105.5K
6

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode 6

ارمائز کی آنکھ اُسکے موبائل کی بپ پر کُھلی تھی وہ اُٹھ کر پہلے موبائل کی طرف متوجہ ہوا جہاں اُس کے دوستوں کے شرارت بھرے میسج اور کالز تھیں وہ اُن کو پڑھتا ہوا مُسکرا اُٹھا پھر نظریں اُٹھائیں تو واش روم سے نکلتی امروش پر ساکت ہوئیں جو خود بھی اسے جاگتے پا کر شرم سے سر جُھکا گئی تھی۔ارمائز نے گہری نگاہوں سے سر سے لے کر پاؤں تک دیکھا جو پنک سُوٹ میں بالوں کو ٹاون میں لپیٹے نکھری نکھری اس کے نگاہ و دست کے بہکے انداز محسوس کرتے ہوئے امروش کا چہرہ تمتا گیا۔
“نئی زندگی کی پہلی صُبح مُبارک مسز ارمائز آفندی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُٹھ کر اسکے قریب آیا اور اسکے بال ٹاول سے آزاد کر دئیے جو کُچھ اسکے چہرے اور پشت پر پھیل گئے جن کو ارمائز نے نرمی سے چہرے سے ہٹایا اور پھر گیلے اور نم نم بالوں میں اپنا مُنہ چُھپا کر اُنکی خُوشبو اپنے اندر اُتارنے لگا۔
“ارمائز نا۔ناشتے کا ٹائم ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی جان لیوا قربت سے گھبرا اُٹھی۔
“چلتے ہیں یار،پہلے زرا ایک دوسرے کو تو ٹائم دیں لے۔۔۔۔۔۔”وہ اسکے کان کو لو کو چُوم گیا۔
“مُجھے نہیں پتہ تھا کہ تُمہاری قربت اتنی میٹھی اور نشہ آور ہے کہ ابھی تک بن پیئے بہک رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔
“ارمائز،امروش۔۔۔۔۔۔۔۔”تبھی دروازے پر دستک ہوئی تھی اور ساتھ انفال بیگم کی آواز گونجی تو امروش جلدی سے پرے ہوئی۔
“اُف ماما کب سے ظالم سماج بن گئیں۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز بد مزہ ہوا تھا۔امروش اُس کے تاثرات دیکھتی مُسکرا دی۔
“ہس لو تُم،تُمہیں تو بعد میں بتاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے گھورتا ہوا واش روم میں گُھس گیا۔امروش مُسکراتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی جہاں انفال بیگم بھی اسکے مُسکراتے اور کھلے کھلے چہرے کی طرف دیکھ کر مُسکرا دیں۔
____________________
اور پھر ارمائز کے ساتھ گُزرتا ہر دن نہ صرف امروش کا ہر وہم دور کر گیا تھا بلکہ وہ اپنے بدلتے احساسات پر بھی حیران ہوتی جا رہی تھی کہ اب ارمائز کے بنا اُسکا بھی ایک پل نہیں گُزر رہا تھا اور اُسکا دل اُسکے اختیار سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔
“کہاں جا رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ارمائز کی چائے لے کر اُسکے کمرے میں آئی تو اُسے پکینگ کرتے دیکھ کر چونکی۔
“ایک ضروری میٹینگ ہے،دو دن کے لئے لندن جا رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے اُس کے ہاتھ سے چائے پکڑ کر ٹیبل پر رکھی۔
“پر یوں اچانک۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا دل گُم صُم ہوا تھا اسکے جانے کا سُن کر۔
“ہاں بس اچانک ہی اُس کمپنی سے ڈیلنگ ہوئی ہے اس لئے جانا ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے اس کی لٹکتی صُورت دیکھی تو مُسکرا دیا اور اسے اپنے ساتھ لگا کر خُود میں بھینچ لیا۔
“یقین نہیں آتا یہ وہی لڑکی ہے جو آج سے دو ہفتے پہلے مجھے کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی کہ میں نے کیوں نکاح کیا اس سے اور آج صرف دو دن کی دُوری کا سن کر مُنہ بنا رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں تو اس میں بھی قصور آپکا ہوا نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میرا قصور وہ کیسے میم۔۔۔۔……”
