Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dhal Chuki Shab e Hijar (Episode 10)

Dhal Chuki Shab e Hijar by Esha Gul

ارے بس بس روکو یہیں۔

سماہر نے بولنے کے ساتھ ہاتھ ہلاتے ہوئے گاڑی روکنے کو کہا تو ارش نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی۔

اب کیا پرابلم ہے لڑکی۔

ارش نے بیزاری سے اسے دیکھا۔

سواۓ ایک بک کے تم نے کچھ خرید کر نہیں دیا تو اب کم از کم اچھا سا کھانا ہی کھلا دو بہت بھوک لگ رہی ہے۔

سماہر نے گاڑی کے شیشے سے باہر ریسٹورنٹ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔بھوک اسے واقعی میں لگی ہوئی تھی۔۔۔

خیر بھوک تو ارش کو بھی لگی ہوئی تھی۔

ٹھیک ہے مگر اس ریسٹورنٹ سے نہیں۔

ارش نے مانتے ہوئے کہا۔

کیوں یہاں سے کیوں نہیں۔

بس میں کہہ رہا ہوں ناں یہاں سے نہیں کہیں اور چلتے ہیں۔

ارش نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔

مگر یہاں کیا پرابلم ہے۔

سماہر کو سمجھ نا آئی ارش کیوں انکار کر رہا ہے۔

کیوں کہ یہاں کا کھانا مجھے پسند نہیں۔

ارش نے ناپسندیدگی سے کہا۔

مگر مجھے تو پسند ہے میں پہلے بھی یہاں آچکی ہوں۔

اس سے پہلے کہ ارش دوبارہ منع کر کے گاڑی بھگا لے جاتا سماہر نے جلدی سے گاڑی سے باہر نکلتے ہوئے بتایا۔

اور ارش کو آنکھوں ہی آنکھوں میں باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔

ناچار ارش کو باہر نکلنا ہی پڑا۔

۔*******************

ارش کیا اب ایسے ہی منہ اٹھا کر بیٹھے رہنا ہے کچھ آرڈر نہیں کرنا کیا۔

سماہر بیٹھ بیٹھ کر تنگ آچکی تھی۔

کوئی ویٹر آس پاس دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔

لگتا ہے خود ہی جا کے آرڈر دینا پڑے گا بتائیے محترمہ کیا لیں گیں آپ۔

ارش نے ویٹر کے سے انداز میں سماہر سے آرڈر لیا اور پھر کاؤنٹر کی طرف چل دیا۔۔۔

اہم اہم کیسے مزاج ہیں مس حسینہ۔۔۔سماہر جو ارد گرد کا جائزہ لے رہی تھی اس آواز پر چونکی۔

کوئی چپکے سے اس کے ساتھ والی چیئر پر آبیٹھا تھا۔

کون ہو تم۔

سماہر نے ناپسندیدگی سے اس شخص کو دیکھا جو شکل سے ہی بہت گھٹیا قسم کا لگ رہا تھا۔

میں اس شخص کا سوتیلا بھائی ہوں جس پے تم کچھ دیر پہلے بک شاپ میں روب جھاڑ رہی تھی۔

نام ہے میرا نبیل۔

ویسے مسٹر ارش لغاری بھی کسی کے روب میں آجاتا ہے یہ مجھے آج معلوم ہوا اور وہ بھی کسی لڑکی کے۔۔انٹرسٹنگ۔۔۔

اوہ ہیلو مسٹر تم چاہے اس کے بھائی ہو یا دشمن مجھے اس سے کوئی مطلب نہیں بہتر ہے کہ تم چلتے بنو یہاں سے۔

سماہر کا اسکا تعارف جان کر حلق تک کڑوا ہوگیا۔

خود غرض اور لالچی باپ کا خبیث بیٹا۔سماہر بڑبڑائی۔

تم جانتی ہو کہ تم کسے یہاں سے چلتا بننے کا کہہ رہی ہو۔اب کے وہ شخص ذرا غصے سے بولا۔

