Dhal Chuki Shab e Hijar by Esha Gul NovelR50703 Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 09)
Rate this Novel
Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 09)
Dhal Chuki Shab e Hijar by Esha Gul
میں دیکھ رہی ہوں کہ تم پرانے دوستوں کو چھوڑ کر نئے دوستوں کے ساتھ کچھ زیادہ ہی دکھنے لگتی ہو۔
امل نے بکس بیگ میں رکھتے ہوئے کہا۔ویسے دیکھ تو میں بھی رہی ہوں۔
ردا نے بھی اپنا حصہ ڈالنا مناسب سمجھا۔
اور میں بھی دیکھ رہی ہوں کہ تم آج کل فضول بکواس کچھ زیادہ ہی کرنے لگی ہو۔
سماہر نے اسکی بات کو کسی خاطر میں نا لاتے ہوئے کہا۔
جی نہیں فضول بکواس نہیں بلکہ یہ بولو کہ سچ کچھ زیادہ ہی بولنے لگی ہوں۔
امل نے فرضی کالر اچکاتے ہوئے کہا۔
ہاں جیسے میں جانتی نہیں ہوں تمہیں اور تمہارے سچ جھوٹ کو۔سماہر بیگ پہنے کلاس سے باہر نکل آئی۔
امل نے کوئی جواب نا دیا بلکہ الٹا سوال کیا۔
تم کینٹین چل رہی ہو ؟؟
نہیں میں اس وقت کچھ بھی کھانے کے موڈ میں نہیں ہوں۔
سماہر جواب دیتی سیڑھیوں پر آبیٹھی اور کتاب کھولے اسے پڑھنے لگی۔
کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں مس۔
سماہر اس آواز کو کیسے نہیں پہچان سکتی تھی اس لئے بغیر سر اٹھاۓ مسکراتی ہوئی بولی۔
کیوں نہیں سر بلکل بیٹھ سکتے ہیں۔
اور سناؤ کیسی ہو۔
اچھی ہوں۔سماہر نے جواب دیا مگر کچھ لاپروائی سے۔
یہ تو میں جانتا ہوں مگر حال چال کیسے۔۔۔۔۔ارش میں پڑھ رہی ہو۔سماہر نے اسے آگاہ کر کے مزید بولنے سے روکا۔
تم گھر جا کے بھی پڑھ سکتی ہو مس ایٹیٹوڈ۔
ارش نے اسے جیسے یاد کروایا۔
ہاں مگر یہاں بیٹھ کر پڑھنا اچھا لگ رہا ہے۔
سماہر کو اسے تنگ کرنے میں مزہ آرہا تھا۔
کسی دن میں تمہاری ان کتابوں کو آگ لگا دونگا سمجھی تم۔
اور وہ دن کبھی نہیں آئے گا سمجھے تم۔
سماہر نے اسکی دھمکی کو کسی خاطر میں لائے بغیر کہا۔
ویسے کتنے افسوس کی بات ہے اسائنمنٹ میں دن رات محنت کرنے والی لڑکی کلاسز بنک کرتی پھرتی ہے۔
اف پھر وہی طعنہ جو ایک دفعہ پہلے بھی ارش اسے مار چکا تھا۔سماہر تو تلملا ہی گئی۔
اے مسٹر زیادہ مجھ پے ٹونٹ مارنے کی ضرورت نہیں ہے یہ تم بھی اچھے سے جانتے ہو کہ لاسٹ پیریڈ آج فری ہے۔
سماہر نے انگلی اٹھا کر اسے یاد دلایا۔
کیا ہم انسانوں کی طرح بات کر سکتے ہیں۔
ارش اب مزید تنگ ہونے کے موڈ میں نہیں تھا۔
میں تو انسانوں کی طرح ہی بات کر رہی تھی خیر تم اگر اپنی بات کر رہے ہو تو ہاں ضرور کر سکتے ہو۔
تمہارے لئے کچھ لایا تھا۔
ارش نے اسکی بات کا برا مناۓ بغیر کہا۔
کیا لائے ہو سماہر نے دلچسبی سے پوچھا۔
ایکچولی میں۔۔۔۔ایک منٹ۔۔ارش کا فون بجا تو وہ رکا۔
جی ماما۔۔جی میں ابھی ہی آجاتا ہوں۔۔ارے نہیں میں فری ہی ہوں۔چلیں خدا حافظ۔
سماہر اجیا کی کچھ طبعیت ٹھیک نہیں میں چلتا ہوں۔