“کس نے کہا تھا کہ دو ہفتوں میں اتنا پیار دیں کہ دو پل کی دُوری برداشت کرنا بھی عذاب لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش کی بات پر وہ مُسکرایا۔
“اور تُم سے کس نے کہا تھا کہ مُجھے اپنی قربت میں یوں مدہوش کرو کہ تُمہیں خُود سے ایک پل بھی دور کرنا میری برداشت سے باہر ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکے لبوں کو اپنی اُنگلی سے سہلانے لگا تو اسکے لہجے اور نظر کی گرمی سے جلتا چہرہ جُھکا گئی۔
“بس دو دن کی بات ہے پھر آ کر ہنی مون کا پلان کرتے ہیں تا کہ یہ جو ہر صُبح جلدی اُٹھنا پڑتا ہے مُجھے آفس جانا پڑتا ہے اور تُمہیں کچن کو ٹائم دینا پڑتا ہے ان چیزوں سے تو کُچھ دن جان چھوٹ جائے گی،سچ میں یار میں اپنے اور تُمہارے درمیان ان حسین ذُلفوں کو بھی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکے بالوں کو اسکے چہرے سے ہٹا کر اُسکی روشن پیشانی پر بوسہ دے گیا۔
“آپکی چائے تو ٹھنڈی ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش نے اُس طرف توجہ دلائی۔
“پاگل کر رہی ہو مُجھے تم کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کی بے بسی پر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
“چائے تو ٹھنڈی اب ہو ہی چُکی ہے سو اب اسے پینے کا کوئی فائدہ نہیں تو کیوں نہ اب اُس جام کو پیا جائے جو کُچھ دیر گرم تو رکھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کی معنی خیزی پر وہ لال سُرخ ہوتی پیچھے کی طرف سرکنے لگی مگر ارمائز آنکھوں میں چاہت کا پیغام لئے اُسکی طرف بڑھتا اسے اپنے قابو میں کر گیا۔
__________________
“ارمائز کیسے بتاؤں آپکو کہ میرا اب آپ کے بنا ایک پل بھی جینا دشوار ہو گیا ہے،یہ دو دن بہت بھاڑی تھے مُجھ پر،بس اب جلدی سے آ جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش اُسکی تصویر کو سینے سے لگائے بولی۔تبھی اُس کے کانوں میں ارمائز کی آواز گونجی تو وہ خوشگوار حیرت سے مُسکراتی باہر کی جانب بھاگی اُس کے قدم ارمائز کی طرف دیکھ کر بڑھنے لگے جو ہال میں داخل ہو رہا تھا مگر اُس کے پیچھے آتے شائز اور ثمر کو دیکھ کر نہ صرف اسکے قدم رُکے تھے بلکہ وہ خود بھی ساکن ہوئی تھی اور ششدر سی انفال بیگم کے گلے لگتے شائز کو دیکھ رہی تھی تبھی ارمائز کی نگاہ اس پر پڑی تھی تو وہ اُسکی جانب لپکا جو سر نفی میں ہلاتی اپنے کمرے میں بھاگ آئی اور اس سے پہلے کہ دروازہ بند کرتی ارمائز نے روک دیا۔
“امروش،میری بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں سُننی آپکی کوئی بات مُجھے،چلیں جائیں یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آنکھوں میں آنسو لئے چیخ اُٹھی۔
“دیکھو آئی نو کہ تُمہیں بُرا لگا بٹ ایک دفعہ میری بات سُنو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکے ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا جو اُس نے ایک جھٹکے سے چھڑوائے۔
“کیا سُنوں میں آپ نے دھوکہ دیا مُجھے،جس انسان نے مُجھے اتنی تکلیف پہنچائی آپ ایسے کیسے اُسے میرے گھر لا سکتے ہیں وہ بھی بنا مُجھ سے پوچھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آئی نو مُجھے تُم سے بات کرنی چاہئے تھی پر ایک دفعہ سکون سے بیٹھ کر میری بات تو سُن لو تُم میں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا سُنوں میں یہی سب کہ آپ نے مُجھ سے شادی کی تا کہ آپ اپنے بھائی کو واپس گھر میں لا سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بدگمانی کی راہ پر چلنے لگی
