111.6K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

بارش کی پہلی بوند
از قلم ملائکہ رفیع
قسط نمبر 4
اس کی آنکھیں کھلی تو پہلے سب کچھ دھندلا سا نظر آیا جب سب صاف نظر آنے لگا تو وہ کمرے کا جائزہ لینے لگا ۔۔ ہاسپٹل کے ایک کمرے میں بیڈ پہ تھا وہ ۔۔ اس کے ہاتھ پہ ڈرپ لگی ہوئی تھی ۔۔ اس کی نظروں کے سامنے کچھ دیر پہلے کا حادثہ فلم کی طرح چلنے لگا اسے پہلا خیال حریم کا آیا اس خیال کے آتے ہی وہ فوراً اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔ اسے کندھے پہ درد کا احساس ہوا لیکن وہ لب بھینچتا ڈرپ نکال کے اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔ اور دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا جب حریم اندر آئی اشعر کو یوں کمرے کے بیچ و بیچ کھڑا دیکھ کے وہ حیران ہوئی ” تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔ لیٹو اپنی جگہ پہ جا کے “
” آپ ٹھیک ہے نا حریم بی بی ۔۔ ” وہ اپنے چکراتے سر کو سنبھالتا بول رہا تھا ۔۔ حریم اس کے قریب آئی ” اب مجھے حریم بی بی مت بولنا ” وہ اسے دیکھے گیا اتنا برا اس لڑکی کے ساتھ کرنے کے بعد بھی وہ اسے ایسے کہہ رہی تھی ۔۔۔حریم کو اس کے یوں دیکھنے سے کنفیوژن ہونے لگی ” آپ محلوں میں پلی شہزادی ہے اور میں ایک عام سا آدمی ۔۔ اپنی اوقات سے اونچی اڑان اڑ کے میں نے آپ کو دکھ دیا بہت ۔۔ لیکن ” وہ کچھ دیر رکا اپنے لب کاٹتا حریم کو دیکھتا رہا پھر آگے بڑھا اور اس کی پیشانی پہ اپنے لب رکھ کے وہ اپنے آنسو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرنے لگا حریم کی آنکھوں میں حیرت تھی پھر اسے دیکھنے لگا ” لیکن میں آپ کو آزاد کر دوں گا ..” آنسو اس کی گال پہ پھسلے تھے حریم کی آنکھوں۔ میں حیرت در آئی اس کی بات پہ ۔۔ اگلے ہی لمحے غصے سے اسے دیکھنے لگی اور اسے تھپڑ مارا ۔۔ وہ اپنے گال پہ ہاتھ رکھ کے نظریں جھکا گیا ” تم ہوتے کون ہو مجھے آزاد کرنے والے ۔۔ بولو ؟” وہ اس کے سینے پہ ہاتھ مارتے بولی اشعر بس “سی” کر کے رہ گیا ۔۔ ” مجھ سے پوچھا ہے کہ میں بھی آزادی چاہتی ہوں کہ نہیں ؟” اشعر سر جھکائے کہنے لگا ” جانتی ہے آپ ۔۔ آئی سی یو میں جب لے کے جا رہے تھے تب میں نے آپ کو آواز دی تھی ۔۔ شاید آپ نے نہیں سنی تھی ۔۔ تب ” وہ رکا پھر کہنے لگا ” تب مجھے لگا کہ میں مر جاؤں گا ۔۔ پھر نہیں دیکھ پاؤں گا آپ کو ۔۔ شاید یہ میری آخری سانسیں ہے تب میں آپ کو بتانا چاہ رہا تھا کہ ۔۔۔ ” وہ لب کاٹنے لگا حریم اس کے جھکے سر کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی وہ ایکدم سے سر اٹھا کے اسے دیکھ کے کہنے لگا ” میں نے آپ سے سچی محبت کی ہے حریم ۔۔ پاک محبت ۔۔۔ میری محبت میں کوئی کھوٹ نہیں بس میں بہک گیا تھا کچھ دیر کے لئے بدلے کی آگ میں ۔۔ لیکن میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں حریم ۔۔ میں آپ کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتا ” وہ پھر سے سر جھکا گیا ” یہ جانتے ہوئے کہ میرا آپ سے کوئی جوڑ نہیں ۔۔ آپ کہاں اور میں ۔۔۔۔ میں تو آپ کے پاؤں کی دھول کے برابر بھی نہیں۔ ” جھکا سر اٹھا کے حریم کو دیکھنے لگا وہ بے آواز رو رہی تھی ” آپ سے سچی محبت کرتا ہوں میں۔ “
” اسٹوپڈ ۔۔ ایڈییٹ ۔۔ پہلے نہیں بتا سکتے تھے کیا اتنا رلانا ضروری تھا کیا ۔۔ ” وہ روتے روتے کہنے لگی ” ایم سوری ” اشعر کو دکھ ہوا تھا ساتھ ہی اس کا سر چکرا گیا اور وہ نیچے گر گیا ۔۔ ” اشعر ۔۔۔” وہ چیخی تھی ” اشعر ۔۔ اشعر اٹھو ۔۔۔ ڈاکٹر ڈاکٹر ” وہ چیخنے لگی تھی کمرے میں نرسز آگئیں پھر جلدی سے ڈاکٹر کو بلایا گیا ۔۔ وہ جلدی سےاپنا کام انجام دینے لگیں اور حریم پھٹی آنکھوں سے اشعر کے وجود کو دیکھتی رہی ۔۔ اس کے کانوں میں ایک ہی بازگشت تھی ۔۔ محبت کے اقرار کی بازگشت ۔۔ جو اس کو روح تک سرشار کر رہی تھی ۔۔ وہ بدلے کے لئے استعمال نہیں ہوئی تھی اشعر اسے سچ میں محبت کرتا تھا ۔۔ اتنا ہی جتنا وہ خود کرتی ہے
اشعر ابھی تک ہوش میں نہیں آیا تھا ۔ حریم بوا کے پاس بیٹھی ہوئی تھی ۔۔ بوا کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ حریم اتنا پریشان کیوں ہو رہی ہے ۔۔ ” ب۔۔بوا پلیز بابا سائیں کو مت بتائیے گا یہاں کا کچھ ورنہ وہ مجھے اشعر کے پاس نہیں رہنے دیں گے اور م۔۔میں اس کے پاس رہنا چاہتی ہوں ” بوا حیران ہوئی ۔۔ سردار کی بیٹی کو اتنی ہمدردی ایک ملازم سے ۔۔ ” کیوں دھی رانی ؟” بوا کے پوچھنے پہ وہ انھیں دیکھنے لگی ” ک۔۔کیونکہ میرا ا۔۔۔اشعر سے ” وہ رک کے ادھر ادھر دیکھنے لگی پھر بوا کی سوالیہ نظروں کی طرف دیکھا ” م۔۔میرا اور ا۔۔اشعر کا نکاح ہوا ہے “
” ہائے ..” بوا سینے پہ ہاتھ رکھ کے حیران نظروں سے اسے دیکھنے لگی ” یہ کیا کردیا تم نے میری بچی ۔۔ اگر سردار سائیں کو پتہ بھی چلا تو وہ جان لے لے گا اشعر کی ۔۔ یہ کیا کر دیا۔۔۔ ہائے میرا جوان پتر ۔۔ سرداروں کے ہاتھوں مارا جائے گا ” وہ رونے لگی گئی ” بوا پلیز بابا سائیں کو مت بتائیں پلیز کسی کو کچھ مت بتائے و۔۔وہ لوگ اشعر کو مار ڈالے گیں ۔۔ پلیز ” وہ روتی رہی ۔۔ ” دھی رانی اللہ تم دونوں کی حفاظت فرمائے ۔۔۔ مت رو میری بچی ۔۔ ” بوا آنے والے وقت کا سوچ کے دہل گئی تھی ۔۔ اگر سرداروں کو پتہ چلا تو وہ زندہ اشعر کو گاڑ دیں گے ۔۔
