105.5K
6

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

“صاحب یہ کورئیر آیا ہے چھوٹی بی بی کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز اپنے رُوم کی طرف جا رہا تھا کہ چوکیدار نے ایک لفافہ اُسکی جانب بڑھایا۔
“اوکے تُم جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے اس کے ہاتھ سے لیا اور اس انویلپ کو سوچتی نگاہوں سے دیکھا جس کے اُوپر امروش لکھا ہوا تھا اور سٹیمپ کو دیکھ کر جیسے وہ سمجھ گیا۔
“اوہ تو بھائی نے بھیجا ہے بھابھی کے لئیے ۔۔۔۔۔۔”وہ امروش کے کمرے میں آیا جہاں وہ اپنے کپڑے طے کر کے رہی تھی۔
“آؤ ارمائز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ آپ کے لئے امریکہ سے اقرار نامہ آیا ہے،لگتا ہے بھائی بہت شرمیلے اس معاملے میں ،فیس ٹو فیس اظہارِ محبت کر ہی نہیں پائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز اینولپ اُس کی طرف بڑھاتے ہوئے شرارت سے بولا۔امروش نے کُچھ حیرانگی اور شرمیلی سی مُسکراہٹ لبوں پر سجا کر اُسے کھولا۔
“میرے خیال میں مجھے جانا چاہئیے کوئی خاص بات ہو گی جو ان کاغذوں کا سہارا لیا گیا اور آپکی حیرت دیکھ کر لگ رہا جیسے بھائی نے آپکو بھی لا علم رکھا کہ وہ کُچھ پوسٹ کر رہے ہیں،ہو سکتا کوئی سپرائز ہو،ارے کہیں آپکو وہاں بُلانے کا پلان تو نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خُود سے ہی اندازے لگا رہا تھا مگر جب اُسے اُنکو پڑھنے میں محو پایا تو مسکراتا ہوا جانے لگا مگر اگلے ہی لمحے اُسے امروش کو سنبھالنا پڑا جو کسی ٹوٹی ہوئی ڈالی کی طرح زمین پر آ رہی تھی۔
“بھابھی ،کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“طلاق۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے لبوں سے نکلنے والے یہ چار الفاظ ارمائز کو ساکت کر گئے تھے اُس نے جلدی سے زمین پر گرے اُن کاغذوں کو پکڑا اور کھول کر دیکھا۔بلاشُبہ وہ طلاق نامہ تھا اور اُس پر شائز کے سائن بھی موجود تھے۔اُس کے ساتھ ایک اور کاغذ تھا۔ارمائز نے اُسے کھولا تو اُس پر شائز کی لکھائی میں ایک تحریر درج تھی۔ارمائز کی نگاہیں اُن سطروں پر پھرنے لگیں۔
“مُجھے معاف کر دینا امروش،میں بہت دنوں سے تُم سے یہ کہنا چاہتا تھا مگر ہمت نہیں پا رہا تھا اس لئے مُجھے ان کاغذوں کا سہارا لینا پڑا،آج سے دو سال اور تین ماہ پہلے جب ماما نے تُمہارے بارے پوچھا تھا تو میں نے اس لئے ہاں کر دی کہ چلو کہیں تو شادی کرنی ہے تُم سے کیوں نہیں حالانکہ تب بھی مُجھے کُچھ باتوں پر اعتراض تھا جن میں امروش کی کم تعلیم اور اعتماد کی کمی سر فہرست تھیں پر میں چُپ ہو گیا،پر جب میں یہاں آیا اور ڈاکٹر ثمر فیروز سے ملا تو مُجھے اپنی غلطی کا احساس ہونے لگا کیوں میں نے جلد بازی میں رشتہ قائم کر لیا اور رفتہ رفتہ ثمر میرے حواسوں پر اس قدر چھائی کہ مُجھے اُس سے محبت ہو گئی،چھ ماہ پہلے ہم نے شادی کر لی اور میں اب اور تُمہیں انتظار کی سولی پر نہیں رکھ سکتا تھا نہ دھوکا دے سکتا تھا اس لئے مُجھے تُمہیں آذاد کرنا ہی مناسب لگا تا کہ تُم بھی کسی اچھے انسان کا ہاتھ تھام سکو جو تُمہاری قدر کرے کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ تُم جتنی خوبصورت ہو اُتنی سیرت و دل کی بھی اچھی ہو پر شاید میں تُمہارے قابل نہیں تھا کیونکہ مُجھے خوبصورتی سے زیادہ ہمیشہ سے ایسی لڑکی کی خواہش رہی ہے جو تعلیم کے میدان میں بھی اچھی ہو اور پروفیشنل ہو،مُجے پتہ ہے میرے اس فیصلے سے ماما پاپا کو بھی بہت تکلیف ہو گئی اور ارمائز تو شاید مُجھے کبھی معاف نہ کرے آخر کو تم اُسکی فیورٹ بھابھی تھی جس کی آنکھوں میں وہ آنسو نہیں دیکھ سکتا چاہے اُسے جھوٹ بول کر میرے حوالے سے تُمہیں وہ تعریفیں بھی بتانی پڑے جو میں نے کی ہی نہ ہوں،خیر پتہ نہیں اب کتنی دیر مجھے اپنوں سے دُور یونہی رہنا پڑے آخر کو اپنے کئیے کی سزا بھی تو بھگتنی ہے ،ہو سکے تو معاف کر دینا۔۔۔۔۔۔۔”شائز آفندی
“نہیں بھائی آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں ،کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے یقینی کی کیفیت میں ڈوبا بار بار طلاق نامے کو دیکھ رہا تھا اُس کا زہن اس تلخ سچائی کو ماننے سے انکاری تھا۔یکدم اُسکا دھیان بیہوش امروش کی طرف گیا۔جلدی سے اُسے اُٹھا کر بیڈ پر لٹایا جو یقیناً اتنے بڑے صدمے کو برداشت نہیں کر پائی تھی۔
“بھابھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے گال تھپتھپا کر ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا مگر بے سُود۔وہ جلدی سے انفال بیگم کے کمرے کی طرف بھاگا۔
اور پھر جب انفال بیگم اور ثقلین آفندی کو خبر ہوئی تو اُن کی حالت بھی ان سے مُختلف نہ تھی کتنے ہی پل وہ ششدر رہ گئے تھے۔انفال بیگم تو ابھی تک صدمے کی حالت میں بیٹھیں تھیں اور ثقلین آفندی کا غُصے سے بُرا حال تھا۔
“کیسے سامنا کروں اُس معصوم بچی کا جسکی ماں سے مرتے ہوئے میں نے وعدہ کیا تھا کہ میں اسے بیٹی بنا کر رکھونگا اور کبھی بھی اسے میرے گھر میں تکلیف نہیں ہو گی پر آپ کے بیٹے نے اُسے جیتے جی مار دیا انفال ،یہ کیا طریقہ تھا کسی کو یوں اپنی زندگی سے نکال کر پھینکنے کا صرف اس لیے کہ اُس کے سر پر اُس کے ماں باپ نہیں جو کسی سوال کا جواب لے سکیں،پر میں اُسے بیٹی بنا کر اس گھر میں لایا تھا اور اب میں ایک بیٹی کا باپ بن کر ہی اُسے دکھاؤں گا،اب اس گھر میں شائز کی کوئی جگہ نہیں اور جس نے اُس کے ساتھ واسطہ رکھا پھر وہ بھی اس گھر سے جانے کے لئے تیار ہو جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ثقلین آفندی سخت اور دو ٹوک لہجے میں کہتے چلے گئے۔انفال بیگم سر تھام کر رونے لگیں کیونکہ وہ جانتی تھیں ثقلین آفندی جتنے اچھے اور پیار کرنے والے باپ تھے اُتنے ہی اپنی زبان کے پکے اور اصولوں کے سخت تھے۔
“ماما ریلکیس،پاپا غُصے میں ہیں آہستہ آہستہ اُنکا غُصہ بھی نارمل ہو جائے گا آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز اُن کے ساتھ بیٹھ کر اُنکو تسلی دینے لگا حالانکہ وہ خُود کل کا بہت اپ سیٹ تھا اور بار بار شائز کے ہر نمبر پر رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر ہو نہیں پا رہا تھا۔
“مُجھے رونا تُمہارے پاپا کے رویعے پر نہیں آ رہا بلکہ مُجھے شائز کی اتنی سنگدلی اور کھٹور پن پر آ رہا کہ میرا بیٹا ہو کر وہ اتنا ظالم کیسے بن سکتا،مُجھ سے تو امروش کا سامنا نہیں ہو پا رہا وہ روتی ہے تو میرے پاس اُسے چُپ کروانے کو کوئی دلاسہ کوئی تسلی نہیں ہے،کیسے اُسے کہوں کہ کھانا کھا لو فکر نہ کرو میرے پاس تو کوئی الفاظ نہیں اُس کے دُکھ کا مداوا کرنے کو،شائز نے بہت بُرا کیا بُہت زیادہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آبدیدہ لہجے میں بولیں۔ارمائز نے لب بھینچ کر اُن کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور پھر لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر کی جانب چل دیا۔
____________
“امروش بیٹا کُچھ تو کھا لو،دو دن سے تُم مُنہ لپیٹ کر کمرے میں بند ہو،میرا دل کڑھتا ہے تُمہیں ایسے دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز اُس کے کمرے میں داخل ہوا تو انفال بیگم کو امروش کے ساتھ مصروف پایا جو کھانے کی ٹرے کو پرے کرتی آہستہ سے بولی۔
“مُجھے سچ میں بُھوک نہیں مُمانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پر بیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ارے ماما آپ ٹرے مُجھے دیں،مُجھے بھی بہت زوروں کی بُھوک لگی،آج میں یہی کھانا کھاؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز انفال بیگم کو اشارہ کرتا بولا۔انفال بیگم اُٹھ گئیں تو وہ اُنکی جگہ پر بیٹھ گیا۔ٹرے درمیان میں رکھ کر اُس کی طرف دیکھا جو پاؤں سمٹ کر بیٹھ گئی تھی۔اُسکی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں اور مسلسل رونے اور جاگنے سے آنکھیں سُرخ ہو چُکی تھیں۔دو دن کے پُرانے کپڑے اور بکھرے بال جن کو جوڑے میں جکڑا ہوا تھا ارمائز کو وہ وہی امروش لگی جو آج سے ایک سال پہلے اُسکی ماما کی وفات پر اسے دکھائی دی تھی جسے بڑی مُشکل سے وہ زندگی کی طرف لے کر آیا تھا۔
“تُم دونوں کھانا کھاؤ،میں نفیسہ بُوا کے ہاتھ چائے بھیجتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دونوں کو کہتیں چلی گئیں۔
“چاول کھائیں گئیں آپ کہ روٹی۔۔۔۔۔۔؟ارمائز نے پلیٹ میں چاول ڈالتے ہوئے پوچھا۔
“مُجھے بُھوک نہیں ارمائز ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نم نم لہجے میں بولی۔
“بُھوک نہیں بھی تو میرا ساتھ دینے کے لئے کھا لیں پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے پلیٹ اُس کے ہاتھ میں تھمائی۔امروش نے بے بسی سے دیکھا اور چند زہر مار لُقمے اپنے حلق سے اُتارنے لگی۔ارمائز جو کھانا کھا چُکا تھا پھر بھی اس کے لئے کھانے لگا۔
“میرے خیال دو دن ہو گئے آپ کمرے سے باہر نہیں نکلیں اور میں نفیسہ بُوا کے ہاتھ کی بد مزہ چائے پی پی کر تنگ آ چُکا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کے مُنہ لٹکا کر کہنے پر اُس کے لبوں پر مُسکراہٹ نمودار ہوئی تھی۔
“اب وہ اتنی بھی بُری چائے نہیں بناتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بھابھی آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے اختیاری میں بولا اور پھر لب بھینچ کر اُس کی طرف دیکھا جس کی آنکھیں پھر سے پانیوں سے بھرنے لگی تھیں۔
“میں تُمہاری بھابھی نہیں ہوں،اب ثمر تُمہاری بھابھی ہے جتنی جلدی ہو سکے عادت ڈال لو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بیڈ سے اُٹھ کر الماری کی طرف بڑھی مقصد اس سے آنسوؤں کو چھپانا تھا جو پھر بھی ارمائز کی آنکھوں سے مُخففی نہ رہ سکے وہ لب کاٹ کر رہ گیا۔
“بہت غلط کیا بھائی آپ نے بہت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ دل ہی دل میں بولتا اُٹھا۔
“مُجھے بھی اتنی خوبصورت لڑکی کو بھابھی بنانے کا کوئی شوق نہیں تھا،آپ تو میری بہت اچھی دوست ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا اب بھی تُمہیں لگتا میں خُوبصورت ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی طرف پلٹ کر پوچھ بیٹھی۔اُسکی آنکھوں میں ایسی کاٹ تھی کہ ارمائز نظریں چُرا گیا۔امروش کے لبوں پر ایک نامعلوم سی مُسکراہٹ بکھری۔اور پلٹ کر جانے لگی کہ ارمائز نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا اور تبھی دروازہ کُھلا تھا اور طائشہ اندر داخل ہوئی تھی اور اندر کے منظر نے اُسے ساکت کر دیا تھا۔سین یہ تھا کہ دونوں قریب کھڑے تھے اور ارمائز نے اُسکا ہاتھ پکڑا تھا۔
“آؤ طاشی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش نے اُس سے اپنا ہاتھ چھڑواتے ہوئے لبوں پر مُسکراہٹ لا کر کہا مگر وہ طنزً مُسکرائی۔
“میں تو افسوس کرنے آئی تھی مگر یہاں تو افسوس کرنے کا کوئی سین ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا بکواس ہے یہ طاشی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کو اُسکا لہجہ ناگوار گُزرا تھا۔
“کول ڈاؤن ارمائز،آئی نو میں نے ڈسٹب کر دیا آپ دونوں کو،تُم تو دل بہلا رہے تھے انکا ہے نہ انکے غم کو ہلکا کرنے کی کوشش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“لگتا تُمہارا دماغ ٹھیک نہیں ہے،جاؤ جب ہوش میں آ جاؤ تب آنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے سختی سے کہا۔طائشہ نے ایک چُبھتی ہوئی نظر گُم صُم امروش پر ڈالی اور چلی گئی۔
“آپ پریشان نہ ہوں ،اُس نے مُجھے شاپنگ پر جانے کہا تھا اور میں نے منع کر دیا کہ میری طبیعیت ٹھیک نہیں اس لئے ایسے مُجھے دیکھ کر فضول بول رہی تھی،آپ چلیں کچن میں ،مُجھے آپ کے ہاتھ کی چائے پینی ہے چلیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے کہا تھا تو وہ سر ہلاتی اُس کے ساتھ چل دی۔
_______________
“یہ تم کیا بکواس کر کے آئی تھی کل،تُمہیں بھی پتہ ہے کہ وہ کس صدمے سے گُزر رہی ہیں پھر بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اگلے ہی دن ارمائز نے اُسے جا لیا تھا جو کہ اُسکی بات پر تلخی سے مُسکرائی۔
“مُجھے تو اُن کے چہرے پر کسی صدمے کے نشان نہیں ملے ،شاید تُمہاری دلجوئی سے وہ کافی حد تک سنبھل گئی ہو گئیں آخر اتنے قریب ہو کر دے رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آئی کانٹ بلیو دس تُم ایسا کیسے کہہ سکتی ہوں،یہ جانے بنا کہ وہ کتنے دُکھ میں ہیں،اور تُم بنا احساس کئے کہ جا کر اُن کا دل بہلاؤ اوپر سے بکواس کر رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ تاسف سے دیکھتے ہوئے بولا۔
“تُم جو اُنکا دل بہلانے کے لئے وہاں میرا کیا کام،پہلے بھی کُچھ کم پیار نہیں جتاتے تھے تُم اب تو پھر ہمدردی لے کر پیار وصول کیا جا رہا ہے سابقہ شوہر کے بھائی سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا فضول بک رہی ہو،اب اگر ایسا کُچھ گھٹیا بولا نہ تو پھر دیکھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز غُصے میں آیا ۔
“تو کیا غلط کہہ رہی ہوں،طلاق ہو گئی نہ تو پھر کیوں رہ رہی ہیں وہ روشن پیلس میں اب تو تم اس کے دیور اور وہ تُمہاری بھابھی نہیں ہیں تو پھر کیوں دو دنوں سے آفس سے چھٹی کئیے اس کے دل بہلانے کا سامان کر رہے ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”طائشہ کے نہ صرف لہجے بلکہ آنکھوں میں بھی امروش کے لئے صاف نفرت محسوس کی جا سکتی تھی ارمائز تو ہکا بکا اسے دیکھ رہا تھا جو بلکل بدلی ہوئی طائشہ تھی نفرت اور شک کے پانی میں ڈوبی ہوئی۔
“تُم آج کے بعد مُجھے اپنی شکل مت دیکھانا ورنہ آج ضبط کیا ہے پھر نہیں کرونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ درشت لہجے میں بولا اور اس پر ایک نفرت بھری نگاہ ڈالتا یہ جا وہ جا۔طائشہ نے غُصے سے ٹیبل پر پڑے گلاسوں کو دیوار پر دے مارا۔
______________
ارمائز غُصے سے بڑھا سیدھا گھر آیا تھا آگے نگینہ پھوپھو کو انفال بیگم اور ثقلین آفندی کے ساتھ بیٹھے دیکھ کر انکی طرف آ گیا اور نگینہ پھوپھو کی بات سُن کر اُسکا دماغ گھومنے لگا کہ جیسی بیٹی کی سوچ ویسی ماں کی تھی جو کہہ رہی تھیں ۔
“میں تو پہلے ہی ثقلین بھائی کو منع کیا تھا کہ یہ رشتہ نہ کرے سہی جوڑ نہیں کہاں میرا بھتیجا شائز ایک قابل ڈاکٹر اور کہاں یہ بی اے پاس امروش،اُٹھنے بیٹھنے کی بھی زرا تمیز نہیں کہ کیسے ہائی کلاس لوگوں میں رہا جاتا،بہت اچھا کیا شائز نے اپنے لیے ایک قابل لڑکی چُنی،آخر میرا بچہ کب تک زبردستی کا ڈھول بجا سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نگینہ پھوپھو ثقلین صاحب کی اکلوتی بہن تھیں اور نخرہ اور غرور تو شروع سے بہت تھا آگے انکی اکلوتی بیٹی طائشہ بھی ویسی تھی بس احد اور ماحد اچھے تھے جو لندن میں زیر تعلیم تھے۔
“نگینہ تب اُسے امروش پسند تھی تب ہی ہم نے رشتہ کیا تھا کوئی زور زبردستی نہیں کی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انفال بیگم سے رہا نہ گیا تو بول اُٹھیں۔
“پتہ ہے مجھے جتنی پسند تھی تبھی رُخصتی کروائے بغیر بھاگ گیا اور آنے کا نام بھی نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نخوت سے بولیں۔انفال بیگم گہرا سانس لے کر چُپ کر گئیں کہ انکو سمجھانا نا ممکن تھا۔
“اب کیا سوچا آپ نے بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کہ وہ کب سے خاموش بیٹھے ثقلین آفندی کی طرف متوجہ ہوئیں۔
“کس بارے نگینہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“امروش کے بارے،کب تک رکھنا اب اُسےیہاں ۔۔۔۔۔۔۔”انکی بات پر تینوں نے کُچھ حیرت سے دیکھا تھا۔
“کیا مطلب ہے تُمہاری بات کا،بیٹی ہے وہ ہماری یہ گھر اُسکا بھی ہے،کہاں جانا اُس نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آپ تو لگتا بہت بھولے ہیں بھائی یا امروش کی محبت میں بہت کُچھ نظر انداز کر رہے ہیں جانتے نہیں کہ امروش ایک جوان لڑکی ہے وہ ایسے کیسے رہ سکتی یہاں،ارمائز کے ہوتے ہوئے چلو پہلے تو دونوں میں ایک دُنیاوی رشتہ تھا بھابھی اور دیور کا،اب وہ ختم ہو چُکا ہے تو دونوں کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نگینہ پھوپھو کی بات پر ارمائز کا چہرہ ضبط کے مارے چہرہ سُرخ ہوا تھا۔انفال بیگم نے تاسف سے ثقلین آفندی کو دیکھا جن کے چہرے پر بھی ناگواریت آئی تھی۔
“تُم جانتی ہو کہ وہ میری بیٹی ہے اور ارمائز میرا بیٹا،مُجھے دونوں کا پتہ ہے اس لئے تُمہیں اس چیز کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ایک رشتے کے ختم ہونے سے سارے رشتے ختم نہیں کر دئیے جاتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آپکو شاید میری بات بُری لگی پر میں تو سچ کہہ رہی ہوں لوگ بھی طرح طرح کی باتیں بنائیں گئے کہ دونوں جوان ہیں اور دوسرا آپ یوں تو ساری عُمر اسے بٹھا نہیں سکتے،ایک نہ ایک دن تو شادی کرنی نہ اُسکی تو ابھی کیوں نہ کوئی رشتہ دیکھ کر کر دی جائے،طلاق یافتہ ہے جتنی جلدی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بس پھوپھو بہت ہو گیا،آپ اپنے مشورے اپنے پاس رکھیں ہمیں بہتر پتہ کیا کرنا ہم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کی برداشت ختم ہو چُکی تھی۔انفال بیگم اور ثقلین آفندی نے ارمائز کو غُصہ کنڑول کرنے کا اشارہ دیا تھا۔جو بھی تھا آخر نگینہ پھوپھو بڑی تھیں۔
“ارمائز تُم تو آج کے بچے ہو تُمہیں کیا پتہ اس اونچ نیچ کا،تو کیا غلط کہا میں نے،شادی بھی تو کرنی نہ اُس کی ایک دن تو اب کرنے میں کیا حرج ہوگا،میری تو دُعا ہے امروش کے لئے کوئی کنوارا مل جائے پر مُشکل ہے طلاق کا داغ لگ چُکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ تاسف سے بولیں۔ارمائز مُٹھیاں بھینچ کر خُود پر ضبط کرتا ہوا جانے لگا۔
“سچی بات تو یہ ہے مُجھے ڈر ہے کہیں امروش چالاکی کر کے ہمارے معصوم ارمائز کو نہ پھانس لے ہمدردی لیتی لیتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انکی بات پر نہ صرف سیڑھیاں چھڑتے ارمائز کے قدم رُکے تھے بلکہ اپنے کمرے سے نکلتی امروش بھی ساکت ہوئی تھی۔
“نگینہ کیا اول فُول بک رہی ہو،کُچھ بولنے سے پہلے سوچ بھی لیا کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ثقلین آفندی نے ناگواری سے ٹوکا۔
“بھائی تو لگتا امروش کی محبت میں اندھے بن رہے ہیں،بھابھی میں آپکو کہہ رہی ہوں کہ نظر رکھیں دونوں پر،طلاق یافتہ لڑکیاں بہت تیز ہوتیں ،ہمارا بچہ تو ہے بھی معصوم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آپ فکر نہ کرے ہمیں اپنے بچوں پر نظر رکھنے کی ضرورت نہیں ، جہاں تک امروش کی شادی کی بات تو ہے تو وہ ہمیں بھی فکر ہے ہم بہت جلد اُس کے جوڑ کا ڈھونڈ کر بڑی دھوم دھام سے اُسے رُخصت کریں گئے میں چائے لاتی ہوں۔۔۔۔۔”انفال بیگم تحمل سے کہتیں اُٹھ گئیں۔نگینہ بیگم کُچھ پُر سکون سی ہو کر بیٹھ گئیں جس کام کے لئے وہ آئیں تھیں کافی حد تک وہ اُس میں کامیاب ہو چُکیں تھیں دراصل ارمائز اور امروش کی بے تکلفی اُن کو پہلے بھی ایک آنکھ نہیں بھاتی تھی اب تو پھر وہ طلاق لے کر آزاد ہو چُکی تھی اُنکو تین دنوں سے اسی بات کا دھڑکا لگا ہوا تھا کہ کہیں ارمائز ہمدردی میں آگے نہ نکل جائے۔یہی بات طائشہ کے کان میں ڈالی ہوئی تھی جس سے طائشہ کو امروش زہر لگنے لگ گئی تھی۔
ارمائز اُنکی بات کو سوچتا پلٹا کہ امروش کو دروازے کے پاس ساکت دیکھ کر اُسکی طرف بڑھا جو آنکھوں میں آنسو لئے اپنے کمرے میں بھاگ گئی شاید نہیں یقیناً وہ سب سُن چُکی تھی۔ارمائز نے جلدی سے اُسے روم کا ڈور بند کرنے سے روکا تھا اور اُسکا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کو کیا۔
“آپ جانتی ہیں نہ پھوپھو کی نیچر کو وہ کیسا مائینڈ رکھتی ہیں پھر اُنکی باتوں کو دل پر لینے اور پریشان ہونے کا فائدہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے نرمی سے کہا پر وہ اُسکا ہاتھ جھٹک گئی۔
“آپ نے سُنا نہیں پھوپھو نے کیا کہا تھا کہ اب آپکا اور میرا کوئی رشتہ نہیں رہا جس کی بُنیاد پر آپ مُجھ سے یوں فری ہوں ،بہتر اسی میں ہے کہ اب آپ مجھ سے دُور ہی رہے بلکہ آپ نہیں مُجھے اب اس گھر سے چلے جانا چاہیئے،جس نام اور رشتے کے عوض رہ رہی تھی جب وہی سب ختم ہو گیا تو اب میرا کوئی جواز نہیں بنتا اس گھر میں رہنے کا۔۔۔۔۔۔۔”
امروش آنسو صاف کرتی فیصلہ کُن انداز میں بولی اور دروازہ بند کر دیا۔ارمائز اُس کے لب و لہجے پر غور کرتا جیسے کسی نتیجے پر پہنچا تھا۔گہری سانس بھرتا واپس لاؤنج میں آیا جہاں انفال بیگم چائے پیش کر رہی تھیں ۔
“آپ نے ٹھیک کہاں پھوپھو کہ اب یوں بنا کسی رشتے کہ میرا اور اُنکا اس گھر میں رہنا ٹھیک نہیں ،اس لئے میں نے اُسکا حل ڈھونڈ لیا ہے،مُجھے امروش سے شادی کرنی ہے اور ہر حال میں کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے جتنے سکون سے کہا تھا سب کو اُتنے ہی زور کا جھٹکا لگا تھا۔سب ہکا بکا اُسکی شکل دیکھ رہے تھے جو اپنی بات کہہ کر سب پر نظر ڈالتا چلا گیا اور انفال بیگم اور ثقلین آفندی سر تھامے نگینہ بیگم کا واویلا سُنتے رہے۔