“ایسی بات نہیں تم کیوں کہہ رہی ہو ایسا۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ایسی ہی بات ہے ارمائز یہ جانتے بوجھتے بھی کہ وہ انسان قاتل ہے میرے احساسات کا میرے جذبات کا،کس قدر تکلیف دی اُس انسان نے پھر بھی آپ اُسے لینے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں کیونکہ میرے خیال میں جب ہم اپنی لائف میں خُوش ہیں تو بھائی کو کس بات کی سزا ملنی چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کی بات پر وہ طنزً مُسکرائی۔
“اوہ تو یہ پلان تھا تُمہارا ارمائز کہ مُجھ سے شادی کر کے مُجھے اپنا عادی بنا کر پھر سب اچھا ہے کا بورڈ لگا کر اپنے بھائی کو واپس لانا کہ امروش کُچھ کہہ بھی نہ سکے اور معاف کر دے اُس انسان کو جس نے میری تذلیل کی،واہ بہت خُوب بہت اچھا کھیلے تم میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“پاگل تو نہیں ہو گئی تُم کیا بکواس کر رہی ہو امروش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پاگل تو پہلے تھی جو تُمہاری باتوں میں آ گئی ارمائز آفندی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تمیز سے بات کرو امروش،تُم اس وقت بدگُمانی اور غُصے کی نظر سے سب دیکھ رہی ہو اگر ٹھنڈے دماغ سے سوچو تو تم بھی میرے اس قدم پر میرا ساتھ دیتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“دیا تو ہے تمہارا ساتھ ارمائز تمہاری جھوٹی محبت کے بہکاوے میں آ کر تُمہیں اپنا آپ سونپ کر پر مُجھے نہیں پتہ تھا تُم اس طرح میرے پیٹ پیچھے وار کرو گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی آنکھوں سے آنسو رواں ہوئے تھے جو کہ ارمائز کو اپنے دل پر گرتے محسوس ہوئے تھے وہ اُسے تھام کر اپنے ساتھ لگا گیا مگر وہ ایک جھٹکے سے اس سے دُور ہوئی تھی اور جا کر ڈریسنگ روم میں بند ہو گئی ارمائز بے بسی سے سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا کہ ایک طرف انفال بیگم تھیں جو دن رات شائز کو یاد کرکے روتی تھیں اور ثقلین آفندی بھی اس شرط پر رضا مند ہوئے تھے کہ اگر امروش معاف کر دے تو شائز اس گھر میں رہ سکتا اور اُسکی بیوی کو قبول کیا جائے گا۔
____________________
“تُمہیں پہلے اُسے اپنے اعتماد میں لینا چاہیے تھا ارمائز،اُسے شائز کے واپس آنے سے زیادہ اس چیز کا صدمہ ہے کہ تُم نے بنا پوچھے اور بتائے اُسے یہ سب کیا،اُسکا مان ٹوٹا ہے بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انفال بیگم کی بات پر وہ سر ہلا گیا۔
“جی ماما یہی غلطی ہوئی مُجھ سے،مُجھے لگا شاید پہلے بتانے پر وہ ناراض ہو گی تو واپسی پہ اُسے اعتماد میں لے کر سب کلیئر کر دونگا مگر وہ تو کوئی بات سُننے کے مُوڈ میں ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز بھی اُس کے یوں کمرے میں بند ہونے سے پریشان ہو چلا تھا جو کہ ڈنر کئے بغیر ہی کمرے میں بند تھی۔
“مُجھ سے تُمہارے پاپا بھی پوچھ رہے تھے امروش کا میں نے جھوٹ بول دیا کہ اُسکی طبعیت نہیں ٹھیک اس لئے ڈنر کرنے بھی نہیں آئی ورنہ تم جانتے ہو کہ تُمہارے پاپا کی شرط کہ امروش کے کہنے پر شائز اور رابیل کو اس گھر میں رکھا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُنکے لہجے میں بھی فکرمندی جھلک رہی تھی۔
“ڈونٹ وری ماما سب ٹھیک ہو جائے گا،آپ یہ بتائیں آپکو اپنی بڑی بہو کیسی لگی۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُنکا دھیان بٹانے لگا
“ہاں بہت اچھی لگی،سب سے خاص بات کہ شائز خُوش ہے اُسکے ساتھ پر جو بھی ہے پیاری مجھے اپنی چھوٹی بہو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ تو بہت غلط بات ہے ماما،آپ کو پتہ نہیں آپکی چھوٹی بہو پہلے ہی اتنے نکھرے کر رہی ہےکہ میرے ہاتھ ہی نہیں آ رہی اُوپر سے آپ اُسے پیاری کہہ رہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شرارتی مُسکان لئے بولا انفال بیگم نے مُسکرا کر اُس کے کان کھینچے ۔
“شریر کہیں کہ،پیاری تو تُمہیں بھی بہت لگتی ہے وہ اس لئے تو اُس نے ڈنر نہیں کیا تو تُم نے بھی ایک نوالہ مُنہ میں نہیں ڈالا کہ مُجھے بُھوک نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا کروں بیچارہ شوہر ہوں،بیوی کے بغیر کھانا کھا کے خطرے میں نہیں پڑنا مُجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جتنے بیچارے ہو پتہ ہے مُجھے،چلو اب اُٹھو یہاں سے،جا کر امروش کو مناؤ اور کھانا بھی کھلاؤ اُسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی ماما ،گُڈ نائٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُن سے کہتا اپنے کمرے میں آیا جہاں امروش کمبل میں مُنہ دئیے لیٹی ہوئی تھی اور وہ یقین سے کہہ سکتا تھا کہ وہ جاگ رہی ہے۔دروازہ بند کرتا وہ بیڈ کی طرف آیا۔
“امروش مُجھے بہت بُھوک لگی پلیز کچن سے کھانا لا دو،بولنا چاہے مت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکے بولنے پر بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوئی وہ سر کھجانے لگا
“ناراضگی مجھ سے ہے کھانے سے تو نہیں نہ دیکھو تُمہارے ساتھ میں بھی بھوکا ہوں اتنے لمبی رات کیسے نکالوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو کھا لینا تھا میں نے نہیں ہاتھ پکڑ کر روکا تھا جہاں اتنے کام بنا میری رضا کے کئیے وہاں یہ بھی کر لیتے تو کوئی فرق نہیں پڑنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جھٹکے سے کمبل پرے کرتی بولی پھر اُسی پوزیشن میں چلی گئی۔ارمائز جو اسے اُٹھتے دیکھ کر مُسکرایا تھا پھر گہرا سانس بھرتا شرٹ اُتار کر صوفے پر رکھی اور بیڈ پر لیٹ گیا۔اسکے لیٹنے سے امروش جو پہلے ہی ایک سائیڈ پر تھی اب تو کنارے پر چلی گئی تھی۔
“دو دن بعد آیا ہوں پھر بھی اتنی دُوری رکھ کے سو رہی ہو،قریب آنے میں کوئی حرج نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے اُسکی پشت کو دیکھتے کہا۔
“اوکے بیوی صاحبہ اب آپکی مرضی نہ صرف بھوکا سُلا رہی ہو بلکہ دو دن کا پیاسہ بھی،بُھوک تو کُچھ نہیں کہے گی پر تُمہاری قربت کی پیاس بہت جان لیوا ثابت ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کی آواز کی گھمبیرتا نے اُسکی دھڑکنوں کی رفتار تیز کر دی اُسکا دل ہمک ہمک کر اُسکی طرف کھینچ رہا تھا مگر وہ دل کو ڈپٹ کر چُپ کروا گئی کہ جو ارمائز نے اُسکا مان توڑا تھا اُس نے اُسے بہت تکلیف پہنچائی تھی کہ وہ اسے اعتماد میں لے کر اگر یہ قدم اُٹھاتا تو وہ اُسکا ساتھ ضرور دیتی مگر ایسے؟اسے تو اپنی توہین لگ رہی تھی۔
____________________
اگلی صُبح انفال بیگم اسے نہ صرف ناشتے کے لئے لینے آئیں تھیں بلکہ اُسکا دل بھی صاف کر گئیں تھیں کہ جب شائز نے اس سے معافی مانگی تھی تو وہ کُھلے دل سے معاف کر گئی بلکہ ثمر کو بھی اچھے سے ملی تھی اور زاتی طور پر بھی وہ اسے اچھی لگی تھی۔
