخ کیا اور بولی۔

حیات صاحب کچھ دیر اسے دیکھتے رہے جیسے جان گئے ہوں کہ وہ کیا بات کرنے آئی ہے۔

بولو۔۔۔

آپ میرے ہی بابا ہیں ناں؟؟

سماہر نے کیا کہہ دیا تھا حیات صاحب چند لمحے اسے بے یقینی سے دیکھتے ہی رہے۔

یہ کیسا سوال ہے سماہر۔۔۔

اگر آپ میرے ہی بابا ہیں تو پھر میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔آپ نے ارش کے لئے انکار کیوں کیا بابا آخر کیوں۔

آپ کے لئے پھپھو زیادہ اہم ہیں میں نہیں آپ کو ان سے زیادہ محبت ہے مگر کیا مجھ سے نہیں۔

بتائیں ناں بابا۔۔۔کچھ تو بولیں۔

سماہر نے انکا ہاتھ ہلاتے ہوئے پوچھا۔

میں نے جو بھی کیا ٹھیک کیا اور تمہارے بارے میں سوچ کے ہی کیا۔نہیں بابا آپ نے میرے بارے میں سوچا ہوتا تو آپ ایسا نہیں کرتے آپ مجھے تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے میں جانتی ہوں بابا پلیز اپنا فیصلہ بدل دیں پلیز ارش کے لئے مان جائیں۔

سماہر باقاعدہ ہاتھ جوڑنے پر مجبور ہو بیٹھی۔

سماہر میری جان بابا کی گڑیا پلیز ایسے ہاتھ مت جوڑو۔

میں تمہارا باپ ہوں اور تم سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہوں کوئی تمہیں مجھ سے زیادہ محبت نہیں کر سکتا ارش بھی نہیں۔

تمہارے لئے جو میں نے سوچا ہے وہ بلکل صحیح ہے۔۔۔

تم سے بس اتنا ہی کہوں گا کہ اب تم ارش کو بھول جاؤ اسے اپنی زندگی کا بدترین باب سمجھ کر بند کر دو۔

اس سے پہلے حیات صاحب کچھ اور بولتے سماہر اٹھی اور اپنے کمرے میں آکر پھوٹ پھوٹ کر ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی۔

“ارش کو بھول جاؤ”

“کوئی تمہیں مجھ سے زیادہ محبت نہیں کر سکتا ارش بھی نہیں”

“اسے اپنی زندگی کا بدترین باب سمجھ کر بند کر دو”

کیا یہ سب سننے کے بعد سماہر کے لئے کچھ اور سننا باقی رہتا تھا کیا۔یقیناً نہیں۔۔۔۔

یہ سچ تھا کہ اسکا باپ اس سے بہت محبت کرتا تھا اور وہ چاہے کچھ بھی کر لیتے سماہر ان سے ضد نہیں لگا سکتی تھی ان کے خلاف نہیں جا سکتی تھی۔۔۔

۔*****************

ہیلو ہیلو سماہر تم کچھ بول کیوں نہیں رہی۔۔۔

بات کرو سماہر۔۔۔پلیز کچھ تو بولو۔

سماہر ارش کی کال رسیو کئے اپنے آنسوؤں پر قابو پانے لگی۔۔۔۔۔۔۔ارش کو بھول جاؤ۔۔۔ارش کو بھول جاؤ۔۔۔۔اس کے کانوں میں یہی آواز گھونج رہی تھیں اسے ان کے علاوہ اور کچھ سنائی ہی نہیں دے رہا تھا نا ارش کی آواز نا کیف کی۔۔۔

ارش کو بھول جاؤ۔۔۔۔۔

کیف کب سے اسکے کمرے کا دروازہ ناک کر رہا تھا مگر وہ سن ہی کہاں رہی تھی۔۔۔۔

اسے ارش کے سامنے خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنا تھا اسے بابا کے فیصلے کے سامنے سر جھکانا ہی تھا۔

سماہر پلیز کچھ تو بولو تمہاری یہ خاموشی مجھے مار ڈالے گی۔موبائل سے ارش کی آواز ابھری۔۔۔

سماہر نے موبائل اپنے چہرے کے بلکل سامنے کیا اور پھر موبائل کو اپنے ہونٹوں کے قریب لاتے ہوئے جب بولی تو صرف اتنا۔

آج کے بعد مجھے کال مت کرنا ارش میں آج سے تمہاری سومو نہیں رہی۔۔۔مر گئی تمہاری سومو۔۔۔اگر زندہ ہے تو صرف بابا کی سماہر۔۔۔۔۔بس بابا کی سماہر۔۔۔

