No Download Link
Rate this Novel
Episode 5
امروش آج بُری طرح تھک چُکی تھی انفال بیگم اُسے زبردستی آج شاپنگ پر ساتھ لے گئیں تھیں شادی کے سب فنکشنز کے لئے ڈریس،جوتے اور جیولری پسند کر کر کے ہی اُسکی سٹی گُم ہو چُکی تھی اور وہاں سے ہی ہماس اور انفال بیگم اسے پارلر لے کر چلی گئیں جہاں تین گھنٹے سٹیچو بن کر بیٹھنے پر اُسکی کمر درد کرنے لگی تھی۔اور ابھی کمر سیدھی کرنے کو وہ لیٹی تھی کہ اناس اسے پُکارتی کمرے میں داخل ہوئی۔
“بھابھی ادھر آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اُف کہاں جانا ہے اناس،ابھی تو لیٹی تھی میں ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُکتائی ہوئی آواز میں بولی۔
“بس ارمائز بھائی کے کمرے تک۔۔۔۔۔۔۔”
“کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہماس وہی آپ کے بری کے کپڑے رکھ رہی ہے،پر جو ساڑھی ہم نے اپنی پسند سے اور اپنے اندازے پر لی تھی اب گھر آ کر دیکھا تو بلاؤز ہمیں زیادہ فٹنگ میں لگ رہا پلیز چلیں نہ پہن کر چیک کر لیں آج ہم نے پھر جانا مال،اگر ٹھیک نہ ہوا تو چینج کروا لیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اناس کی بات پر وہ بے بسی سے اُٹھی اور یہ سوچ کر چل دی کہ وہ کونسا گھر ہے۔
“یہ پہن کر چیک کریں۔۔۔۔۔۔۔۔”ہماس نے بلیک کلر کا بلاؤز اُسکی طرف کیا جس کے بس بازوؤں پر ہی کام ہوا تھا یا ساڑھی کے پلوؤں پر ہی سُنہری کام تھا اُسے کافی اچھی لگی تھی۔
“چوائس تو زبردست ہے تُم دونوں کی۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات پر دونوں مُسکرا دیں ۔
“شُکریہ یہ تو جب شادی کے بعد اپنی بری کے کپڑے پہن کر بھائی سے تعریف وصول کیا کریں گی تب ہی ہمیں یقین آئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کے زکر پر اُسکا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا اور وہ یہ سوچ کر پاگل ہوتی جا رہی تھی کہ اس کے ساتھ یہ نیا سفر کیسے شُروع کرے گی اور سُوئی اس بات پر اٹکی تھی کہ وہ شادی کے بعد بھی صرف منکوحہ بن کر ہی رہے گی اور اسے یقین تھا کہ ارمائز اس سے کسی بھی حق کی ڈیمانڈ نہیں کرے گا آخر وہ بھی تو طائشہ سے محبت کرتا تھا اسے اُس پر غُصہ اور نفرت کرنے کی وجہ بھی یہی تھی کہ ارمائز نے سب ہمدردی میں آ کر کیا تھا۔
“کیا سوچنے لگیں چلیں نہ پہن کر چیک کریں،ہم تب تک انفال خالہ کے رُوم سے آپکی دوسری چیزیں لے آئیں۔۔۔۔۔۔۔۔”ہماس اس کہتی اناس کو لئے چلی گئی تو امروش ڈریسنگ روم میں چلی گئی جب بلاؤز پہن کر دیکھا تو بلکُل فٹ تھا وہ اوکے کا سنگلر دیتی چینج کرتی باہر آئی تو ٹھٹھک کر رُکی سامنے ہی ارمائز شرٹ اُتار کر ڈریسنگ روم کی طرف ہی بڑھ رہا تھا اسے بیچ دروازے میں ساکت دیکھ کر وہ بھی چونکا تھا جو کہ آف وائٹ سُوٹ میں ملبوس ہاتھ میں بلیک کلر کا بلاؤز پکڑے شرمندہ سی لب کاٹ رہی تھی۔بنا اُسکی طرف دیکھے وہ دروازے کی طرف لپکی کہ ارمائز نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر روکا امروش کو اپنا دل زور زور سے دھڑکتا محسوس ہوا۔
“یہ رُوم تُمہارا بھی اُتنا ہے جتنا میرا،اس لئے یوں شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں جیسے تم کوئی چوری کرتی پکڑی گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نرمی سے بولا۔تو وہ اپنا ہاتھ چُھڑا گئی۔
“اب تو شاید ساری عُمر ہی مُجھے یوں شرمندگی سے ہی گُزرانی پرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے لہجے میں عجیب سی کاٹ تھی جو ارمائز کا خُون جلا گئی۔
“کس بات کی شرمندگی،بولو آخر تُمہاری عقل میں یہ بات کیوں نہیں آتی کہ میں نے تُم سے نکاح کیا ہے کوئی چوری نہیں کی جو تُم یوں مُنہ چُھپائے گھومتی رہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو کیوں نہ مُنہ چُھپا کے رہوں ہر ایک کی تمسخر اُراتی نظریں کب تک برداشت کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بھی تپ کے بولی۔ارمائز نے سخت نظروں سے گھورا۔
“تو اس میں شرمندگی والی کیا بات ہے،یہ تو تُمہاری اپنی سوچ ہے جو تُمہیں ایسا لگتا۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ شرمندگی نہیں تو کیا ہے کون اپنی بھابھی سے نکاح کرتا۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوہ یو۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے سختی سے اُسے کندھوں سے پکڑ کر اپنے سامنے کیا۔امروش اس کی سخت ہوتی گرفت سے خائف ہوتی خود کو آزاد کروانے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
“بھابھی تھی تم ہو نہیں یہ بات آخر کتنی دفعہ دُہرانا ہو گی مُجھے بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“چھوڑو ارمائز مُجھے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی گرفت میں مچلی تھی۔
“نہیں بتاؤ نہ آخر تم پُرانے رشتے کو کیوں نہیں بُلا پا رہی،ایسی بھی کیا اُنسیت تھی اُس پرانے رشتے سے کہ ابھی تک نئے رشتے کو قبول نہیں کر پا رہی تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے لب و لہجے میں ایسی کاٹ تھی کہ جسے محسوس کرتی اُس کے گال تپ اُٹھے۔
“میں بھی کتنا احمق ہوں،ماما کی باتوں میں آ گیا کہ تُمہیں اچانک صدمہ لگا ہے اس لئے ایسا برتاؤ کر رہی ہو پر نہیں میں تو پاگل ہوں یہ ہی سمجھ ہی نہیں سکا کہ دراصل تم
اس پُرانے رشتے کو بُھلا نہیں پا رہی،ظلم طلاق کا نہیں ہوا بلکہ ظلم یہ ہوا کہ میں نے تم سے نکاح کیا،پچھتا تو اب میں بھی رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ تلخی سے بولتا ایک جھٹکے سے اسے چھوڑ کر بیڈ پر پڑے کپڑے اُٹھا کر واش روم میں گُھس گیا۔امروش اُس کے لفظوں کے تیروں سے گھائل ہوتی وہی بیٹھ گئی۔
“_______________“
وہ جس چیز کی خُود نفی کرتی آئی تھی تب تک تو ٹھیک تھا مگر جب اس رشتے کی ارمائز نے نفی کی تھی کہ وہ پچھتا رہا تھا یہ بات اُسے ساری رات رُلاتی رہی تھی کہ پہلی دفعہ وہ سب باتوں دے ہٹ کر اپنے اور ارمائز کے رشتے کے متعلق سوچتی رہی تھی۔اور ایک انجانہ سا ڈر اُس کے دل میں کُنڈلی مار کر بیٹھ گیا تھا کہ جو شائز نے اُس کے ساتھ کیا کہ پھر سے ارمائز بھی وہی دُہرائے گا۔ارمائز کا اُس دن کا رویعہ اور اُس کے الفاظ اس کی بُھوک پیاس سب ختم کر گئے کہ جب ہماس ناشتے کا کہنے آئی تو اس نے صاف جواب دے دیا تھا۔
“کیا ہوا امروش نہیں آئی۔۔۔۔۔۔۔”ہماس اکیلی کو واپس آتا دیکھ کر انفال بیگم کے استفسار پر ارمائز نے بھی ہماس کا نفی میں ہلتا سر دیکھا۔
“نہیں وہ کہہ رہیں کہ مُجھے بُھوک نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پر اُس نے تو رات کو ڈنر بھی نہیں کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”انفال بیگم کو یاد آیا تو پریشانی سے بولیں۔ارمائز اپنی جگہ سے اُٹھا۔
“آپ لوگ ناشتہ کریں میں اُسے لے کر آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا اُس کے کمرے میں آیا جہاں وہ مُنہ تک کمبل لپیٹے لیٹی تھی۔
“ہماس میں نے کہا نہ کہ مُجھے کھانا نہیں کھانا تو کیوں بار بار تنگ کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”دروازے کے کھٹکے پر اُسے ہماس کے پھر سے آنے کا شک ہوا تو کافی رُوکھے لہجے میں بولی۔ارمائز آہستگی سے اُس کے قریب ہی بیڈ پر بیٹھا گیا۔
“پر میں تو تُمہیں تنگ کر سکتا ہوں نہ،آخر میرے پاس تو تُمہیں تنگ کرنے کا سرٹیفکیٹ بھی موجود ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کی مُسکراتی آواز پر اُس نے ایک جھٹکے سے کمبل اپنے مُنہ سے ہٹا کر اسے دیکھا جو مُسکراتی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔امروش نہ صرف اسے اپنے کمرے میں دیکھ کر چونکی بلکہ اپنے یوں قریب دیکھ کر بے اختیار پیچھے کو سرکی مگر ارمائز نے ایک ہاتھ اس کے دائیں پہلو اور دوسرا اسکے تکیے پر رکھ کر جیسے اسے اپنے حصار میں لیتے قید کر لیا تھا۔امروش کی دھڑکنیں پہلی بار یوں بے تر تیب ہوئیں کہ وہ چاہتے ہوئے بھی ہل نہ سکی۔
“ناراضگی مُجھ سے ہے کھانے سے تو نہیں نہ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میری کوئی ناراضگی نہیں،تُم۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہششش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے اُس کے گلابی لبوں پر اُنگلی رکھ کر اُسے چُپ رہنے کا اشارہ کیا۔
“تُم نہیں آپ،آپ کہنے کی عادت ڈال لو اب،مُجھے تمیز دار بیویاں اچھی لگتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ابھی سے کیڑے نظر آنا شُروع ہو گئے ہیں،میں اچھی بھی کیسے لگ سکتی ہوں میں تو کسی کے لئے پچھتاوا بھی بن گئی ہوں۔۔۔۔۔۔”رات کی باتوں کو یاد کرتی وہ چڑ کر بولی تو ارمائز ہنس دیا۔امروش نے حیرت سے اُسکی طرف دیکھا جسکی آنکھیں بھی اُسکی مُسکراہٹ کا ساتھ دے رہی تھیں وہ آہستگی سے جُھکا اور اُسکی ٹھنڈی پیشانی پر اپنے لب رکھ دئیے۔امروش اس دہکتے لمس پر دھک سی رہ گئی اُس کے پورے جسم میں سُنسناہٹ ہونے لگی۔ارمائز نے سر اُٹھاتے ہوئے اُسکی جُھکی نگاہوں کو دیکھا پھر باری باری اس کی دونوں آنکھوں کو چُوم لیا اور اس سے پہلے کہ کوئی اور حق جتاتا دروازے پر دستک ہوئی۔
“یس۔۔۔۔۔۔”ارمائز اُٹھ کھڑا ہوا۔انفال بیگم اور ہماس اندر داخل ہوئیں۔ہماس کے ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے تھی۔امروش اُڑی اُڑی رنگت لئے اُٹھ کر بیٹھی۔
“مُجھے پتہ لگ گیا امروش ناراض ہے ارمائز سے اس لئے آج سے میں نے بھی ارمائز سے کٹی کر لی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انفال بیگم اُس کے قریب بیٹھیں۔ارمائز نے مُسکراتے ہوئے امروش کو دیکھا جو ہنوذ نظریں جُھکائے بیٹھی تھی۔
“میں ابھی منانے کا سوچ رہا تھا کہ آپ لوگ آ گئے،اوکے اب آپ اپنی بہو کو ناشتہ کروائیں،میں تو آفس چلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا چلا گیا تو امروش نے کب کا رُکا سانس ہوا کے گرد خارج کیا۔
“__________________“
آج دونوں کی مہندی تھی۔ارمائز کے پُرذور اصرار پر مہندی کا فنکشن گھر کے لان میں ہی ارینج کیا گیا تھا۔سب مہمان آ چُکے تھے اور امروش ارمائز کے پسند کے کپڑوں میں ملبوس سادگی میں غضب ڈھا رہی تھی۔ارمائز کی نگاہیں بار بار اُس کے چہرے سے اُلجھ رہی تھیں جن کو دیکھتا علی مُسکرا دیا۔
“بس کرو آدھے گھنٹے سے تُمہیں دیکھ رہا ہوں تُم تو نظروں نظروں میں ہی بھابھی کو نگل لینے کے چکر میں ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تُمہیں کیا اس سے،میری اپنی چیز ہے جتنا مرضی دیکھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ڈھٹائی سے بولتا پھر سے امروش پر نگاہیں مرکوز کر کے بیٹھ گیا جسے سب گھیرے میں لے کر بیٹھیں تصویریں بنوا رہی تھیں ۔
“وہ تو ٹھیک ہے،پر ایک رات ہی تو ہے اتنا بھی صبر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ ایک رات بھی سالوں جتنی لگ رہی،ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“لگتا مُُنڈا گوڈے گوڈے محبت میں ڈوب چُکا۔۔۔۔۔۔”علی کو کافی خوشگوار حیرت ہو رہی تھی اس کے رویعے پر ورنہ تو ارمائز محبت کے معاملے میں کوڑا تھا بلکہ لڑکیوں کے معاملے میں بھی۔
“محبت۔۔۔۔۔”وہ مُسکرایا
“مُجھے تو مُحبت سے بھی آگے بات نکلتی دکھائی دے رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اچھا وہ کیسے۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ ایسے کہ مُجھے اُس کے آس پاس بیٹھی لڑکیاں زہر لگ رہی ہیں،اپنے والی کو بولو کہ اب بس کریں بہت ہو گئی تصویریں،امروش تھک چُکی ہو گئی،کہاں پچھلے چار گھنٹوں سے وہ ایسے ہی بیٹھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کے کہنے پر علی شرارت سے مُسکراتا ہوا ہماس کی طرف بڑھ گیا اور پھر جب امروش جو خود بھی تھک چُکی تھی ارمائز کے پاس سے گُزرتی اندر جانے لگی کہ ارمائز نے نرمی سے اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے روکا۔دونوں کی نگاہیں باہم ٹکرائیں تھیں مگر امروش نے جلدی سے نگاہیں جُھکا کر اپنا ہاتھ اُسکی گرفت سے نکالنے کو مچلی۔
“میں تو کب سے یہی سوچے جا رہا ہوں کہ تُم سادگی میں میرے ہوش و ہواس چھین رہی ہو تو کل ہر ہتھیار سے لیس ہو کر جب روبرو آؤ گی تو کیا تُمہارے حُسن کے جلوؤں سے بچنا آسان ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز سرگوشی کے انداز میں کہا۔امروش کے گال تپ اُٹھے۔
“جاؤ جا کر آرام کرو،کل تیار رہنا،بڑی محبت سے کُچھ حساب چُکانے ہیں۔۔۔..۔۔”ارمائز نے اُسکا ہاتھ ہلکے سے دباتے ہوئے چھوڑ دیا تو وہ بھاگنے والے انداز میں پلٹ گئی۔ارمائز نے گہرا سانس بھر کر علی کی طرف دیکھا جو شرارت سے مُسکرا رہا تھا ارمائز بھی دلکشی سے مُسکرا دیا۔
“_____________________“
ارمائز کی کہی بات بلکل سچ ثابت ہوئیں تھی دُلہناپے کا اس قدر ٹوٹ کر اُس پر روپ آیا تھا کہ ارمائز کتنے ہی پل اُس پر سے نظریں نہ ہٹا سکا اور اگر علی نہ کندھا ہلاتا تو وہی جم کر اسے دیکھتا رہتا جو لال سُرخ لہنگے میں زیور سے لیس کسی شہزادی سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ارمائز جو خود بھی سکن شیروانی پر ریڈ کُلہ پہنے اپنی مردانہ وجاہت کا مُنہ بولتا ثبوت دے رہا تھا کہ انفال بیگم بار بار دونوں کی نظریں اُتار رہی تھیں کہ کہیں انکو کسی کی نظر نہ لگ جائے جو ساتھ بیٹھے اتنے مُکمل اور حسین لگ رہے تھے کہ جو بھی دیکھ رہا تھا بے اختیار دیکھے جا رہا تھا۔
امروش کو ہماس اور ندا لوگ ارمائز کے کمرے میں چھوڑ کر گئیں تھیں امروش نے اُن کے جانے کے بعد ایک نظر کمرے پر دُہرائی اس نے سُنا تو تھا کہ ارمائز نے روم کی نہ صرف سیٹنگ چینج کی تھی بلکہ فرنیچر بھی چینج کروایا تھا مگر شادی کے پہلے ایک ہفتے وہ اپنے کمرے سے کے نکلتی تھی کیونکہ ہماس لوگوں نے اُسکا ارمائز سے پردہ کروایا تھا جسکا ساتھ علی نے بھی دیا اور ارمائز نے کافی احتجاج بھی کیا تھا۔
کمرے کو دیکھ کر اسکی آنکھوں میں پسندیدگی کے تاثرات اُبھرے خاص طور پر بیڈ پر سجی مسہری کو دیکھ کر جن میں نیٹ اور فریش گلاب کے پھولوں کی ڈیکوریشن کی تھی۔تبھی اُسے ہماس’ اناس اور ندا کی آوازیں آئیں جو نیگ لینےکے لئے ارمائز کے ساتھ بحث کر رہی تھیں۔ارمائز اُنکو تنگ کرتا مُنہ مانگا نیگ دے کر اپنے کمرے میں آیا اور دروازہ بند کر کے بیڈ کی طرف نگاہ دوڑائی جہاں وہ دھڑکتے دل کے ساتھ گردن جُھکا گئی تھی۔
“اسلام وعلیکم۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز اُس پر سلامتی بھیجتا سر سے کُلہ اُتار کر صوفے پر رکھتا اُس کے قریب بیڈ پر بیٹھ گیا۔امروش کا جُھکا سر مزید جُھک گیا۔
“مُجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کی بات پر وہ حیران ہوئی۔
“مُجھے اس لئے ڈر لگ رہا ہے کہ قیامت کو قریب سے دیکھنے پر پتھر کا نہ ہو جاؤں،دُور سے ایک نظر تم پر ڈال کر ارمائز کے ہوش و ہواس اُسکا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں تو ایسے اتنے قریب سے تُمہیں دیکھنے پر کیا گُزرے گی یہی سوچ پریشان کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کی جذبوں سے بھرپور آواز پر وہ خُود میں سمٹ کر رہ گئی۔ارمائز نے آہستہ سے شہادت کی انگلی سے اُسکا چہرہ اُوپر کیا تو اُس کے ہوش چُراتے روپ پر جیسے نگاہیں جم کر رہ گئیں تھیں۔ارمائز یک ٹک اُسے دیکھتا سانس لینا بھول گیا جو بلاشُبہ قیامت ڈھا رہی تھی ہمیشہ سادہ رہنے والی امروش دُلہن بنی کوئی الپسرا لگ رہی تھی۔
“کیا مُجھے رب کا شُکر نہیں کرنا چاہیئے؟جس نے مُجھے میری اوقات سے بڑھ کر نواز دیا،میری زندگی میں آنے کا آپکا بھی شُکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔”دلکشی سے کہتا وہ اُسکا نرم و ملائم ہاتھ پکڑ کر لبوں سے لگا گیا۔امروش کی دھڑکنیں شور کرنے لگیں۔
“تُم نہیں کُچھ کہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات پر وہ چُپ ہی رہی تو ارمائز جیسے سمجھ کر مُسکرایا۔
“آئی نو ناراض ہو اُس دن کی وجہ سے،دراصل اُس دن مُجھے غُصہ آ گیا تھا تُمہاری بات پر بس عمل کا رد عمل تھا،خُود سوچو میں نے اپنی مرضی سے شادی کی تُم سے،ماما پاپا کو بھی میں نے بولا نہ کہ اُنہوں نے کوئی زبردستی کی جو تُمہیں لگے کہ میں ہمدردی کے تحت اتنا بڑا فیصلہ کر گیا بلکل بھی نہیں،پتہ نہیں تب کونسا جذبہ تھا جس نے مُجھ سے یہ فیصلہ کروایا پر تب بھی میں ایسا چاہتا تھا کہ تم اسی گھر میں میرے آس پاس رہو اور پھر جب نکاح ہو گیا تو مُجھے احساس ہوا کہ وہ کوئی اور احساس نہیں بلکہ محبت کا احساس تھا اور اب مُجھے کہتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہیں ہو رہی کہ مُجھے تم سے محبت ہو گئے ہے اپنی بیوی سے شدید محبت ہو گئی ہے مُجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چونک کر دیکھنے لگی جس کی آنکھوں میں بھی اُسے صرف پیار ہی دکھائی دیا تھا ارمائز کے مُنہ سے نکلتی اظہار کی بوندیں اُسکا تن من مہکا گئیں ۔
“اور طائشہ۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے دل میں یہ گلٹ بھی تھا شاید۔
“پسند بہت ساری چیزوں کو کیا جاتا ہے ضروری نہیں اُن سے مُحبت بھی ہو جائے،طائشہ کزن تھی اچھی تھی بس،اس سے زیادہ کُچھ نہیں اور ڈونٹ وری ابھی تو زرا وہ غُصے میں ہے میں اُسے جلد ہی منا لونگا،تم دو گی نہ ساتھ میرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کے ہلکے پھلکے لہجے نے اُسکی بھی ہلکا پھلکا کر دیا تو وہ سر اثبات میں ہلا گئی۔
“تُمہارا رونمائی گفٹ تو دینا بھول گیا۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے یاد آنے پر ڈرا سے ایک مہرون ویلووٹ کا ڈبہ نکالا اور اُس میں سے ڈائمنڈ کا لاکٹ نکال کر اُس کی طرف بڑھایا جو امروش کو بہت پسند آیا۔
“بہت خُوبصورت ۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے اختیار تعریف کر گئی۔ارمائز مُسکراتا ہوا اُس کے گلے میں ڈال گیا۔
“اب اُسکی خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے سراہتی نگاہوں سے دیکھا تو وہ جھینپ گئی۔
“میرے خیال میں رات بہت ہو گئی تُم کپڑے چینج کر لو۔۔۔۔۔۔”بمشکل اُس کے چہرے سے نظریں ہٹا کر وہ اُٹھا۔ارمائز نے ڈریسنگ روم کا رُخ کیا تو امروش بھی آہستہ سے اُٹھتی ڈریسنگ کے مرر کے سامنے آئی اپنے آپ کو دیکھ کر اُس کے کانوں میں تھوڑی دیر پہلے کے ارمائز کے کہے جُملے گونجے تو ایک شرمیلی سی مُسکان اُس کے لبوں پر آئی۔وہ جو اس رشتے اور ارمائز کو لے کر کُچھ اوبہام کا شکار تھی ارمائز کے آج کے رویعے پر وہ ہلکی پھلکی ہوتی خُود کو فریش سا محسوس کرنے لگی۔تبھی ارمائز جسٹ بلیک ٹرازر میں ہی باہر نکلا۔امروش اُسکو ایک نظر دیکھتی ہی جلدی سے رُخ موڑ گئی جو بنا شرٹ کے اس کے قریب آیا تھا۔
“جیولری اُتارنے میں ہیلپ کروں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کے پوچھنے پر وہ سر نفی میں ہلا گئ مگر پھر بھی وہ اسکے ڈوپٹے کی پنیں نکالنے لگا۔ڈوپٹہ اُتار کر صوفے پر رکھا اور ٹیکا اُتارتے ہوئے اُسکی پیشانی پر لب رکھے امروش کے ہاتھ پیر تھنڈے پڑنے لگے جو اس انداز سے ہی اسکا سارا زیور اُتارتا اُسکی کلائیاں بھی سونے کی چوڑیوں سے آزاد کروا گیا۔پھر اسکے بالوں کو جوڑے کی قید سے آزاد کرواتا اسے اپنے قریب کر گیا امروش اسکی مسلسل بڑھتی قربت پر اپنے حواس کھونے لگی۔ارمائز نے اُسے اپنے باذؤوں میں اُٹھایا اور لے جا کر بیڈ پر لٹا دیا اور خُود اُس پر جُھکتا اُس کے فرار کے سارے راستے بند کر گیا۔اُسکی گردن اور اسکے چہرے کہ ایک ایک نقوش کو اپنے لبوں سے چُھوتا وہ اس پر دیوانہ وار اپنا پیار نچھاور کرنے لگا کہ امروش اُسکی تنگ سے تنگ ہوتی گرفت پر ناذاں ہوتی آنکھیں موند گئی۔
