No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
پھر شام کو جب وہ گھر آیا تو ثقلین آفندی اور انفال بیگم نے اُسے گھیر لیا۔
“تم جانتے بھی ہو تم کیا کہہ کے گئے تھے،ایسے کیسے تُم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انفال بیگم کی بات کو وہ نرمی سے کاٹ گیا۔
“کیا مطلب ماما،ایسے کیسے کا کیا مطلب ہوا،پھوپھو کی بات پر تو آپ بھی مُتفق ہوئیں تھیں کہ کُچھ دن بعد آپ امروش کی شادی کر دیں گئیں تو میں نے بھی اُنہی باتوں کو زہہن میں رکھ کر اپنا رشتہ پیش کیا ہے،آپکو اعتراض کیوں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مگر لوگ کیا کہیں گئے اور نگینہ کی بات سچ ہو جائے گی کہ تُم اپنی بھابھی کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کا سُرخ چہرہ دیکھ کر وہ بات درمیاں میں چھوڑ گئیں۔
“امروش میری بھابھی تھی ماما ہے نہیں، جب تک تھی ایسا سوچا بھی نہیں تھا اب نہیں ہے تو کہہ رہا ہوں،اور جہاں تک لوگوں کی بات ہے تو آپکے بیٹے نے اُسے طلاق دی ہے لوگ تو اب بھی باتیں کر رہے ہیں،لوگوں کی طرف دیکھیں گیئں تو مجھ سے کیا کسی سے بھی اُسکی شادی نہیں کر پائیں گئیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور طائشہ۔۔۔۔۔۔۔”وہ جیسے آخری کانٹا بھی نکالنا چاہتی تھیں۔جبکہ اس معاملے میں ثقلین آفندی چُپ کئے صرف ارمائز کی طرف دیکھ رہے تھے جو کہہ رہا تھا ۔
“اگر آپکا بڑا بیٹا اپنی بیوی چھوڑ سکتا ہے تو چھوٹا اپنی منگیتر بھی چھوڑ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“دیکھ لو ارمائز جو قدم ہمدردی کی آڑ میں اُٹھا رہے ہو کہیں کل کو شائز کی طرح تُمہیں بھی غلطی نہ لگے،کسی معصوم کی بار بار آہ لینے کی مُجھ میں سکت نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ثقلین آفندی اُٹھتے ہوئے اُسکی طرف دیکھ کر بولے کیسے کسی حتمی فیصلے سے پہلے پورا اطمینان چاہتے تھے۔
“وہ وقت کبھی نہیں آئے گا جب میں اپنے فیصلےسے غلطی کی آڑ لے کر دستبردار ہونگا کیونکہ میں شائز نہیں ارمائز آفندی ہوں رشتوں کا مان رکھنا آتا ہے مُجھے،پھر بھی کبھی کوتاہی ہو تو میں ہر سزا کے لئے تیار رہونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔””وہ مظبوط اور اٹل لہجے میں بولا۔
“اور انفال تُم،کیا امروش کو ارمائز کی دُلہن کے طور پر قبول کریں گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کہ وہ انفال بیگم کی طرف پلٹے۔
“میرا فیصلہ آپکو معلوم میں ہے،امروش میری بہو نہیں بیٹی ہے اور بیٹیوں کو ہمیشہ پاس رکھنے کا ہی دل کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُنکی بات پر دونوں باپ بیٹا مُسکرا دئیے۔
“اب امروش کو منانے کی زمعہ داری آپکی ہے،میرے خیال میں نکاح دو دن تک کر لیتے ہیں ،شادی ایک ماہ تک،تا کہ ساری تیاری ہو سکے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ثقلین آفندی کی بات پر ارمائز نے گہرا سانس بھر کر سر اثبات میں ہلا دیا۔
“کیا امروش مان جائے گئ،کیا میں اس رشتے کو اچھے طریقے سے نبھا پاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔”کُچھ سوالوں نے اُس کے دماغ کو جکڑنے کی کوشش کی تھی۔
“__________________“
