Rate this Novel
Episode 13
” اشعر ۔۔۔ مجھ سے دور مت جاؤ ” اب آواز تھوڑی واضح تھی ۔۔ چہرہ ابھی بھی دھندلا سا تھا ۔۔ ” میرے اشعر ۔۔۔ ” اسے اس جانی پہچانی آواز کی سمجھ آ رہی تھی اب ۔۔ کچھ دھندلے چہرے جو اسے دور لے جا رہے تھے لیکن کون تھے ۔۔ ” میرے اشعر کو کچھ مت کہئے پلیز ۔۔۔ چھوڑ دے اسے اشعر ” ” حریم ۔۔ ” اس نے زیر لب اس کا نام دہرایا تھا ۔۔وہ ایکدم نیند سے جاگا تھا وہ کوئی اور نہیں حریم تھی ۔۔ وہ جانی پہچانی آواز جو اسے سنائی دیتی تھی وہ حریم کی تھی ۔۔ ” حریم ” وہ زیر لب بڑبڑایا ” تو وہ لوگ کون تھے ۔۔ وہ دھندلے چہرے کس کے تھے ۔۔ کون تھے ۔۔ ” وہ سر پکڑ کے بیٹھ گیا ۔۔ ” پاپا ٹھیک کہتے ہیں مجھے سائیکاٹریسٹ کے پاس جانا چاہئیے ۔۔ میں کل ہی ڈاکٹر جویریہ کے پاس جاؤں گا ” اس خیال کے ساتھ ہی ایک خوشگوار احساس نے اسے گھیر لیا ۔۔ حریم کا خیال ۔۔ حریم کے مسکراتے لب ۔۔ اس کی جھکی پلکیں ۔۔ اس کے چہرے پہ بکھرے خوبصورت رنگ ۔۔ چاہت کے رنگ ۔۔وہ تو جیسے کھو گیا تھا اس پل میں ۔۔
√√√√√√√√√√√√√√√√
بیل کی آواز پہ حریم نے دروازہ کھولا سامنے اشعر کو دیکھ کے وہ پہلے حیران ہوئی پھر ایک خوشگوار احساس اس کے چہرے پہ پھیل گیا ۔۔ اشعر کو لگا اس کی آنکھیں بول رہی ہے ۔۔ وہ اس سے پہلے اس کی آنکھوں میں کھو جاتا حریم کی آواز پہ چونک پڑا ” آپ یہاں “
” جی ۔۔ وہ ” وہ کنفیوز ہو گیا کہ کیا کہے اب ۔ ” آپی نے بتایا تھا آپ آئے گیں ۔۔ آئیے نا پلیز ” وہ اسے راستہ دیتی سائیڈ پہ ہو گئی ۔۔ حریم اسے ڈرائنگ روم میں لے گئی ” بیٹھئے ۔۔ ” وہ بیٹھ گیا صوفے پہ ” آپی آتی ہوگی بس ۔۔ کلینک میں ہے ” ٫
” اوہ مجھے بھی کلینک جانا چاہئیے تھا پھر تو ” وہ شرمندہ ہو رہا تھا تو حریم جلدی سے بولی ” نہیں آپ یہیں آیا کرے ” اشعر اس کی بے ساختگی پہ مسکرا پڑا جبکہ حریم شرمندگی چھپانے لگی ” آئی مین ۔۔ آپ کو انھوں نے یہیں بلایا ہے نا ” اشعر اثبات میں سر ہلانے لگا ” میں چائے لاتی ہوں ” وہ جلدی سے اٹھ کے باہر نکل گئی اور کچن میں آ کے خود کو سرزنش کرنے لگی ” انسان بن حریم ۔۔ کیا کر رہی ہے تو ” پھر خود ہی ہنسنے لگی ۔۔
وہ اب روز آنے لگا تھا ۔۔ در حقیقت اپنے وقت سے پہلے آتا تا کہ جویریہ کے آنے تک وہ حریم کے ساتھ وقت بتا پائے ۔۔ اسے حریم میں دلچسپی ہونے لگی تھی اس کی بےساختگی پہ ۔۔ اس کی بولتی ہوئی آنکھوں میں وہ کھو جاتا ۔۔ اس کے چہرے کے خوبصورت رنگوں میں وہ کھو جاتا ۔۔ حریم کچن میں چائے بنا رہی تھی جب اشعر بور ہو کے کمرے سے نکلا اور کچن تک آیا ۔۔