سماہر نے اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے سامنے سے آتے ارش کو دیکھا اور اٹھنے لگی۔

مگر اس شخص نے اسکا بازو پکڑ لیا اور اپنی طرف کھینچا۔

سماہر جو اٹھ رہی تھی ایک دم سے واپس چیئر پر گری۔

یہ کیا بدتمیزی ہے۔

سماہر بیحد غصے سے چلائی۔

مجھے امیر لڑکیوں سے دوستی کرنے کا شوق ہے۔

اس نے خباثت سے کہتے ہوئے سماہر کا دوسرا بازو بھی پکڑنا چاہا مگر اس کے بڑھتے ہاتھ کو ارش نے پکڑ کر زور سے پڑے جھٹکا۔

ایسی غلطی دوبارہ مت کرنا۔

ارش نے اسے خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے انگلی اٹھا کر جیسے وارن کیا۔

اوہ دھمکی دے رہے ہو میں تو ڈر گیا ارش بھیا نبیل نے ڈرنے کی ایکٹینگ کرتے ہوئے کہا۔

اور پھر ایک دم سے ٹیون چینج کرتا ہوا بولا۔

ایسی غطی تو میں بار بار ہی کروں گا کیا کر لو گے تم۔

سماہر اٹھ کھڑی ہوئی اور ارش کے ساتھ جا کھڑی ہوئی۔

ارش چلو یہاں سے۔

سماہر نے کہا مگر ارش نے جیسے سنا ہی نہیں۔

یہ تو میں تمہارے غلطی کرنے پر ہی بتاؤں گا کہ میں کیا کر سکتا ہوں اور کیا نہیں۔

اگر ہمت ہے تو پاس بھی آکر دکھاؤ تم سماہر کے۔

ارش نے جیسے اسے چیلنج کیا۔

اوہ ریلی۔۔۔نبیل کو یہ سب بہت انٹرسٹنگ لگا۔

وہ سماہر کی طرف دیکھتا اس کے پاس بڑھا۔

کافی خوبصورت ہو تم تب ہی تو لوگ راستے ہے ڈٹ کھڑے ہیں۔

نبیل نے یہ کہتے ہوئے سماہر کا ہاتھ تھامنا چاہا مگر ارش کا پاڑا ایک دم ہائی ہوا اس نے آؤ دیکھا نا تاؤ اور آگے بڑھ کر نبیل کو گریبان سے تھام لیا۔

بہت ہوگیا ہاں تیرا زیادہ اپنی خباثت دکھانے کی کوشش کی ناں تو یاد رکھنا مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔

تجھ سے برا تو کوئی ہے بھی نہیں میرے بھائی کیوں کہ میرے مطلب کی لڑکی کو تو تو نے پھسا رکھا ہے۔

نبیل نے کسی بھی قسم کے دباؤ میں آئے بغیر ارش کے ہاتھ اپنے گریبان سے جھٹکتے ہوئے کہا تو اس بات پر ارش کا خون ہی کھول اٹھا۔

سماہر کے لئے ایسے لفظ اس کے لئے ناقابل برداشت تھے۔

اس سے پہلے کہ ارش کا اٹھا ہوا ہاتھ نبیل کے ایک دو دانت غائب کرتا سماہر نے جلدی سے ارش کا ہاتھ تھام لیا۔

ارش پلیز چلو یہاں سے۔ارش میں کہہ رہی ہوں چلو یہاں سے سب دیکھ رہے ہیں مجھے اپنا مزید تماشا نہیں بنوانا۔

سماہر اب کہ قدرے اونچا بولی تو ارش آنکھوں ہی آنکھوں میں نبیل کو وارننگ دیتا سماہر کا ہاتھ پکڑے ہوا کے گھوڑے کی طرح فوراً سے پہلے ریسٹورنٹ سے نکل گیا۔

۔*******************

اجیا ارش کے کمرے میں کھڑی سائیڈ ٹیبل پر سجی ارش کی تصویر کو ہاتھ میں لئے بہت محبت سے تک رہی تھی۔