کمرے میں جب وہ آئی تو فائق اشعر کے پاس بیٹھا ہوا تھا حریم کے آتے ہی وہ کھڑا ہو گیا ” آئیے بھابی ۔۔ میں باہر ہوں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو ” حریم نے اثبات میں سر ہلایا تو فائق باہر نکل گیا ۔۔ اشعر اسے ہی دیکھ رہا تھا حریم اس کے پاس آ کے کرسی پہ بیٹھ گئی اور اسے دیکھنے لگی ” کیسی طبعیت ہے اب ؟”
” بہتر ہوں ۔۔ ” وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتا بولا “آپ کیسی ہے ؟ “
” ٹھیک ہوں ” مسکرا کے جواب دے کر وہ ادھر ادھر دیکھنے لگی ۔۔ اور اشعر اسے ۔۔ ” میں کنفیوز ہو رہی تمہارے یوں دیکھنے سے ” حریم کے کہنے پہ وہ نظریں چراتے بولا ” جی نہیں دیکھتا اب ” حریم اسے دیکھنے لگی ” کافی اوبیڈینٹ ہو ” ” آپ مالک ہو ہمارے ” اشعر کے ایسا کہنے پہ حریم اسے شاکی نظروں سے دیکھنے لگی ” ہمارا اور کوئی رشتہ نہیں ہے آپس میں اشعر ؟” اشعر نے اس کی اداس آنکھوں میں دیکھا اسے شرمندگی ہونے لگی ۔ ” سب ختم ہو چکا اشعر ؟ ا تم نے تو کہا تھا کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے نا ۔۔ تو اب؟ “
” ایم سوری میں شرمندہ ہوں ” وہ واقع شرمندہ تھا حریم کا دل بجھ گیا تھا ” اٹس اوکے ” کہہ کے وہ منہ موڑ گئی ۔۔ اس کا دل دکھی کرنے لگا تھا اشعر کچھ دیر اس کی پشت کو دیکھتا رہا پھر اٹھنے کی کوشش کرنے لگا اس سے حریم کا اداس چہرہ نہیں دیکھا جا رہا تھا اسے کندھے پہ درد محسوس ہوا تو وہ کراہ کے رہ گیا حریم جلدی سے مڑی ” کیا کر رہے ہو تم ؟” وہ اٹھ کے اسے دوبارہ لٹانے میں مدد دینے لگی ۔۔ ” ناراض ہو گئی تھی آپ “
” تو منانا چاہ رہے تھے ” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی شرارت سے بولی ۔۔ وہ اس کے بہت قریب تھی اشعر دھیرے سے مسکرا پڑا ۔۔ ” ہاں “
” تو تمہارے پاس ہوں مناؤ مجھے اب ” وہ مسکراتی ہوئی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ اشعر کو اس کی خوشبو بہکائے جا رہی تھی ۔۔ ” میرے پاس رہو حریم ہمیشہ ۔۔ تم سے دوری نہیں سہہ پاتا میں” وہ بےخودی میں بولے گیا ” تو اپنے پاس رہنے دو ہمیشہ ۔۔ دور جانے ہی مت دو مجھے اشعر ” حریم جذب سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی ۔۔ اشعر کا دل چاہ رہا تھا کاش یہ لمحے ہمیشہ یونہی رہے ۔۔ ان کے بیچ کھبی کوئی دوری نہ آئے کوئی مشکل نہ آئے ۔۔