سماہر نے کال کٹ کی موبائل پڑے پھینکا اور چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بری طرح سے رونے لگی۔

۔*******************

بابا مجھے یقین نہیں آرہا کہ آپ سماہر کے ساتھ ایسا کر سکتے ہیں جبکہ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ سماہر ارش سے کتنی محبت کرتی ہے۔

ارش سماہر کے لئے ہر لحاظ سے بہتر ہے یہ آپ نے ہی تو کہا تھا تو پھر اب ایسا کیا ہوگیا جو آپ نے سماہر کا دل اتنی بری طرح سے توڑتے ہوئے ارش کے لئے انکار کر دیا۔

کیف کو جب سماہر سے معلوم ہوا تو اسکی حالت دیکھ کر کیف سے رہا نہیں گیا تو بابا سے بات کرنے چلا آیا۔

میں نے جو بھی کیا ٹھیک کیا کیف ایک وقت آئے گا جب تمہیں میرے فیصلہ بلکل ٹھیک لگے گا ابھی تم سمجھ نہیں پاؤں گے۔

حیات صاحب اپنی دونوں جوان اولادوں سے مزید یہ الفاظ نہیں سن سکے کہ آپ نے (سماہر ) کے ساتھ ایسا کیوں کیا۔

مجھے سمجھنا بھی نہیں ہے بابا مجھے صرف اتنا معلوم ہے کہ میری بہن ارش سے بہت محبت کرتی ہے اور آپ کے اس فیصلے نے دونوں کو ایک دوسرے سے دور کر دیا ہے جو کہ ٹھیک نہیں ہوا بابا۔

آپ نے بہت غلط کیا بابا۔

بابا کو کچھ مت کہو ارش مجھے بابا کے فیصلے سے کوئی اعتراض نہیں۔دروازے پر کھڑی سماہر کے ان الفاظ پر کیف نے حیرت سے پلٹ کر سماہر کو دیکھا۔۔۔

مگر جب دیکھا تو اسکے چہرے پر انتہا کی بے بسی تھی جیسے بابا کی محبت میں وہ یہ فیصلہ مان رہی ہو۔

کیف نے ایک دکھ اور افسوس بھری نگاہ سماہر پر ڈالی اور کمرے سے نکل گیا۔

وہ سماہر کے منہ سے زبردستی اور بے بسی میں نکلنے والے الفاظ اور نہیں سننا چاہتا تھا۔

حیات صاحب نے آنکھوں میں آئی نمی کو چھپانے کی خاطر آنکھیں بند کر لیں۔

مگر سماہر سے انکی یہ آنکھیں پھر بھی نا چھپائی گئیں۔

وہ ایک دکھ بھری نگاہ ان پر ڈال کر کمرے میں چلی آئی۔

۔*******************

یہ کیا کہہ دیا تھا سماہر نے۔۔۔

کیا وہ اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھی۔

سماہر نے کہا تھا وہ اپنے بابا کو منا لے گی مگر اب یہ سب۔۔۔۔۔

اتنا شاک تو اسے تب بھی نہیں لگا تھا جب ماما نے اسے انکے انکار کا بتایا تھا جتنا سماہر کے الفاظ سن کر لگا۔

“آج کے بعد مجھے کال مت کرنا ارش میں آج سے تمہاری سومو نہیں رہی۔۔۔مر گئی تمہاری سومو۔۔۔اگر زندہ ہے تو صرف بابا کی سماہر۔۔۔۔۔بس بابا کی سماہر۔۔۔

نہیں سماہر اتنی آسانی سے اپنی محبت کو نہیں بھلایا جاتا۔۔۔

میری سومو آج بھی زندہ ہے اور آگے بھی ہمیشہ زندہ ہی رہے گی۔تمہیں وقت نے حالات نے اور تمہارے بابا نے بھلے ہی مجبور کر دیا ہو انکا فیصلہ ماننے پر مگر مجھے کسی مجبوری نے نہیں پکڑا کہ میں تمہیں ایسے ہی بھولا دوں۔

تم میری تھی تم میری ہو اور تم میری ہمیشہ ہی رہو گی بھلے تم میرے ساتھ نا ہو مگر میرا دل ہمیشہ تمہاری محبت سے بھرا رہے گا۔تم میرے دل میں بستی ہو سومو اب چاہے یہ دل رک ہی کیوں ناں جاۓ تم اس میں سے کبھی نہیں نکل سکتی۔