نجانے کب سے ارش اس کے دل میں رچ بس سا گیا تھا۔اسکی زندگی میں دو ہی لوگ تھے جو اسکی زندگی تھے ایک زمر بیگم اور دوسرا ارش۔

کبھی کبھی اجیا کو ایسا لگتا کہ کہیں یہ ان دونوں کو کھو نا دے۔جتنی محبت وہ دونوں اسے دیتے تھے شائد اس کے ماما باپ زندہ ہوتے تو وہ بھی اتنی محبت نا کر سکتے۔

اجیا نے محبت سے ارش کی تصویر پر ہاتھ پھیرا اور مسکرا دی۔

اس بات سے انجان کہ دروازے پر کھڑی زمر بیگم بھی نجانے کب سے اسے تک رہی ہیں اور وہ اسکے دل کے حال سے ناواقف نہیں ہیں۔

اجیا کیا بات ہے ابھی تک تم نے کھانا نہیں کھایا۔

زمر بیگم کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولیں۔

اجیا نے جلدی سے فریم سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور بولی۔

گندہ ہوگیا تھا سوچا صاف کر دوں۔

اجیا نے دوپٹے سے فریم کو وہی پڑے پڑے صاف کیا۔

زمر بیگم اجیا کی اس حالت پر ہنس دیں اور بولیں۔

میری بچی کیا تمہیں مجھ سے بھی کچھ چھپانے کی ضرورت ہے۔بلکہ تم نے سوچا بھی کیسے کہ تم مجھ سے کچھ چھپا سکتی ہو۔میں تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں میری جان۔

زمر بیگم نے اسکی تھوری چھوتے ہوئے کہا تو وہ شرما کر منہ پھیر گئی۔ویسے میری بات کا جواب کیوں نہیں دیا تم نے کھانا کیوں نہیں کھایا ابھی تک۔

دیکھو اجیا ارش تو اب آئے روز ہی یونی سے دیر سے آتا ہے تم اس کا انتظار مت کیا کرو اور کھانا کھا لیا کرو۔

جی ماما میں بس کچن میں ہی جانے والی تھی۔اجیا انکی بات پر سر ہلاتی کمرے سے نکل گئی۔

_________

ارش پلیز گاڑی آہستہ چلاؤ۔تم اسکا غصہ ہم دونوں کی جان لے کر نکالو گے کیا۔

سماہر نے اسے تیز اور لاپروائی سے ڈرائیونگ کرتے گھبرا کر کہا۔

تم دو منٹ کے لئے چپ نہیں کر سکتی سماہر۔

ارش نے اسکی طرف دیکھے بغیر کاٹ کھانے والے لہجے میں کہا۔

“کر سکتی ہوں”

سماہر دھیرے سے کہتی چپ ہوگئی۔

ارش تم نے اگر سپیڈ سلو نا کی ناں تو میں چلتی گاڑی سے کود جاؤں گی۔

سماہر واقعی میں بس دو منٹ ہی چپ رہ سکی۔

ارش نے گاڑی کی سپیڈ سلو کی اور سماہر کی طرف دیکھتے ہوئے حکمانا انداز میں بولا۔

“کودو”

ہاں کیا۔۔سماہر حیران ہوتی اتنا ہی بول سکی۔

میں نے کہا کودو۔۔ارش کا وہی انداز تھا۔

ارش جو کچھ بھی ہوا تم کیا اسے بھول نہیں سکتے پہلے کی طرح نارمل نہیں ہو سکتے کیا۔سماہر نے تھکے سے لہجے میں کہا۔

نہیں بھول سکتا سماہر۔

ارش نے ایک ہی جھٹکے سے گاڑی روکی اور سماہر کو بازو سے تھامتے ہوئے بولا۔

اس گھٹیا انسان نے اتنا کچھ کہا تمہارے بارے میں اور تم کہہ رہی ہو کہ میں نارمل ہو جاؤں۔

کوئی تمہیں جب جی چاہے چھونے لگے گا اور میں کھڑا دیکھتا رہوں گا برداشت کرتا رہوں گا۔

نہیں سماہر نہیں۔۔۔کوئی تمہیں چھوئے حتہ کہ تم پر بری نظر بھی رکھے تو میں ہرگز برداشت نہیں کر پاؤں گا۔

میں اس اسکا منہ توڑ سکتا تھا کیوں کہ یہ میرے بس میں تھا۔اگر تم مجھے نہیں روکتی تو میں ایسا کر چکا ہوتا۔

سماہر میں تمہیں نہیں بتا سکتا کہ تم میرے لئے کیا ہو۔

آخر میں ارش نے سر جھکاتے ہوئے دھیرے سے کہا۔

سماہر تو جیسے ارش کے کہے لفظوں میں کھو سی گئی۔

کاش یہ مجھے بتا دے کہ کیا ہوں میں اس کے لئے۔

سماہر نے دل میں سوچا۔

مگر جب بولی تو اتنا۔

تو اس لئے تم اس ریسٹورنٹ میں جانے سے انکار کر رہے تھے۔

ہاں سماہر کیوں کہ وہ ریسٹورنٹ اس شخص کا ہے جیسے میں کبھی اپنا باپ سمجھا کرتا تھا۔

اسکا بیٹا یہ ریسٹورنٹ چلاتا ہے مجھے انکی شکلیں دیکھنا بھی گوارا نہیں مگر صرف تمہاری خاطر چلا گیا۔

ارش نے بتایا۔ایم سوری ارش مجھے معلوم ہوتا تو میں کبھی ضد نا کرتی وہاں جانے کی۔

سماہر نے سوری کیا۔یہی تو سماہر کہ تمہیں معلوم ہی نہیں تھا اس لئے تم سوری بھی مت کہو کیوں کہ ہم دوست ہیں۔۔

ارش نے اسے کچھ یاد دلایا تو سماہر بولی۔

بس دوست۔۔۔؟؟

ان الفاظ پر ارش نے سماہر کی آنکھوں میں جھانکا اور بولا۔

تم صرف میری دوست ہی نہیں بلکہ میری سومو بھی ہو۔۔

یہ سومو کچھ عجیب نام نہیں ہے ارش۔۔۔سماہر نے پوچھا۔

بلکل نہیں میں تمہیں اب پیار سے سومو ہی کہا کروں گا۔

ارش نے اسے آگاہ کیا۔

تم مجھے پیار سے سیم بھی تو کہہ سکتے ہو سومو کہنا ضروری ہے کیا۔

سیم کچھ لڑکوں کا سا نام لگتا ہے ویسے بھی سومو کچھ ڈفرنٹ ہے مگر جو بھی ہے مجھے تمہیں سومو کہنا اچھا لگتا ہے۔۔۔

میری سومو۔۔۔ارش کو لگا کہ سماہر اس نام سے چڑ رہی ہے اسی لئے بولا اور پھر گاڑی سٹارٹ کر دی۔

آج تو کافی لیٹ ہوگیا ہوں سماہر لیکن کل تمہیں کسی اچھے سے ریسٹورنٹ سے لنچ کرواؤں گا۔آج کے لئے سوری۔

کوئی بات نہیں ارش اب تو میری بھوک بھی مر گئی۔

سماہر کا واقعی میں کچھ کھانے کا موڈ نہیں تھا۔

ہاں مگر وقت کی بچت کے لئے میں تمہیں گاڑی میں ہی آئس کریم ضرور کھلا سکتا ہوں اگر تم چاہو تو۔

ارش نے آفر کی۔

نیکی اور پوچھ پوچھ۔

سماہر ایک دم خوشی سے بولی تو سماہر کے چہرے پر آئی یہ خوشی دیکھ کر ارش کا موڈ بھی قدرے بہتر ہوگیا۔

۔”****************

صفورا آج صبح صبح ہی آگئی تھی۔

صفورا خیریت تم آج اتنی صبح آگئی۔

یونیورسٹی کے لئے تیار ہوتی سماہر نے اسے اپنے کمرے کے دروازے پر دیکھا تو پوچھ بیٹھی۔