آج اشعر کو ڈسچارج کیا گیا وہ فائق کے ساتھ اپنے فلیٹ پہ آگیا تھا ۔۔ حریم اس کے لئے سوپ بنا کے بوا کو دیکھنے لگی ۔۔ ” جاؤ دے کے آؤ ” بوا مسکرا کے بولی ۔
” نہیں بوا آپ جائیے ” حریم کو عجیب لگ رہا تھا ” اتنے پیار سے تم بنا رہی تھی کہ مجھے تجھ پہ پیار آگیا تھا جا اب خود جا کے کھلا ۔۔ بیگانہ تھوڑی ہے وہ ” بوا کے پیار سے کہنے پہ وہ مسکرا پڑی اس کے گال گلابی ہو گئے تھے وہ ٹرے اٹھا کے کچن سے نکلی تو بوا نے اس کے لئے اور اشعر کے لئے ڈھیر ساری دعائیں کی ۔۔
دروازے پہ پہنچ کے وہ اپنی سانسیں بحال کرنے لگی پھر دروازے پہ دستک دی تو فائق نے دروازہ کھولا ” بھابی آپ آئیے پلیز ۔۔ میں اب گھر ہی جا رہا ” حریم اندر آئی اور فائق اللہ حافظ کے باہر نکل گیا ۔۔ حریم دروازہ بند کر کے اشعر کے کمرے کی طرف آئی ۔۔ اسے دیکھ کے اشعر سنبھل کے بیٹھ گیا ” ارے آپ ۔۔ آئیے ” وہ مسکراتی اس کے پاس آ کے بیٹھ گئی ” میں نے سوپ بنایا تھا تمہارے لئے ” ” بھوک بھی لگی ہے مجھے بہت ” وہ نیپکن ڈال کے اسے کھانا کھلانے لگی ۔۔ اشعر اسے محویت سے دیکھ رہا تھا اشعر کی نظروں کی تپش سے اس کے چہرے پہ ہزاروں رنگ بکھر رہے تھے ” ایسے دیکھو گے تو میں کیسے کھلاؤں گی ” حریم نے زچ ہو کے کہا تو اشعر ہنسنے لگا ” میں نہیں دیکھتا لیکن ۔۔ ” وہ چپ ہو کے اسے دیکھنے لگا تو حریم سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگی ” لیکن ؟”
” میں اپنی آنکھوں کو روک نہیں۔ پاتا ” وہ معصومیت سے بولا تو حریم ہنسنے لگی ۔۔ ہنستے ہنستے اچانک وہ رونے لگ گئی اشعر گھبرا کے اسے دیکھنے لگا ” کیا ہوا ح۔۔حریم ؟ ” وہ اسے دیکھ دیکھ کے روئے جا رہی تھی ۔۔ اشعر پریشان نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ” ا۔۔اشعر کہیں اور چلتے ہیں ۔۔ بابا سائیں ہمیں ساتھ نہیں رہنے دیں گے اگر انھیں پتہ چل گیا وہ تمہیں مار ڈالے گیں وہ ہمیں ساتھ نہیں رہنے دے گیں ” وہ روئے جا رہی تھی اشعر نے اس کے چہرے کو اپنی ہاتھوں میں لے لیا ” حریم ۔۔ حریم سنو ” حریم رک کے اسے دیکھنے لگی ۔۔ اشعر نے آگے بڑھ کے اپنی ہونٹوں سے اس کے آنسو صاف کیے پھر اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ” کچھ نہیں۔ ہوگا نہ مجھے نہ تمہیں ۔۔ میں آپ کے لئے اپنی جان بھی دینے کو حاضر ہوں لیکن آپ کو کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔۔ بابا سائیں ضرور سمجھے گیں۔ ہمیں دیکھ لینا ” وہ حریم کو اطمینان دلا رہا تھا لیکن اسے معلوم تھا کہ سردار اپنی برادری سے باہر شادی نہیں کرتے اپنی بیٹیوں کی وہ بھی ایک چھوٹے خاندان کے فرد سے .