وہ اب ان کے گھر کی فرد کی طرح بن چکا تھا ۔۔ کچن کے دروازے پہ کھڑے ہو کے وہ حریم کی پشت کو دیکھنے لگا جو چائے بنا رہی تھی ۔۔ اس کی آنکھوں کے سامنے کچھ دھندلے چہرے نظر آنے لگا ۔۔ کوئی دھندلا سا لمحہ جب حریم اس کے لئے ناشتہ بنا رہی تھی اور وہ چلتا ہوا اس کی پشت پہ کھڑا ہو کے اس کی کمر کے گرد اپنے بازو حائل کر کے اس کے کندھے پہ اپنا چہرہ ٹکایا تھا ۔۔ اسے دھندلا سا نظر ا رہا تھا ” آہ ” اس نے اپنا سر پکڑ لیا حریم آہٹ پہ مڑی اور اشعر کو یوں دیکھ کے اس کے پاس آئی ” اشعر کیا ہوا اشعر ” وہ اچانک سے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لے کے اسے دیکھنے لگی ” اشعر کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔ ٹھیک ہو تم” اشعر حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ ” ٹھیک ہو نا ۔۔ کمرے میں چل کے بیٹھو ” وہ پریشانی میں یہ بھی بھول گئی کہ وہ اشعر کے زیادہ قریب آ گئی ہے ۔۔ وہ اسے لیے کمرے میں لے آئی اور صوفے پہ بٹھا کے اس کے پاس نیچے بیٹھ گئی ” کیا لاؤں ؟ طبیعت ٹھیک ہے تمہاری ” اشعر سنبھل گیا تھا ” جی جی میں ٹھیک ہوں ” حریم کو احساس ہونے پہ شرمندگی ہونے لگی تھی اب وہ جلدی سے اٹھ کے دوسرے صوفے پہ جا کے بیٹھ گئی تھی ۔۔ اور اپنی انگلیاں مسلنے لگی ۔۔ جبکہ اشعر کی جانچتی نظریں اس پہ تھی ۔۔ اس کا یوں قریب آنا اشعر کے ۔۔ یوں پریشان ہونا ۔۔ وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ جبکہ حریم تو سر نہیں اٹھا پا رہی تھی ۔۔ وہ اس کا شوہر ہے ۔۔ لیکن یہ بات اشعر تو نہیں جانتا ۔۔ وہ کیا سوچ رہا ہوگا وہ شرمندہ ہو رہی تھی
√√√√√√√√√√√
” کون ہے آپ ؟” اشعر کی آواز پہ وہ جو کوئی کتاب پڑھ رہی تھی بالکونی میں بیٹھ کے ۔۔ اچانک کتاب سے نظر ہٹا کے اسے دیکھنے لگی ۔۔ وہ آج سارا وقت اس کے سامنے نہیں گئی تھی تو اشعر اسے ڈھونڈتا یہاں تک آگیا ۔۔ حریم نظریں جھکا کے کھڑی ہو گئی ” آ ۔۔اپ “
” بیٹھئے پلیز ” وہ جلدی سے بیٹھ گئی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے وہ اس سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی اشعر بھی دوسری کرسی پہ بیٹھ گیا ” کون ہے آپ ؟ ” اس نے دوبارہ پوچھا
