111.6K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

” میں حریم کے گاؤں جا رہا ” اشعر وقار جالندھر سے کہہ رہا تھا انھوں نے چونک کے اسے دیکھا ” وہاں تمہیں خطرہ بھی ہو سکتا ہے میں یہ رسک نہیں لے سکتا ” انھوں نے منع کر دیا۔ اشعر بےچین ہو گیا ” بابا پلیز آپ تو سمجھے مجھے ۔۔ میں حریم کو واپس لانا چاہتا ہوں ۔۔ میرے لئے وہ کتنی امپورٹنٹ ہو گئی ہے یہ تو معلوم ہے نا آپ کو ۔۔ ” وقار اسے دیکھنے لگے ” ٹھیک ہے لیکن تم اکیلے نہیں جاؤ گے ۔۔ تین چار گارڈز کے ساتھ جاؤ گے ۔۔ ” اشعر مسکرا پڑا کتنی فکر تھی اس کے بابا کو اس کی ۔۔
√√√√√
گاڑی مختلف راستوں سے ہو کے جا رہی تھی ۔۔ یہ راستے اس کے اپنے گاؤں کی طرف جا رہے تھے ۔۔ کچھ دھندلی یادیں اس کے ذہن سے ٹکرانے لگی۔ ایک کھنکتی ہوئی آواز ۔۔ بیک ویو مرر سے آنکھوں کا تصادم ۔۔ کچھ لوگ جو اشعر کو جانتے تھے رک رک کے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔ حیرت کا اظہار کر رہے تھے ۔۔ کچھ منہ کھولے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔ ” ارے یہ تو اپنا اشعر ہے ۔۔اپنا یار ” کسی کی آواز پہ وہ چونکا تھا اس نے ڈرائیور سے گاڑی روکنے کو کہا تھا ۔۔ گاڑی رکی وہ نیچے اترا تو دو مسلح آدمی بھی اس کے ساتھ اتر گئے ۔۔ وہی آدمی اب حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ” اوئے ہمارا اشعر تو بڑا آدمی بن گیا ہے۔ ۔ ” دوسرا کہنے لگا ” جینٹلمین ” اشعر کے لب مسکرا پڑے وہ انھیں دیکھ رہا تھا دھندلے چہرے اس کے ذہن میں ا نے لگے ۔۔ مطلب یہ حریم کا ہی نہیں اس کا بھی گاؤں تھا ۔۔ اچانک ان میں سے ایک لڑکا اس کے طرف آ نے لگا قریب آ کے اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے چھونے لگا ” اشعر ۔۔ میرا یار ۔۔ میرا جگر تو زندہ ہے ” وہ اسے گلے لگائے رونے لگا اشعر حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ” ہم۔سمجھے تھے ہمارا یار مر گیا ۔۔ سردار سالار نے مار دیا تھا تجھے ۔۔ ” وہ رو رہا تھا ۔۔ وہی دھندلے چہرے جو اسے حریم سے الگ کر رہے تھے ۔۔ ” حویلی لے چلو گے مجھے ” اشعر نے اسے کہا تو وہ اثبات میں سر ہلانے لگا اسے گاڑی میں بٹھا کے وہ بھی بیٹھ گیا ۔۔ اور گاڑی پھر سے ان رستوں پہ چلنے لگی ۔۔ وہ باہر دیکھ رہا تھا ۔۔ گاڑی حویلی کے گیٹ پہ رکی تو گارڈ ان۔کی طرف دیکھنے لگا اس لڑکے نے جوش سے اسے کہا ” یہ اپنا اشعر ہے ۔۔۔ حویلی والوں کا مہمان ہے یہ ” گاڑی آگے بڑھی وہ گاڑی سے نکلا تو وہاں موجود کچھ ملازم جو اسے جانتے تھے حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے ۔۔ سوٹ بوٹ میں ملبوس وہ اشعر تو کوئی اور ہی لگ رہا تھا ۔۔ سب حیرت زدہ تھے اور سب سے زیادہ حیرت زدہ وہ خود تھا ۔۔ جبکہ وہ لڑکا بول رہا تھا ” ہمارا اشعر زندہ ہے ۔۔ شہری بابو بن گیا ہے ۔۔ شیغر سے بڑا آدمی بن کے آیا ہے ۔۔ ” اس کی نظر سامنے پڑی جہاں پہلی دفعہ اس کی نظر حریم پہ پڑی تھی ۔۔ اور وہ نظریں ہٹانا بھول گیا تھا ۔۔ ” حریم ” اس نے زیر لب دہرایا ۔۔ کچھ دھندلے لمحے ۔۔ کوئی انہیں گھسیٹتا ہوا حویلی کے اندر لے کے جا رہا تھا ۔۔ دھندلی حریم کے چہرے پہ زخم تھے اور اس کے بال کھینچ رہا تھا وہ ۔۔ اس نے اپنا سر تھام۔لیا ۔۔ کسی نے اسے اشعر کے آنے کی اطلاع دی تھی وہ بھاگتی ہوئی حویلی سے باہر آئی تھی اور اب وہیں رکی اپنی اتھل پتھل ہوتی سانسوں کو سنبھالتی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔وہ بھی رک کے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ بوا آگے بڑھی تھی ” میرا اشعر پتر آیا ہے ۔۔ مٹھائیاں بانٹو ” وہ بوا کو دیکھنے لگا ایک دھندلا سا چہرہ اسے یاد آیا تھا وہ ان کے ساتھ اندر حویلی کی طرف بڑھ رہا تھا حریم۔سائیڈ پہ کھڑی بے خودی میں اسے دیکھ رہی تھی بوا دونوں کو لیے اندر آئیں تو مہناز آگے بڑھی اور اشعر کو خوش آمدید کہنے لگی ۔۔ ان کی نظر سامنے وہیل چئیر پہ بیٹھے شخص پہ پڑی ایک آواز اس کے کان سے ٹکرائی تھی ” لے جاؤ اسے بند کر دو ۔۔ ” ‘ بابا سائیں نہیں ۔۔ پلیز اشعر کو کچھ مت کہے بابا سائیں ” وہ اس جگہ کو دیکھ رہا تھا جہاں حریم۔کو زور کا تھپڑ پڑا تھا ۔۔ وہ وہیں رک گیا ۔۔ اس کا دل ڈوبنے لگا تھا اسے سمجھ نہیں۔ ا رہا تھا آگے بڑھے یا وہیں رکے ۔۔ وہ چپ چاپ کھبی اس شخص کو دیکھتا کھبی اس جگہ کو ۔۔ حریم اس کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ رہی تھی۔ ۔ درد پھیل رہا تھا اس کے وجیہہ چہرے پہ ۔۔ ” میرے پاس آؤ اشعر پتر ” اس شخص کی آواز آئی تھی ۔۔ ” میں معافی کے لائق خود کو نہیں سمجھتا لیکن کیا مجھے معاف کر دو گے ” وہ وہیں دو زانو گرتے ہوئے بیٹھ گیا ۔۔ دھندلی یادیں دھندلی باتیں۔ ۔ اس نے اپنا سر پکڑ لیا حریم گھبرا کے اس کے پاس بیٹھ گئی ” اشعر ” وہ سر اٹھا کے حریم کو دیکھنے لگا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ” اشعر ٹھیک ہو ؟” وہ حریم کو بے خودی میں دیکھے جا رہا تھا ۔۔ ہاتھ بڑھا کے اس کے آنسو کو اپنی انگلی کی پور سے صاف کرنے لگا ۔۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے ” حریم ۔۔ ” اس کا نام لیتا حریم کو وہ وہی اشعر لگا تھا ۔۔ وہی اشعر ۔۔ اس کا اشعر ۔۔ ” ی۔۔یہی جگہ ہے نا ۔۔ یہی جگہ جہاں ہماری پاک محبت کا قتل ہوا تھا ” حریم رو ہی پڑی ” ا۔۔ اشعر … ” سب آبدیدہ تھے ۔۔ وہ حریم کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیے دیکھ رہا تھا ” حریم ۔۔ دیکھو مجھے یاد آ گیا ۔۔ ” وہ رونے لگی ۔۔ سردار محمد یوسف بھی رو رہے تھے اشعر انھیں دیکھنے لگا ” آپ کیوں رو رہے ہیں ۔۔ یہی تو چاہتے تھے نا آپ تو اب ؟ آپ نے ہی حکم۔دیا تھا نا کہ مجھے مار ڈالے ۔۔ چھ گولیاں ماری گئی تھی مجھے چھ گولیاں ” حریم کو وہ لمحہ یاد آیا جب اشعر مسکراتا ہوا امید بھری آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ” مجھے معاف کردو اشعر پتر ۔۔ میں قاتل ہوں ۔۔ گنہگار ہوں تم سب کا ۔۔ مجھے معاف کردو ” وہ رو رہے تھے ۔۔ پھوٹ پھوٹ کے رو رہے تھے ۔۔ وہاں کھڑا ہر شخص دو سال پہلے کیے ہوئے اس ظلم کو یاد کر کے آبدیدہ تھا ۔۔
√√√√√°°°°°°√√√√√√
” مجھے لگا میں کھو چکی ہوں اپنے اشعر کو ” حریم اس کے کندھے پہ سر رکھے بیٹھی ہوئی تھی ” اور مجھے لگا میں پا چکا ہوں تمہیں ” حریم سر اٹھا کے اسے دیکھنے لگی اشعر بھی محبت پاش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ” حریم ہمارے نصیب میں شاید ایسے ہی ملنا لکھا تھا ۔۔اب ہم آخری سانس تک ساتھ رہے گیں۔ ۔ تب میں کمزور تھا شاید بہت کمزور ۔۔ سرداروں کا مقابلہ کرنا شاید میرے بس میں نہیں تھا ” حریم نے اس کے لبوں۔ پہ اپنی ہتھیلی رکھ دی ” ہشششششش تم میرے ہو اشعر ۔۔ میرے پاس ہو ۔۔ مجھے اور کچھ نہیں سوچنا ۔۔ بس کچھ بھی نہیں ۔۔ سب ایک ڈراؤنا خواب تھا جو ختم ہو چکا ” اشعر نے دھیرے سے اس کی ہتھیلی چومی اس کے بالوں میں اپنا چہرہ چھپا کے اسے اپنے قریب کر کے اس کی خوشبو اپنی سانسوں میں اتار رہا تھا ۔۔ حریم کا دل زور سا دھڑکا تھا ۔۔ ایک انوکھا خوبصورت احساس ۔۔ بنا کسی خوف ڈر کے ۔۔اس نے طمانیت سے اپنا سر اس کے کندھے پہ ٹکا دیا ۔۔
حویلی کی رونقیں بحال ہوگئی تھی شہر سے وقار ۔۔ شعیب ہمدانی اور جویریہ بھی آئے ہوئے تھے ۔۔ آخر کو حریم اور اشعر کی دھوم دھام۔سے شادی کے انتظامات چل رہے تھے وہ کیسے نہ آتے ۔۔
لڑکیوں کی جھرمٹ میں بیٹھی ہوئی تھی وہ اور اسے مہندی لگایا جا رہا تھا ۔۔ کسی لڑکی نے ا کے اس کے کان میں کچھ کہا اس کی آنکھیں تک مسکرانے لگی ۔۔ وہ جلدی سے اٹھ کے بالکونی میں آئی اور نیچے دیکھنے لگی جہاں اشعر کھڑا اوپر دیکھ رہا تھا ” نیچے آؤ ” اس نے آہستہ آواز میں اسے کہا وہ سر نفی میں ہلانے لگی اور اپنے مہندی لگے ہاتھ دکھانے لگی اسے ۔۔ وہ منتیں کرنے لگا تو وہ جلدی سے بالکونی سے نکل کے لڑکیوں کے بیچ سے ہوتی کمرے سے نکل گئی ” ارے دلہن بھاگ گئی ” لڑکیاں چیختی ہی رہ گئی ۔۔ وہ سیڑھیاں اترنے لگی اسے کچھ نہیں تھا پتہ بس اسے اپنے اشعر کے پاس پہنچنا تھا ۔۔ اشعر کے قریب آ کے اس کے گلے لگی اشعر نے اس کی اس ادا پہ اسے اپنے بازوؤں کے حصار میں لے لیا اور اسے لیے سائیڈ پہ آگیا تا کہ انھیں کوئی دیکھ نہ سکے ۔۔ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کے وہ اشعر کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اشعر اس کے حنا لگے ہاتھوں کو دیکھنے لگا ۔۔ ” میرا نام بھی لکھا ہے ؟” وہ پوچھنے لگا
” ڈھونڈ لو ” وہ اترا کے کہنے لگی وہ شرارتی سا اس کے لبوں پہ جھکا ” بتا دوں “
” ہششش ” حریم نے اسے دھکا دیا ” شرم کر لو کچھ ” وہ ہنسنے لگا ۔۔ ” تمہارے ہاتھوں پہ میرا نام بہت جچ رہا ہے ” حریم مسکرائی ” اور میری آنکھوں میں تمہاری محبت کا عکس جچ رہا ہے ” اشعر اس کے اس اظہار پہ سرشار سا ہو گیا ۔۔ ” میں جانے لگی اب ” وہ جانے کے لئے آگے بڑھی ” رکو نا ” اشعر کی آواز پہ اس کا دل کسی اور لے میں ہی دھڑکا تھا ۔۔ وہ رک کے اسے دیکھتی رہی ” میں تمہارے لئے ابھی کیا ہمیشہ ہر لمحہ رکنے کے لئے تیار ہوں ” اشعر نے اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھ دیے ۔ اب انھیں ہمیشہ ساتھ رہنا تھا ایسے ہی ۔۔ خوشیوں بھرے دن ان کے منتظر تھے ۔۔
محبت اور نفرت کی جنگ میں ہمیشہ جیت محبت کی ہوتی ہے ۔۔ ظالم اور مظلوم کی کہانی میں جیت ظالم کی ہو بھی جائے پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ وقت مظلوم کے ہاتھ بھی آتا ہے اور وہ جیت جاتا ہے ۔۔ اشعر اور حریم کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی تھی ۔۔ وہ ہارے نہیں تھے کھبی ۔۔ انھوں نے جنگ لڑی تھی ۔۔ وہ جیت بھی گئے ۔۔ کیونکہ محبت کھبی نہیں ہارتی ۔۔
میرا یہ ناول کیسا لگا آپ کو ۔۔ ضرور بتائیے گا
ختم شد