Dhal Chuki Shab e Hijar by Esha Gul NovelR50703 Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 11,12)
Rate this Novel
Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 11,12)
Dhal Chuki Shab e Hijar by Esha Gul
تم یہاں کیا کر رہی ہو۔ارش نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پوچھا۔سماہر جو سیڑھیوں پر بیٹھی ہوئی تھی حیران ہو کر ارش کو دیکھا اور جواب دینے کی بجاۓ الٹا خود بھی سوال کرنے لگی۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو۔
پہلے میں نے سوال کیا تھا۔
ارش نے یاد کروایا۔
میں ٹیسٹ نہیں دے سکتی اس لئے یہاں چلی آئی۔
سماہر کو اپنے ٹیسٹ نا دینے کا دکھ تھا۔
اب تم بتاؤ تم کیوں چلے آئے ٹیسٹ نہیں دینا کیا تمہیں۔
سماہر نے جواب دینے کے بعد پوچھا۔
ہاں یہی سمجھ لو۔
مگر یہ چیٹنگ ہے ارش۔
اس میں چیٹنگ کی کیا بات ہے میرا دل نہیں کیا ٹیسٹ دینے کا تو نہیں دے رہا۔
ارش نے لاپروائی سے کہا۔یہ غلط ہے ارش۔
نہیں یہ صحیح ہے سماہر۔
ارش نے بھی دوبدو جواب دیا۔
تم میری وجہ سے ٹیسٹ نہیں دے رہے ناں۔
سماہر نے تھکے کے لہجے میں دھیرے سے کہا۔
دیکھو سماہر کسی خوش فہمی میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔میں تمہاری وجہ سے ٹیسٹ نہیں چھوڑ رہا بلکہ میرا موڈ ہی نہیں ہے۔مگر مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے۔
سماہر ماننے کو تیار ہی نہیں تھی۔
میں پاگل نہیں ہوں جو تمہاری خاطر ٹیسٹ چھوڑتا پھروں۔
مگر تم ہو۔سماہر کے ان تین لفظی جواب نے ارش کو کچھ پل کے لئے خاموش کروا دیا۔
ہاں میں نے تمہارے لئے ٹیسٹ چھوڑا مگر پاگل نہیں ہوں کیوں کہ میں پورے ہوش و حواس میں ایسا کر رہا ہوں۔
وجہ جان سکتی ہوں؟؟
وجہ تم ہو سماہر۔
ارش نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بتایا۔
مگر یہ ٹیسٹ تمہارے لئےکتنا امپورٹنٹ تھا ارش۔
سماہر کو جیسے افسوس ہوا۔
تھا مگر تم سے زیادہ نہیں۔
سچ میں ارش۔
سماہر ایک دم سے خوش ہوئی۔سماہر کبھی کبھی جھوٹ بول لینے میں کوئی حرج نہیں ناں۔
ارش نے جواب دینے کی بجاۓ بدلے میں سنجیدگی سے پوچھا تو سماہر کا دل چاہا کہ اس بندے کا گلا دبا دے۔
کبھی تو کسی کا دل رکھ لیا کرو ارش۔
سماہر نے دل میں کہا۔
تم نے مجھ سے کچھ کہا۔
نہیں۔۔سماہر نہیں کو لمبا کرتی چیخی تو ارش نے ایک دم سے اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔
اب کہاں جا رہی ہو۔
ارش نے اسے سیڑھیاں اترتے دیکھا تو پوچھا۔
جہاں بھی جاؤں جانتی ہوں تم پیچھے آہی جاؤ گے۔
سماہر نے دل میں کہا اور پھر اونچا بولی۔
تمہیں کیوں بتاؤں۔
ارش سر جھٹکتا کھڑا ہوا اور اس کے پیچھے چل دیا۔
۔*******************
کیف کب سے بیٹھا سماہر کے ہاتھ کو تکے جا تھا تھا۔
سماہر کی اس پر نظر پڑی تو بولی۔
کیف مجھے معلوم ہے کہ تمہیں میرے زخمی ہاتھ کو دیکھ کر بہت خوشی ہو رہی ہے مگر اسکا مطلب یہ تو نہیں کہ تم اسے دیکھتے ہی جاؤ۔
کیف اسکے مذاق کو نظر انداز کرتا جواباً سنجیدگی سے بولا۔
میری بہنا تکلیف میں ہو اور میں خوشی محسوس کروں سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
اٹھو نئی بینڈیج کروا لاؤں۔کیف خود بھی اٹھا اور اسے بھی اٹھنے کو کہا۔سماہر کا بلکل بھی موڈ نہیں تھا باہر نکلنے کا مگر وہ جانتی تھی کہ کیف اسکی ایک نہیں سنے گا اسی لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
۔******************
بینڈیج کروا کر جب وہ واپس آئی تو کچھ دیر بابا کے کمرے میں بیٹھی اور پھر سونے کے لئے اپنے کمرے میں چلی آئی۔
اسے آج صبح ارش کا اسکی خاطر اپنا ٹیسٹ چھوڑنا یاد آگیا۔
چھٹی سے اگلے دن جب ارش یونیورسٹی آیا تھا تو سماہر کے کہنے پر دونوں نے اپنے نمبرز کا تبادلہ کیا۔
سماہر نے سوچا ارش اس وقت اگر جاگ رہا ہے تو کیوں ناں اسے کال کر لے۔
مگر موبائل ہاتھ میں لیتے ہی وہ سوچنے لگی کہ کال کر کے بہانہ کیا بناۓ گی کہ کیوں کال کی۔
