111.6K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

بارش کی پہلی بوند
از قلم ملائکہ رفیع
قسط نمبر 2
” حریم آئینہ دکھا چکی ہے مجھے جس میں خود کا عکس دیکھ دیکھ کے میں بار بار شرمندہ ہوتا ہوں ” وہ ابھی فائق کے پاس بیٹھا ہوا تھا ۔۔ ” مان لو تمہیں بھی اس سے محبت تھی اشعر ” اشعر نے اسے دیکھا ” ماننا کیا ۔۔ مجھے اس سے ہمیشہ سے محبت رہی ہے ” وہ زخمی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے بولا ” تو اب ؟” فائق اسے دیکھ رہا تھا ” اب ۔۔۔ ” اشعر خالی نظروں سے اسے دیکھنے لگا ” اب کیا ۔۔ میں اسے کھو چکا ہوں ” وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگا ” لیکن وہ تو اب بھی تمہارے نکاح میں ہے ” اشعر زخمی نظروں سے اسے دیکھنے لگا ” آزاد کر دوں گا اس قید سے اسے ۔۔ اب اور دکھ نہیں دے سکتا اسے “
” کر پاؤ گے ایسا ؟ ” فائق کے پوچھنے پہ وہ اسے دیکھتا رہا لیکن کہا کچھ نہیں ۔۔
حریم کے ساتھ والا ایک کمرے کا فلیٹ اشعر کا تھا ۔۔ جو اسے سردار محمد یوسف نے دلایا تھا اپنے بیٹے کے جرم کو چھپانے کے لئے وہ بہت عنایتیں کر چکے تھے اشعر پہ ۔۔ لیکن اشعر کو ان سب سے کوئی غرض نہیں تھی وہ بس سالار سے بدلہ لینا چاہتا تھا ۔۔ اسی بدلے کی آگ میں وہ حریم کو دکھ دے چکا تھا لیکن آسان اسکے لئے بھی نہ تھا جو بھی تھا محبت تھی حریم اس کی یہ الگ بات کہ بدلے کی آگ زیادہ حاوی تھی اس پہ لیکن وہ پھر بھی حریم کو دکھ نہیں دینا چاہتا تھا انجانے میں اس نے حریم کو توڑ دیا ۔۔ جس کا کوئی قصور نہ تھا
،وہ کتابیں بکھرائے پڑھ رہی تھی ۔۔ بوا کچن میں نہ جانے کیا بنا رہی تھی اور اب ایک ٹرے ہاتھ میں لیے وہ کچن سے نکلی ” دھی رانی میں نے چکن کڑاہی بنائی ہے میں ذرا یہ اشعر پتر کو دے آؤں ۔۔ ” حریم نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر سے کتابوں پہ جھک گئی ۔۔ لیکن دھیان اب اشعر کی طرف چلا گیا تھا تو ہاتھ میں لیا پین نیچے رکھ کے وہ بے دلی سے بند دروازے کو دیکھنے لگی جدھر سے ابھی ابھی بوا باہر گئی تھی ۔۔ کیا ہو جاتا اگر سب جھوٹ ہوتا ۔۔ اشعر کو سچ میں اس سے محبت ہوتی اسے بدلے کی سولی پہ نہ چڑھایا جاتا تو کتنا اچھا ہوتا سب ۔۔ وہ لب کاٹنے لگی جب بوا اندر آئی ۔۔ حریم کی نظریں ان پہ ٹھہری رہی ۔۔ ” دھی رانی ۔۔ کھانا لگا دوں ؟” ” جی لگا دیں ” وہ کتابیں سمیٹنے لگی ۔۔ اور اٹھ کے بوا کے پاس گئی ” اچھا ہوا جو میں کھانا لے کے گئی بیچارہ اشعر پتر کمرے میں لیٹا ہوا تھا میں نے پوچھا بھی کہ کھانا کھایا کہتا بھوک نہیں ۔۔ تو میں نے زبردستی کھانا لگایا اور اسے کہا کہ کھا لے ضرور ” بوا بولے جا رہی تھی وہ بھی یہی چاہتی تھی کہ بوا اشعر کے بارے میں کچھ بات کرلیں تا کہ اسے اس کی حالت کا پتہ چل سکے ۔۔ اتنا سب کے بعد بھی وہ اشعر سے نفرت نہیں کر پا رہی تھی ۔۔ ” اکیلا بچہ ہے ۔۔ نہ ماں ہے نہ باپ ۔۔ نہ بہن ” کسی خیال کے تحت حریم نے بوا کو دیکھا ” اس کی بہن کیسے مری تھی بوا ؟” بوا نے چونک کے اسے دیکھا پھر نظریں چرانے لگی ” م۔۔۔مجھے نہیں پتہ ” حریم غور سے انھیں دیکھنے لگی ” بتائے نا بوا ۔۔ اس کی بہن کیسے مری تھی ؟”
” خودکشی کر لی تھی “
” کیوں ؟ ” حریم کی سوالیہ نظروں کے جواب میں بوا نظریں چرا رہی تھی ۔۔ ” اسے ہوس کا نشانہ بنایا گیا تھا “
” کس کے ہوس کا نشانہ بنی تھی وہ ؟” حریم کی جانچتی نظروں کے جواب میں بوا بےچارگی سے کہنے لگی ” چھوڑ دے دھی رانی ۔۔ کیا پرانی باتیں لے کے بیٹھ گئی ہو “
” بوا کس کی ہوس کا نشانہ بنی تھی وہ ؟” بوا نے بے چارگی سے اسے دیکھا ” کیوں سرداروں کے ہاتھوں مجھے مروانا چاہتی ہو ۔۔ “
” ادا سائیں نے کیا تھا یہ سب ” بوا نے گھبرا کے اسے دیکھا جو سنجیدگی سے انھیں دیکھ رہی تھی ۔۔ بوا نے نظریں جھکا دی ” ہاں دھی رانی ۔۔ پھر اس نے خودکشی کر لی ۔۔ اس کے دوسرے دن اس کی ماں چل بسی اور پھر ایک مہینے بعد اس کا بےچارہ باپ ۔۔ اشعر تب چھوٹا تھا تب سے سردار محمد یوسف نے اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا ۔۔ پڑھایا لکھایا اور اب وہ ان کا خاص آدمی ہے “
” اپنے بیٹے کے گناہ کو چھپانے کے لئے بابا سائیں۔ نے یہ سب کیا ” وہ طنزیہ مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجائے بوا کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اسے دکھ ہو رہا تھا اشعر کے گھر والوں کے ساتھ اتنا کچھ ہو گیا وہ دکھی ہو گئی تھی اشعر کے دکھوں کا سوچ کے لیکن وہ پھر بھی ناراض تھی کیونکہ اسے دھوکا دیا تھا اس نے محبت کے نام پہ ۔۔ بوا اس کی نظروں سے خائف ہو کے جلدی جلدی کھانا کھانے لگی ” آ جا رھی رانی کھانا کھاتے ہیں ” ” ہممممم ” وہ بوا کے ساتھ بیٹھ کے کھانا نکالنے لگی اپنے لئے ۔
صبح وہ یونیورسٹی جانے کے لئے نکلی تو اشعر کے فلیٹ کے دروازے کے پاس آ کے رک گئی کچھ دیر بند دروازے کو دیکھتی رہی وہ آگے بڑھنے کا سوچ ہی رہی تھی جب دروازہ کھلا اور اشعر پہ نظر پڑتے ہی وہ سٹپٹا گئی ۔۔ اشعر بھی اسے دیکھ چکا تھا وہ جلدی سے آگے بڑھ گئی ۔۔ اشعر کے لبوں کو مسکراہٹ نے چھوا ۔۔ وہ دروازہ بند کر کے اس کے پیچھے آیا تیزی سے ۔۔ حریم لفٹ میں گئی تو پیچھے سے وہ بھی آگیا ۔۔ دونوں ہی خاموش تھے ۔۔ اشعر نظریں جھکائے کھڑا تھا اس کی نظر بار بار حریم پہ پڑ رہی تھی ۔۔ بلیک ڈریس میں اس کا رنگ نکھرا ہو تھا ۔۔ باہر نکل کے حریم چلنے لگی تو اشعر بھی ساتھ ساتھ چلتا گاڑی تک آیا ۔۔ پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کے وہ کھڑا ہو گیا تو حریم بیٹھ گئی وہ بھی بنا کچھ کہے دروازہ بند کر کے اپنی سیٹ پہ آ کے بیٹھ گیا ۔۔
” حریم آپ کی آنکھوں میں دیکھ کے میں اپنے سارے دکھ بھول جاتا ہوں ۔۔ ورنہ زندگی سے بہت دکھ ملے ہیں مجھے ” اشعر اس کے پاس بیٹھا کہہ رہا تھا حریم کی آنکھوں میں اس کے لئے دکھ تھا محبت تھی ۔۔ ” تو اس کا مطلب ہے میں تمہارے دکھوں کا مداوا ہوں ” اشعر نے اسے دیکھا وہ آنکھوں میں شرارت لیے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ اشعر کے دیکھنے پہ وہ ہنسنے لگی ۔
ماضی کی یادیں اب یادیں ہی بن کے رہ گئی تھی ان کے بیچ اب ایک دیوار سی کھڑی ہو گئی تھی نہ بات کرتے آپس میں ۔۔ نہ ہنستے نہ آنکھوں سے کوئی شرارت کچھ بھی نہیں تھا ۔۔ اشعر اپنے ہاتھوں سے سب دفنا چکا تھا ۔ ویسے بھی وہ محلوں کی شہزادی اور اشعر ایک عام سا آدمی جس کا کوئی نہیں تھا ۔۔
شام کو وہ دونوں پہنچے تو حریم جلدی سے لفٹ میں گئی تا کہ جلدی گھر جا سکے اسے بھوک لگی تھی اشعر بھی ساتھ تھا ۔۔ حریم بٹن پش کر کے اوپر پہنچنے کا انتظار کرنے لگی جب اچانک لفٹ رک گئی اور لائٹ چلی گئی ۔۔ حریم گھبرا کے ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مارنے لگی ۔ اشعر کو پتہ تھا کہ اسے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے ” م۔۔۔میرا دم گھٹ رہا ۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ” اشعر نے اسے آواز دی ” ح۔۔حریم ۔۔ ” وہ اس کا بازو پکڑ کے اس کے قریب آگئی ” ا۔۔۔اش۔۔۔ اشعر م۔۔میرا دم گھٹ رہا ” وہ گھبرائے انداز میں بولی اشعر نے اس کے گرد اپنے بازو حائل کر دیے اور موبائل نکال کے لائٹ آن کرنے لگا اس میں ۔۔ ” کچھ نہیں۔ ہوگا آپ کو ۔۔ ابھی لائٹ آ جائے گی ” حریم اسے آنسو بھری آنکھوں سے دیکھنے لگی ” ک۔۔کہیں مت جانا پلیز ۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ” اسی لمحے اشعر کا دل زور سے دھڑکا تھا ۔۔ حریم کی آنکھوں میں ڈر ۔۔ اس کے چہرے کا رنگ سفید پڑ چکا تھا وہ اس کے سینے میں چھپ رہی تھی اس کی اتنی قربت پہ اشعر نے بےساختگی سے اس کی پیشانی پہ اپنے لب رکھ دیے ” آپ کو کچھ نہیں ہوگا حریم ۔۔ میں آپ کے پاس ہوں ” لیکن وہ آنکھیں بند کیے اس کے سینے سے لگی رہی وہ اسے اپنے بازو کے حصار میں لیے موبائل چیک کرنے لگا کہ کسی کو کال کی کر لیں لیکن سگنلز نہیں آ رہے تھے اسی وقت لائٹ آگئی اور لفٹ میں حرکت ہوئی ۔۔ وہ اس لمحے کی قید میں رہنا چاہتا تھا ابھی ۔۔ حریم کا خود سے لپٹنا اسے پھر سے انوکھے احساسات بخش رہا تھا ۔۔ محبت !! ہاں اسے محبت ہی تو تھی حریم سے ۔۔ سچی محبت ۔۔ لیکن وہ بدلے کی آگ میں اتنا جھلس چکا تھا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسے دکھ دے گیا ۔۔ لفٹ رکنے پہ وہ دونوں باہر آئیں تو احساس ہو نے پہ حریم اسے چھوڑ کے شرمندہ سی ہونے لگی اشعر اسے ہی دیکھ رہا تھا ” آپ ٹھیک ہے نا اب ؟” حریم اسے دیکھے بنا ہی آگے بڑھ گئی ۔۔اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا کیسے وہ اشعر کے سینے لگی کھڑی تھی ۔۔ جس محبت کو وہ سلانے میں لگی ہوئی تھی وہ دوبارہ سے اب ابھر ابھر کے سامنے آ رہی تھی ۔۔ دروازے پہ پہنچ کے اس نے چہرہ موڑ کے اشعر کو دیکھا وہ وہیں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا حریم سر جھٹک کے دروازہ کھول کے اندر چلی گئی ۔۔ اشعر بھی دھیرے دھیرے چلتا اپنے فلیٹ میں چلا گیا ۔۔
رات کے آٹھ بج رہے تھے حریم بوا کے ساتھ بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی جب دروازے پہ بیل ہوئی تو بوا اپنی جگہ سے اٹھی ” میں دیکھتی ہوں کون ہے ” وہ یہ کہہ کے دروازہ کھولنے چلی گئی سامنے ہی اشعر کھڑا تھا ” ارے اشعر پتر ۔۔ خیریت ؟”
” وہ بوا ۔۔۔ وہ ہاں چینی ملے گی ؟” اسے کچھ نہ سوجھا تو چینی مانگنے لگا بوا ” ہاں لاتی ہوں ” کہہ کے کچن کی طرف جانے لگی ” بوا کون ہے ؟” حریم ٹی وی دیکھتے پوچھنے لگی تو بوا جاتے جاتے رکی ” اشعر ہے چینی مانگ رہا ہے ۔۔ ” اور کچن کی طرف بڑھ گئی حریم ٹی وی سے نظر ہٹا کے دروازے کی طرف دیکھنے لگی جدھر سے اشعر جھانک رہا تھا وہ بس حریم کی ایک جھلک دیکھنے آیا تھا اسے کب سے بےچینی ہو رہی تھی کہ حریم کیسی ہوگی بس ایک بار دیکھ لے اسے ۔۔ حریم کے نظر پڑتے ہی وہ سائیڈ پہ ہو گیا ۔۔ تب تک بوا چینی لے کے اس کے پاس پہنچ گئی ” یہ لے پتر ۔۔ اور کچھ تو نہیں چاہئیے نا ؟” وہ اندر جھانکنے کی کوشش کرتا بولا ” نہیں بوا ۔۔ تھینک یو ” اور پھر سر جھٹک کے وہ اپنے فلیٹ کی طرف بڑھ گیا۔ ۔ بوا بھی واپس اپنی جگہ پہ آ کے بیٹھ گئی حریم کی نظریں انہی پہ تھی ” بڑا نیک بچہ ہے ” بوا اسے دیکھتے بولی تو حریم ” ہمممم” کہہ کے دوبارہ سے ٹی وی دیکھنے لگ گئی ۔۔
جاری ہے