No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
ناول
“بس تُو ہی پیا”
از امرین ریاض
Episode 01
“ماما،ماما کہاں ہیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ انفال بیگم کو آوازیں دیتا کچن میں آیا تھا جہاں وہ اُس کے اندازے کے مُطابق نفیسہ بُوا کے ساتھ مل کر ڈنر بنا رہی تھیں۔
“کیا ہوا ارمائز،کیوں اتنا شور مچا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انفال بیگم کے پوچھنے پر وہ جو پہلے تپا ہوا تھا اب کہ جل کر رہ گیا۔
“شور نہ مچاؤں تو کیا کروں میری زندگی کے اتنے اہم فیصلے مُجھے کسی اور کے مُنہ سے سُننے کو مل رہے ہیں اس سے زیادہ ظُلم کیا ہوگا میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بُوا آپ بریانی کو دم دے کر سلاد کاٹ لیجئے گا اور سالن کی آنچ ہلکی کی ہے میں نے دو منٹ بعد سالن بھی اُتار لیجئے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انفال بیگم اُسکی دہائی کو نظر انداز کرتیں نفیسہ بُوا سے بولیں تو ارمائز جل کر خاکستر ہو گیا۔
“ماما آپ میری تو سُن لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“سُن رہی ہوں میں تُمہاری بات،شور تو یوں مچا رہے ہو جیسے تُمہیں پتہ ہی نہیں تھا اس فیصلے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے گھورتیں لاؤنج میں آئی تو وہ بھی انکے پیچھے چلا آیا۔
“پر میں نے تو کہاں کے میں ابھی منگنی نہیں کروانا چاہتا،رُک جائیں کُچھ ماہ ابھی دو ماہ تو ہوئے مُجھے آفس جوائن کیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو کیا ہوا منگنی ہی ہو رہی نہ شادی تو نہیں اور ویسے بھی یہ تُمہارے بابا اور تُمہاری پھوپھو کا فیصلہ ہے مُجھے مت گھسیٹو اس میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انفال بیگم ہری جھنڈی دکھاتیں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔ارمائز خود کو ہی کوس کر رہ گیا کس منحوس گھڑی میں اس نے طائشہ سے رشتے جُڑنے کی حامی بڑھی تھی۔وہ خود کو لعن طعن کرتا اپنے کمرے کی طرف بڑھا کہ ساتھ والے کمرے کا دروازہ کُھلا دیکھ کر کُچھ سوچتا دروازہ ناک کرتا کمرے میں داخل ہوا جہاں امروش حسب معمول کسی کتاب میں بُری طرح محو تھی کہ ارمائز کے کمرے میں داخل ہونے کا نوٹس لئے بغیر کتاب میں کھوئی تھی۔
“میری خلاف اتنی بڑی سازش تیار کی جا رہے ہے اور آپ کو کتابوں سے ہی فرصت نہیں۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز کی آواز پر وہ ڈر کر اُچھلی تھی کہ کتاب اسکے ہاتھ سے چھوٹتی زمیں بوس ہو گئی۔ارمائز اُسکی حالت سے محفوظ ہوتا ہنس دیا مگر اُسکی گھوریوں سے اپنی مُسکراہٹ دبا گیا۔
“کبھی تو تُم بھی انسانوں کی طرح رہا کرو ابھی میری جان نکل جاتی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو کیا کم از کم میری منگنی تو پوسٹ پون ہو جاتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے منہ لٹکا کر کہا تو مُسکرادی۔
“اوہ تو جناب کو خبر مل چُکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش جیسے سب سمجھ گئی تھی۔
“جی اور خبر بھی دُشمن اوّل سے،واٹس ایپ پر سٹیٹس کی صُورت میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جل کر بولا تو امروش کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ارمائز بے ساختہ ہی اُسے دیکھے گیا جس کے ہنسنے سے گال پر ڈمپل گہرے ہو گئے تھے۔
“آپ ہنس رہی ہیں ،اکلوتے دیور سے کوئی ہمدردی نہیں ،چلو کوئی نہیں جب بھائی گوری میم امریکہ سے لائیں گئے نہ تو میرے ہی آئیڈیاز پر آپ اُسے یہاں سے نکلوا سکیں گیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا تو امروش نے ایک گھوری سے نوازاہ۔
“تُمہاری یہ حسرت کبھی پوری نہیں ہو گی کیونکہ شائز کسی لڑکی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پُورے یقین سے بولی تھی۔بات تو سچ تھی کہ شائز لڑکیوں سے زرا فاصلے پر ہی رہتا تھا اور ڈاکٹری کی تعلیم نے اُسے بلکل خُشک بنا دیا تھا۔امروش سے بھی وہ ایسے بات کرتا تھا جیسے بیوی نہ ہو کزن ہی ہو بس۔
“ارے اتنا یقین آپکو اپنے سرتاج پر،یہ نظر میں رہے اُن کے ساتھ بہت خُوبصورت ڈاکٹرز کام کرتی ہیں،یہ جب میں لاسٹ ایئر امریکہ گیا تھا تب ایک دن میں نے بھائی کے ہسپتال چھاپہ مارا تو بھائی اتنی حسین کو لیگ کے ساتھ بیٹھے گپیں مار رہے تھے کہ کیا بتاؤں،اُف کیا گولڈن بال تھے ،گرے آنکھیں اور دلکش مُسکراہٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ارمائز دفعہ ہو جاؤ تُم،کیوں ورغلاتے ہو مُجھے تُمہیں پتہ میں پھر اُن سے پوچھتی ہوں تو وہ ڈانٹ کے رکھ دیتے ہیں کہ میں کس احمق کی باتوں پر ایمان لے آتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا بھائی نے مُجھے احمق بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیرت سے اُسکی آنکھیں کھل گئیں۔امروش نے شرارتی مُسکراہٹ لبوں میں دبا کر سر اثبات میں ہلایا تو ارمائز سر نفی میں ہلاتا مُسکرا دیا۔
“نہ بھابھی دُنیا ادھر سے اُدھر ہو جائے پر بھائی مُجھے احمق نہیں بول سکتے دو بھائیوں میں پُھوٹ ڈلوانے کی کُوشش آپکی بُری طرح ناکام ہو گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے نہ مانو ،مُجھے کیا،شائز نہیں تو طائشہ تو کئی بار احمق بول چُکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کہ امروش نے اُسکی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا جو بلکل اُسکی سوچ کے مُطابق رزلٹ آیا تھا۔
“اُس فسادن اور ڈرامہ کوئین کا تو نام بھی نہ لیں آپ،اتنی ُمشکل سے یونی کو بائے بول کر اُس سے جان چھڑوائی تھی اب پھر اُسے میرے سر نازل کرنے لگے ہیں سب،وہ بھی ساری عُمر کے لئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ایسے تو نہ ڈرامے کرو تُم میرے سامنے جیسے میں جانتی نہیں،شُروع سے تُم دونوں کا نام ساتھ لیا گیا ہے اور اب بھی تُم سے پوچھ کر ہی منگنی کی ڈیٹ ماموں نے فائنل کی ہے اور جہاں تک میری اطلاع جناب کو وہ پسند بھی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش نے بیڈ سے کپڑے اُٹھاتے ہوئے اُسے لتاڑا تو وہ ُمسکراتا سر کُھجانے لگا۔
“بات یہ نہیں،دراصل میں ابھی اس زمعداری سے بچنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ابھی کہاں زمعداری پڑے گی تُم پر،منگنی کے بعد بھی تُم لوگ ایسے ہی رہو گئے،ہاں بس ایک بات ہو گی پھر وہ تُم سے حق سے شاپنگ کروایا کرے گی جس چیز کا جنون ہے اُسے کہ ارمائز ہو اور بس وہ ہر ٹائم شاپنگ کے لئے تیار،ویسے بھی مُجھے تو اپنی دیورانی ہر لحاظ سے قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش وارڈرب میں کپڑے سیٹ کرتی ساتھ بول بھی رہی تھی جبکہ ارمائز صوفے کی پُشت پر سر ٹکاتے اُسے نظروں کے فوکس میں رکھ کر دیکھنے لگا جو پنک گرم سُوٹ میں ملبوس سکن وُول کی شال کندھوں پر اوڑے لمبے سیاہ گھنے بالوں کو چٹیا کئے سادگی میں بھی خُوبصورت لگ رہی تھی۔ارمائز اُسے دیکھتے دیکھتے ہی نیند کی وادیوں میں کھو چُکا تھا۔امروش الماری سیٹ کر کے اُسکی طرف پلٹی تو اسے سوتے پاکر مُُسکرادی اور بنا شور کئے کمرے کا دروازہ بند کرتی باہر چل دی جہاں انفال بیگم ارمائز کے رُوم سے نکلتیں اُسکی طرف متوجہ ہوئیں۔
“ارمائز کہاں گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ میرے روم میں تھا وہی صوفے پر ہی سو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“دیکھو زرا یہ لڑکا بھی نہ،اب ڈنر کا ٹائم ہو گیا ہے تو سو گیا،اُوپر سے منگنی کی وجہ سے مُجھے پریشان کر رہا ہے کہ ابھی نہیں کروانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انفال بیگم اُس کے رویعے سے پریشان ہو گئیں تھیں۔
“ارے مُمانی جان آپ کو تو پتہ وہ ایسے ہی تنگ کرتا ورنہ خُود اُس نے طائشہ کا نام لیا تھا اور دونوں کی انڈر سٹینڈ ینگ بھی بہت ہے اور ایک دُوسرے کو پسند بھی کرتے ہیں بس ہمیں نخرہ دکھا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش جو اُسکی رگ رگ سے واقف تھی نرمی سے بولتی انفال بیگم کو پُر سکون کر گئی۔ارمائز انکا چھوٹا اور لاڈلہ بیٹا تھا۔روشن پیلس کی اصل روشنی تھا وہ اس لئے کوئی فیصلہ بھی اُس کی مرضی بغیر نہیں کیا جاتا تھا۔انفال بیگم اور ثقلین آفندی جن کے بس دو ہی بیٹے تھے اپنے دونوں بچوں سے بہت پیار کرتے تھے کہ کبھی اُن پر زبردستی نہیں کی گئی تھی۔آج سے دو سال پہلے جب شائز اور امروش کا نکاح ہوا تھا تب بھی شائز کی رضا مندی لے کر ہی نکاح کیا تھا اور رُخصتی تین سال بعد جب وہ امریکہ سے اپنا کورس مکمل کر کے آئے گا۔امروش ثقلین آفندی کی خالہ زاد بہن کی بیٹی تھی جو کہ اکلوتی تھی اور ساری زندگی ثقلین آفندی کو ہی اپنا بھائی سمجھا تھا پھر جب اُنکے شوہر کی وفات ہوئی تو بھی ثقلین آفندی نے ایک بھائی کی طرح انکا ساتھ دیا اور اپنے بیٹے شائز کے لئے امروش کا ہاتھ مانگ لیا۔انفال بیگم بھی بہت سُلجھی ہوئیں اور نیک دل تھیں جب شائز نے ہاں کی تو وہ بھی خُوشی سے اُسے قبول کر گئیں۔نکاح کے ایک سال بعد جب ثانیہ بیگم کا انتقال ہوا تو انفال بیگم اور ثقلین آفندی نے امروش کے ددھیال پر اعتبار نہ کرتے ہوئے شائز کے بغیر ہی رُخصت کروا کر روشن پیلس لے آئے تھے۔ارمائز جو تب ہی امریکہ سے اپنا ایم بی اے کمپلیٹ کر کے آیا تھا اُسے بھی خُود سے چار سال چھوٹی بھابھی بہت پسند آئی تھی اس لئے اس سے دوستی کر کے اسے بہلا لیا تھا اور پھر شائز بھی کبھی کبھی کال کرتا تھا دُوسرا اُسے اس روشن پیلس میں ایک بیٹی کا درجہ ملا تھا۔