“میرے خیال میں اب شائز اور ثمر کے ریسپشن کا فائنل کر دینا چاہئیے تا کہ سب کو پتہ چلے کہ رابیل شائز کی بیوی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”انفال بیگم نے رابیل کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو ثقلین آفندی نے بھی تائید کی۔
“اوکے آپ سب مل کر فائنل کر لیں کوئی دن میں سب ارینج کروا دونگا ثمر بیٹی کے ماما پاپا سے بھی بات کر لیں تا کہ وہ سب بھی پاکستان آ جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی میں نے بات کی تھی ماما سے،وہ لوگ نیکسٹ ویک آ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”ثمر کی بات پر انفال بیگم کب سے گُم صُم امروش کی طرف متوجہ ہوئیں۔
“امروش بیٹا اب شاپنگ کی ساری زمعہ داری تُم پر ہے کیونکہ مجھ سے تو اب بازار کے چکر نہیں لگتے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی میں اور ثمر جی کر لیں گئیں۔۔۔۔۔”
“یہ ارمائز نہیں نظر آ رہا۔۔۔۔۔۔۔”شائز نے امروش سے پوچھا۔
“میں یہاں ہوں برو۔۔۔۔۔۔۔”تبھی ارمائز لاؤنج میں داخل ہوا۔امروش اُسے دیکھ کر اُٹھ کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ارمائز اُسے جاتا دیکھ کر گہری سانس بھر کر رہ گیا کہ اُسکا غُصہ ہنوز برقرار تھا اور اس نے اب سوچ لیا تھا کہ کس طرح سے اُسکی ناراضگی ختم کرنی ہے اس لئے وہ جب دس منٹ بعد اپنے کمرے میں آیا وہ صوفے پر بیٹھی ہوئی ملی اسے دیکھتے ہی وہ باہر جانے کو لپکی مگر ارمائز اُسکا ارادہ بھانپ کر نہ صرف اُس کی کلائی تھام گیا بلکہ دروازہ بھی بند کر گیا۔
“ایسا کب تک چلے گا امروش،تم جب بھائی کو معاف کر چُکی ہو تو مُجھے کیوں تنگ کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میں آپکو تنگ نہیں کر رہی بلکہ آپ مُجھے کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔”اُس نے اپنی کلائی آزاد کروائی۔
“اور رہا سوال معاف نہ کرنے کا تو جتنی تکلیف مجھے آپکے رویعے اور دھوکے سے ہوئی ہے اُتنی تو تب بھی نہیں ہوئی تھی،آپ کو اپنے بھائی کو اس گھر میں واپس لانا تھا تو مُجھ سے اگر زکر کر لیتے تو میں نے آپ کو روکنا تو ہرگز نہیں تھا،انفال مُمانی جس کرب سے گُزر رہیں تھیں مُجھے بھی نظر آ رہا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی جُدائی سہہ نہیں پا رہیں اور آپ سے شادی کے بعد میں بھی سوچنے لگی تھی کہ جب میں آپ کے ساتھ خُوش ہوں ایک آسودہ زندگی گزار رہی ہوں تو شائز اور ثمر کو بھی اب اس گھر میں وہ مقام ملنا چاہئیے جو مُجھے ملا ہوا ہے،مگر آپ نے سب چُھپا کر ایسا کر کے مجھے میری اوقات یاد دلا دی کہ میری مرضی میرے چاہنے کی کوئی اہمیت نہیں آپکی نظر میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش کی دُکھ سے آنکھیں بھیگنے لگیں وہ شرمندہ ہو گیا۔
“صوری یار،اصل میں غلطی میری ہے میں بس سب ٹھیک کرنا چاہتا تھا اور مُجھ سے غلطی یہاں ہوئی جب میں نے تُم سے زکر کئے بنا یہ فیصلہ کیا مُجھے پہلے تمہیں اعتماد میں لینا چاہیے تھا پھر ایسا قدم اُٹھانا چاہئیے تھا،پر اب تو ہوگیا نہ سب،کیا پہلی غلطی سمجھ کر معاف نہیں کر سکتی تُم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کوئی ضرورت نہیں آپکو مُجھ سے معافی مانگنے کی۔۔…..”اُسکا انداز ابھی تک نروٹھا تھا۔
“جب تک معاف نہیں کرو گی ایسے ہی معافی مانگتا رہونگا،اب کیوں جان لینے پر تُل گئی ہو،بس ایک چانس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور آئندہ۔۔۔۔۔۔۔”تیکھے ابرو سے دیکھا۔
“آئندہ کے لئے توبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شرارت سے اسکے کانوں کو چھُوا۔
