Dhal Chuki Shab e Hijar by Esha Gul NovelR50703 Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 04)
Rate this Novel
Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 04)
Dhal Chuki Shab e Hijar by Esha Gul
سماہر ہاتھوں میں ڈھیر سارے نوٹس اٹھاۓ کلاس روم سے نکلی اور سیڑھیاں اترنے لگی بے دھیانی میں سیڑھیاں اترتے ہوئے وہ پھر کسی سے ٹکرائی۔
اور کچھ اس طرح کے سارے نوٹس اچھل کر ہوا میں لہراتے ہوئے سیڑھیوں پے جا گرے۔
تمہارے ساتھ پرابلم کیا ہے آخر۔۔۔
سامنے کھڑا ارش جھنجھلا کر بولا۔
وہ جو نوٹس کے ساتھ ساتھ خود بھی گرنے کے ڈر سے اسے تھامے کھڑی تھی ارش نے ایک دم سے اسے خود سے الگ کیا۔
سماہر جلدی سے سنبھلی ورنہ اس بار تو وہ واقعی میں گر جاتی۔ارش ایک غضیلی نگاہ اس پر ڈالتا سیڑھیاں چڑھنے لگا۔
سماہر جو یہ امید لئے کھڑی تھی کہ وہ سوری بولتا اسے نوٹس اٹھا کر تھما دے گا آنکھوں میں حیرت لئے اسے جاتا دیکھنے لگی۔
مگر پھر جلدی سے مڑی اور منہ ہی منہ میں بڑبڑائی۔
بدتمیز کہیں کا۔۔۔
بابا کہتے ہیں کہ مجھے اسے تھینک یو بولنا چاہیے اس جیسے انسان کو تھینک یو بولنا۔۔۔مائے فٹ۔۔۔
وہ سیڑھیوں پر بیٹھی جو کہ دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں اور جگہ جگہ بکھرے نوٹس سمیٹنے لگی۔
تقریباً پانچ منٹ تو اس نے نوٹس اٹھانے میں ضائع کئے۔
وہ پیچھے مڑی کہ کہیں کوئی پیپر رہ تو نہیں گیا تب ہی اس کی نظر سیڑھیوں سے اوپر کھڑے ارش پر پڑی جس کے پیروں میں چند ایک نوٹس پڑے تھے۔
وہ نجانے کب وہاں آکھڑا ہوا تھا یا تب سے یہی کھڑا تھا۔
ارش نے جھک کر وہ نوٹس اٹھاۓ اور سماہر کی طرف بڑھائے۔
وہ شائد جان گیا تھا کہ اس جیسی اکڑو لڑکی اسکے پیروں میں پڑے نوٹس اٹھانا گوارا نہیں کرے گی۔
سماہر بھی یہ جان گئی کہ اس نے کیا سوچ کر وہ نوٹس اسکی طرف بڑھائے اسی لئے ٹھنڈی سانس بھرتی ہوئی آگے بڑھی اور نوٹس تھامتے ہوئے بولی۔۔۔
مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔
وہ شخص جسے کل تک وہ آپ آپ کہہ رہی تھی سیدھا تم پر آئی۔
شائد یہ سوچ کر کہ خواہ مخوا ہی اتنی سی بھی عزت اسے کیوں دے۔
میں سن رہا ہوں۔۔۔
میں تم سے اس دن کے لئے تھینک یو کہنا۔۔۔۔
وہ اتنا ہی بول سکی کہ ارش نے اسے بیچ میں ٹوکا۔
مجھے اس طرح کہ تھینک یو کی عادت نہیں ہے محترمہ۔۔۔
اگر آپ کو تھینک یو بولنا ہی ہے تو سیدھی طرح بولیں مگر شائد آپ کو تھینک بولنے کے لئے اجازت لینے کی عادت ہے۔
ویسے کسی کی بے عزتی کرنے سے پہلے تو آپ تمہید نہیں باندھتیں تو پھر تھینک یو بولنے کے لئے ایسا کیوں۔
سماہر کے دل میں جو اس کے لئے نرمی کا احساس ایک پل کے لئے پیدا ہوا تھا اسکی اس بات سے فوراً سے پہلے ہی اڑن چھو ہوگیا۔۔۔۔۔
یو نو واٹ میں پاگل تھی جو تمہیں تھینک یو بولنے چلی آئی اور۔۔۔۔کیوں جھوٹ بولتی ہیں آپ۔۔۔
یہ آپ بھی جانتی ہیں اور میں بھی کہ آپ یہاں کوئی تھینک یو بولنے نہیں بلکہ اپنے نوٹس پکڑنے آئی تھیں۔
سماہر تو تپ ہی گئی۔
ارش نے ایک ہی پل میں اسے جھوٹی جو کہہ دیا۔
ویسے بات تو سچ تھی۔
ارش آگے بڑھ گیا مگر پھر مڑا اور بولا۔
ویسے یاد آیا مجھے بھی تم سے کچھ کہنا تھا۔
سماہر نا ہی مڑی اور نا ہی پوچھا کہ اسے کیا کہنا تھا۔
وہی کہنا تھا جو اس دن کہا کہ آیندہ مجھ سے ٹکرانے سے پرہیز کرنا۔ارش نے پھر انگلی اٹھا کر اسے وارن کیا۔
اس بات پر سماہر ایک جھٹکے سے مڑی۔
مگر تب تک وہ بھی پلٹ چکا تھا۔
بڑا آیا وارننگ دینے والا۔
سماہر غصے سے بولتی امل کو ڈھونڈھنے چلی گئی جو کہ یقیناً اسے کینٹین میں ہی ملنے والی تھی۔
۔************************
ارے واہ ماما مٹر پلاؤ۔
آپ کو کیسے پتا چلا کہ آج میرا یہی کھانے کا دل چاہ رہا تھا۔
ڈنر پے پلاؤ سجا دیکھ کر ارش ایک دم سے فریش سا ہوگیا۔
دیکھ لو پھر کتنا سمجھتی ہے تمہیں اجیا۔
زمر بیگم نے معنی خیز لہجے میں کہا تو ارش نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا۔
میرا مطلب ہے کہ پلاؤ میں نے نہیں اجیا نے بنایا ہے۔
اوہ اچھا پھر تو بہت ہی مزے کا ہوگا۔
ارش نے پلاؤ پلیٹ میں ڈالتے ہوئے کہا تو اجیا کو بہت اچھا لگا۔
تم کھڑی کیوں ہو اجیا بیٹھو کھاؤ تم بھی۔
ارش نے اسے کھڑے دیکھا تو بولے بغیر نا رہ سکا۔
اجیا ہمیشہ سے بس ارش کی توجہ ہی چاہتی تھی جب بھی ارش اسے تھوڑی سی ہی سہی مگر توجہ دیتا تو وہ بہت خوش ہوتی۔
ارش یہ رائتہ بھی تو لو ناں ساتھ۔
اجیا نے اسکی طرف رائتے کا باول بڑھایا جیسے اس نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ تھام لیا۔
اجیا کھانے سے زیادہ ارش کو دیکھ رہی تھی پانی تک ارش کا ہاتھ پہنچنے سے پہلے ہی پانی ارش کے پاس پہنچ جاتا۔
وہ بار بار ارش کو دیکھتی اور زمر بیگم بار بار اجیا کو۔
وہ اجیا کی ارش کے لئے محبت سے ناواقف نہیں تھیں۔
بلکہ وہ چاہتی تھیں کہ جس طرح اجیا ارش کو چاہتی ہے اسی طرح ارش کے دل میں بھی اجیا کے لئے پسندیدگی کے جذبات پیدا ہو جائیں تو وہ ان دونوں کو ایک کر دیں۔
۔**********************
دیکھیں ناں بابا میں نے آپ کے کہنے پر اس اکڑو بدتمیز انسان کو تھینک یو بولنا چاہا اور اس نے بدلے میں یہ سب کہا۔
سماہر ارش کا غصہ بابا پے اتار رہی تھی۔
ارے میری گڑیا اب اس نے ایسا بھی کچھ غلط نہیں کہا تھا۔
بس تم بات بات پر برا مت ماننے بیٹھ جایا کرو۔
حیات صاحب اسے اور کیا کہتے۔
سچ تو یہی تھا کہ جب سے سمیرا بیگم اس دنیا سے چلی گئی تھیں تب سے سماہر بات بات پر چڑ سی جاتی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر برا مان جاتی تھی۔
کیا ہو رہا ہے یہاں اور یہ تمہارا موڈ کیوں آف ہے اور ہاں میری چاۓ۔کیف باہر سے آیا تھا اور اندر جانے کی بجاۓ لان میں انہی کے پاس بیٹھ گیا۔
کچھ خاص نہیں کیف بس یہ تمہاری بہن کو یونیورسٹی میں کوئی ایسا ٹکر گیا ہے جس سے یا تو سماہر کو کوئی نا کوئی پرابلم رہتی ہے یا تو اسے سماہر سے۔
مجھے نہیں بابا اسے ہی مجھ سے پرابلم ہے۔
حیات صاحب کی بات پر سماہر جلدی سے بولی۔
اور تو اور اس نے آج یہ بھی کہا کہ تمہارے ساتھ پرابلم کیا ہے آخر۔اب بتائیں کسے کس کے ساتھ پرابلم ہے۔
تم سے کوئی نہیں جیت سکتا سماہر۔
حیات صاحب نے ہارتے ہوئے کہا۔
اچھا چلیں جیت ہار کو چھوڑیں مجھے یہ بتائیں کے میری چاۓ کدھر ہے۔
کیف کو اپنی چاۓ کی پڑی تھی۔
تمہیں بس چاۓ کی ہی پڑی ہے میری تو کوئی سنتا ہی نہیں۔
سماہر جھنجھلاتے ہوئے اٹھی اور کیف کے لئے چاۓ لینے چلی گئی۔کیف اور حیات صاحب اسکی بات پر مسکرا دیے۔
اب وہ کیا بتاتے کہ وہ دونوں بس اسی کی تو سنتے تھے۔
۔********************
سر ہارون کلاس لے رہے تھے اور سماہر کلاس میں ہوتے ہوئے بھی آج کلاس میں موجود نہیں تھی نجانے آج کہاں گم تھی وہ۔
سماہر۔۔۔
سر ہارون نے سماہر کو آواز دی۔
سماہر میں آپ سے مخاطب ہوں۔
ایک دفعہ جواب نا ملنے پر انہوں نے اسے دوبارہ آواز دی تو وہ چونکی۔
(سر ہارون دوسرے پروفیسرز کی نسبت ذرا سخت طبعیت کے تھے۔وہ انکا فلسفہ کا پیریڈ لیتے تھے۔
ایم بی اے۔۔۔
ہو یا کوئی بھی کلاس وہ ہر کلاس کو فلسفہ پڑھاتے تھے۔
ایم بی اے کرنے والے بیچارے سوچتے کہ وہ شائد یہاں فلسفی بننے آئے ہیں) سماہر گھبرا کر سیدھی ہوئی۔
ارش نے ساتھ والی چیئر پر بیٹھی سماہر کو دیکھا۔
اسے آج وہ کچھ کھوئی کھوئی سی لگی کچھ اداس اداس سی۔
یہ اداسی اسکی آنکھوں سے ایسے چھلک رہی تھی جیسے ابھی رو دے گی۔
اسٹینڈ آپ۔۔۔
سر نے بولنے کے ساتھ ساتھ ہاتھ کے اشارے سے اسے کھڑے ہونے کا کہا۔
سماہر دھیرے دھیرے کھڑی ہوئی۔
اب بتائیے کہاں پر پہنچی ہوئی ہیں آپ کیوں کہ کلاس میں تو آپ کی موجودگی مجھے دکھائی نہیں دے رہی۔
سر اسکی کلاس لینے والے تھے یہ اسے معلوم ہوگیا تھا۔
وہ۔۔۔سر۔۔نہیں میں یہی ہوں۔۔۔
میرا مطلب ہے کہ میں لیکچر سن رہی تھی۔
اسکی آواز کی لڑکھڑاہٹ کو ارش نے محسوس کیا۔
اس نے ایک بار پھر نظر اٹھا کر دائیں طرف کھڑی گھبرائی گھبرائی سی سماہر کو دیکھا جو گھبراہٹ میں اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹک رہی تھی۔
کیا اس لڑکی کی زبان صرف میرے سامنے ہی چلتی ہے۔ارش نے افسوس سے سوچا۔
اچھا تو پھر بتائیں کہ اس وقت ہم کس پیج پر موجود ہیں۔
“پیج”
سماہر گھبرا کر زیر لب بڑبڑائی۔
اس سے پہلے کے اسکی پوری کلاس میں بے عزتی ہی ہو جاتی۔
ارش نجانے کیوں دھیرے سے کھانسنے لگا۔
سماہر نے چونک کر اسکی طرف دیکھا جو ہاتھ میں پیپر لئے دھیرے سے ہلا رہا تھا۔
سماہر کے دیکھنے پر اس نے پیپر ہلانا بند کیا تو سماہر کی نظر اس پر ٹھہر گئی۔
سر ہم پیج نمبر 54 پر تھے۔سماہر نے خود کو نارمل رکھتے ہوئے جلدی سے جواب دیا۔
جی بلکل ہم اسی پیج پر تھے مگر ہم کیا ڈسکس کر رہے تھے۔
چلیں یہ ہی بتا دیں ہمارا آج کا ٹوپک کیا ہے۔
سر کی اس بات پر بے اختیار سماہر کی نظر پھر سے ارش کی طرف اٹھی۔
ارش جو پہلے ہی سمجھ گیا تھا کہ سر اس سے آگے مزید گیا پوچھنے والے ہیں پیج پر کچھ لکھنے لگا۔
سر آج کا ہمارا ٹوپک زندگی سے ریلیٹڈ۔۔۔۔
سماہر کے مزید کچھ کہنے سے پہلے ہی سر نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
سماہر فوراً بیٹھ گئی۔
سماہر آپ کلاس میں تو موجود تھیں مگر بہر حال آپکا اتنا فوکس مجھے کام پے دکھائی نہیں دیا۔
نشانہ اس کے سوچ سوچ کر جواب دینے پر تھا۔
سر اب اس پر سے اپنی توجہ ہٹا کر پھر سے لیکچر اسٹارٹ کرنے لگے۔کلاس ختم ہوئی تو وہ چل دیے۔
سماہر نے گردن گھما کر ساتھ بیٹھے ارش کو دیکھا جو کچھ دیر پہلے اسکی مدد کرتے ہوئے اسکا کوئی بہت ہی گہرا دوست دکھائی دے رہا تھا مگر اب اس سے بلکل انجان لا تعلق سا۔
ارش نجانے اپنے رجسٹر پر کیا لکھ رہا تھا اور پھر لکھنے کے بعد حیران سا اپنے لکھے الفاظ کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
سنو۔۔۔
سماہر نے اسے مخاطب کیا۔
ارش۔۔۔۔ارش لغاری۔۔۔ارش نے بغیر سر اٹھاۓ کہا۔
ہاں ہاں جو بھی نام ہے تمہارا۔۔۔
سماہر نے دل میں کہا۔۔۔
وہ ارش مجھے تم سے۔۔۔
دیکھو اگر تمہیں اسی طریقے سے تھینک یو ہی کہنا ہے تو بہتر ہے کہ تم چپ ہی رہو۔
ارش نے اسے ٹوکا۔
مگر اس بار وہ چڑی نہیں نا ہی غصہ کیا بلکہ مسکرا دی۔
وہ واقعی میں اس دن کی طرح ہی اسے تھینک یو بولنے والی تھی۔سماہر نے بیگ سے پین نکالنا چاہا مگر پین ہوتا تو نکل بھی آتا۔
اس نے دائیں طرف چیئر پے بیٹھی امل کی بک پر سے جو کے خود موبائل پے مصروف تھی پین اٹھایا اور اپنے رجسٹر سے ایک پیج اتارتے ہوئے اس پر کچھ لکھ کر ارش کی طرف بڑھایا۔
ارش نے ناسمجھتے ہوئے اسے تھام لیا اور دیکھنے لگا۔
تھینک یو مسٹر ارش لغاری۔۔۔
ارش کے ہونٹوں پر مسکراہٹ سی بکھر گئی۔
جس طرح تم نے میری مدد کی میں نے بھی بالکل اسی طرح تمہیں تھینک یو کہہ دیا۔
امید ہے کہ میرے تھینک یو کہنے کا یہ طریقہ تمہیں برا نہیں لگا ہوگا۔
ارش نے سماہر کی پوری بات سنی اور اسی پیج کے دوسری طرف یو ویلکم مس سماہر حیات لکھ کر پیج واپس اس کی طرف بڑھا دیا۔سماہر پڑھ کر ہنس دی۔
کچھ دیر پہلے والی اداسی چھٹ سی گئی۔
ارش اب موبائل نکال کر اسکے ساتھ مصروف ہو چکا تھا۔
سماہر نے اپنے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے موبائل کے ساتھ مصروف ارش اور امل کو دیکھا اور بور ہوتی ہوئی ان کے بیچ سے اٹھ کر باہر چلی آئی۔
اگلی کلاس لینے کا اسکا آج کوئی ارادہ نہیں تھا۔وہ کچھ دیر اکیلے رہنا چاہتی تھی۔کلاس سے نکل کر وہ سیڑھیوں پر آبیٹھی۔
۔*******************
حیات صاحب نے سماہر کو تو یونیورسٹی بھیج دیا مگر وہ اپنے اس دل کا کیا کرتے جو کہیں لگ ہی نہیں رہا تھا۔
آج سمیرا بیگم کو گزرے پورا ایک برس ہو چکا تھا۔
اور آج کا دن ان سب کو اور بھی اداس کر گیا۔
حیات صاحب صبح سے اپنے اس کمرے میں ہی تھے جس میں انہوں نے اپنی بیوی کے ساتھ اپنی اب تک کی زندگی گزاری۔
کیف کچھ دیر ان کے ساتھ وقت گزار کر اب باہر نکل گیا تھا شائد وہ بھی کہیں دور اکیلے میں وقت گزارنا چاہتا تھا۔
وہ دونوں تو مرد تھے اپنی کیفیات پر قابو پانا جانتے تھے مگر سماہر تو لڑکی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر رو پڑتی تھی آج بھی سارا دن روتی ہی رہتی اگر حیات صاحب اسے زبردستی یونیورسٹی نا بھیجتے۔
جانتے تھے وہاں امل ہے سب فرینڈز ہیں اور پڑھائی میں دل لگا لے گی کم از کم وہاں سب کے سامنے گھر کی طرح کسی کونے میں بیٹھ کر روۓ گی تو نہیں۔
مگر آج کا دن خود ان کے لئے گزارنا بہت مشکل ہو رہا تھا
__________
اب بتاؤ کیا بات ہے جو تم آج اتنی اداس ہو۔۔۔
وہ یونیورسٹی کی سیڑھیوں میں خاموش بیٹھی اپنے بچپن میں کھوئی ہوئی تھی جب اسے کسی نے مخاطب کیا۔
سماہر نے چونک کر گھٹنوں میں دیا سر اٹھایا اور ساتھ بیٹھے ارش کو دیکھا۔
وہ اس سے تم کہہ کر ایسے پوچھ رہا تھا جیسے اس کے بچپن کا ہی ساتھی ہو۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو میں نے کچھ غلط پوچھ لیا کیا۔
ارش نے اسکی اداس اور بھیگی آنکھوں سے نظریں ہٹاتے ہوئے کہا۔تمہیں کیوں بتاؤں میں۔