مگر اسے بہانہ سوچنے کی ضرورت ہی نا پڑی کیوں کہ ہاتھ میں پکڑا موبائل بج اٹھا دیکھنے پر معلوم ہوا کہ ارش کی کال ہے۔
سماہر کے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ بکھر گئی یعنی سچ کہتے ہیں کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔
سماہر نے فوراً سے کال رسیو کر لی۔
کیسی ہو سومو۔۔
گلا صاف کرنے کے بعد ارش پوچھنے لگا۔
سماہر ارش سماہر۔۔۔
سماہر کو ارش کے سومو کہنے سے چڑ جو تھی۔
ہاں ہاں معلوم ہے سومو۔
ارش کہاں باز آنے والا تھا۔
تمہارے ہاتھ کا درد کیسا ہے۔۔؟؟
اس سے پہلے کہ سماہر اس سے کال کرنے کی وجہ پوچھتی ارش کے یہ پوچھنے پر اسے وجہ معلوم ہوگئی۔
کیا بتاؤں ارش درد تو برداشت ہی نہیں ہو رہا معلوم نہیں اس سے پہلے کبھی اتنا درد ہوا ہو۔
سماہر نے اندر سے شرارتی مگر بظاہر درد بھرے لہجے میں کہا تو آگے سے کتنی ہی دیر ارش خاموش سا ہوگیا۔
اور جب بولا تو اتنا کہ جب میں تمہیں دیکھے بغیر تمہارے جھوٹ اور سچ کا اندازہ لگا سکتا ہوں تو سوچو تمہیں دیکھ کر کیا کچھ نہیں جان پاؤں گا۔
سماہر نے ٹھنڈی سانس خارج کی اور بولی۔
بھول گئی تھی کہ تم کوئی اور نہیں بلکہ ارش ہو۔
( یعنی جس سے جھوٹ بولنا میرے بس میں ہی نہیں)
میں جانتا ہوں کہ تمہیں اتنا درد تو ہو ہی رہا ہے جیسے تم برداشت کر سکتی ہو۔
مگر تمہاری برداشت کے مطابق بھی درد ہو یہ مجھے گوارا نہیں۔
میرے بس میں ہو تو تمہارے سارے درد تم سے زبردستی چھین لوں سماہر۔
میں تمہارا درد تو دور نہیں کر سکتا مگر ویسا ہی درد محسوس تو کر سکتا ہوں ناں۔
یہ کہتے ہوئے ارش نے بلیٹ سے اپنے دائیں ہاتھ پر کٹ لگایا تو اسے منہ سے سی کی آواز نکلی۔
کیا ہوا ارش۔سماہر جو کسی سحر میں کھوئی اسکی بات سن رہی تھی “سی” کی آواز پر چونکی۔
کچھ نہیں ٹھوکر لگ گئی۔
ارش نے جھوٹ بولا اور سماہر مان بھی گئی۔
اچھا چلو اب میں فون رکھتا ہوں مجھے نیند آرہی ہے تم بھی سو جاؤ۔۔۔گڈ نائٹ سومو۔
(اسے اپنی چوٹ پر پٹی بھی تو باندھنی تھی ناں)
سماہر کا دل تو نہیں چاہ رہا تھا فون رکھنے کا مگر وہ اسے فون رکھنے سے روک بھی تو نہیں سکتی تھی۔
ارش کہ لئے وہ اور اسکے لئے ارش اتنا اہم بن جاۓ گا یہ اسنے کہاں سوچا تھا۔
__________
آج سر ہارون چھٹی پر تھے اس لئے یہ پیریڈ فری تھا اور سماہر نے شکر کیا کہ کسی ایک دن کے لئے ہی سہی مگر سر ہارون اسکی نظروں سے دور تو ہوئے۔
ارش تمہارے پاس پین ہوگا۔
سماہر نے بیگ کھنگال کر دیکھا مگر کوئی پین ہاتھ نا آیا تو ارش سے پوچھا۔
ارش نے سر ہلاتے ہوئے اسے پین پکڑانا چاہا مگر پھر جلدی سے ہاتھ چھپا لیا اور دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ میں پین منتقل کرتے ہوئے اسے تھمایا۔
سماہر نے ارش کی یہ عجیب حرکت نوٹ تو کی مگر بولی کچھ نہیں۔تم مجھ سے بھی مانگ سکتی تھی۔
امل نے شکوہ کیا۔
تم سے مانگتی بھی تو تم یہی کہتی کہ ساتھ بیٹھے اکڑو سے لو۔سماہر نے دھیرے سے کہا مگر ارش کے کانوں تک آواز آواز پہنچ چکی تھی اسی لئے بس اسے گھور کے ہی رہ گیا جبکہ امل کھسیانی سی ہوگئی کیونکہ وہ یقیناً ایسا ہی کہتی۔
سماہر نے پین سے مطلوبہ کام کرنے کے بعد واپس اسے ارش کی طرف بڑھایا تو ارش نے بائیں ہاتھ سے اسے تھام لیا۔سماہر کو محسوس ہوا کہ جیسے وہ کچھ چھپا رہا ہے۔
کچھ دیر بعد پین جس کو ارش گھما رہا تھا اڑ کر سماہر کے پیروں میں آگرا۔
ارش نے نظروں ہی نظروں میں اسے پین پکڑانے کو کہا مگر سماہر نے جیسے اسکے اشارے کو نظر انداز کر دیا۔
تم پین کیوں نہیں اٹھا رہی۔
ارش نے سمجھا کہ شائد اسے اسکا اشارہ سمجھ ہی نہیں آیا۔
مگر سماہر بھی کچھ دیکھنا چاہتی تھی وہ جسے ارش چھپا رہا تھا اسی لئے بولی۔۔
تم کیوں نہیں اٹھا رہے۔
کیوں کہ پین تمہارے زیادہ قریب ہے۔ارش نے پتے کی بات کی۔
سوری میں گری ہوئی چیزیں نہیں اٹھاتی۔
سماہر نے بالوں کو جھٹکتے ہوئے اک شان سے کہا۔
مجھے انتظار رہے گا اس دن کا جس دن تم گرو گی اور میں افسوس کرتا پاس سے گزر جاؤں گا۔ارش نے جل کر کہا۔