کبھی نہیں۔۔۔۔

ارش نے آنکھیں بند کرتے ہوئے آنکھوں میں آئی نمی کو باہر آنے سے روکا اور موبائل میں سجی سماہر کی تصویر کی وجہ سے موبائل کو اتنی مضبوطی سے پکڑے رکھا جیسے اگر موبائل چھوٹ گیا تو سماہر اس سے دور چلی جاۓ گی۔

____________

ارش اس دن کے بعد سے یونیورسٹی نا گیا اور نا ہی سماہر کی ہمت ہوئی ارش کا سامنا کرنے کی۔

ایسے ایسا لگتا تھا کہ اگر وہ ارش کے سامنے گئی تو وہ کمزور پر جاۓ گی اور پھر بابا کے فیصلے سے انکار کر بیٹھے گی۔

ارش نے اس دن کے بعد سے سماہر کو واقعی میں فون نا کیا۔سماہر کے وہ الفاظ۔۔۔۔

الفاظ نہیں بلکہ تیر تھے جو اس کے دل کو چیرتے ہوئے لہو لہان کر چکے تھے۔

وہ سوچنے لگا اس سے اچھی تو سماہر کی خاموشی ہی تھی۔

کاش وہ اسے کچھ بولنے کا نا کہتا۔

ارش اب پہلے والا ارش نہیں تھا ان دس دنوں میں وہ بلکل ہی ایک گمنام شخصیت بن چکا تھا۔

گھر میں ہوتے ہوئے بھی وہ گھر میں نا ہوتا۔

اجیا اور زمر بیگم کے لئے اسکا یہ رویہ اور حالت ناقابل برداشت تھی مگر وہ برداشت کر رہی تھیں۔

۔*******************

سماہر جب دو دن یونی نا گئی تو امل اس کے گھر آپہنچی۔

وہ کچھ فکر مند سی ہوگئی تھی کیوں کہ دو دن سے جہاں سماہر نہیں آرہی تھی وہاں ارش بھی نہیں آرہا تھا۔

اسے کسی گڑبڑ کا احساس ہوا تو سماہر کے گھر چلی آئی۔

گھر میں کافی خاموشی سی تھی۔

سماہر اپنے کمرے میں موجود نا تھی۔

لاؤنج میں کیف بیٹھا ہوا تھا وہ شائد یونی سے ابھی تھکا ہارا آیا تھا۔

سنیے۔۔۔

امل نے اسے مخاطب کیا۔

امل اس کا نام نہیں لیتی تھی۔آنکھیں بند کئے صوفے کی بیک سے ٹیک لگاۓ بیٹھا ارش اس آواز پر چونکا اور سیدھا ہوئے بغیر آنکھیں کھول کر بس گردن موڑی اور اس کے پوچھنے سے پہلے ہی اسکا سوال جان کر بولا۔

سماہر اوپر ٹیرس پر گئی ابھی ابھی۔

امل سر ہلاتی اوپر چلی آئی۔

سماہر چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بیٹھی تھی۔

امل خاموشی سے اسکے پاس آئی اسکے ہاتھوں کو اسکے چہرے سے ہٹایا تو حیران رہ گئی کیوں کہ سماہر رو رہی تھی۔

سیم یار کیا ہوا تمہیں تم یہاں بیٹھی رو کیوں رہی ہو۔

تم کب آئی۔

سماہر نے جواب دینے کی بجاۓ الٹا اس سے اسکے آنے کا پوچھا۔

ابھی ابھی مگر تم کیوں رو رہی ہو کوئی بات ہوئی ہے کیا مجھے بتاؤ تو۔۔۔

امل نے بتانے کے بعد پوچھا۔

کیا بتاؤں امل کوئی بات کیسے ہوتی بھلا جب ساری باتیں ہی ختم ہوگئیں۔

سماہر نے عجیب انداز سے ہلکے سے ہنستے ہوئے کہا۔

نجانے کیوں سماہر کی یہ ہنسی امل کو چبھ سی گئی۔

تمہارے اور ارش کے بیچ کوئی بات ہوئی ہے کیا دو دن سے تم دونوں یونی نہیں آرہے۔۔۔۔

کون ارش میں کسی ارش کو نہیں جانتی امل میں بس اتنا جانتی ہوں کہ میری طبعیت ٹھیک نہیں ہے اس لئے میں کچھ دن مزید یونی نہیں آسکوں گی۔۔۔۔۔

(کون ارش میں کسی ارش کو نہیں جانتی۔۔۔

اف یہ سماہر کہہ رہی تھی امل کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا)