ارش عجلت میں کہتا دو تین سیڑھیاں اترا اور پھر واپس آیا۔
سماہر کے ہاتھ سے بک لے کر اس میں کچھ رکھا اور “دس از فار یو سومو” کہتا واپس بک اسے تھمائے سیڑھیاں اتر گیا۔
جبکہ سماہر زیر لب بڑبڑائی “سومو” اور پھر مسکرا دی۔
سماہر اٹھو یار میں وہاں اکیلی کینٹین میں بیٹھی کھا رہی ہوں اگر تمہیں کچھ کھانا نہیں تو میرے پاس ہی بیٹھ جاؤ کم از کم کسی کو یہ تو نا لگے کہ اتنا سب میں اکیلے ہی کھا رہی ہوں۔
امل نے ہاتھوں میں ڈھیروں کھانے پینے والی چیزیں اٹھاۓ اسے کہا۔سماہر جو بک کھولنے والی تھی اسے اتنا کچھ اٹھاۓ دیکھ اسکی بات پر ہنستی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی اور بک کو بیگ میں رکھ کر اس کے ساتھ چل دی۔
۔*********************
اجیا کے سر میں بہت درد رہنے لگا تھا اس خدشے کے ڈر سے کہ کہیں اسکی نظر ہی کمزور نا پر رہی ہو زمر بیگم ارش کو ساتھ لئے اسے آئی اسپیشلسٹ کے پاس چلی آئیں۔
اور انکا خدشہ درست ثابت ہوا۔
اجیا کی نا صرف نظر کمزور تھی بلکہ کچھ زیادہ ہی کمزور تھی۔
گھر آکر زمر بیگم جو بولنا شروع ہوئیں۔
کہتی تھی میں اس لڑکی کو کہ نا دن رات ناول پڑھتی رہا کرے جب دیکھو ہاتھ میں کوئی نا کوئی کتاب ارے ہر وقت نظر لگانے سے نظر پے برا اثر پڑتا ہے اب پر گیا ناں برا اثر۔
اب دیکھوں سہی ذرا میں تمہارے ساتھ میں کوئی کتاب۔
زمر بیگم بول رہی تھیں جبکہ اجیا خاموش بیٹھی سن رہی تھی۔
ارے ماما اب بس بھی کر دیں کیوں اتنا ڈانٹ رہی ہے آپ اس کو۔
اب اتنے بھی ناول نہیں پڑھتی وہ جتنا آپ کہہ رہی ہیں۔
اجیا تم جاؤ اپنے کمرے میں جا کر آرام کرو اور جو آئی ڈراپس تمہیں دیے ہیں وقت پر ڈالتی رہنا۔
ارش نے کہا تو اجیا خاموشی سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلی آئی اس وقت اسے واقعی میں آرام کی ضرورت تھی سر میں درد کی وجہ سے اسکی ٹھیک سے نیند بھی پوری نہیں ہو پائی تھی۔
زمر بیگم ابھی تک بول رہی تھیں اور اجیا جانتی تھی کہ وہ اس سے کتنا پیار کرتی ہیں اور اسکی فکر میں ہی اتنا بول رہی ہیں۔
ارش اب کہ انہیں چپ کروانے کی بجاۓ خاموشی سے انہیں سنتا رہا۔جانتا تھا کہ وہ خود چپ ہو گئیں تو ہو گئیں اسکے کہنے پر تو فلحال نہیں ہونے والیں۔
۔*******************
رات میں فری ہو کر سماہر اپنے کمرے میں آئی اور ناول لے کر بیڈ پر بیٹھی تو ناول کو دیکھ کر اسے اپنی بک یاد آئی۔
وہ اٹھی بیگ سے بک نکالی اور جلدی سے کھولی۔
مطلوبہ چیز اسے کھولتے ہی مل گئی کیوں کہ بک کھلی ہی وہاں سے جہاں ایک سرخ خوشبو دار آدھ کھلا گلاب پڑا تھا۔
گلاب دیکھ کر بے اختیار سماہر کے ہونٹوں پر مسکراہٹ امڈ آئی۔
اوہ تو یہ تھی وہ چیز جو تم میرے لئے لائے ہو۔
نجانے تم نے مجھے یہ کیا سوچ کر دیا حالانکہ تم اچھی طرح جانتے ہو کہ کسی کو گلاب دینے کا کیا مطلب ہے۔