تمہاری جانکاری کے لئے بتا دوں ارش کہ وہ دن کبھی نہیں آئے گا۔
میں اگر چاہوں تو اس دن کو آج کا دن بنا سکتا ہوں محترمہ اور پھر تمہاری معلومات دھری کی دھری رہ جاۓ گی۔
خبردار جو تم نے مجھے ہاتھ بھی لگایا تو۔
سماہر نے انگلی اٹھا کر اسے خبردار کیا۔
جبکہ ارش اسکی اس بات کو نظر انداز کرتا بائیں ہاتھ کو آگے کئے پین تک لے جانے لگا۔
اتنی مشکلوں سے جو پین پکڑ رہے ہو آرام سے سیدھے ہاتھ سے پکڑ لوں ہاں۔
سماہر کو اب واقعی کسی گڑبڑ کا احساس ہو رہا تھا۔
مشورہ نہیں مانگا تم سے۔ارش نے بلآخر پین پکڑ ہی لیا۔
ارش تم مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو اب کہ سماہر نے ارش کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے صاف صاف لفظوں میں پوچھا۔ہاں چھپا رہا ہوں۔
ارش نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
کیا؟؟ پوچھا گیا۔
تمہارا پین۔
ارش نے بیگ سے پین نکال کر اسکی طرف بڑھایا۔
میرا پین تمہارے پاس تھا۔سماہر نے اسے پکڑتے ہوئے پوچھا۔ہاں نجانے کیسے آگیا۔
ارش نے تو اپنی طرف سے بات ختم کر دی تھی مگر سماہر بلکل مطمئن نہیں ہوئی تھی۔
تم مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو ارش۔
سماہر کی سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔
بتا تو دیا بلکہ پکڑا بھی دیا۔ارش نے کہا۔
میں پین کی بات نہیں کر رہی۔
تو پھر کس کی بات کر رہی ہو۔
ارش نے انجان بنتے ہوئے پوچھا۔
ہاتھ دکھاؤ اپنا۔
سماہر نے ارش کو آرڈر دیا۔جس پر عمل کرتے ہوئے ارش نے فوراً اپنا لفٹ ہینڈ ایسے اوپر کیا جیسے پولیس کو دیکھ کر اپنے ہینڈز اپ کر لئے جاتے ہیں۔
میں نے بائیں نہیں دائیں ہاتھ کی بات کی ہے ارش۔
کیوں آج تمہیں میرے ہاتھ کو دیکھنے کا خیال کہاں سے آگیا۔
کیوں کہ میں جان چکی ہوں کہ تم مجھ سے اپنا ہاتھ کیوں چھپا تھے ہو۔
تم نے ایسا کیوں کیا ارش۔۔
سماہر آنکھوں میں آئی نمی کو پڑے دھکیلتی غصے سے بولی اور اٹھ کر کلاس سے باہر چلی گئی۔
مجھے تم دونوں کی باتیں سننے میں کوئی انٹرسٹ تو نہیں ہے مگر بہرحال تم نے اسے ہرٹ کیا ہے اور تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔امل نے سر اٹھاۓ بغیر کہا تو ارش نے نا سمجھتے ہوئے امل کی طرف دیکھا اور پوچھا۔
کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہاں بات کیا ہوئی ہے۔
ارش نے اس انداز میں کہا جیسے امل بغیر کچھ سمجھے اور جانے ہی کہہ رہی ہو۔
تمہاری اطلاع کے لئے عرض ہے مسٹر کہ میں تمہارا پٹی میں جھکڑا زخمی ہاتھ دیکھ چکی ہوں۔
وہ کیا ہے ناں کہ میری دو نہیں چار آنکھیں ہیں سمجھے تم۔
امل نے اب کہ اسکی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کچھ جتا کر کہا۔ارش کو احساس ہوا کہ جو وہ چھپا رہا تھا اصل میں وہ سب کو دکھ رہا تھا۔
سماہر اور ارش کی دوستی پلس خاموش محبت سے صرف وہ دونوں ہی نہیں بلکہ آدھی یونیورسٹی واقف تھی۔ارش نے ایک آہ بھری اور اٹھ کر سماہر کو ڈھونڈھنے چل دیا۔
۔*******************
وہ جانتا تھا کہ اس وقت اسے سماہر کہاں ملے گی مگر جب وہ کلاس سے باہر نکل کر سیڑھیوں تک آیا تو وہ وہاں نہیں تھی۔
دوسری جگہ یقیناً وہ درخت تھا جس کے سائے میں وہ بیٹھا کرتی تھی مگر وہ وہاں بھی نا تھی تو پھر کہاں تھی۔
کچھ دیر وہیں کھڑا ارش سوچتا رہا کہ کہیں وہ گھر تو نہیں چلی گئی مگر پھر کچھ خیال آنے پر وہ یونیورسٹی کی بیک سائیڈ پر بنے چھوٹے سے پول کے پاس چلا آیا۔
یہاں بہت کم سٹوڈنٹس کا آنا جانا تھا اور جب کلاسز ہو رہی ہوتیں تو جو اکا دکا سٹوڈنٹس یہاں ہوتے تب وہ بھی دکھائی نا دیتے۔
یہ آخری جگہ تھی جہاں اسے سماہر کے ہونے کا گمان گزرا اور اسکا گمان سچ نکلا وہ یہیں تھیں۔
سماہر گھٹنے پر سر رکھے پانی میں ہاتھ دیے اپنی شہادت کی انگلی کے ساتھ پانی پر کچھ لکھ رہی تھی۔
ارش نے اسکے پاس بیٹھتے ہوئے اسکے ٹھنڈے اور گیلے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے لیا پانی پر لکھے لفظ پانی میں ہی کہیں بہہ گئے۔