اور پھر ارمائز کی سوچ کے عین مطابق امروش نے سختی سے انکار کر دیا تھا اُس نے انفال بیگم کو صاف صاف کہہ دیا تھا کہ وہ کہیں اور شادی کر لے گی مگر ارمائز سے نہیں اس گھر میں رہنا اُس کے لئے تکلیف دہ ہوگا ایک بھائی سے طلاق لے کر دوسرے کے عقد میں کیسے جائے۔انفال بیگم نے جب اُسے پیار سے بھی منا کر دیکھ لیا مگر اُس کی ناں ہاں میں نہ بدلی تو امروش کو منانے کی زمعہ داری ارمائز کو دے دی۔
ارمائز نے اُس کے کمرے میں قدم رکھے تو وہ واش روم سے نکلتی دکھائی دی۔اسے دیکھ نہ صرف اُس نے مُنہ موڑا تھا بلکہ اُس کے چہرے پر نا پسندیدگی بھی آ چُکی تھی جیسے اُسے اسکا اپنے روم میں آنا ناگوار گُزرا تھا اور کیوں گُزرا یہ ارمائز جانتا تھا اس لئے چُپ کر کے آگے بڑھ آیا۔
“تُم کھانے پر نہیں آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش کو اسکے مُنہ سے اپنے لئے تُم سن کر کافی عجیب سا لگا تھا اس لئے بول اُٹھی۔
“مانا کہ اب وہ والا رشتہ نہیں رہا پر کیا میں ادب سے بُلائے جانے کے قابل بھی نہیں رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ادب اُس رشتے کا تھا ورنہ تُم مجھ سے تین سال چھوٹی ہو تو میں تُم ہی کہہ کر بُلاؤنگا اور دوسری بات ادب سے بھی تُم کہا جاتا ہے تکلف کی ہر دیوار گرانے کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تُمہارا اور میرا اب ایسا کوئی رشتہ نہیں کہ اب بے تکلف ہو کر ُپکارا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چٹخ کر بولی۔ارمائز نے دونوں ہاتھ جینز کی جیبوں میں پھنسائے اور گہری سانس بھر کر بولا ۔
“رشتہ ہی تو قائم کرنا چاہتا ہوں اگر آپ ہاں بول دیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“شرم آنی چاہئیے تُمہیں ایسا سوچتے ہوئے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کس بات کی شرم،کیا بُرا کیا میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تُم جانتے ہو کہ میں تُمہاری بھابھی رہ چُکی ہوں پھر بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس نے شرم دلانی چاہی تھی مگر ارمائز دانت پیس کر بولا۔
“بھابھی رہ چُکی ہو،اب تو بھابھی نہیں ہو نہ تُم،آخر اعتراض کس بات پر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے ہر بات پر اعتراض ہے،پلیز جاؤ یہاں سے مُجھے شادی نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دکھائی سے بولتی رُخ موڑ گئی۔ارمائز نے دو پل اپنے اشتعال کو دبایا اور پھر کہنے لگا ۔
“شادی کرنی نہیں کہ مُجھ سے نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں نہیں کرنی تُم سے تو بلکل نہیں تُم کیا سمجھتے ہو میں پاگل ہوں کہ ایک سوراخ سے دو دفعہ ڈسوں،ایک بھائی نے چھوڑا تو دوسرے کے پاس چلی جاؤں،میں بھی کوئی عزت نفس رکھتی ہوں اور بےعزتی اور زلت نہیں سکہ سکتی میں،لوگوں کے بُہتان برداشت کرنے کی زرا سکت نہیں مُجھ میں کہ چھوٹے سے کوئی چکر ہوگا اس لئے بڑے سے طلاق لے کر چھوٹے کی دلہن بن گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش کی آنکھوں سے آنسو رواں ہونے لگے جن کو دیکھ کر ارمائز لب بھینچ گیا۔
“تُم غلط سوچ رہی ہو ایسا کُچھ نہیں ہوگا،کوئی بھی ایسا نہیں سوچے گا میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نرمی سے سمجھانے لگا مگر امروش سر نفی میں ہلاتی چیخ اُٹھی۔
“سب سوچیں گئے ایسا ہی کہے گئے اُس دن پھوپھو کی بات سُنی تم نے،میں اُن کے کہے کو سچ ثابت کر دُوں کیا پاگل نظر آتی ہوں اور تُم مجھ سے شادی کرنا کیوں چاہتے ہو صرف اپنے بھائی کا مدواہ کرنے کے لئے مگر کُچھ دن بعد جب تُمہارے سر سے یہ ہمدردی کا بُخار اُترےگا تو تُمہیں بھی پچھتاوا ہوگا میری کم تعلیم پر ویسے بھی تم شاید بھول رہے ہو کہ تُم طائشہ سے محبت کرتے ہو منگنی ہو چُکی تُمہاری ،تم بھی تو وہی کچھ کر رہے ہو جو تُمہارے بھائی نے کیا،کسی کو اپنے ساتھ باندھ کر جب اُسے عادت ہو جائے تو ایک جھٹکے سے چھوڑ دینا پر میں ایسا نہیں کرونگی میں کسی اور کی آ ہوں کی وجہ نہیں بن سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آنسو صاف کرتی امروش کا انداز اٹل تھا وہ کسی صورت بھی طائشہ کو وہ دُکھ نہیں دے سکتی تھی جس تکلیف سے خُود گُزر رہی تھی۔
“تو تُم نہیں مانو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں کبھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ قطاً انداز میں بولی۔ارمائز نے جیسے سمجھ کر سر اثبات میں ہلایا پھر آہستہ سے چلتا ہوا اس کے قریب آی اور جیب سے کُچھ نکال کر اسکے سامنے کیا۔امروش جو اس کے قریب آنے پر جھنجھلا اُٹھی تھی اب حیرت سے اُن کاغذوں کو دیکھنے لگی۔
“یہ کل کا ٹکٹ ہے میرا کہاں کا یہ نہیں بتاؤنگا،کل شام نکاح کی تقریب ہے تب تک ویٹ کرونگا اگر ہاں کر دی تو ٹھیک ورنہ میں اُسی وقت یہ گھر یہ مُلک ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلا جاؤنگا،پھر تم رہنا اس گھر میں بنا کسی بھی رشتے کے کوئی کُچھ نہیں گا میرے خیال میں ماما پاپا کو بھی بہتر سنبھال لو گی تُم اور پھر دیتی رہنا لوگوں کو جواب کہ ان کے ایک بیٹے کو طلاق دینے کی وجہ سے اس گھر سے بے دخل کیا ہے اور دوسرے کو تُمہارا ہاتھ تھامنے کی خواہش کے جُرم میں اس گھر سے ہمیشہ کے کئے دُور کر دیا ہے،کل تک کا ٹائم ہے سوچ لو اتنا تو تُم جانتی ہو ضد میں ،میں بھائی سے بھی دو ہاتھ آگے ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی بات مُکمل کرتا اُس کے حیران و پریشان چہرے پر نظر ڈالتا چلا گیا۔امروش ہکا بکا وہی بیٹھ گئی۔
اور پھر امروش کی رہی سہی ہمت بھی تب جواب دے گئی جب اگلی صُبح ثقلین آفندی نے اس کے پاس آ کر نہ صرف پیار سے سمجھایا تھا بلکہ شائز کے بُرے برتاؤ پر اس سے معافی بھی مانگی تھی اور امروش اتنی سخت دل نہیں تھی کہ اُنکو خالی ہاتھ لوٹا دیتی اس لئے نم آنکھوں سے سر جھکا کر اُنکو خُوشی سے نواز گئی تھی۔پھر اُسی دن صرف چند عزیزوں اور دوستوں کو بُلا کر انکا نکاح کر دیا گیا تھا۔نگینہ پھوپھو خُود تو نکاح میں نہیں آئیں تھیں پر حیدر شیرازی آئے تھے۔
طائشہ جو اُس دن کی مُنہ ماری سے تنگ آ کر اپنی خالہ کے پاس اسلام آباد چلی گئی تھی جب اس کو اپنی ماں کے زبانی علم ہوا تو وہ پہلی فلائٹ سے واپس آئی تھی۔
“ایسا تُم کیسے کر سکتے ہو میرے ساتھ،تُم جانتے ہو نہ کہ میں تُم سے کتنی محبت کرتی ہوں،منگیتر ہوں میں تُمہاری پھر بھی تم ایسے کیسے کسی اور سے نکاح کر سکتے ہو کیوں کیا ایسا تم نے کیوں۔۔۔۔۔۔؟وہ بول نہیں رہی تھی بلکہ چیخ رہی تھی اور ارمائز اُسے سنبھالنے کی کوشش کرتا اُس کے قریب ہوا تھا مگر طائشہ اُس کی شرٹ کو اپنی مُٹھیوں میں جکڑ چُکی تھی۔
“تُم جانتے تھے نہ لندن میں تمہاری وجہ سے گئی تا کہ تُمہارے ساتھ ہی پڑھ سکوں، تم واقف تھے نہ میری فیلگینز سے پھر بھی تم ایسا کیسے کر سکتے ہو مُجھے دھوکا دیا ہے تم نے،یہی ڈر تھا مجھے کہ وہ چھین لے گی تُمہیں مجھ سے وہی ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“طائشہ پلیز سمجھنے کی کوشش کرو یہ ضروری تھا اس۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس نے اپنی شرٹ طائشہ کی گرفت سے آذاد کروائی۔
“کیوں ضروری تھا بتاؤ مُجھے کیوں؟جس لڑکی کو طلاق ہوئے ابھی کُچھ دن ہی ہوئے اُسکا یوں تم سے اچانک نکاح کرنا کیوں ضروری تھا۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات کاٹ کر وہ بولتی اُسے غُصہ دلا گئی۔
“سکون سے بیٹھو گی تو کُچھ سمجھا سکونگا نہ میں۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں سمجھنا کچھ اور جو سمجھ گئی ہوں نہ بس وہی بہت ہے تم نے بہت غلط کیا ہے ارمائز اسکا کیا تو تُمہیں بھگتنا ہی ہوگا معاف نہیں کرونگی میں۔۔۔۔۔۔۔”وہ جس طوفان سے اس کے کمرے میں داخل ہوئی تھی ویسے ہی باہر کو بھاگی۔ارمائز سر پر ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔
وہ تپی ہوئی اُس کے کمرے سے نکلی تھی۔کچن سے نکلتی امروش کو دیکھ کر جہاں وہ تھمی تھی وہاں امروش بھی دو پل کے لئے ساکت ہوئی تھی۔جس حقیقت سے وہ کل سے نظریں چُرا رہی تھی آج طائشہ کو اپنے سامنے دیکھ کر نظریں چُرا کر رہ گئی۔
“بہت مُبارک ہو تمہیں امروش بھابھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”طائشہ نے امروش بھابھی پر دانت پیسے تھے۔
“یہی چاہتی تھی نہ تم،دیور بھابھی کا کھیل کافی اچھا کھیلا تم نے،اسی نئیت سے تو تم ارمائز ارمائز کرتی اُس کے آگے پیچھے پھرا کرتی تھی آخر کو شائز بھائی سے کہیں درجے خُوبصورت ہے جان تو نکلتی ہو گئی تُمہاری اُسے میرے ساتھ دیکھ کر اور پھر تم نے کتنی چالاکی سے اُسے دیور سے سجنا بنا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”طائشہ کے زہریلے جملے اُسے کاٹ کر رہ گئے وہ نم آنکھیں لئے شرمندگی سے کُچھ بول بھئ نہیں پا رہی تھی۔
“شرم آ رہی ہے کیا تُمہیں مجھ سے جو یوں سر جُھکا رہی ہو کیا ایسا سوچتے ہوئے ارمائز کو اپنے دل میں بساتے ہوئے کل نکاح نامے پر سائن کرتے ہوئے تُمہیں شرم نہ آئی کہ تم کیا کررہی ہو،یہ جانتے ہوئے بھی کہ ہم دونوں نہ صرف منگیتر تھے بلکہ ایک دوسرے سے محبت بھی کرتے تھے پھر بھی تم نے وہی سب کیا جو شائز بھائی نے تُمہارے ساتھ کیا اُسکا بدلہ مجھ سے کیوں لیا تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے بھڑکتے لب ہ لہجے پر ارمائز جو اپنے کمرے سے نکلا تھا آنسو بہاتی امروش اور غُصے سے چلاتی طائشہ کو آمنے سامنے دیکھ کر وہ بھاگنے والے انداز میں ان تک آیا تھا۔
“ناٹک کافی اچھا کر لیتی ہو تُم،سُنا تھا طلاق ہونے پر بڑا ماتم کیا تھا بے ہوش تک ہو گئی تھی پر ارمائز سے نکاح ہوتے ہی تم سب بُھول گئی ،مجھے تو لگتا جان بوجھ کر تم نے طلاق لی صرف ارمائز کو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بس اب ایک لفظ نہیں طائشہ،بہت کر لی بکواس تُم نے،یہ سب میں نے اپنی مرضی سے کیا ہے اور کوئی بھی اُسکی باز پرس امروش سے نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کی اشتعال انگیزی سے جہاں طائشہ تھمی تھی وہاں امروش نے بھی پانیوں سی بھری شکواں کنارہ آنکھوں سے اُسے دیکھا جو اُسکی طرف دیکھتا لب بھینچ گیا۔
“شرم تو نہیں آ رہی بھابھی کو بیوی بنا کر۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بھابھی تھی بہن نہیں تھی اور شرم کس بات کی بولو،بیوی بنایا ہے عزت دی ہے کوئی کھیل نہیں رچایا،اب ایک لفظ نہیں اس سے پہلے کے میں آؤٹ آف کنڑول ہو کر تُمہارے ساتھ کوئی بد تمیزی کروں جاؤ یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے چبا چبا کر ایک ایک لفظ ادا کیا اور باہر کی طرف اشارہ کیا۔طائشہ نے ایک نفرت بھری نگاہ امروش پر ڈالی اور چلی گئی۔امروش وہاں سے جانے لگی پر ارمائز نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر روکنا چاہا۔امروش نے بُری طرح اس کا ہاتھ جھٹکا۔
“اتنا تو ذلیل کروا رہے ہو تُم کیا کوئی اور کسر رہ گئی،اب یونہی مُجھے سب کے تانے سُننے ہونگے آخر بھابھی سے بیوی جو بن گئی ہوں،وہ مُجھے کہہ کر گئی ہے کہ سب میں نے جان بوجھ کر کیا پر اُسے کیا پتہ جتنا مُجھے یہ رشتہ تکلیف دے رہا اُتنا تو طلاق کے پیپرز دیکھ بھی نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش نے اپنی بھڑاس اور جلن اس پر نکالی تھی یہ جانے بنا کہ اس کے آخری الفاظ تیر کی طرح ارمائز کے سینے میں پیوست ہوئے تھے۔امروش اسکے سامنے سے ہٹتی چلی گئی ارمائز نے جلتی نگاہوں سے اس کی پُشت کو گھورا تھا۔
“__________________“
جیسا کہ نکاح کے وقت ہی شادی کی تاریخ فائنل کر لی گئی تھی اس لئے انفال بیگم نے شادی کی تیاریاں شُروع کر دی تھیں لیکن وہ اکیلی بوکھلا چُکی تھیں کہ امروش کسی چیز میں بھی حصہ نہیں لے رہی تھی اُسکی کیفیت سمجھتے ہوئے اُسے کچھ دن اِس کے حال پر چھوڑ کر انہوں نے اپنی بہن اور اُنکی دونوں بیٹیوں کو بُلا لیا تھا دو ہفتوں کے لئے دراصل وہ کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی تھیں آخر اُن کے لاڈلے اور چھوٹے بیٹے کی شادی تھی۔اس گھڑی وہ شائز کو بھی بہت مس کر رہی تھیں مگر ثقلین آفندی کی وجہ سے چُپ تھیں پر ارمائز نے کئی دفعہ رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی پر ہو نہیں ہا رہا تھا۔
“لگتا ہے بھائی آپکو امریکہ جا کر ہی لے کے آنا پڑے گا،ایک دفعہ پاپا اور امروش سنبھل جائے تو جاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑایا پھر فون جیب میں رکھتا لاؤنج میں آیا جہاں انفال بیگم بہت سارے کپڑے پھیلا کر بیٹھیں تھیں اقدس خالہ کچھ کپڑے طے کر رہیں تھیں جبکہ ہماس اور اناس امروش کو نیٹ سے کُچھ پسند کروا رہی تھیں مگر اُسکا نفی میں ہلتا سر اُسکی بیزاریت شو کر رہا تھا جو کہ ارمائز کے آنے سے ناگواریت میں بدل چُکی تھی۔
“شُکر ہے ارمائز بھائی آپ آ گئے،بھابھی کو تو کُچھ بھی پسند نہیں آ رہا،اب آپ بتائیں ہمیں کہ مایوں،مہندی،بارات اور ولیمے کے لئے کونسے کلر فائنل کرے جو بھابھی پر سُوٹ کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اناس اُٹھ کر اسکے نزدیک آ کر بولی۔ارمائز نے مُسکراتے ہوئے ایک اُچٹتی نگاہ امروش پر ڈالی جو پاؤں سمیٹ کر صوفے پر بیٹھی لب کاٹ رہی تھی۔
“میرے خیال میں تُم لوگوں کی بھابھی پر ہر کلر سُوٹ کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات سوائے امروش کے سب مُسکرادئیے۔اور امروش نے ایک جلتی نگاہ اس کے مُسکراتے چہرے پر ڈالی۔
“بات تو سچ ہے پر اب ہر کلر تو وہ شادی والے دن نہیں نہ پہن سکتیں۔۔۔۔۔۔۔”اب کہ ہماس نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔ارمائز سر ہلا کر امروش کو نظروں کے فوکس میں رکھتا بولا۔
“مایوں پر ییلو،مہندی پر گرین انیڈ اورینج کنٹراس،بارات پر ریڈ اور ولیمے پر گرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“واؤ،ویری نائس یہی تو ہم بھی سوچ رہے تھے،آپ نے بھی بھابھی کے ساتھ ہر فنکشن پر کنٹراس کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔”دونوں خُوش ہو کر بولیں تو اس نے سر اثبات میں ہلا دیا۔امروش وہاں سے اُٹھ گئی۔
“کہاں بیٹا۔۔۔۔۔۔۔”انفال بیگم نے پوچھا۔
“چائے بنانے جا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ انکو جواب دیتی جانے لگی۔
“امروش،میرے لئے بھی بنانا۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کی فرمائش پر وہ تپ کے انکار کرنے لگی مگر اقدس بیگم اور باقی سب کا لحاظ کرتی کچن میں چلی گئی۔ارمائز جو اس کے تاثرات نوٹ کر چُکا تھا مُسکراتا ہوا اقدس بیگم کی طرف متوجہ ہوا جو انفال بیگم سے کہہ رہی تھیں ۔
“لگتا ہے امروش ابھی تک اُس دُکھ کو بُھول نہیں پائی،دو دن ہو گئے میں بھی دیکھ رہی گُم صُم سی رہتی ہے آج شاپنگ کرنے بھی ہمارے ساتھ نہیں گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ٹھیک کہہ رہی ہو اقدس،دُکھ کونسا چھوٹا تھا اور پھر ابھی وہ اُس صدمے سے نہیں نکلی تھی کہ ارمائز سے نکاح کر دیا یہ بھی اچانک فیصلہ تھا اُس کے لئے،ابھی کُچھ دن تو لگیں گئے،آج ثقلین سے کہونگا کہ اُس سے بات کریں تاکہ ہمارے ساتھ شاپنگ پر تو چلے،برایڈل ڈریسز،جوتے اور جیولری تو اُسکی پسند کی ہی لینی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انفال بیگم کی بات پر ارمائز نے پُر سوچ نظریں کچن کے دروازے پر لگا دیں جہاں وہ چائے بنا رہی تھی۔
“ارمائز،حسن بھائی کو کال کی تم نے۔۔۔۔۔۔”اقدس بیگم کے سوال پر وہ اُنکی طرف متوجہ ہوا۔
“جی بات ہوئی ماموں سے،علی تو نیکسٹ ویک آ رہا کیونکہ وہ شادی کی ساری شاپنگ یہاں سے اور میرے ساتھ کرنا چاہتا جبکہ حسن ماموں،حفصہ مُمانی ،ندا اور ولی مایوں والے دن آئے گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اس نے تفصیل سے بتایا تو اُسکی بات پر اناس نے ہماس کو ٹہوکا مارا۔جو کہ ارمائز کی آنکھوں سے مُخففی نہ رہ سکا۔
“ویسے خالہ،علی کے شادی سے ایک ہفتہ پہلے آنے کی وجہ آپکی سمجھ میں تو آ گئی ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز ہماس کو شرارت سے دیکھتا بولا تو اُسکی بات کا مطلب سمجھ کر تینوں مُسکرا دیں اور ہماس شرم سے اُٹھ کر چلی گئی۔آرمائز ہنس دیا۔علی اور ہماس کی منگنی کو دو سال ہو چُکے تھے شادی اُس کے انجنئیر کے کورس مُکمل ہونے پر قرار پائی تھی۔