” میں حریم ” وہ اسے دیکھ کے بولی پھر اس کی نظروں سے خائف ہو کے سر جھکا گئی ۔۔ ” حریم ۔۔ آپ میرے خواب میں بھی آتی ہے ” حریم چونک کے اسے دیکھنے لگی ” مجھے ایک دھندلا چہرہ نظر آتا خواب میں ۔۔ اور کچھ دھندلے چہرے ہوتے ہیں جو مجھے آپ سے دور لے جا رہے ہوتے ہیں اور آپ انھیں روک رہی ہوتی ہے ۔۔ ” حریم کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔۔ وہ آنسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ ” میں تمہاری حریم ہوں اشعر ۔۔ تمہاری حریم ۔۔ ہمارا نکاح ہوا تھا ۔۔ ہم خوش تھے بہت ” اشعر اسے حیرت سے دیکھ رہا تھا جبکہ حریم بے خودی میں اسے دیکھ رہی تھی ” پھر میرے ادا سائیں نے تمہیں مجھ سے چھین لیا ۔۔ تمہیں میرے سامنے ۔۔ میری ان۔۔۔۔ ان آنکھوں کے سامنے تم۔پہ گولیاں چلا دی ۔۔ اور ” اس نے سسکی لی ” مجھے لگا تھا تم مر گئے ۔۔ میں ۔۔۔ میں خ۔۔خود کو بھول گئی تھی ۔۔ تم مر گئے تھے میں مر گئی تھی ل۔۔لیکن ا۔۔۔ایک دن تم م۔۔میرے سامنے ا گئے ۔۔ زندہ ۔۔ سلامت ” اشعر کی نظریں اس پہ ٹکی تھی یہ کیا بول رہی تھی حریم۔۔ اسے کیوں کچھ یاد نہیں ۔۔ سب کچھ دھندلا سا ہے بس ۔۔ ” میں انتظار کر رہی ہوں اشعر کہ تم۔بھی مجھے پہچان لو ۔۔ جن آنکھوں سے تم مجھے بے خودی میں دیکھتے تھے تم ایک دن مجھے پھر سے دیکھنے لگو گیں ۔۔ وہ جو محبت تھی تمہیں مجھ سے
۔بے حد محبت تمہیں ایک دن پھر سے مجھ سے وہی محبت ہو جائے ۔۔ میں انتظار کر رہی ۔۔ نہیں پتہ وہ دن کب آئے گا لیکن مجھے انتظار ہے ” وہ ٹرانس میں بول رہی تھی ” حریم ” اشعر نے اسے پکارا تھا وہ بے خودی میں اسے دیکھ رہی تھی اپنے محبوب کو دیکھ رہی تھی ۔۔ ان آنکھوں میں بہت سے سوال تھے ۔۔ حریم نے اپنا سر جھکا لیا اور پھر اٹھ کے وہاں سے چلی گئی تھی ۔۔ اشعر دیر تک وہیں بیٹھا اس کی باتوں کو سوچتا رہا ۔۔ اس کے ہاتھ کوئی سرا نہیں آ رہا تھا۔
√√√√√√√√√
وہ تھکی تھکی سی اپنے کمرے میں آ کے بیٹھ گئی تھی ۔۔ اس کی نظر اپنے موبائل پہ پڑی ۔۔ اس نے موبائل اٹھایا اور ایک نمبر ملانے لگی دوسری طرف سےکچھ دیر بعد کے بعد کال ریسیو کی گئی ” ہیلو “
” ہیلو دادو ” اس نے سسکی لی مہناز کا دل گھبرا گیا ” مری دھی رانی کیا ہوا ہے تجھے “
” میں تھک گئی ہوں دادو ۔۔ آپ کے پاس آجاؤں پلیز ” مہناز کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ” میری بچی تیرا ہی گھر ہے ۔۔ آ جاؤ ” اس نے فون رکھ دیا وہ اپنا بیگ پیک کرنے لگی۔۔ تھک گئی تھی وہ ۔۔ کچھ دیر یہاں سے جانا چاہتی تھی دور ۔۔ سو وہ جا رہی تھی جویریہ اور شعیب ہمدانی نے اسے نہیں روکا ۔۔ اس کے لئے فی الحال یہی بہتر تھا ۔۔