اور اسکی آنکھوں سے ٹپ ٹپ بہتے آنسو بھی پانی سے جا ملے۔
بغیر کچھ کہے بغیر ہاتھ چھڑائے بغیر کوئی شکوہ کئے وہ بے اختیار ارش کے سینے سے جا لگی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
ارش سماہر کے اس طرح رونے سے گھبرا سا گیا۔
اس نے کہاں دیکھا تھا سماہر کو پھوٹ پھوٹ کر روتے۔
اسے لگا اسکے دل کو کسی نے مٹھی میں جھکڑ لیا ہو۔
اسے یاد نہیں پڑتا تھا کہ اسکی ماں کے علاوہ کبھی اسے کسی کے آنسوؤں سے اتنی تکلیف ہوئی ہو۔
ارش نے بھی سماہر کو اپنے بازوؤں کے گھیرے میں لے لیا اور اسے چپ کرنے کا کہنے لگا۔
سومو پلیز اس طرح تو مت رو مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔
سومو کچھ کہہ رہا ہوں میں تم سے چپ کر جاؤ شاباش۔
مگر سماہر چپ نا کی تو ارش نے اسے خود سے الگ کیا اور ہاتھ اٹھا کر دونوں انگوٹھوں کی پوروں سے اسے بہتے آنسو صاف کئے۔
مجھے معلوم ہوتا کہ میرے اس طرح کرنے سے تم ایسا ردعمل ظاہر کرو گی تو باخدا میں کبھی ایسا نہیں کرتا۔
ارش نے اسے یقین دہانی کرائی۔
مجھے تب ہی سمجھ جانا چاہیے تھا جب رات تم نے درد بھری آواز نکالی اور پھر جھوٹ بولا۔
میں کتنی بیوقوف ہوں ناں تمہارے جھوٹ کو جان ہی نہیں پاتی اسے سچ سمجھ بیٹھتی ہوں جبکہ تم میرا جھوٹ فوراً پکڑ لیتے ہو۔سماہر نے خود کو ڈانٹا۔
ارش بے اختیار مسکرایا اور بولا۔
خیر بیوقوف تو تم ہو ہی مگر پھر بھی مجھے اچھی لگتی ہو۔
ارش نے پھر سے آنسو بہاتی سماہر کو کہا اور اسکے کندھے کے گرد بازو پھیلا کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔
سماہر کو ارش کے اس محبت بھرے انداز پر ایک دم سے اور رونا آگیا اور وہ روتے روتے بولی۔
تم بہت برے ہو ارش۔
اور تم بہت اچھی ہو سومو۔
سماہر ارش کے فوری اور ایسے جواب پر ہلکے سے ہنس دی۔
ارش اسکے ٹھنڈے ہاتھ کو اپنے ہونٹوں تک لاتے لاتے رہ گیا جانے کیوں۔
ویسے سومو ایک بات پوچھوں تم پانی پر کیا لکھ رہی تھی۔
ارش اسکو ابھی تک اپنے ساتھ لگاۓ ہوئے تھا۔
سماہر اس کے کندھے سے سر ٹکائے پانی کو ہی گھور رہی تھی۔
(وہی میجک تھری ورڈز) بتاؤ ناں کچھ خاص لکھ رہی تھی کیا۔اسکی خاموشی کو دیکھتے ہوئے ارش نے پھر سے پوچھا۔(کہہ تو رہی ہوں میجک تھری ورڈز)
کہتے ہیں دل کو دل سے راہ ہوتی ہے مگر شائد تمہارے دل پر یہ راہ عمل نہیں کرتی۔
سماہر نے کچھ نا کہتے ہوئے بھی بہت کچھ کہہ دیا مگر ارش پھر بھی نا سمجھ پایا۔
میں سمجھا نہیں۔
سماہر نے اسے سمجھانے کی بجاۓ اسکا ہاتھ تھاما اور پھر اسکی انگلی کو پکڑے پانی پر چند لکیریں کھینچنے لگی۔(i lo) بس یہ تین لفظ ہی لکھے گئے اس سے اور پھر وہ اس کے کندھے سے الگ الگ ہوتی اسکا ہاتھ چھوڑ کر ایک دم اٹھی اور بھاگ گئی۔
مگر جاتے ہوئے اسے اپنے پیچھے ارش کا زور دار قہقہ ضرور سنائی دیا۔
۔*******************
وقت گزرتا گیا سماہر اور ارش ایم بی اے کا ایک سال مکمل کر چکے تھے انکی خاموش محبت کو ایک سال ہو چکا تھا۔
اب تو امل بھی ارش کے ساتھ اپنا رویہ بدل کر اسکی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا چکی تھی ہاں مگر کبھی کبھی بیچ میں اسے پرانے والی امل کا دورہ ضرور پڑتا تو وہ ارش کو اے مسٹر کہتے ہوئے کچھ نا کچھ سنا ضرور دیتی۔
ارش اور سماہر نے ایک دوسرے سے باقاعدہ اظہار محبت تو نہیں کیا تھا مگر پھر بھی وہ ایک دوسرے کے بن چکے تھے یہ وہ جانتے تھے۔اور ان دونوں میں سے اظہار کی کسی کو جلدی بھی نا تھی کیوں کہ آنکھوں ہی آنکھوں سے جو اظہار محبت اور پیار وہ ایک دوسرے کو دیتے تھے وہ لفظوں سے کہیں زیادہ حسین تھا۔
اب تو ان کی ہر رات ایک دوسرے سے فون پر باتیں کرتے ہوئے گزرتی اور صبح کو انہیں ہلا ہلا کر اٹھانا پڑتا۔
کیف کہتا کہ وہ کام جو تم پہلے کیا کرتی تھی اب مجھے کرنا پڑتا ہے لڑکی کبھی خود با خود بھی اٹھ جایا کرو۔
اور سماہر آنکھیں ملتی ہوئی اٹھ جاتی۔
کیف کا ارادہ اب یہ سال مکمل کر کہ باہر جانے کا تھا وہ اپنا بزنس کرنا چاہتا تھا اور اس کے لئے باہر جا کر بزنس کرنا اتنا مشکل نا تھا باہر کا جو چارم تھا وہ اسے اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔
سماہر کا ہر آنے والا دن اس کے گزرے دن سے زیادہ حسین ہوتا کیوں کہ ان تمام دنوں میں ارش اس کے ساتھ جو ہوتا۔
Episode 12
کیا کر رہے ہو۔چاکلیٹ کھا رہا ہوں۔
ارش نے پاس بیٹھتی سماہر کو جواب دیا۔
اچھا تو کیا تمہارے ہاں صلح مارنے کا رواج نہیں ہے کیا۔بلکل نہیں۔
ارش نے سکی بات کے اختتام پے فوراً کہا۔
سماہر کچھ دیر اسے دیکھتی رہی اور پھر اس کے ہاتھ سے چاکلیٹ چھین کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
بعد میں ملوں گی ارش بائے بائے۔
سماہر ہاتھ ہلاتی یہ جا وہ جا جبکہ پیچھے بیٹھا ارش ہکا بکا اسے جاتا دیکھتا رہا۔
۔*****************
وہ درخت کے ساتھ ٹیک لگاۓ مزے سے چاکلیٹ کھا رہی تھی جب ارش چلا آیا۔
یہ کیا ہے۔
سماہر نے سر اٹھا کر دیکھا اور بولی یہ پیڑ ہے۔
وہ تو مجھے بھی دکھ رہا ہے مگر میں اس کے بارے میں پوچھ رہا ہوں۔ارش نے انگلی سے سماہر کے ہاتھ میں پکڑی چاکلیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
یہ چاکلیٹ ہے ارش۔
سماہر نے معصومیت سے جواب دیا۔
کوئی اور وقت ہوتا تو ارش اس کی معصومیت پے فدا ہی ہو جاتا۔معلوم ہے مجھے مگر یہ کیا طریقہ ہے چاکلیٹ کھانے کا۔
ارش نے اس کے ساتھ بیٹھتے ہوئے کہا۔
میرے خیال سے ارش ہر تمیزدار انسان اسی طرح چاکلیٹ کھاتا ہے۔سماہر اسکے صبر کا امتحان لے رہی تھی۔
اور بدتمیز انسان یقیناً چھین کے کھاتا ہے۔
ارش نے جیسے اس پر چوٹ کی۔
مگر سماہر بھی ڈھیٹ بنی بیٹھی تھی۔
“ہاں شائد ایسا ہی ہے مگر میں نے کبھی کسی سے چھین کر کھائی نہیں ناں اس لئے مجھے معلوم بھی نہیں”
وہ مر ہی نا جاتا اس معصومیت پے۔
یو نو واٹ سماہر تم کبھی بھی باز نہیں آؤ گی۔
ہمیشہ رہو گی ایک نمبر کی ڈھیٹ ہی۔
“نوازش سرکار” سماہر نے اسکی اس بات سے محفوظ ہوتے ہوئے کہا” میرے خیال سے تم اکیلے بیٹھ کے چاکلیٹ کھانا زیادہ پسند کرو گی۔ارش مزید اس سے بحث کرنے کی بجاۓ اس کے پاس سے اٹھ گیا۔
۔******************
ارش بہت بدل گیا تھا۔
اجیا کو صاف محسوس ہوتا تھا صرف اجیا کو ہی نہیں بلکہ زمر بیگم کو بھی اسکے بدلے انداز صاف دکھائی دے رہے تھے۔
ارش کا اکثر یونیورسٹی سے لیٹ آنا سماہر کا ہر بات پر ذکر ہونا ہر وقت کچھ نا کچھ گنگناتے رہنا اور پھر اکیلے بیٹھے ہوئے کچھ سوچ کے بے اختیار مسکرا دینا۔
اجیا کے دل میں خطرے کی گھنٹیاں سی بج اٹھتی تھیں۔
کیا ارش اس سے دور جا رہا تھا یا وہ اسکے قریب کبھی تھا ہی نہیں۔ارش وہ کچھ وقت جو اجیا کے ساتھ گزارتا تھا اب وہ بھی نہیں نکال پاتا تھا۔
اکثر وہ اسکے ساتھ شام میں لان میں چکر لگایا کرتا تھا اجیا اس سے باتیں کرتی اور ارش چپ چاپ اپنی چاۓ پیتا اسکی باتوں پے مسکراتا تھا مگر اب تو وہ یہ بھی بھول گیا تھا۔
اجیا انتظار ہی کرتی رہتی کہ ارش کب اس کے لئے بھی وقت نکالے۔ہر رات دیر تک کسی سے فون پر باتیں کرنا یقیناً سماہر سے۔۔
اس بات سے اجیا ناواقف نہیں تھی۔
ابھی بھی اجیا چاۓ کا کپ اٹھانے ارش کے کمرے میں آئی تھی اور وہ ابھی تک فون پے اس طرح بزی تھا کہ ایک گھنٹہ پہلے رکھا گیا چاۓ کا کپ ویسے کا ویسے ہی پڑا ٹھنڈا ہو چکا تھا۔
چاۓ کے کپ کو ویسے کا ویسا دیکھ کر اجیا کہ دل کو ٹھیس سی لگی۔
تو تمہارے لئے سماہر اب ہر چیز سے بڑھ کر اہم ہو گئی۔
اجیا نے سوچا اور ارش کو مخاطب کئے بغیر چپ چاپ چاۓ کا کپ اٹھاۓ کچن میں آگئی اور اپنے آنسو بہانے کے ساتھ ساتھ چاۓ کو بھی سنک میں بہانے لگی۔
___________
آپ سماہر ہیں ناں۔سماہر چھٹی کے بعد گیٹ کی طرف جا رہی تھی جب کسی لڑکی نے اسکا راستہ روکتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔
ہاں میں ہی ہوں۔
آپ کو ارش نے پول کے پاس والے کمرے میں بلایا ہے۔
وہ لڑکی جو بھی تھی سماہر کو اطلاع دے کر اسکے راستے سے ہٹ گئی۔
سماہر نے یہ سوچ کر کہ ارش نے مجھے وہاں کیوں بلایا اپنے قدم یونیورسٹی کی بیک پے بنے پول کے پاس والے کمرے کی طرف بڑھا دیے۔
کمرے میں قدم رکھتے ہی گلاب کی خوشبو اسکی سانسوں سے ٹکرائی۔
مگر گلاب اسے کہیں نظر نا آئے۔
کیوں کہ کمرے میں بہت ہی اندھیرا تھا یہ کمرہ درختوں کہ جھنڈ میں چھپا ہوا تھا۔
ارش تم کہاں ہو۔۔۔سماہر نے آواز لگائی مگر کوئی جواب نا آیا۔
ارش کیا تم کمرے میں ہو جواب دو۔مگر ہنور خاموشی۔
اف لگتا ہے اس لڑکی نے مجھ سے جھوٹ بولا یا شائد میرا مذاق بنانا چاہتی تھی۔
سماہر بڑبڑاتی ہوئی واپس مڑی اور کمرے سے باہر نکلنے لگی مگر تب ہی سب کی ملی جھلی آواز آئی۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔
واپس اٹھتے سماہر کے قدم وہیں تھم گئے سماہر نے حیرت و خوشی سے پلٹ کر دیکھا۔
کمرے کی لائٹس آن ہو چکی تھیں۔
کمرے کو بیلون اور گلاب سے خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔
درمیان میں پڑے ٹیبل پر بڑا سا کیک جس پر اسکا نام لکھا ہوا تھا رکھا ہوا تھا۔
اور ٹیبل کو گلاب کی پتیوں نے چھپا رکھا تھا۔
اس نے بے یقینی سے امل ردا اور اس شخص کو دیکھا جو اسکے دل کا مکین بن چکا تھا۔
سماہر نے بھاگتے ہوئے امل کو گلے سے لگا لیا۔
امل چونکی اور پھر شرارت سے بولی ارے کہیں تم نے غلطی سے تو مجھے گلے نہیں لگا لیا شائد تمہاری ڈائریکشن خراب ہوگئی۔
سماہر نے گھور کر اسے دیکھا اور بدتمیز کہتے ہوئے اسے چٹکی کاٹی جبکہ امل کی اس بات پر ارش سر کھجاتے ہوئے ادھر ادھر دیکھنے لگ گیا۔
ہیپی برتھ ڈے سومو۔۔
ردا نے اسے وش کرنے کے ساتھ ساتھ سومو کہتے ہوئے اسے چھیڑا۔تم دونوں پیٹو گی مجھ سے۔
سماہر جھینپ سی گئی۔
اہم اہم اگر اجازت ہو تو میں بھی اپنی دوست کو وش کر لوں۔
ارش نے شوخ نظروں سے سماہر کو دیکھتے ہوئے ان دونوں سے پوچھا۔
ارے کیوں نہیں ضرور کیجئے ہم بس ابھی آتے ہیں۔
ردا نے کھلے دل سے اجازت دیتے ہوئے امل کو باہر کی طرف کھینچا جو باہر نکلنے کو تیار ہی نا تھی اور اپنی جگہ پر جم سی گئی تھی۔جاتے جاتے امل نے ہانک لگائی جب کیک کاٹنے لگو تو پلیز ہم دونوں کو بھی بلا لینا اس کیک میں ہمارے بھی پیسے ہیں۔
اف یہ لڑکی بھی نا۔۔۔ارش ہنس دیا۔
سماہر وہی کھڑی رہی اس انتظار میں کہ ارش اسکی طرف قدم بڑھائے ارش نے بھی اسے زیادہ انتظار نہیں کروایا اور اسکی طرف قدم بڑھا دیے۔
ہیپی برتھ ڈے مائے لائف۔۔۔۔
ارش نے دھیرے سے مگر محبت بھرے لہجے میں اسکے کان کے قریب ہو کے کہا تو سماہر جیسے سمٹ سی گئی۔
امید کرتا ہوں کہ تمہیں میرا سرپرائز اچھا لگا ہوگا ہاں مگر تمہارے لئے ایک اور سرپرائز ہے۔
ارش کی اس بات پر سماہر نے سر اٹھا کر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔
ارش نے ٹیبل پر پڑی گول ڈبیہ اٹھائی اور اس میں سے ایک بہت ہی نفیس ڈیزائن کی گولڈن بریسلیٹ نکالی۔
سماہر کا ہاتھ تھاما اور اسکی نازک کلائی میں اسے اتار دیا۔
“دیکھو تو کتنی خوبصورت لگ رہی ہے یہ تمہاری کلائی میں”
ارش نے اسے مسلسل اپنی طرف دیکھتے پایا تو اسکا دھیان بریسلیٹ کی طرف کیا اور محبت سے اسکے گال کو چھوتے ہوئے کہا۔سماہر نے بریسلیٹ کو دیکھا اور بولی۔
یقیناً یہ میرے لئے دنیا کے ہر تحفے سے زیادہ قیمتی اور یادگار تحفہ ہوگا۔بہت خوبصورت ہے ارش۔
سماہر نے بریسلیٹ کو اپنی کلائی میں گھماتے ہوئے کہا۔
مگر میری سومو سے نا ہی یہ زیادہ قیمتی ہے اور نا ہی خوبصورت۔ارش نے اسکی ناک دبائی تو وہ ہنس دی۔
بس بہت ہوگیا مجھ سے اب اور انتظار نہیں ہو رہا مجھے بتا دو کیک کاٹ رہی ہو یا نہیں۔
امل نے کمرے میں آتے ہوئے کہا۔
جبکہ پیچھے آتی ردا نے اپنا سر پکڑ لیا اور سوچنے لگی۔
یہ کبھی بھی دو پیار کرنے والوں کو سکون سے ملنے نہیں دے گی اپنی ہی پڑی رہتی ہے اس لڑکی کو تو۔
ہاں ہاں کیوں نہیں سماہر چلو کیک کاٹو۔
ارش سماہر کو لئے ٹیبل کی طرف آیا۔
سماہر نے ہاتھ میں نائف پکڑی اور چند لمحے ارش کو دیکھنے لگی۔
وہ اپنی سالگرہ کو اور بھی یادگار بنانا چاہتی تھی۔
ارش نے جیسے کچھ سمجھتے ہوئے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔سماہر کے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ امڈ آئی۔
دونوں نے کیک پر بنے چھوٹے سے دل دل کو پیس کی صورت میں کاٹا۔
سماہر نے سب سے پہلے کیک کا ٹکڑا ارش کی طرف بڑھایا جیسے ارش نے تھوڑا سا کھانے کے بعد سماہر کی طرف بڑھا دیا۔
اب ایک دوسرے کو ہی کھلاتے رہو گے یا ہمیں بھی کھلاؤ گے۔
بے صبری لڑکی بولی۔
سماہر نے کیک کا بڑا سا ٹکڑا اٹھایا اور پورا کا پورا امل کو کھلاتی ہوئی بولی۔۔لو ٹھونسو۔۔۔
گائز تم لوگوں نے مجھے اتنا اچھا سرپرائز دیا اس کے بدلے میں مجھے بھی تو تم لوگوں کو کچھ دینا چاہیے نا تو اس لئے آج کا ڈنر میری طرف سے۔
سماہر نے خوشدلی سے انہیں ڈنر کی آفر دی۔
جیسے انہوں نے بھی خوشدلی سے قبول کر لیا۔
۔*********************
بابا یہ دیکھیں یہ مجھے ارش نے گفٹ کی ہے۔سماہر نے محبت سے حیات صاحب کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے انہیں کلائی میں چمکتی بریسلیٹ دکھائی۔
بہت خوبصورت ہے بلکہ میری بیٹی کے ہاتھوں میں تو اور بھی زیادہ خوبصورت لگ رہی ہے۔
حیات صاحب نے خوش دلی سے دونوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا۔سماہر ویسے ارش نے اس دن کے بعد چکر نہیں لگایا۔
ارش دوسری دفعہ سماہر کے گھر تب آیا تھا جب سماہر نے طبعیت خرابی کی وجہ سے یونیورسٹی سے چھٹی کی تھی اور یہ ایک مہینہ پہلے کی بات تھی۔
اس نے جان بوجھ کر ارش سے گلہ کیا تھا کہ میں اتنی بیمار ہوں اور تم مجھے دیکھنے بھی نہیں آئے۔
بس سماہر کا اتنا کہنا تھا کہ ارش اگلے روز اپنی سومو کا گلہ ختم کرنے آگیا۔
حیات صاحب کو ارش کافی اچھا لگتا تھا ارش کے لئے سماہر کی محبت ان سے چھپی ہوئی نہیں تھی اور سماہر کے لئے ارش کی محبت بھی وہ ارش کی آنکھوں میں دیکھ چکے تھے۔
ارش حیات صاحب کی اتنی عزت کرتا تھا سماہر سے دل و جان سے محبت کرتا تھا حیات صاحب کو یہ بات سکون دیتی تھی۔
وہ روایتی باپ کی طرح نہیں تھے جو سماہر کا اس سے میل جول بند کرتے یا اسکی کسی لڑکے کے ساتھ دوستی کے خلاف ہوتے وہ جانتے تھے کہ سماہر کی صرف ارش سے ہی دوستی ہے۔
ارش کے علاوہ اسکا کوئی لڑکا دوست نہیں کیوں کہ سماہر ان سے ہر بات شئیر کرتی تھی چاہے وہ بات ارش اور اسکی ہی کیوں ناں ہوتی۔انہوں نے خود سمیرا سے محبت کی شادی کی تھی پہلی ہی نظر میں وہ انکے دل کو جا لگی تھیں۔
وہ جانتے تھے کہ محبت کیا ہوتی ہے جب وہ خود کو سمیرا سے محبت کرنے سے نہیں روک پاۓ تھے اور اس سے شادی کر کے اسے اپنا بنا چکے تھے تو پھر وہ اپنی بیٹی کو کیوں روکتے۔
انہیں سماہر پر بہت اعتماد تھا اور یہی وجہ تھی کہ سماہر ان سے ہر بات شئیر کرتی تھی۔
بابا وہ خود کہاں آتا ہے اسکو بلاؤں گی تو ہی آئے گا۔
اور جب کسی کو کہہ کر بلایا جاۓ تو بلانے کا فائدہ۔
سماہر نے جواب دیا۔ویسے میری بیٹی کو مجھ سے کیا تحفہ چاہیے۔حیات صاحب نے سماہر کو کہا کہ وہ کچھ مانگے۔
اجازت بابا۔۔
کیسی اجازت بیٹا۔
بابا ویسے تو میں جانتی ہوں کہ آپ منع نہیں کریں گے پھر بھی پوچھنا چاہوں گی کہ کیا میں آج امل ردا اور ارش کو ڈنر پر لے جا سکتی ہوں کیوں کہ میں انہیں ڈنر کی آفر کر چکی ہوں۔
سماہر نے تحفہ مانگا اجازت کی صورت میں۔
تم نے ٹھیک کہا میں اپنی بیٹی کو کیسے منع کر سکتا ہوں ضرور جاؤ اور خوب مزے کرو اور ہاں ارش کو کہنا کہ اگر اسے زحمت نا ہو تو واپسی پے مجھ سے بھی ملتا جاۓ۔
حیات صاحب نے اسکے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
جی بابا۔
ویسے یہ کس کو ڈنر پر لے جانے کی بات ہو رہی تھی۔کیف نے کمرے میں آتے ہوئے پوچھا۔
وہ تو میں تمہیں بعد میں بتاؤں گی پہلے تم بتاؤ کہ میرا گفٹ کہاں ہے۔
سماہر نے کھڑے ہوتے ہوئے کیف کے سامنے ہاتھ پھیلایا ایسے جیسے گفٹ وہ لئے کھڑا ہو۔
میری پیاری اور جلد باز بہنا تھوڑا صبر رکھو اور اپنے کمرے میں جا کر دیکھ لو سماہر گفٹ تمہارے بیڈ پر موجود ہے۔