تو تم مجھے نہیں بتاؤ گی کہ آخر ہوا کیا۔

امل نے جیسے سوچتے ہوئے پوچھا۔جب کچھ ہے ہی نہیں تو بتاؤں کیا۔۔۔

سماہر شائد بتانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی کیوں کہ وہ یہ کہہ چکی تھی کہ میں کسی ارش کو نہیں جانتی تو پھر بھلا اسکی بات بھی کیوں کرتی۔

امل کچھ دیر اس کے پاس بیٹھی رہی اور پھر نیچے چلی آئی۔

کیف ابھی تک لاونج میں بیٹھا ہوا تھا۔

امل کو اتنی جلدی واپس جاتا دیکھ حیران سا ہوا کیوں کہ وہ جب ایک بار آجاتی تو کبھی اتنی جلدی واپس نہیں جاتی تھی۔

تم اتنی جلدی جا رہی ہو سماہر سے ملی نہیں کیا۔۔۔

وہ پوچھے بغیر نہیں رہ سکا۔

امل رکی اور بولی مل لیا۔۔۔

کچھ دیر کھڑی رہی اور پھر کچھ سوچ کر بولی سماہر کچھ اداس سی ہے مجھے بتا ہی نہیں رہی کیا ہوا ہے کیا آپ کو معلوم ہے۔

امل نہیں جانتی تھی کہ کیف کو کچھ معلوم ہے بھی یا نہیں اس لئے پوچھنے لگی۔

جبکہ کیف کو معلوم تھا کہ امل سماہر کی بیسٹ فرینڈ ہے اس سے کوئی بات نہیں چھپاتی۔

یقیناً ارش کے بارے میں بھی اسے سب معلوم ہے تو اسی لئے بولا۔سماہر کے لئے ارش کا رشتہ آیا تھا بابا نے انکار کر دیا سماہر نے پہلے تو بحث کی مگر پھر انکے اس فیصلے پر کہ وہ ارہم

(یقیناً امل ارہم کو بھی سماہر کے کزن کی حیثیت سے جانتی تھی ) سے شادی کے لئے راضی ہے سر جھکا گئی۔

امل یہ سب سن کر مانو شاک میں چلی گئی۔

کیف نے امل کی اڑی ہوئی رنگت دیکھی تو بولا۔

یقیناً سماہر کے لئے تمہیں یہ سب بتانا آسان نا تھا۔۔۔

امل اب مزید ایک پل بھی وہاں رک نا سکی اور تیز تیز چلتی گھر سے نکل گئی۔

۔*****************

ارہم جانتا تھا جینی اسکے سامنے تو کمزور نہیں پڑی اپنے جذبات ظاہر نہیں کر سکی مگر گھر جا کر ضرور روتی ہوگی۔

ارہم کو نجانے کیا ہوا کہ اس نے گھر کال کی اور ہادیہ سے کہا کہ اگر مامو نے اپنے ابھی کوئی جواب نہیں دیا تو آپ دوبارہ ان سے اس بارے میں بات نہیں کریں گیں۔

اگر وہ مان گئے اور انہوں نے آپ سے خود بات کی تو ٹھیک ورنہ آپ اب اس بات کو بھول جائیں۔۔۔

بھول جائیں کہ آپ نے مامو سے سماہر کے بارے میں کوئی بات کی تھی۔کچھ دیر تو وہ ان سے بات کرتا رہا اور آخر میں جب وہ مان گئیں تو اس نے فون رکھ دیا۔

ارہم شائد ابھی کسی رشتے میں بندھنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔

معلوم نہیں کیوں مگر نا جینی کو اداس دیکھ سکتا تھا اور نا ہی ماما کو انکار کر سکتا تھا اسی لئے معاملے کو فلحال ادھورا چھوڑ رہا تھا۔

۔*******************

آج پورے دس دنوں کی چھٹیوں بعد وہ یونی کے کلاس روم میں داخل ہوئی تھی۔

اپنی بائیں جانب خالی چیئر کو دیکھ کر سماہر کے دل میں ہوک سی اٹھی۔

حالانکہ وہ ارش کا سامنا کرنا بھی نہیں چاہتی تھی مگر پھر بھی اسکی غیر موجودگی اسے بہت اذیت دے رہی تھی وہ ان دو سالوں میں کبھی بھی ارش سے اتنے دنوں کے لئے دور نہیں ہوئی تھی۔

اور اب دور بھی ہوئی تو کن حالات میں۔۔۔۔

اف انسان کو وہ سب کیوں دکھا دیا جاتا ہے جو کبھی اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔

سماہر۔۔۔۔کسی نے اسے پکارا تو وہ چونکی اور چیئر سے نظریں ہٹا کر پکارنے والے کو دیکھا۔۔۔

وہ ردا تھی۔

امل شائد ابھی تک نہیں آئی تھی۔

سماہر کیا یہ سب سچ ہے جو میں سن رہی ہوں۔

سماہر نے انجان سی نظروں سے ردا کو دیکھا۔

اسے لگا شائد ردا کو بھی معلوم ہوگیا کہ اس کے اور ارش کر بیچ کیا بات ہوئی ہے۔

کس بارے میں پوچھ رہی ہو تم۔سماہر نے پوچھا۔

سماہر تم کیا واقعی میں انجان ہو یا بننے کی کوشش کر رہی ہو۔سماہر اب واقعی میں ٹھٹکی۔

بات وہ نہیں تھی جو وہ سمجھ رہی تھی بات کچھ اور تھی جو واقعی میں اسے معلوم نہیں تھی۔

فار گاڈ سیک ردا اب بول بھی چکو۔

سماہر سے اب رہا نا گیا۔

ردا اسکی بے خبری دیکھ کر پہلے تو چند لمحے حیران ہوئی اور پھر مکینکی انداز میں بولی۔

ارش کی شادی ہو رہی ہے سماہر اسکی کسی کزن کے ساتھ۔۔۔۔

نہیں یہ کیا کہہ دیا تھا ردا نے۔۔۔

سماہر یہ سن کر لڑکھڑا سی گئی اور جلدی سے ارش کی خالی کرسی کو تھام گئی دوسرے ہاتھ میں پکڑی کتاب زمیں پر جا گری۔

منہ پر ہاتھ رکھ کر خود کو (نہیں یہ جھوٹ ہے ایسا نہیں کر سکتا وہ ) چلانے سے روکا۔

آنکھیں درد کی شدت سے لال ہو چکی تھیں۔

تمہیں۔۔۔یہ کس نے۔۔۔کہا۔۔۔سماہر بمشکل بولی۔

میرا کزن ارش کے گھر کے قریب رہتا ہے ارش کی ماما نے انھیں نکاح پر انوائٹ کیا ہے باقاعدہ شادی نہیں ہوگی صرف سادگی سے نکاح کر رہے وہ۔

کل اسکا نکاح ہے سماہر۔۔۔۔

نہیں ردا پلیز ایسا مت بولو۔۔۔وہ میرے علاوہ کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل نہیں کر سکتا وہ ایسا نہیں کر سکتا۔

سماہر دکھ اور درد کی اذیت سے روتے ہوئے زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔

تم نے بھی تو اسکے علاوہ کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔۔

تم بھی تو ایسا کر رہی ہو ناں اس کے ساتھ۔

امل نے کلاس میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔

اسکا انداز ایسا تھا کہ سماہر پور پور شرم میں ڈوب سی گئی۔

پلیز سماہر خود کو سنبھالو۔

ردا سے سماہر کی یہ حالت دیکھی نا گئی۔

سٹوڈنٹس اب کلاس میں آنا شروع ہو چکے تھے اور اس سے پہلے کہ وہ اسے اس طرف روتا دیکھ کر باتیں بنانا شروع کر دیتے ردا اسے لئے کمرے سے نکل گئی۔

سماہر کے ڈرائیور کو کال کر کے اسکو کو واپس گھر بھجوا دیا۔

اس حالت میں وہ پوری یونی کی نگاہوں کا مرکز اور باتوں کا نشانہ بنتی کم از کم ردا اور امل کو یہ گوارا نہیں تھا۔

سماہر گھر آتے ہی جو رونا شروع ہوئی تو پھر رات گئے تک روتی ہی رہی۔

اسے اب معلوم ہو رہا تھا کہ کسی کو یہ کہنا کہ وہ کسی اور کی ہونے جا رہی ہے اگلے کو کتنی تکلیف دیتا ہے کیوں کل ارش کسی کا ہونے جا رہا تھا یہ تکلیف اس سے برداشت نہیں ہو رہی تھی تو پھر سماہر کے کسی اور کے ہونے کا سن کر ارش نے یہ کیسے برداشت کیا ہوگا۔حالانکہ سماہر کا ارہم سے رشتہ پکا ہونے کے ابھی کوئی آثار نظر نہیں آرہے تھے۔

سماہر اپنے بیڈ پر بے جان سی پڑی تھی۔

اس کے کانوں میں سائیں سائیں ہو رہا تھا۔

“کل اسکا نکاح ہے سماہر”

اف اذیت بھرے الفاظ اسکا پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *