Dhal Chuki Shab e Hijar by Esha Gul NovelR50703 Last updated: 23 May 2026
Rate this Novel
Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 01)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 02)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 03)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 04)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 05)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 06,07)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 08)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 09)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 10)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 11,12)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 13)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 14)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 15)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 16,17)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 18)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 19)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 20)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 21)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 22,23)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 24)Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 25)Dhal Chuki Shab e Hijar (Last Episode)
Dhal Chuki Shab e Hijar by Esha Gul
شام کی چاۓ وہ اور حیات صاحب ایک ساتھ لان میں بیٹھ کر پیتے تھے۔
جب تک سمیرا بیگم حیات رہیں تب تک انکی یہی روٹین تھی انکی وفات کے بعد انہوں نے شام کی چاۓ پینا ہی چھوڑ دی۔
مگر کچھ عرصہ بعد پھر وہی روٹین شروع ہوگئی۔
کیف سماہر اور حیات تینوں لان میں بیٹھ کر چاۓ سے لطف اندوز ہوتے اور سمیرا بیگم کی باتوں کو یاد کیا کرتے وجہ حیات صاحب کا دل بہلانا تھا کیوں کہ سمیرا بیگم کی وفات کے بعد سے وہ ان دونوں کے ہوتے ہوئے بھی اکیلا سا محسوس کرتے تھے کیوں کہ انہیں اپنی شریک حیات سے بے حد محبت تھی۔
سمیرا انکی وہ کزن تھیں جنہیں دیکھتے ہی حیات صاحب نے سوچ لیا کہ یہی میری زندگی کی ساتھی بنیں گیں۔
مگر انکا یہ ساتھی انہیں ایک رات دما کے اٹیک کی وجہ سے چھوڑ کر اس جہاں فانی سے کوچ کر گیا۔
مگر جب دونوں بچوں نے ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا شروع کیا تو انہیں احساس ہوا کہ انکی زندگی کے تین روشن ستارے تھے جن میں سے ایک تو بجھ گیا مگر دو ابھی بھی باقی ہیں اور ان دو ستاروں کی روشنی کی انہیں بیحد ضرورت ہے۔
وقت گزرتا گیا کیف دبئی چلا گیا وہیں بزنس سیٹ کر لیا شادی کا دور دور تک کوئی ارادہ نہیں تھا سارا فوکس اسے ابھی بزنس پے رکھنا تھا۔
سماہر نے بھی جو بی کم کرنے کے بعد کافی وقت سمیرا بیگم کی وفات کے بعد یونیورسٹی چھوڑے رکھی دوبارہ شروع کر دی اور ایم بے اے میں ایڈمشن لے لیا۔۔۔
پانچ سال گزر چکے تھے کیف ابھی بھی وہیں سیٹلڈ تھا۔سماہر نے اسٹڈی ختم ہونے کے بعد خود کو گھر تک ہی محدود کر لیا تھا۔
رات کے کھانے کے بعد وہ حیات صاحب کو دوائی دے کر اپنے روم میں آ جاتی۔
ان دونوں کا روم ساتھ ساتھ تھا۔
حیات صاحب مطالعہ میں مصروف ہو جاتے اور وہ بھی کوئی نا کوئی ناول لے کر بیٹھ جاتی تا کہ بار بار ذہن میں سوار سوچوں سے چھٹکاڑا پا سکے مگر چاہنے کے باوجود بھی وہ آج تک اس ایک شخص کو نہیں بھلا سکی تھی جو پہلے اسکی زندگی میں آیا اور پھر اس کی زندگی ہی بن گیا۔
اور جو لوگ زندگی بن جاتے ہیں وہ زندگی کے ختم ہونے پر ہی جان چھوڑتے ہیں۔
اور کوئی اسی طرح ابھی تک اس کی محبت کے حصار میں جھکڑا ہوا تھا۔
مگر وہ کس دنیا میں تھا کہاں تھا کیسا تھا وہ نہیں جانتی تھی وہ بس اتنا جانتی تھی کہ وہ کہیں بھی چلا جاۓ مگر اس کے دل سے کبھی دور نہیں جا سکتا تھا۔۔
"کسی دن میں تمہاری ان کتابوں کو آگ لگا دوں گا سمجھی تم"۔
کوئی چپکے سے اس کے کان میں بولا۔
سماہر نے بے چین ہو کر پیچھے دیکھا مگر وہاں کوئی نا تھا۔
"جب تم اس طرح رونی صورت بنا کر بیٹھتی ہو ناں تو میرا دل کرتا ہے کہ تمہیں اس پول میں پھینک دوں"
وہ نہیں تھا مگر اسکی آواز ہر جگہ گھونجتی تھی۔
ہر اس جگہ جہاں وہ ہوتی۔
"اب چونکے میرے پاس پھول تو ہے نہیں تو اس لئے تمہیں اس پتے کو ہی قبول کرنا پڑے گا"
اسکی معصومیت بھری آواز پھر سے ابھری۔۔۔
سماہر نے ہاتھ میں پکڑی بک میں موجود پتے کو انگلیوں کی پوروں سے چھوتے ہوئے آنکھوں میں آئے آنسو واپس دھکیلے کیوں کہ کیف کی کال آرہی تھی۔
سماہر نے سائیڈ پر پڑا لیپ ٹاپ اپنی طرف گھسیٹا اور کال پک کی۔خوش باش مسکراتا چہرہ لپ ٹاپ کی سکرین پر ابھرا۔
کیسی ہو میری پیاری بہنا۔۔۔
کیف نے لہجے میں محبت سموئے پوچھا۔
ٹھیک ہوں کیف تم کیسے ہو۔
کیسا ہو سکتا ہے تمہارا بھائی ایک دم فرسٹ کلاس تو نہیں سیکنڈ کلاس ٹھیک ہے۔
وہ کیا ہے ناں کہ ادھر بھی موسم چینج ہو رہا ہے زکام ہو رہا ہے مجھے تو۔
خیر یہ بتاؤ والد محترم کہاں ہیں۔
کیف نے اپنا اور موسم کا حال بتاتے ہوئے پوچھا۔
اپنے کمرے میں ہیں انہی کے پاس جا رہی ہوں۔
سماہر لیپ ٹاپ لئے حیات صاحب کے کمرے میں آگئی۔
کیسا ہے میرا شیر پتر۔۔۔
حیات صاحب اسکا حال چال پوچھنے کے بعد ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے۔
آج ایش کے ساتھ ہی رہا سارا دن۔۔۔
ابھی بھی میرے ساتھ تھا کچھ دیر پہلے ہی گیا ہے ورنہ میں اسکی آپ سے بات کروا ہی دیتا آج۔ایش کیف کا دوست تھا بلکہ بہترین دوست کہنا ٹھیک ہے۔
کیف کی ہر بات میں اسکا ذکر ہوتا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ایش اسکا دوست نہیں بلکہ کوئی گرل فرینڈ ہو یا بیٹر ہاف۔
حیات صاحب نے کبھی ایش سے وڈیو کال پے بات نا کی ہاں جب کبھی وہ کیف کے ساتھ ہوتا اور کیف موبائل فون پے بات کر رہا ہوتا تو حیات صاحب سے اسکی بھی بات کروا دیتا۔
ایش کسی سے بھی زیادہ گھلتا ملتا نہیں تھا حیات صاحب سے بھی بس سلام اور حال چال تک ہی بات کرتا اور پھر واپس موبائل کیف کے ہاتھ میں ہی تھما دیتا۔
سماہر کو کیف کی ہر بات سے نکلتا ایش کا ذکر بہت برا لگتا وہ اکثر کہہ بھی دیتی کیف تم اپنے دوست کے ذکر کو صرف اپنے تک ہی محدود کیوں نہیں رکھتے۔
کیف اس کی بات پر ہمیشہ ہنس دیا کرتا اور کہتا تم تو جانتی ہی ہو کہ میں نے زندگی میں کبھی بھی دوست نہیں بنائے ایش میری زندگی میں آنے والا وہ واحد شخص ہے جو نا صرف میرا بہت اچھا دوست ہے بلکہ بھائیوں سے بھی بھر کر ہے۔