سماہر نے آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے روٹھے ہوئے لہجے میں ایسے کہا جیسے وہ کیف یا اسے بابا ہوں۔
ٹھیک ہے مت بتاؤ میں نے تو ایسے ہی ہمدردی میں پوچھ لیا تھا۔ارش نے لاپروائی سے کہتے ہوئے اسے جان بوجھ کر غصہ دلانا چاہا اور اسے واقعی میں غصہ آبھی گیا۔
اے مسٹر۔۔۔مطلب ارش لغاری۔۔۔اس سے پہلے کے ارش اپنا نام پیش کرتا سماہر جلدی سے مسٹر سے ارش پر آئی۔
مجھے تمہاری ہمدردی کی کوئی ضرورت نہیں یہ ہمدردیاں جا کر کسی اور کو دکھاؤ۔
ٹھیک ہے دکھا دیتا ہوں مگر مجھے کیا لگتا ہے کہ کسی اور سے زیادہ تمہیں اسکی ضرورت ہے۔
مجھے ہمدردی کی کوئی ضرورت نہیں سمجھے تم۔
سماہر اب کی بار ذرا تیز لہجے میں بولی۔
میں نے ایسا کہا کہ تمہیں ہمدردی کی ضرورت ہے میں نے تو ایسا کچھ نہیں کہا۔۔۔
مگر تم نے کہا۔۔۔
سماہر بھی ڈھیٹ تھی۔
ہاں میں نے کہا تمہیں اسکی ضرورت ہے۔۔۔مگر ہمدردی کی نہیں۔۔۔شائد اسکی۔۔۔
ارش نے اپنا ہاتھ اسکے اور قریب بڑھایا جیسے وہ پہلے دیکھ ہی نہیں پائی تھی۔۔۔
اگر دیکھتی تو سمجھ جاتی کہ وہ اسکی بات کر رہا تھا۔
سماہر نے ناسمجھی سے پہلے اسکے ہاتھ اور پھر ارش کو دیکھا۔تمہیں اس وقت کسی ایسے ساتھی کی ضرورت ہے سماہر جو تمہاری اس اداسی کو دور کرے جو تمہارے اندر چھائی ہوئی ہے بلکہ باہر تک جھلک رہی ہے۔
تمہاری وہ بیسٹ فرینڈ املی تو۔۔۔
املی نہیں امل۔۔۔سماہر نے ٹوکا۔
ہاں جو بھی ہے وہ تو یقیناً اس وقت کینٹین میں کھانے میں مصروف ہوگی۔
اس لئے تم اس کی غیر موجودگی تک مجھے اپنا دوست سمجھ سکتی ہو۔
دوست کے نام پر سماہر نے حیرت سے اسے دیکھا۔
دوستی اور وہ بھی اس انسان سے۔۔۔۔کر لینی چاہیے۔
سماہر نے کچھ سوچتے اسکے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
جیسے ارش نے گرم جوشی سے دباتے ہوئے پھر دھیرے سے چھوڑ دیا۔ویسے میں اتنا بھی برا نہیں ہوں۔
یہی سوچ رہی ہو ناں تم۔
ارش نے اس خاموش لڑکی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسکا کا ذہن پڑھتے ہوئے کہا تو سماہر نے اپنی آنکھیں پھیر لیں۔
اف یہ تو آنکھوں سے ذہن تک پہنچ جاتا ہے۔
اچھا اب بتاؤ کیوں اداس تھی۔۔۔
میں ابھی بھی ہوں۔۔سماہر نے یاد کروایا۔
اچھا چلو پھر یہ بتاؤ کے کیوں اداس ہو۔۔۔۔
ارش کے پوچھنے پر سماہر پھر سے ویسے ہی ہوگئی جیسے اس کے آنے سے پہلے تھی۔
دیکھو میں نے یہ نہیں کہا کہ مجھے رو کے دکھاؤ کیوں کہ مجھے چپ کروانا بلکل نہیں آتا۔
ارش کا اشارہ اسکی بھیگتی آنکھوں کی طرف تھا۔
سماہر نے اسکی کسی بات کا کوئی جواب نا دیا اور بولنے لگی۔