صبح اس کی آنکھ کھلی تو کچن سے برتنوں کی آوازیں آ رہی تھی ۔۔ اس نے گھڑی دیکھی دن کے گیارہ بج رہے تھے ۔۔ وہ أہستگی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور دھیرے دھیرے چلتا کمرے سے باہر آیا پھر لاونج سے ہوتا ہوا کچن میں آیا جہاں حریم ناشتہ بنا رہی تھی ۔۔ اشعر دروازے پہ رک کے اس کی پشت دیکھتا رہا ۔۔ ایسی ہی زندگی کے خواب دیکھتا تھا وہ اکثر حریم کے سنگ ۔۔ وہ آہستہ روی سے چلتا اس کی پشت پہ رک گیا اور اس کے کندھے پہ اپنا چہرہ ٹکا کے اس کے گرد اپنے بازو حائل کر دیے ” کیا کر رہی ہے آپ ” حریم مسکرائی ” اٹھ گئے ۔۔ کیسی طبعیت ہے اب ؟” اشعر نے ایک لمبی سانس کھینچی ” ٹھیک ۔۔۔ “
” میں ناشتہ بنا رہی ” ” میں بھی ہیلپ کرنے ہی تو آیا ہوں ” وہ زیر لب مسکراتا ہوا بولا تو حریم ہنس پڑی ” اس ٹوٹے کندھے کے ساتھ ” اشعر ہنس پڑا ۔ ” میں بوا کو دیکھ کے جلدی سے آتی ہوں ” وہ جانے کے لیے مڑی تو اشعر نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا حریم مڑ کے اسے دیکھنے لگی ” کیا ؟” وہ مسکرا پڑا ” کچھ نہیں ” حریم مسکراتی ہوئی آگے بڑھی جیسے ہی دروازہ کھولا تو اپنے فلیٹ کے پاس سردار سالار کے آدمیوں کو دیکھ کے دوبارہ سے اندر ا گئی اور دروازہ بند کر دیا ۔۔ دیوار سے ٹیک لگا کے لمبی لمبی سانسیں لینے لگی اشعر اسے یوں دیکھ کے پاس آیا ” کیا ہوا “
” ہشششششش آہستہ ” وہ ڈرتے ہوئے اسے چپ کرانے لگی ” ادا سائیں آئے ہیں لگتا ۔۔ ان کے بندے باہر کھڑے ہیں ” وہ خوفزدہ تھی ” ا۔۔۔اگر انھیں پتہ چلا میں یہاں ہوں و۔۔۔وہ مار ڈالیں گے ہمیں “
” ہشششش کچھ نہیں ہوتا۔ ۔ حریم حریم کچھ نہیں ہوتا ۔۔ اوکے نا ” وہ حریم کی خوفزدہ آنکھوں میں دیکھ کے بولا ۔۔ حریم کو پھر بھی ڈر لگ رہا تھا وہ لوگ اشعر کو ختم کر دیں گے اگر انھیں ذرا بھی بھنک پڑی بے اختیار اس نے اشعر کے وجود کو اپنے اور قریب کر لیا اشعر نے اس کی اس حرکت کو بہت پیار سے دیکھا ۔۔ حریم اسے ایسے پکڑے کھڑی تھی جیسے ابھی وہ آ کے اشعر کو اس سے چھین کے لے جائے گیں ۔۔پھر باہر آوازوں پہ اس نے آہستہ سے دیکھا وہ لوگ جا رہے تھے ” جا رہے ہیں ” حریم کانپ رہی تھی اشعر نے نرمی سے اس کے کانپتے وجود کو اپنی بانہوں میں بھر لیا ۔۔ حریم کو رونا آیا ہوا تھا کیسے منائے گی وہ سب کو اشعر کے لئے ۔۔ کوئی اس کی نہیں سنے گا اگر اشعر کو کچھ ہو گیا تو ۔۔ وہ سوچ کے ہی دہل گئی ۔۔ دروازہ پہ دستک ہوئی تو دونوں نے چونک کے دروازے کی طرف دیکھا پھر تیز تیز بجنے لگا دروازہ ۔۔۔ ” ادا سائیں ۔۔۔ ” اس نے خوفزدہ نظروں سے اشعر کو دیکھا۔
جاری ہے