کیف نے سماہر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اسکے بال خراب کرتے ہوئے بتایا۔
سچ پھر میں ابھی آئی۔
ایک منٹ اب مجھے تو بتاتی جاؤ کہ ڈنر کا کیا چکر ہے۔
اس سے پہلے کہ سماہر بھاگتی کیف نے اسے روکا۔
اوہ ہاں وہ اصل میں امل ارش اور ردا کو اپنے برتھ ڈے کی پارٹی یعنی ڈنر دینا چاہتی ہوں تم چلو گے کیا۔۔۔
اسی بہانے آج تم ارش سے بھی مل لو گے۔
سماہر نے اسے بھی ساتھ چلنے کو کہا۔
ہاں ویسے جتنا ارش نامہ سننے کو ملتا ہے اس حساب سے اس بندے سے ملنا تو چاہیے مگر نہایت افسوس کے ساتھ کہ آج میں اپنے یونی فیلوز کے ساتھ سوات کے لئے نکل رہا ہوں سو تمہارے ساتھ نہیں جا پاؤں گا۔
میری طرف سے معذرت بہنا۔کیف سماہر کے گال کو زور سے دباتا بابا کے پاس آبیٹھا۔
کوئی بات نہیں تم اپنا ٹوور انجوئے کرنا۔
سماہر کہتی ہوئی کمرے سے نکل گئی تو کیف بابا سے اپنے ٹوور کے بارے میں ڈسکس کرنے لگا۔
۔********************
سماہر کمرے میں آئی تو بیڈ پر ایک چھوٹی سی چٹ کے علاوہ اسے اور کچھ نظر نا آیا۔سماہر نے اسے کھول کر دیکھا اور اندر لکھا ہوا تھا۔
تمہارا اس سالگرہ کا تحفہ تمہاری اگلی سالگرہ تک ادھار رہا مجھ پر۔۔۔۔
کیف کے بچے۔۔
سماہر نے چٹ مروڑتے ہوئے دانت پیس کر کہا اور کمرے سے نکلنے کے لئے واپس مڑی مگر تب ہی کچھ دیکھ کر رک سی گئی۔
کمرے کے بند دروازے کے بلکل ساتھ دیوار پر ایک بہت ہی خوبصورت نیٹ کی گولڈن فراک ہینگ ہوئی تھی۔
پہلے دروازہ کھلا ہونے کی وجہ سے فراک کے چھپ جانے سے وہ اسے دیکھ نہیں پائی تھی مگر اب جب دیکھی تو خوشی سے بولی واؤ اٹس ویری بیوٹیفل۔۔۔
سماہر نے فراک اتاری اور اسے بیڈ پر رکھ کر دیکھنے لگی۔
بلاشبہ کیف کی پسند بہت کمال کی تھی۔۔۔
اور یہ لائن ایک دم جھوٹ تھی۔
کیونکہ یقیناً اس نے مال میں چلتی پھرتی کسی لڑکی یا آنٹی سے کہہ کے یہ فراک خریدی ہوگی کیوں کہ اسے لڑکیوں کی شاپنگ کا بلکل بھی اندازہ نہیں تھا بلکہ خاص قسم کی چڑ ضرور تھی شاپنگ سے۔
بہرحال سماہر کو یہ بہت ہی پسند آئی تھی اور وہ آج ڈنر پر اسے ہی پہن کر جانے والی تھی۔
۔****************
تھینک یو سو مچ کیف یو آڑ سو سویٹ برو۔۔۔
آئی ریلی لائک یور گفٹ اٹس امیزنگ۔۔۔سی۔۔۔سماہر نے آتے ہہی کیف کے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہا اور پھر اس کے سامنے گھومتے ہوئے اسے اپنی طرف دیکھنے کو کہا۔
بہت اچھی لگ رہی ہو اس میں۔کیف کو اسکی خوشی دیکھ کر بیحد خوشی ہوئی۔
چلو پھر اب مجھے میری مطلوبہ جگہ پر ڈراپ کر آؤ۔
کس جگہ۔
آج کیف اسے بغیر تنگ کئے اسکی مطلوبہ جگہ پر چھوڑ آنا چاہتا تھا۔ریسٹورنٹ۔سماہر نے جواب دیا اور پھر کیف کے کہنے پر اس کے پیچھے چل دی۔
۔*******************
ارحم کیا تمہیں ابھی بھی لگتا ہے کہ ہمارے بیچ دوستی کے علاوہ اور کوئی رشتہ نہیں ہے۔
جینیفر نے کھوجتی نگاہوں سے ارہم کی طرف دیکھا۔
ارہم نے کوئی جواب نا دیا بلکہ چپ چاپ کولڈ ڈرنک پیتا رہا۔
مانا کہ میرا مذہب اور ہے اور تمہارا اور لیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ ہمیں ایک دوسرے سے محبت نہیں ہو سکتی۔
محبت تو ہر کسی کو کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔
کوئی انسان کتنا برا یا کتنا غلط کیوں نا ہو محبت یہ نہیں دیکھتی بلکہ محبت تو کچھ بھی نہیں دیکھتی محبت تو شائد۔۔۔
نہیں بلکہ یقیناً اندھی ہوتی ہے ناں۔
ہڈ والی جیکٹ پہنے سرخ و سفید اور تیکھے نقوش والی اس محبت کی ماری لڑکی نے کہا۔
مگر مجھے تم سے محبت نہیں ہے تو جھوٹا اقرار سن کر کیا کرو گی۔گرے جرسی پہنے بازو کہنیوں تک موڑے اور بال ماتھے پر بکھیرے اس لڑکے نے کولڈ ڈرنک کا گلاس کاؤنٹر پر رکھتے ہوئے کہا۔جھوٹا ہی سہی مگر اقرار تو کرو کبھی۔
جینیفر نے دھیمے سے لہجے میں کہا۔
اور اسکی یہ دھیمی آواز کلب کے شور میں کہیں دب سی گئی۔
مجھے کال آرہی ہے جینی میں آتا ہوں۔
ارہم نے جیب سے موبائل نکالا اور کلب سے باہر نکل آیا۔