“_________________“
“بھابھی میں تو بہت خُوش ہوں کہ نیکسٹ سنڈے میری منگنی پر لگتا آپ کے دیور کو کوئی خاص خُوشی نہیں ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آج شاپنگ کرنے جانا تھا اس لئے امروش نے طائشہ کو صُبح سے ہی بلوا لیا تھا اور وہ تب سے ہی ارمائز کی ناک میں دم کر رہی تھی۔
“میرا دیور بھی بہت خُوش پر وہ تُمہاری طرح تھوڑی کہ یوں سب کے سامنے ہی خُوش ہوتا پھرے کوئی شرم و حیا بھی کوئی چیز دیورانی جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش نے جھٹ سے ارمائز کی طرف داری کی تو وہ منہ بسور کر اُسے دیکھنے لگی جو لا تعلق سا بیٹھا موبائل پر مصروف تھا۔
“دیکھیں تو زرا کیسے اگنور کر رہا مُجھے،ایک دفعہ منگنی ہو لینے دے پھر سیدھا کرونگی اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی لاتعلقی پر کُڑھنے لگی۔
“خبردار اگر میرے دیور پر کوئی ظلم کرنے کی کوشش کی ورنہ میں بہت بُری جھٹانی کا رول پلے کرونگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“دیکھ لیں بھابھی اس لڑکی کی زبان اور اسکے نیک ارادے،ابھی بھی وقت ہے روک لے اس ظلم سےکُچھ تو ترس کھائیں مُجھ معصوم پر اتنی تیز لڑکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے دل جلانے والی مُسکراہٹ لبوں پر لا کر کہا تو امروش ہنس دی جبکہ طائشہ حسب معمول تپ گئی تھی۔
“تُم اور معصوم ،شُکر کرو میں مان گئی ورنہ اور کوئی بھی خوبصورت لڑکی آپکو لفٹ نہ کرواتی مسٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تُمہیں کس نے کہا کہ تم شادی کے لئے ہاں نہ کرتی تو میں کنوارہ رہ جاتا،ایسا کرو آزما کے دیکھ لو،کرو انکار تاکہ میں تُمہیں بتا سکوں کہ محترمہ آپ جیسی ہزاروں مل سکتی بس بھابھی جیسی کوئی نہیں مل سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آخر میں امروش کو دیکھ کر ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولا تو امروش اُسکا مذاق سمجھتی اُس کے کندھے پر ہلکا سا تھپڑ مار گئی۔جبکہ طائشہ کا منہ جلنے لگا تھا ارمائز کا یہ مذاق اُس کے دل پر لگا تھا اور ایک شک کا ناگ اُس کے سینے میں پھڑپھڑانے لگا تھا۔
“طائشہ تم جانتی ہو یہ بہت بدتمیز ہے،اچھا اب گاڑی نکالو تم ،میں مُمانی کو لے کر آتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”امروش کہتے ہوئے چلی گئی تو ارمائز اُسکی طرف دیکھنے لگا جو یکدم سیریس ہو گئی تھی۔
“تم کہاں کھو گئیں،ڈونٹ وری تم ہی گلے میں پڑنے والی ہو،بھابھی جیسی تو خُوش قسمت لوگوں کو ملتی ہیں اور وہ شائز بھائی ہیں،ہمارے نصیب ایسے کہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ شرارت سے مُسکراہٹ دباتا باہر کی جانب چل دیا۔طائشہ جل کر رہ گئی اور اسکی جلتی نگاہیں امروش پر ٹک گیئں جو کہ مُسکراتی ہوئی انفال بیگم کے ساتھ آ رہی تھی۔
“_____________“
منگنی کی تقریب بڑے پیمانے پر روشن پیلس کے دو کنال پر مُشتمل لان میں کی گئی تھی جہاں بہت سارے لوگوں کو انوائٹ کیا گیا تھا۔آزمائر نیوی بیلو پینٹ کوٹ میں اپنی مردانہ وجاہت لئے غضب ڈھا رہا تھا تو طائشہ بھی روایتی سکائے کلر کی میکسی میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔دونوں کے مُسکراتے چہرے بتا رہے تھے کہ دونوں خُوش تھے۔
“ایکسیوزمی مس بیوٹی فُل آپ نے یہاں میری بھابھی کو دیکھا ہے جو ہمیشہ رف سے حُلیے میں رہتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ڈنر شُروع ہوا تو امروش ان دونوں کے پاس اسٹیج پر آ گئی۔ازمائر جس نے پہلی دفعہ اُسے ہیوی بیلو ڈریس اور میک اپ میں دیکھا تھا شرارت سے بولا تو امروش مُسکرادی جبکہ طائشہ کا مُنہ جو تھوڑی دیر پہلے خوشی سے چمک رہا تھا اب یکدم سنجیدہ ہو گیا۔
“بہت تیز ہو تم،میری دیورانی کو تو دیکھو لگ ہی نہیں رہا کہ یہ لڑاکی سی طائشہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیسے دیکھوں اُسے،آپ سے نظر ہٹے گی تو اُسے دیکھوں گا نہ،آپ تو قیامت لگ رہی ہیں ،ڈاکٹر صاحب کو اپنی سیلفی اُتار کر سینڈ تو کریں سچی پہلی فلائٹ سے آ کر رُخصتی کا شور نہ مچایا تو نام بدل دیجیے گا اس بہانے میرا بھی بھلا ہو جائے گا ورنہ پہلے ہی کہہ دیا گیا ہے کہ آپ لوگوں کے ساتھ ہی میری شادی ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مُسکراتے ہوئے بولا تو امروش کے لبوں پر شرمیلی سی مُسکان سج گئی اور اسے گھورتے ہوئے اُٹھنے لگی کہ ارمائز نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر روکا تھا۔
“ایک سیلفی تو بنتی ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔”ارمائز نے کہتے ہوئے اپنا آئی فون نکالا تھا۔جبکہ یہ سب دیکھتی طائشہ صبر کے گھونٹ بھر کر رہ گئی تھی اور اسے امروش زہر لگ رہی تھی جو ارمائز کے ساتھ تصویر بنواتے پتہ نہیں اُسکی کن باتوں پر سُرخ ہو رہی تھی۔
“مل گئی فرصت۔۔۔۔۔۔”امروش کے جانے کے بعد وہ اسکے قریب ہوا تو طائشہ نے طنزً کہا۔
“ارے تُمہارے لئے تو فُرصت ہی فرصت ہے،یہ دیکھو بھائی کو بھابھی کی تصویریں بھیجی ہیں دیوانہ ہو جائیں گئے اور جلد واپسی کو دوریں گئے اس سے ہمارا کام بھی آسان ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کونسا کام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جو بھابھی کے نام پر ہی اٹکی تھی اُسکی بات پر نہ سمجھی سے دیکھنے لگی تو ُمسکرایا۔
“یہی بھابھی کو دُلہن کے روپ میں دیکھنے کا اور اُن کے ساتھ اُنکی دیورانی کو بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”طائشہ نے اُسکی بات پر غور کئے بغیر اُسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تھا جہاں امروش فون پر لگی تھی اور ازمائر کے ہونٹوں پر شرارتی مُسکان تھی جو اس نے شائز کو امروش کا نام لے کر مِسنگ والا میسج دیا تھا جبکہ طائشہ اس مُسکراہٹ کو اپنے مطلب پر لیتی نفرت بھری نگاہوں سے مسکراتی امروش کو دیکھنے لگی۔