وہ سماہر بی ہی اماں کے ساتھ گاؤں جانا ہے کچھ دیر تک سوچا چھٹی کیا کرنی جلدی آکر صفائی کر جاؤ۔

صفورا جواب دیتی اس کے کمرے کی ڈسٹنگ کرنے لگی۔

سماہر تیار ہو کر نیچے چلی آئی۔

کیف بھی یونیورسٹی کے لئے تیار ہو چکا تھا اور اب ناشتے کے انتظار میں بیٹھا تھا۔

سماہر نے جلدی سے ناشتہ تیار کیا اور کیف کے ساتھ بیٹھ کر کھانے لگی۔

صفورا اب کچن کی صفائی کر رہی تھی تب ہی اسکا ہاتھ لگنے سے کاؤنٹر پر پڑا شیشے کا گلاس زمین بوس ہوگیا۔

ارے کیا توڑ دیا صفورا۔

سماہر نے وہی بیٹھے بیٹھے آواز لگائی۔

وہ بی بی جی گلاس ٹوٹ گیا۔

صفورا نے جواب دیا۔ویسے سماہر یہ لڑکی جب تک کوئی چیز توڑ نا دے تب تک اسے شائد صفائی کرنے کا مزہ نہیں آتا۔

کیف نے سماہر کے کان کے قریب ہوتے ہوئے کہا تو سماہر مسکرا دی۔مجھے بھی کچھ ایسا ہی لگتا ہے۔

سماہر نے اسی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ناشتے کے برتن اٹھاۓ اور کچن میں چلی آئی۔

مگر صفورا کچن کے فرش پر سرف پھینکے ہوئے تھی۔

سماہر کا پاؤں سرف والے پانی پر سے پھسلا اور وہ دھرم سے فرش پر جا گری۔

فرش پر گرے کانچ کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکرا جنہیں صفورا صاف کر رہی تھی سماہر کے دائیں ہاتھ میں گھس گیا۔

ہاتھ میں موجود برتن زمین کا دیدار کر رہے تھے۔

آہ۔۔۔درد بھری آہ منہ سے نکلی۔

کیا ہوا سماہر۔کیف بھاگتا ہوا کچن میں آیا۔

صفورا بھی جلدی سے سب چھوڑ چھاڑ کر اس کے پا بیٹھ گئی۔

کیف نے اسکے ہاتھ سے بہتے خون کو دیکھا تو اسکا ہاتھ پکڑ لیا۔

اوہو سماہر تمہارے ہاتھ میں تو کانچ چبھ گیا ہے۔

کیف ایک دم سے پریشان سا ہوگیا۔

اب دیکھ کیا رہے ہو کانچ کو نکالو تو سہی۔

سماہر سے ماس میں گھسا کانچ دیکھا نہیں جا رہا تھا۔

نکال رہا ہوں بس تم ہاتھ ایک جگہ ٹکا کر رکھو۔

کیف نے سماہر کو کلائی سے پکڑا اور پھر ایک ہی جھٹکے میں کانچ کو باہر کھینچ لیا۔

بابا۔۔۔بے اختیار سماہر کے منہ سے نکلا۔

اف بابا کو کیوں آواز دے رہی ہو لڑکی انہوں نے اگر تمہارے ہاتھ سے بہتا خون دیکھ لیا ناں تو آج ساری رات انھیں نیند نہیں آئے گی۔

کیف نے اسے چپ کروایا۔

کانچ نکالنے کے بعد اسکے ہاتھ پر کپڑا باندھا اور بولا۔اٹھو یونیورسٹی جانے سے پہلے تمہیں ڈاکٹر سے بینڈیج کرا دوں۔

سماہر کے کپڑے بھی کچھ گیلے ہو چکے تھے۔

کیف نے اسے کہتے ہوئے خود ہی بازو سے پکڑ کر اٹھایا اسے چادر دی جو اسکے کپڑوں کو چھپا گئی اور گاڑی میں آبیٹھا۔

۔*******************

تمہارے ہاتھ پے کیا ہوا سیم۔

امل اور ردا نے ایک ساتھ پوچھا۔

کانچ لگ گیا۔

اوہ یعنی تم آج کا ٹیسٹ نہیں دے پاؤ گی پھر تو۔

امل نے افسوس سے کہا۔

حد ہے امل اسکی چوٹ کا پوچھنے کی بجاۓ تمہیں اس کے ٹیسٹ کی پڑی ہے۔

سماہر زیادہ گہرا زخم تو نہیں۔۔؟

ردا نے امل کو ڈانٹتے ہوئے پھر سماہر سے فکر مندی سے پوچھا۔

نہیں زیادہ نہیں ہے مگر لکھ نہیں پاؤں گی۔

زخم گہرا تھا مگر سماہر نے جھوٹ بولا۔

سماہر یہ تمہارے ہاتھ کو کیا ہوا۔

ارش نے کلاس میں آتے ہی پوچھا۔

سماہر امل اور ردا کو چھوڑ کر اسکی طرف چلی آئی۔

کچھ خاص نہیں بس ذرا سا کانچ چبھ گیا۔

سماہر نے بظاہر لاپروائی سے کہا مگر سچ تو یہ تھا کہ اسے بہت درد ہو رہا تھا۔

یہ ذرا سا کانچ تو نہیں لگ رہا سومو۔

ارش نے فکر مندی سے اسکی کلائی تھامتے ہوئے کہا۔

کیوں کہ بینڈیج نے اسکے پورے ہاتھ کو چھپا رکھا تھا۔

سماہر کو اسکا خود کے لئے اس طرح فکر کرنا اچھا لگا مگر وہ اسے زیادہ فکرمند بھی نہیں کرنا چاہتی تھی اس لئے بولی۔

ہوتے ہیں کچھ ایسے بھی ڈاکٹر جنہیں ڈھنگ سے بینڈیج کرنی بھی نہیں آتی۔

“ہاں بلکل ہوتے ہیں کچھ ایسے لوگ بھی جنہیں ڈھنگ سے بات بنانی بھی نہیں آتی۔

ارش نے بھی اسی کہ انداز میں کہا تو سماہر غصے سے بولی۔

ہاں ذرا سا تو واقعی میں نہیں چبھا پورا گھنٹہ لگا کانچ نکالنے میں۔اب تم پہلے سے بھی بڑا جھوٹ بول رہی ہو سماہر۔

ارش نے سینے پر ہاتھ باندھتے ہوئے اسے جانچتی نظروں سے دیکھا۔سماہر نے کوئی جواب نا دیا۔

زیادہ درد ہے ہاتھ میں۔ارش اسکے چہرے سے اس کے درد کا اندازہ لگا سکتا تھا اسی لئے بے حد نرم لہجے میں پوچھا۔

اس بار سماہر نے بغیر کوئی جھوٹ بولے خاموشی سے ہاں میں سر ہلا دیا۔ارش نے اسکا ہاتھ پکڑا اور بولا۔

سماہر میرے پاس کوئی میجک تو نہیں جس سے میں تمہارا درد ختم کر دیتا مگر ہاں میں تمہارے لئے دعا ضرور کرونگا کہ تمہارا درد جلد از جلد ختم ہو جاۓ۔

اہم اہم یہ کلاس روم ہے ارش صاحب۔

امل نے جان بوجھ کر اینٹری ماری۔جانتا ہوں محترمہ املی۔

ارش نے اسے چڑایا جانتا تھا کہ وہ غصہ کر کہ واپس چلی جاۓ گئی اور ہوا بھی ایسا ہی۔

میرا نام امل ہے اوکے اگلی بات املی بولنے سے پہلے ایک سوچ ضرور لینا۔

امل اسے وارن کرتی اپنی سیٹ پر واپس چلی گئی۔

سماہر ٹیسٹ تو دے نہیں سکتی تھی اسی لئے چپ چاپ کلاس سے نکل آئی۔

ارش جس نے اس سے بات کرنے کے لئے امل کو بھگایا وہ خود باہر چلی گئی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *