No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
“بھرجائی ہو تو آپ جیسی ظالم،جو خود بھی دو سالوں سے انتظار کی سولی پر لٹک رہی تھی ساتھ دیور کو بھی لٹکا لیا خالی منگنی کروا کے،خود تو نکاح کروا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
امروش کچن میں کھڑی کباب تل رہی تھی جبکہ ارمائز اُس کے کان کھا رہا تھا۔
“بھابھی نے کہا تھا کیا منگنی کروانے کو،میری طرف سے شادی کروا لیتے ،پر تُم تو منگنی نہ کروانے ہر تُلے ہوئے تھے بھول گئے کیا تمُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں وہ تو آپ کے لئے قُربانی دی میں کہ یہ نہ کہیں کہ میں بڑی ہوں اور میری رُخصتی سے پہلے میری دیورانی کی رُخصتی ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ہار ماننے والوں میں سے کہا تھا۔امروش مُسکرادی
“بہت مہربانی آپ نے میرا احساس کیا ورنہ میں تو آپ دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر آہیں بھرتی مُجھے تو جلن ہونی تھی شُکر ہے تُم نے میرا سوچ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش نے بھی شرارت سے کہا جبکہ کچن میں آتی طائشہ وہی جامد ہوگئ تھی۔
“ارے طاشی آؤ نہ۔۔۔۔۔۔۔”امروش ارمائز کو کباب دینے کے لئے پلٹی تو اسے دیکھ کر خوشگواری سے بولی۔ارمائز نے بھی چہرہ موڑ کر دیکھا جو جینز شرٹ میں ملبوس ہینڈ بیگ لئے کھڑی تھی۔
“اپ دونوں بزی لگ رہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چاہ کر بھی اپنے لہجے کی ناگواری چُھپا نہ سکی۔
“نہیں تو،ارمائز کو بُھوک لگ رہی تھی زبردستی مجھے کمرے سے کے کر آیا کہ کباب بنا کر دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش نے کباب تلتے ہوئے کہا تو طائشہ کی سوئی زبردستی پر اٹک گئی۔
“اُف بھابھی اتنے ترلے کروائے آپ نے،اگر اتنی منتیں میں نے ماما کی کیں ہوتیں تو اس وقت میں طاشی سے یہ سب کروا رہا ہوتا پورے حق سے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ معنی خیزی سے طائشہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تو امروش ہنس دی۔طائشہ اگنور کرتے ہوئے کہا ۔
“میرا کباب کھانے اور کھلانے کا کوئی موڈ نہیں چلو مُجھے کسی ریسٹورینٹ لے کر چلو،منگنی کے بعد پہلی دفعہ مل رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پر میں تو کباب کھا کر پیٹ پھر چُکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو کوئی نہیں تُم مجھے دیکھنا میں کھا لونگی اب یہاں کچن میں بھی تو تم دیکھنے کا کام کر رہے ہو نہ بنا تو بھابھی رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ طنز کرتے ہوئے امروش کی طرف دیکھنے لگی جو بنا بات سمجھے مُسکرادی تھی۔
“پر آج نہیں کل سہی،ماما پاپا قیوم انکل کے پوتے کے عقیقے پر گئے،کافی دیر سے آئیں گئے اور بھابھی اکیلی ہیں گھر پر،یا پھر بھابھی بھی چلیں ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کے بات پر طائشہ خُون کے گھونٹ بھر کر رہ گئی۔
“نہیں مُجھے کباب میں ہڈی بننے کا کوئی شوق نہیں آپ دونوں جاؤ،میں نماز پڑھ کر سونے لگی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے،طاشی جاؤ بھابھی کے روم سے میرا موبائل لاؤ میں تب تک گاڑی نکالتا ہوں،منگیتر صاحبہ کی پہلی فرمائش تو پوری کریں ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز مسکراتا ہوا چلا گیا۔
“آپ کے رُوم میں موبائل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں وہ میرے بیڈ پر ہی سو گیا تھا تو موبائل بھی وہی رکھ دیا،تُمہارے آنے سے کُچھ منٹ پہلے اُٹھا ہے پھر بھوک کا شور مچاتے ہوئے مُجھے کچن میں لے آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش مُسکراتے ہوئے بول رہی تھی اس کے تاثرات جانے بغیر جس کا چہرہ نہ صرف سپاٹ تھا بلکہ وہ کڑھ کر رہ گئی تھی۔
“_____________“
“تم بھابھی کے ساتھ بہت فرینک ہوتے جا رہے ہو ورنہ تم تو لڑکیوں سے ہمیشہ الرجک رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”طائشہ نے پیزا کی بائٹ لیتے ہوئے کہا تو ارمائز نے غور سے دیکھا جس کے چہرے کے تاثرات اسے طنزیہ لگے.
“بھابھی میرے اکلوتے بھائی کی بیوی ہے کوئی غیر نہیں،اور دوسرا تم جانتی ہو کہ جب انکی ماما کی ڈیتھ ہوئی تو وہ بہت اپ سیٹ اور ڈپرشین میں رہنے لگی تھیں اور بھائی بھی مصروفیت کی وجہ سے انکو ٹائم نہیں دے پاتے تھے تو مُجھے انکے ساتھ کلوز ہونا پڑا اور دوسرا بھابھی اتنی اچھی ہیں اب تو وہ میری فرینڈ بن گئی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کے لہجے میں اسکے لیے پیار صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔
“سال ہو گیا بھابھی کو روشن پیلس آئے میرے خیال میں اُن کو رُخصت کروا کر یہاں لانے سے بہتر تھا کہ امریکہ بھیج دیتے تاکہ شائز بھائی کی انڈر سٹینڈینگ بھی ہو جاتی اور وہ بھی خُوش رہتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ماما پاپا نے پہلے یہی سوچا تھا پر تُمہیں تو پتہ شائز بھائی اپنے پروفیشن کے معاملے میں کتنے سخت ہیں،وہ نکاح پر بھی اس لئے راضی ہوئے تھے کہ تین سال تک اُنکو ڈسڑب نہ کیا جائے تو جب اُن سے کہا گیا تو صاف جواب آیا تھا،کوئی نہیں اب تو بس نو ماہ رہ گئے اُن کے آنے میں تب تک ہمیں بھی سُولی پر لٹکا دیا ظالموں نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز ٹھنڈی آہ بھر کر بولا تو طائشہ ہنس دی۔
“تُم رومانٹک ہونے کی کوشش کر رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔”
“اتنے فیٹ کی دُوری پر بیٹھا ہوں محترمہ رومانٹک کہاں سے ہونگا بھلا،ویسے بھی گھر والوں نے ایسا کوئی حق نہیں قائم کرنے دیا،شائز بھائی تو خُوش نصیب ہیں جن کو بیٹھے بٹھائے اتنی خُوبصورت بیوی مل گئی پر اُنکو قدر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کی بات پر وہ جو مُسکرا رہی تھی امروش کے زکر پر ناگواری سے بولی۔
“تُمہیں ہی وہ خُوبصورت لگتی ہیں کُچھ زیادہ ہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تُم نے کبھی غور سے دیکھا نہیں اُنکو۔۔۔۔۔۔”
“تو تُم بڑے غور سے دیکھتے ہو اُن کو اتنا تو شائز بھائی بھی غور نہیں کرتے ہونگے جن کی بیوی ہیں وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چبا چبا کر بولتی اُسے چونکا گئی۔ارمائز نے غور سے اُس کے چہرے کے تاثرات دیکھے اور پھر جیسے سمجھ کر مُسکرایا۔
“کہیں تم ابھی سے ہی اُن بیویوں کا رول پلے نہیں کرنا سٹارٹ ہو گئی جو اپنے شوہروں کے منہ سے کسی دوسری عورت کی تعریف سُن کے جل مر جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مُجھے کوئی ضرورت نہیں اُن سے جلنے کی کیونکہ مُجھے پتہ ہے میں ان سے کیا کسی سے بھی کم نہیں،آخر ارمائز آفندی کی منگیتر کے عہدے پر فائز ہوں کوئی عام سی تو نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے لہجے میں اپنے حُسن کا غرور تھا اور آخری بات پر ارمائز زیر لب مُسکرا دیا۔
“تو اس سب میں ارمائز آفندی کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اُس نے تُمہیں یوں خود پہ ناز کرنے کا موقع دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میرے علاوہ کیا کوئی اور اس قابل تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی آنکھوں میں دیکھتی دلکشی سے مُسکرائی۔جبکہ ارمائز مُسکراتے ہوئے اُسکی توجہ کھانے کی طرف مبذول کروا گیا۔
“جلدی کرو یار بہت ٹائم ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اتنا بھی نہیں ہوا ابھی بس دو گھنٹے ہوئے ہمیں آئے،اب بتاؤ شاپنگ کب کروا رہے ہو مُجھے۔۔۔۔۔۔۔۔”طائشہ کوک کا سپ لیتی اپنے پسندیدہ ٹاپک کی طرف آئی تھی۔
“لے چلونگا یار کسی دن،ابھی تو کل اسلام آباد جانا ہے میٹینگ ہے وہاں پھر آ کر کوئی پلان بنائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے مائے لاٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شرارت سے بولی تو ارمائز بھی مُسکرا دیا ۔
“______________“
وہ اسلام آباد گیا تو ایک دن کے لئے تھا مگر ثقلین آفندی جو وہاں بھی فیکٹری کی برانچ اوپن کر رہے تھے اس لئے پورے پانچ دن بعد اُسکی واپسی ہوئی تھی۔اور گھر آتے ہی وہ کمرے میں آ کر سو گیا تھا۔
“ارمائز اُٹھ جاؤ،ڈنر کر لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش اُس کے کمرے میں آئی تو اسے بیڈ پر اوندھے مُنہ لیٹے دیکھ کر ُمسکراتی ہوئی اُس کے قریب آئی۔مگر وہ بے سدھ ہو کر سویا ہوا تھا اس کے بُلانے پر ٹس سے مس نہ ہوا۔امروش نے مُسکراتی آنکھوں سے دیکھا۔اور اُسے وہ دن یاد آ گیا جب ایک سال پہلے وہ اور طائشہ اکھٹے لندن سے تعلیم مُکمل کر کے آئے تھے اور تب ہی امروش کی دونوں سے پہلی دفعہ ملاقات ہوئی تھی پر دونوں نے اجنبیت کی دیواریں ایک پل میں گرا دی تھیں۔امروش جو کبھی کسی لڑکے سے فری نہیں ہوئی تھی ارمائز سے شروع شروع میں بہت جھجک کر رہتی تھی مگر ارمائز جو نہ صرف عزت کرتا تھا بلکہ بہت احترام سے مخاطب ہوتا تھا اور آہستہ آہستہ امروش بھی اُسکی نیچر کو سمجھ کر کافی حد تک اُس کے ساتھ فری ہو گئی تھی۔امروش نے ماضی کی سوچوں سے نکل کر ارمائز کو دیکھا جو بلیک ٹرازور اور ٹی شرٹ میں ملبوس تھا۔سُنہری بال ماتھے پر بکھرے ہوئے تھے وہ چھبیس سالہ ایک جازب دلکش نقوش کا مالک مرد تھا۔اُس کی مردانہ وجاہت اور شخصیت کی سحر انگیزی کسی کو بھی پاگل کر سکتی تھی۔یہ تو سب مانتے تھے وہ شائز کیا پورے خاندان میں سے زیادہ خوبصورت اور غضب کی پرسنالٹی کا مالک تھا۔
“ارمائز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش نے اُسکا کندھا ہلایا تھا تو وہ آنکھیں کھول کر اسے دیکھنے لگا جو اس کے اُٹھ جانے پر شُکر ادا کر رہی تھی۔
“اب جلدی سے فریش ہو کر آ جاؤ،کھانا لگانے لگی ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہہ کر جانے لگی کہ ارمائز نے بے ساختہ ہاتھ پکڑ کر روکا تھا۔
“کیا بات ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی کچی نیند سے اُٹھی سُرخ آنکھوں کو دیکھ کر حیرانگی سے بولی تو ارمائز جیسے ہوش کی دُنیا میں آیا اور ہاتھ چھوڑتا نفی میں سر ہلا کر اُٹھا تھا۔
“آپ جائیں میں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”وہ بنا دیکھے بولا۔امروش اس کے رویعے کو حیرانگی سے دیکھتی باہر کی جانب چل دی۔ارمائز نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا اور گہرا سانس لیتا واش روم کی طرف بڑھا۔
“__________________“
“کیا کر رہی ہو تُم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شائز کے پوچھنے پر چائے کا مگ کیمرے کے سامنے کیا۔
“ارمائز کی طرح تُمہیں بھی چائے کی لت لگ گئی،جب دیکھو چائے پی جا رہی ہوتی ہو۔۔۔۔۔۔۔”شائز کے کہنے پر وہ مُسکرادی کیونکہ یہ تو سچ تھا وہ چائے کی اتنی شوقین نہیں تھی جتنی ارمائز کے لئے چائے بنا بنا کر ہو گئی تھی اور شائز کو اُتنی ہی چڑھ تھی۔
“ماما لوگ کہاں ہیں ،نظر نہیں آ رہے۔۔۔۔۔۔”وہ لیپ ٹاپ لئے لاؤنج میں ہی صوفے پر بیٹھی تھی تب ہی شائز کی کال آ گئی تھی سکائپ پر تو اس نے وہاں ہی پک کر لئی کیونکہ کبھی بھی شائز نے اس کے ساتھ کوئی میاں بیوی جیسی کوئی بات نہیں کی تھی جو اسے کسی پرائیوسی کی ضرورت ہوتی۔وہ ایک ہفتے بعد ہی کال کرتا تھا تو وہ بھی امروش سب کے ساتھ بیٹھ کر ہی سُن لیتی تھی۔
“ممانی جان تو نماز پڑھ رہی مغرب کی،ماموں اور ارمائز ابھی آفس سے نہیں آئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ تفصیل سے بتا گئی تو شائز نے سر ہلایا پھر جیسے کُچھ سوچ کے بولا۔
“مُجھے تُم سے بہت ضروری بات کرنی ہے،بہت دنوں سے سوچ رہا ہوں پر کہنے کی ہمت نہیں پڑ رہی،تُم سمجھ دار ہو آئی ہوپ میری بات کو سمجھو گئی اور مُجھے معاف بھی کر دو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شائز کی لمبی چوڑی تمہید پر امروش نے کُچھ حیرانگی سے دیکھا تھا کہ ایسی بھی کیا بات جو شائز کرنے میں ہچکچا رہا تھا۔
“جی آپ بولیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نرمی سے بولی۔شائز نے ایک گہرا سانس لے کر جیسے خُود کو تیار کیا تھا۔
“وہ یہ کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“شائز آپ یہاں ہیں،میں کب سے بُلا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔”شائز کُچھ کہتا کہ شائز کے پیچھے سے ایک نسوانی آواز نہ صرف سُنائی دی بلکہ یییلو کوٹ میں ملبوس کسی عورت کا بازو بھی دکھائی دیا اور اس سے پہلے کہ وہ غور کرتی کال کٹ کر دی گئی تھی۔امروش نے اُلجھن سے خالی سکرین کو گھورا تھا۔
“کون تھی،شاید ہسپتال میں کوئی کو لیگ پر وہ تو کہہ رہے تھے میں گھر پر ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ان سوچوں میں ڈوبی ارمائز اور ثقلین آفندی کی آمد پر بھی دھیان نہ دے پائی۔
“میری بیٹی کن سوچوں میں ڈوبی ہے کہ اُسے ہمارے آنے کی بھی خبر نہیں ہو سکی۔۔۔۔۔۔۔”ثقلین آفندی نے پیار سے اُس کے سر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف متوجہ کیا تو وہ چونکتی شرمندہ سی ہو گئی۔ارمائز ہنس دیا۔
“کُچھ نہیں ،آپ بیٹھے میں پانی لاتی ہوں۔۔۔۔۔”
“پیاس نہیں ہے بُھوک لگی ہے،ڈنر لگوائیں نفیسہ بُوا سے ہم فریش ہو لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ثقلین آفندی کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھے تو وہ اُٹھ کر کچن میں جانے لگی کہ ارمائز کی طرف دیکھا جو بڑے غور سے اسے دیکھ رہا تھا۔امروش نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
“وہ بات بتائیں جس کو آپ سوچ رہی تھیں بلکہ پریشان بھی ہو رہی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“شائز سے بات ہو رہی تھی میں نے اُن کے پیچھے ایک لڑکی کو دیکھا جو نہ صرف فری ہو کر بول رہی تھی بلکہ اُسکا ہاتھ بھی شائز کے کندھے پر تھا اور شائز نے جلدی سے کال بند کر دی،وہ ہے بھی گھر میں تھے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش نے جتنی سنجیدہ ہو کر بتایا تھا ارمائز بے اُتنا ہی سنجیدہ ہو کر سُنا تھا اور پھر جیسے ہنسی کا فوارا چُھوٹ پڑا تھا۔امروش نے گھورتے ہوئے اُسے دیکھا۔
“ارمائز دفعہ ہو جاؤ تُم۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کہ وہ اُسکی مسلسل ہنسی سے رو ہانسی ہوئی۔
“صوری بٹ آپ نے اتنی اچھی طرح بتایا کہ بس مجھ سے رہا نہیں گیا،ہوں تو آپ کے شوہر کسی دوسری عورت کے ساتھ پائے گئے وہ بھی اپنے گھر میں اور جب آپ نے دیکھا تو جلدی سے کال بند کر دی گئی تا کہ آپ دیکھ نہ سکیں کہ وہ امریکہ میں کیا کر رہے ہیں ،اُسکا مطلب وہ آپ کو دھوکہ دے رہے یہاں آپ وہاں آپکی سوکن کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ارمائز تُم ،تُم بہت بُرے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کسی سی آئی ڈی کی طرح پُورا نقشہ کھینچتا یقیناً اُسے زچ کر رہا تھا اور وہ ہو بھی گئ تھی۔
“لو میں نے کیا کیا،میں نے تو کب کا خبر دار کیا تھا کہ آپکے شوہر اتنے بھی معصوم نہیں جتنے آپکو اور ماما پاپا کو لگتے،پر نہ جی ہماری باتوں پر تو کوئی یقین ہی نہیں کرتا تھا آخر کو کوئی کرتا بھی کیوں ہم کونسا کسی کے لئے قابل اعتبار تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا واقع وہ سب سچ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش اُسکی باتوں میں آ چُکی تھی۔ارمائز نے ُمسکراہٹ بمشکل روکی اور سر اثبات میں ہلایا تو وہ سچ مُچ پریشان ہوتی وہی صوفے پر بیٹھ گئ۔
“اب کیا کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سوچنے لگا۔
“میرا ایک دوست ایک کامل پیر کو جانتا ہے وہ اپنے عمل سے دو دنوں میں آپکے شوہر کو اُن مغربی عورتوں سے بچا کر آپ کے قدموں میں حاضر کر دے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کی بات پر امروش نے کُچھ سوچتی نگاہوں سے اُسکی طرف دیکھا مگر اُس کی آنکھوں میں چھلکتی شرارت اور لبوں پر تھرکتی شریر مُسکراہٹ کو سمجھتی اپنے بیوقوف بن جانے پر اُسے کشن مارنے لگی جو قہقہ لگا کر ہنس رہا تھا اور ہر ُکشن کو کیچ کرتا مُسکرائی جا رہاتھا۔
“تُم انتہائی فضول آدمی ہو ارمائز آفندی،مجھے پاگل بنا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ کیا ہو رہا ہے،کب بڑے ہو گئے تم ارمائز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”تبھی انفال بیگم اور ثقلین آفندی رُوم سے نکلے تو ہر طرف کُشن بکھرے دیکھ کر ارمائز سے کہنے لگیں کیونکہ وہ اتنا تو جانتی تھیں کہ قصور ارمائز کا ہی ہوگا جو امروش کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔
“ماما آ پکی بہو بہت خونخوار ہے دیکھیں کیسے آپکے بیٹے کو مار رہیں یہ بھی نہیں سوچا کہ اکلوتا سا معصوم سا دیور ہوں اتنے اچھے مشورے دے رہا ہوں فری میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی دہائی پر امروش نے اُس آنکھیں دکھائیں جبکہ ثقلین آفندی مُسکرا دئیے۔
“بیٹا جی ہم تو جیسے نا واقف ہیں آپ سے،ضرور کوئی شرارت ہی کی ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی ماموں مجھے کہہ رہا تھا کہ میں آپکو کسی عامل کے پاس لے کر چلتا ہوں جس کے عمل سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بس بس کیا کر رہی ہیں آپ ،ایسی باتیں سر عام تھوڑی کرتے ہیں،اُف بہت بھوک لگی ہی ماما کھانا لگوائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ مزید بھانڈا پھوڑتی وہ جلدی سے اُسے باز رکھنے کو بُھوک کا شور مچانے لگ گیا تھا جبکہ انفال بیگم اُسکی بات کا مطلب سمجھتے تاسف سے اسے دیکھنے لگیں۔
“کھی اپنے باپ کو تو کسی کامل کا نہیں بتایا تُم نے،یوں ڈر ڈر کر تو نہ رہنا پڑتا تُمہاری ماما سے،بنا کسی افئیر کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُن دونوں کے جانے کے بعد ثقلین آفندی نے ٹھنڈی آہ بھری۔ارمائز اُنکی بات پر قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔
“ابھی لے چلتا ہوں،ابھی بھی آپ ایک آدھا افئیر تو چلا ہی سکتے ہیں،قسم سے ابھی بھی آپ میرے بڑے بھائی لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“چل شریر کہیں کا،انفال کو بتاتا ہوں کہ تُمہارا لاڈلہ کیسے ورغلا رہا مُجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مُسکراہٹ دباتے کچن سے آتیں انفال بیگم کی طرف دیکھ کر بولے تو ارمائز ڈرنے کی ایکٹینگ کرتا جلدی سے اُٹھ گیا تو وہ ہنس دئیے۔
“____