“میرے نہیں اپنے کان پکڑیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس نے اسکے ہاتھ پیچھے کیئے۔
“تُم میری ہو تو تُمہاری ہر چیز میری ہوئی نہ،تو تُمہارے کان پکڑوں یا اپنے بات تو ایک ہی ہوئی نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آہستہ آہستہ اسے قریب کر گیا مگر امروش جلدی سے اُسکے باذؤوں کا حصار توڑ کر نکلی۔
“دس از ناٹ فیئر ڈارلنگ۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا اشارہ اسکے دُور جانے پر تھا۔
“میں نے ابھی تک آپ سے ناراضگی ختم نہیں کی سو ایسا سوچے بھی مت۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وارن کیا گیا وہ گہری سانس بھر کر رہ گیا۔
“اوکے ایک سرپرائز ہے تُمہارے لئیے۔۔۔۔۔۔۔”اُسے اچانک یاد آیا تو اپنی پاکٹ سے کُچھ نکالا۔وہ بھی دیکھنے لگی جس کے ہاتھ میں کُچھ کاغذ تھے۔
“پیرس کے ٹکٹس،ہم دونوں ہنی مون کے لئے پیرس جا رہے ہیں جسٹ فار ٹو ویکس۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مگر شائز اور ثمر کے ریسپشن کی ڈیٹ فائنل ہو رہی اور ساری تیاری میرے زُمعے ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ کُچھ پریشانی سے بولی
“تُم اُسکی فکر مت کرو میں نے بات کر لی ہے سب سے،اُنکا ریسپشن کُچھ دن اور ڈیلے کر دیا ہے،تُم بس کل تک اپنی تیاری کرو جانے کی،پہلے ہی اتنا لیٹ ہوا ہمارا ہنی مون۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کے کہنے پر وہ مُسکرائی
“اب تو قریب آ سکتا ہوں نہ۔۔۔۔۔۔”کہتا ہوا وہ اسے اپنے قریب کر چُکا تھا اور اس دفعہ امروش بھی اُس کی گرفت سے نکلنے کو مچلی نہ تھی۔
“تُم نہیں جانتی امروش کہ تُم کس قدر میرے اندر بس چُکی ہو،ایک پل کے لئے بھی تُم مُجھ سے دُور ہوتی ہو تو جان نکلتی محسوس ہوتی ہے یہ جو دو دن تُم مجھ سے ناراض رہی ہو سچ میں بہت دشوار تھے وہ لمحے پلیز اب کبھی ناراض نہ ہونا مُجھ سے،تُم خفا ہوتی ہو تو زندگی کی ہر رونق ختم ہو جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کس قدر جادو اثر اور سحر آگیں لہجہ تھا کہ اُس کے جسم و جاں میں ٹھنڈک کی پھوار سی پڑتی جا رہی تھی۔
“مُجھے تو شائز بھائی کا شُکریہ ادا کرنا چاہئیے جن کی وجہ سے تُم میری زندگی میں آئی۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے بری محبت سے جُھک کر اُسکی پیشانی پر اپنے لب رکھے۔
“اور آپکا بھی شُکریہ میری زندگی میں آنے کا اتنے رنگ بھرنے کا اور مُجھے اس قدر چاہنے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش کے کہنے پر وہ مُسکرا دیا ۔
“تُمہیں پتہ ہے میں چچا اور تُم چچی بننے والی ہو۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں ثمر نے بتایا تھا اور مُمانی نے بھی۔۔۔۔۔۔”
“تو ُتم کب تک ایسی گُڈ نیوز سُناؤ گی مُجھے۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کی آنکھوں کی شرارت دیکھ کر اُسکی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے وہ شرم سے اُسکے سینے میں ہی مُنہ چُھپا گئی۔
“بتاؤ نہ یار،سچی مُجھے بھی بہت انتظار ہے اس گھڑی کا جب تُم مُجھے پاپا بننے کی گُڈ نیوز سُناؤ گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مُجھے نہیں پتہ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ یونہی اسکے سینے میں ہی مُنہ چُھپائے بولی تو ارمائز ہنس کر اپنی گرفت اور تنگ کرتا چلا گیا اور کسی متاع حیات کی طرح اسے خُود میں سمو لیا۔
_ختم شُدہ___