گاؤں کے احاطے میں گاڑی داخل ہوئی تو ماضی کی یادیں اپنے صفحے پلٹنے لگی ۔۔ اس نے گاڑی کے شیشے نیچے کر دیے ۔۔ گاؤں کی وہی دلفریب خوشبو ۔۔ وہی چھوٹے چھوٹے بچے جو ادھر ادھر ہنستے ہوئے بھاگ رہے تھے ۔۔ کچھ بچیاں جو دوپٹہ منہ میں دبائے اسے دیکھ رہی تھیں ۔۔ کچھ عورتیں پانی کے مٹکے اٹھائے جا رہی تھی کچھ بھی نہیں بدلا تھا گاؤں کی فضا میں وہی خوشگواریت تھی ۔۔ اس کی آنکھ سے آنسو پھسلا تھا اس کے گال پہ ۔۔ گاڑی حویلی میں داخل ہوئی تو وہ گاڑی سے باہر آئی ملازم احترام میں سر جھکائے کھڑے تھے ۔۔ ان میں سے ایک بوا تھی ۔۔ وہ آگے بڑھ کے ان کے گلے لگی ” بوا ۔۔ میری پیاری بوا ” بوا اس کے والہانہ انداز پہ آبدیدہ ہو گئی ۔۔ پھر وہ اپنی دادی کے پاس آئی اور ان کے گلے لگ کے وہ روتی رہی ۔۔ دیر تک یونہی روتی رہی ۔۔ اس کا رونا دیکھ کے کچھ ملازم بھی آبدیدہ ہو گئے ۔۔ انھیں اپنی چھوٹی بی بی سے پیار تھا ۔۔ وہ اندر چلے گئے ۔۔ سردار محمد یوسف کے کمرے میں آ کے وہ بابا سائیں کے پاس دیر تک بیٹھی رہی وہ اب بول سکتے تھے کچھ کچھ اور ہل بھی سکتے تھے ۔۔ حریم کو خوشگوار حیرت ہوئی ۔۔ اپنے بابا سائیں اور دادی کے ساتھ اس نے کھانا کھایا ۔۔ پھر جب اسے اپنی دادی کے ساتھ تنہائی میسر ہوئی تو اس نے اشعر کے بارے میں سب مہناز کو بتایا ۔۔ مہناز نے اس کی سب باتیں سنی پھر اس کے ماتھے پہ پیار کیا ” وہ جان جائے گا ۔۔ وہ تمہارا ہی ہے ۔۔ تمہارے پاس ہی آئے گا ۔۔ اتنا راستہ مضبوطی سے چلتی رہی اور اب جب منزل قریب ہے تو میری دھی تھک گئی ہے ۔۔ ” حریم انھیں خاموشی سے دیکھ رہی تھی ” وہ آئے گا حریم ۔۔وہ ضرور آئے گا “
√√√√√√√√√√√√√√√
بیل دے کے وہ حریم کے دروازہ کھولنے کا انتظار کرنے لگا لیکن سامنے جویریہ کو دیکھ کے وہ حیران ہوا پھر سنبھل کے انھیں دیکھنے لگا ” اسلام علیکم “
” وعلیکم السلام ۔۔ آؤ ” جویریہ نے جواب دے کے اسے اندر آنے کا راستہ دیا وہ اسے لے کے ڈرائنگ روم میں گئی تھی ۔۔ ” کیسے ہو اشعر ؟” وہ پوچھ رہی تھی
” میں ٹھیک ہوں آپ کیسی ہے ؟” اشعر نے مسکرا کے جواب دیا پھر ادھر ادھر دیکھنے لگا ” حریم ۔۔۔ آئی مین حریم گھر پہ نہیں ہے ؟”
” وہ اپنے گاؤں گئی ہے ” اشعر حیرت سے انھیں دیکھ رہا تھا ” کیوں؟ آئی مین کیسے ؟” وہ پریشان ہو گیا تھا
” وہاں اس کے فاڈر اور دادو ہوتے ہیں تو ان سے ملنے گئی ہے ” جویریہ اس کا چہرہ غور سے دیکھتی بتا رہی تھی جبکہ اشعر کا دل کی بجھ گیا تھا یہاں اس کا دل نہیں۔ لگ رہا تھا اب ۔۔ وہ یہاں سے چلے جانے کا سوچ رہا تھا جب جویریہ کی آواز پہ وہ چونکا ” چائے یا کافی ؟” وہ ایکدم اپنی جگہ سے اٹھا ” میں جا رہا ہوں ۔۔ اللہ حافظ ” یہ کہہ کے وہ جلدی سے نکل گیا وہاں سے ۔۔ جویریہ کے چہرے پہ مسکراہٹ ٹھہر گئی ۔۔ ” حریم بہت جلد اشعر آ رہا ہے تمہارے پاس۔۔ “
جاری ہے