اف تھینک یو ارش۔۔۔۔
سماہر نے خوش ہوتے ہوئے گلاب کو اپنے ہونٹوں سے چھو لیا۔
اس وقت اسکا دل چاہا کہ وہ ارش کو فون کر کے تھینک یو کرے۔اسکی یاد آرہی تھی اس سے بات کرنے کو من چاہ رہا تھا شائد تھینک یو کہنا ایک بہانہ تھا۔
مگر پھر یہ جان کر سماہر کا چہرہ ایک دم سے مرجھا گیا کہ نمبر تو اس نے ارش کا لیا ہی نہیں۔
اور اگر ہوتا بھی تو ارش سے بدلے میں یہی سننے کو ملتا کہ فرینڈ شپ میں نو سوری اینڈ نو تھینکس۔
سماہر نے کتاب میں پڑے آدھ کھلے گلاب کو دیکھا تو ایک بار پھر سے دلکش مسکراہٹ ہونٹوں کو چھو گئی۔
____________
سماہر کلاس میں داخل ہوئی تو ساری خوشگواری جھٹ سے غائب ہوگئی۔
کیوں کہ ارش کی چئیر خالی تھی۔
کیا پتا آج لیٹ آئے۔سماہر نے سوچا۔
مگر آج ارش نے نہیں آنا تھا تو نہیں آیا۔
یہ تمہارا منہ کیوں اتنا لٹکا ہوا ہے۔امل نے لیز کا پیکٹ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا۔
نہیں تو۔۔سماہر نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔
اوہ سمجھ گئی تمہیں شائد عادت نہیں ہے ناں اپنے ساتھ والی چیئر خالی دیکھنے کی۔
امل نے اسے چھیڑا۔
بکو مت۔سماہر نے اسے گھورتے ہوئے لیز کا پیکٹ اسکے ہاتھ سے جھپٹ لیا۔
ویسے وہ کیوں نہیں آیا آج۔۔امل نے ایسے پوچھا جیسے سماہر کو تو بہت پتا تھا ناں کہ وہ کیوں نہیں آیا۔
مجھے نہیں معلوم۔
سماہر کو ایک بار پھر ارش کی غیر موجودگی پر غصہ آگیا۔
ویسے مجھے معلوم ہے۔امل نے کہا۔
اچھا تو کیوں نہیں آیا وہ سماہر نے ایسے پوچھا جیسے واقعی میں اسے یقین ہو کہ امل کو اسکے نا آنے کی وجہ معلوم ہے۔
کیوں کہ اسکی شادی ہو رہی ہے۔امل نے عام سے لہجے میں بتایا۔
مگر سماہر کو نا شاک لگا نا ہی کسی قسم کی کوئی حیرت ہوئی۔
بلکہ وہ قدرے آرام سے بولی۔
تم جھوٹ بول رہی ہو امل۔
ہاں ظاہر ہے میں جھوٹ ہی بول رہی ہوں بھلا اس اکڑو بدتمیز سے شادی کرے گا کون۔
امل نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔
سماہر نے افسوس سے اسے دیکھا اور پھر ارش کی خالی چیئر کو۔چھٹی کرنی ہی تھی تو کم از کم بتا ہی دیتا میں بھی نا آتی خواہ مخواہ ہی آگئی۔
سماہر دل ہی دل میں ارش سے مخاطب ہو کر شکایت کرنے لگی۔
اسکا دل ہی نہیں لگ رہا تھا ارش کے بغیر۔
سارا وقت بور سا گزرا ورنہ اگر ارش ہوتا تو وہ یا تو ہر کلاس کے بعد اسکا سر کھاتی یا تو سیڑھیوں پر بیٹھ کر اس سے گپ شپ لگا رہی ہوتی۔
آخری کلاس لئے بغیر ہی وہ گھر آگئی۔
ویسے کتنے افسوس کی بات ہے ناں اسائنمنٹ میں دن رات محنت کرنے والی لڑکی کلاسز بنک کرتی پھرتی ہے۔
اسے ارش کی بات یاد آگئی تو اس برے موڈ کے ساتھ بھی وہ مسکرا دی۔
۔********************
کہاں تھے تم کل پتا ہے کس طرح میں نے کل کا دن گزارا مجھے لگا تم ابھی آجاؤ گے مگر تم نہیں آئے اور پھر میں بھی آخری کلاس لئے بغیر ہی گھر چلی گئی۔
اگلے دن سماہر ارش کے آتے ہی اسکے سر ہو لی۔
سانس تو لے لو لڑکی۔ویسے اچھا لگا جان کر کہ کوئی تو ہے ایسا جسے میری کمی اتنی محسوس ہوتی ہے۔
ارش نے اسکی ناک کو چھوتے ہوئے کہا۔
زیادہ باتیں مت بناؤ یہ بتاؤ کہ کہاں تھے تم۔
سماہر نے اسکا ہاتھ جھٹکتے ہوئے پوچھا۔
ماما کو کسی کام سے لے کر آوٹ آف سیٹی گیا تھا۔سارا دن وہیں لگ گیا۔
ارے ہاں یاد آیا پرسوں تم کہہ رہے تھے کہ تمہاری کزن کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں کیا ہوا تھا اسے اور اب کیسی ہے۔
ہاں اب ٹھیک ہے۔
کچھ خاص نہیں بس اب دو کی بجاۓ اسے چار آنکھیں لگ گئی ہیں۔ارش نے سنجیدگی سے کہا۔
چار آنکھیں مطلب۔سماہر کو سمجھ نا آئی۔
مطلب چشماٹو بن گئی ہے اب۔بقول ماما کے سارا دن ناول جو پڑھتی رہتی ہے۔
ارے اچھا اسے بھی ناول پڑھنے کا شوق ہے مجھے بھی۔
اور ہاں ناول سے یاد آیا مجھے ایک دو ناول خریدنا ہے تم یونیورسٹی کے بعد لے چلو گے کیا مجھے۔
سماہر کو اپنے ناول یاد آگئے۔
معذرت کے ساتھ محترمہ میں نہیں چل رہا تم اکیلی جا سکتی ہو۔ارش نے باقاعدہ ہاتھ جوڑ کر معذرت کی۔
ارش میں بلکل بھی وقت نہیں لگاؤں گی بس مطلوبہ ناول لیا اور واپس۔
سماہر نے جیسے اسکے انکار کا مطلب سمجھتے ہوئے منانے والے انداز میں کہا۔
پکا۔۔۔؟؟ ارش کو جیسے یقین نا آیا۔
ہاں ہاں پکا۔۔
سماہر خوش ہوتی ہوئی بولی۔
اچھا سنو مجھے تم سے کچھ کہنا تھا۔سماہر سوچ سوچ کر بولی۔دیکھو اگر تمہیں اس پھول کے لئے تھینک یو بولنا ہے تو میں پہلے ہی بتا دوں کہ فرینڈ شپ میں نو سوری اینڈ نو تھینکس۔۔۔ایسا تم ہی کہتی ہو ناں۔
نجانے ارش اس کے اندر کی بات کیسے پڑھ لیتا تھا یا پھر سماہر کو پڑھنا کوئی مشکل ہی نا تھا۔
ویسے گلاب بہت خوبصورت تھا۔
سماہر نے مسکراتے ہوئے بتایا۔
گلاب خوبصورت ہی ہوتے ہیں سماہر۔
ارش نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔مگر جو تم نے دیا وہ زیادہ خوبصورت تھا۔
سماہر جلدی سے بولی تو ارش اسکی اس بات پر ہلکے سے ہنس دیا۔ویسے بہت سستے میں مل رہا تھا اس لئے میں نے لے لیا تمہارے لئے۔ورنہ مجھ جیسا بندہ تو اس معاملے میں پتے ہی آفورڈ کر سکتا ہے۔ارش نے بیچارگی سے کہا تو سماہر بغیر برا مناۓ بولی۔
چاہے سستے میں تھا یا مہنگے میں مگر تم نے یہ صرف میرے لئے ہی لیا یہ جان کر اچھا لگا۔
سماہر اسے بہت کچھ جتاتی کلاس روم کی طرف چل دی تو پیچھے بیٹھا ارش اسکی بات پر غور کرتا دلکشی سے مسکرا دیا۔
(گلاب تم سے زیادہ خوبصورت نہیں تھا سماہر)
اسکے دل نے کہا تو وہ حیران سا ہوا اور پھر ہنس دیا۔
۔********************
انٹرسٹنگ لگ رہی ہے۔
سماہر کو مطلوبہ ناول تو نا ملے اس لئے کوئی دوسری بک دیکھ لی۔ارش تم مجھے یہ بک لے کر دے رہے ہو۔؟؟
سوال پوچھنے والا انداز تھا۔
“کیا میں” ارش نے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے چونکتے ہوئے کہا۔
“ہاں تم”۔
مگر ہماری بات صرف تمہیں یہاں تک لانے کی ہوئی تھی۔
تمہیں بکس خرید کر دینے کی نہیں۔
ارش نے اسے یاد کروایا۔
اچھا ایسا ہے کیا۔سماہر نے یاد کرتے ہوئے کہا۔
مگر وہ کیا ہے ناں ارش میں اس وقت کنگال ہوں۔سماہر نے بلا کی بیچارگی دکھاتے ہوئے کہا۔
جب پیسے نہیں تھے تو پھر یہاں آئی ہی کیوں۔ارش جھنجھلا ہی گیا۔
نخرے کیوں دکھا رہے ہو کر دو ناں پیمنٹ میں تمہیں بعد میں دے دونگی۔
سماہر نے کہا مگر دینے کا وہ کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی۔
میں ادھار نہیں دیتا۔
ارش نے جھوٹ بولا۔
مجھے نہیں معلوم تم مجھے یہ بک خرید کر دے رہے ہو تو مطلب دے رہے ہو۔
سماہر نے ہاتھ میں پکڑی بک اسے دکھاتے ہوئے کہا۔
سوری میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔
ارش اسے کسی بھی قسم کی کوئی بھی چیز دلوانے کے موڈ میں نہیں تھا۔
جھوٹ مت بولو تمہارے پاس پیسے ہیں اور بلکل ہے۔
ارے اچھے خاصے امیر بندے ہو تم چلو اب جلدی سے پیمنٹ کرو میں یہ بک خرید رہی ہوں۔
تمہیں پتا ہے سماہر یہ جو امیر بگڑے نواب زادے ہوتے ہیں سب انہیں دیکھ یہی کہتے ہیں کہ امیر باپ کا بیٹا ہے امیر باپ کی اولاد ہے وغیرہ وغیرہ مگر جانتی ہو مجھے دیکھ کر اکثر لوگ کیا کہتے ہیں۔
وہ دیکھو امیر ماں کا بیٹا۔۔۔اور سچ بتاؤں مجھے بلکل برا نہیں لگتا بلکہ اچھا لگتا ہے کیوں کہ میری ساری امیری میری ماں سے ہی تو ہے۔
ارش ایک دم سے ہی رنجیدہ سا ہوگیا۔
سماہر اسکو واپس اسے موڈ میں لانے کی خاطر بولی۔
دیکھو ارش اگر تم مجھے یہ سنا کر دکھی کرنا چاہتے ہو یا بہلانا چاہتے ہو تو سن لو یہ بک تو مجھے تم ہی خرید کر دے رہے ہو اور ابھی دے رہے ہو۔
تم نہیں بدل سکتی سماہر۔
ارش افسوس سے سر ہلاتا بولا۔
ویسے ہو تم بھی امیر باپ کی بگڑی بیٹی۔
ارش نے اسے چڑانے کی خاطر بولا مگر سماہر بدلے میں اپنے فرضی کالر اچکاتے ہوئے بولی۔
ہاں وہ تو میں ہوں ہی کوئی شک۔۔۔
ارش سیلز مین کے پاس آیا اور بولا یہ بک پیک کر دیں۔
ایک منٹ مجھے یہ چاہیے بلکہ نہیں مجھے وہ چاہیے۔۔۔مجھے یہ بھی اور وہ بھی چاہیے دونوں چاہییں۔۔۔۔آ آ آ ایسا کریں یہ والی بھی کر دیں اور ہاں یہ والی بھی۔۔۔بلکہ یہ سب ہی کر دیں اور ہاں یہ بھی ٹھیک رہے گی ایسا کریں پھر اسے بھی۔۔۔۔۔
سماہر۔۔۔ارش اس کے نام کے ایک ایک حرف کو چبا چبا کر بولا اور ایک زبردست سی گھوری اسے ڈالی تو سماہر کھسیانی سی ہنسی ہنس دی۔
بھائی آپ یہ ایک ہی بک کر دیں یہ باقی کی ہم پھر کبھی دیکھ لیں گے۔
سماہر نے دوبارہ ان بکس کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا جیسے گناہ سمجھا اور ارش کے ساتھ دکان سے باہر نکل آئی۔
