111.6K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

بارش کی پہلی بوند
از قلم ملائکہ رفیع
قسط نمبر 5
اشعر نے جب دیکھا تو بوا تھی اس نے دروازہ کھولا تو بوا بوکھلائی سی اندر آئی ۔۔ اور دروازہ بند کر کے انھیں دیکھنے لگی ” چھوٹے سردار آئے تھے تمہارا پوچھ رہے تھے میں نے بتایا دھی رانی تو یونیورسٹی گئی ہے “
” کیوں آئے تھے ؟ ” حریم اب سنبھل گئی تھی ۔۔
” گاؤں سے تیرے لئے پھل اور کچھ کچن کا سامان لائے تھے ” حریم نے سکھ کا سانس لیا ۔۔ ” اشعر پتر کیسا ہے اب تو ؟” وہ اشعر کو دیکھنے لگی تھی اب ۔ ” میں ٹھیک ہوں بوا ” اشعر نے حریم کے چہرے پہ نظر ڈالی وہ اب نارمل تھی ۔۔ سالار کو دیکھ کے ہمیشہ اشعر کو نئے سرے سے غصہ چڑھتا ۔۔ پہلے سوچا تھا حریم کے ذریعے اس سے بدلہ لے گا لیکن اب حریم کے آگے بے بس تھا ۔۔ اسے اپنی جان جانے کی کوئی فکر نہیں تھی فکر تھی تو صرف حریم کی کہ اس کے مرنے کے بعد وہ سب حریم کے ساتھ کیا کرے گیں ۔۔ وہ اسے قتل بھی کرے تو کیسے ۔۔ سب سوچنا آسان ہوتا لیکن عمل کرنا اتنا آسان کہاں ہوتا ہے ۔۔ وہ صحیح وقت کا انتظار کر رہا تھا بس ۔۔ اس نے حریم کے چہرے پہ نظر ڈالی جہاں اب ڈر کی پرچھائیاں نہیں تھی اب تھوڑا سنبھل گئی تھی وہ ۔۔ پھر بوا کو دیکھا جو پریشان سے کھڑی ان سے پوچھ رہی تھی ” ناشتہ بناؤں تم دونوں کے لئے ؟” حریم اثبات میں سر ہلانے لگی ۔۔ بوا کچن کی طرف بڑھ گئی اور حریم تھکے قدموں کے ساتھ صوفے پہ آ کے بیٹھ گئی ۔۔ اشعر بھی اس کے پاس آ کے بیٹھ گیا
” خیال رکھو اس بات کا سالار کہ تمہارے کرتوت چھپانے کے لئے میں نے اشعر کو اپنی سرپرستی میں لیا ۔۔ تا کہ کل کو وہ تمہاری وجہ سے میرے سامنے کھڑے ہو کے ہم سے حساب نہ مانگے تمہارے کیے کا ” سردار محمد یوسف یہ بات سالار کو کہہ رہے تھے جبکہ سالار پرسوچ نظروں سے اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا ۔۔ ” بابا سائیں وہ اکھڑا اکھڑا رہتا مجھ سے ۔۔ میں بھی آپ کی وجہ سے لحاظ کر جاتا ہوں ورنہ میرے ساتھ کوئی ایسا کرے میں سر ق کردوں اس کا ” سالار طیش میں آیا تھا ” نہیں سالار ۔۔ سوچ سمجھ سے کام لیا کر ۔۔ نظر انداز کر ۔۔ اسی میں ہم سب کی بہتری ہے ورنہ پورا گاؤں ہمیں ہی غلط سمجھے گا ۔۔ ” سردار محمد یوسف اپنے بیٹے کو سمجھاتے ہوئے بولے ” وہ میرا خاص آدمی ہے ۔۔ عزت کرتا ہے ۔۔ تم نظر انداز کیا کرو بس ۔۔ باقی مجھ پہ چھوڑ دو ۔۔ ” ” ہممم ” سالار اپنے باپ کو دیکھتا اثبات میں سر ہلانے لگا ۔۔ یہ نہیں کہ انھیں اپنے بیٹے سے زیادہ اشعر عزیز تھا لیکن سمجھداری اسی میں تھی کہ اشعر ان کے زیردست رہے ہمیشہ۔
حریم کتابیں بکھرائے پڑھ رہی تھی جبکہ اشعر اس کی الجھی لٹوں سے کھیلتا اسے تنگ کر رہا تھا وہ گھور کے اسے دیکھنے لگی ” پڑھنے بھی دو ورنہ دوسرا کندھا میں توڑ دوں گی تمہارا ” اشعر مصنوعی حیرت سے اسے دیکھنے لگا ” بیوی ہو یا ہٹلر ” حریم ہنس پڑی ۔۔ وہ کتابیں سمیٹ کے اس کے پاس لیٹتی ہوئی کہنے لگی ” تمہیں کیسی لگتی میں ؟” اشعر اسے دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ” انسان ” حریم اسے گھورنے لگی ” ٹھیک سے بتاؤ نا ” اشعر مسکرا کے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ ” محبت ” حریم مسکرا پڑی ” میرا درد بھی ہو اور مرہم بھی تم۔ہی ہو ۔۔ میری بے چینی بھی تم ہو اور میرا سکون بھی ۔۔ ” حریم پلکیں جھکا کے مسکرا پڑی ۔ ” حریم ۔۔ میں تمہیں وہ سب تو نہیں دے سکتا ۔۔ ایک عام سا انسان ہوں ۔۔ چھوٹا سا گھر ہے ۔۔ تم اے سی کی ٹھنڈی ہوا کی عادی ہو ۔۔ میں وہ نہ دے پاؤں گا ۔۔ بہت بڑی گاڑی بھی نہیں ہے میرے پاس نہ لگژیریس زندگی دے سکتا تمہیں پھر بھی وعدہ کرتا ہوں تمہیں حتیٰ الامکان کوشش کروں گا کہ تمہیں وہ سب دے پاؤں جن کی تم عادی ہو اچھی زندگی دینے کی کوشش ضرور کروں گا “
” مجھے تم چاہئیے اشعر صرف تم بس ” وہ محبت سے اسے دیکھتی بو۔ل رہی تھی اشعر مسکرا کے رہ گیا بس !! وہ بہ ظاہر حریم کو اچھی اور خوبصورت زندگی کے خواب دکھا رہا تھا لیکن اندر کہیں یہ احساس بھی تھا کہ جس دن سرداروں کو ان کے نکاح کا پتہ چلا وہ اشعر کو زندہ گاڑ دے گیں ۔۔ وہ حریم کے ساتھ گزارے ان لمحوں کو اپنی زندگی کا قیمتی سرمایہ محسوس کر رہا تھا
اس کا زخم بھر رہا تھا اب ۔۔ حریم اس کا بہت خیال رکھ رہی تھی ہر طرح سے ۔۔ اشعر بھی ان دنوں حریم کی قربت میں مدہوش سا رہتا تھا ۔۔ دن بہ دن وہ ایک دوسرے کے زیادہ قریب ا رہے تھے ۔۔ بوا انھیں دیکھ دیکھ کے ان کی حفظ و امان کی دعائیں ہی مانگا کرتی تھی ۔۔ ابھی اشعر کچن میں حریم کے لئے ڈنر بنا رہا تھا ۔۔ حریم کرسی پہ بیٹھی ٹیبل پہ کہنی ٹکائے اسے دیکھ رہی تھی ” ارے واہ تمہیں تو کوکنگ بھی آتی ہے ” ” ارررے میں بہت اچھا کھانا بناتا ہوں تمہیں تو اس بات کا پتہ بھی نہ ہوگا ” اشعر دعوے کرنے لگا ” امپریسو ۔۔ ابھی دیکھ لیں گے آپ کی کوکنگ کے کمالات بھی ” وہ ہنسی دباتی بولی تو اشعر کندھے آچکا کے بولا ” بلکل ابھی بس ویٹ کرو ” وہ اسے پیار سے دیکھتی رہی ۔۔ اشعر نے اس کی آنکھوں کے آگے چٹکی بجائی کدھر کھوئی ہے آپ بیگم ؟” حریم کو ہنسی ا گئی ۔۔ ” بیگم ۔۔۔۔ مزے کا تھا ” ” ہنس رہی ہو یار ” اشعر نے منہ بنایا تو حریم نے ہنسی دبائی ” بلکل بھی نہیں۔ کھانا لاؤ جلدی بھوک لگ رہی ہے “
” جو حکم آپ کا بیگم ” حریم کی ہنسی بے ساختہ تھی۔ وہ خوش تھی ۔۔ بہت خوش ۔۔ اشعر کے سنگ گزرا ہر لمحہ اس کے لئے اہمیت رکھتا تھا ۔وہ اتنی مگن تھی اپنی خوشیوں میں کہ ۔ اس کے دل سے یہ خوف بھی مٹ چکا تھا کہ اگر بابا سائیں یا سالار کو پتہ چلا تو کیا ہوگا ۔۔
فائق نے نکاح نامہ سالار کے سامنے رکھا ۔۔ سالار کی نظر پڑتے ہی وہ طیش میں آگیا اشعر اور حریم ۔۔ وہ انگارہ بار نظروں سے فائق کو دیکھنے لگا فائق نظریں جھکا گیا ” چھوٹے سردار میری کیا مجال جو میں جھوٹ بولوں ۔۔ جو سچ ہے وکی بتا رہا آپ کو ۔۔ آپ خود شہر جا کے دیکھ لیں ” ” گاڑی نکالو ” اس کی دھاڑ پہ ملازم بھاگتا ہوا باہر کی طرف گیا جبکہ فائق اپنے سامنے پڑے رقم کو لالچی نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔ چند روپوں کی خاطر برسوں کی دوستی کو ختم کر دیا تھا اس نے ۔۔
بیل کی آواز پہ حریم نے دروازہ جا کے کھولا اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ آنے والا سالار ہوگا ۔۔ ” ادا سائیں ” وہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ سالار نے آگے بڑھ کے اسے تھپڑ مارا ۔۔ اشعر آگے بڑھا اور حریم کو پاس کھینچ کے اس کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔ ” حریم پہ ہاتھ اٹھانےکا حق نہیں تمہیں ” سالار نے اس کا گریبان پکڑ لیا ” ہمارے ٹکڑوں پہ پل کے اب ہمیں ہی سکھاؤ گے ” اشعر نے اسے زور سے دھکا دے کے خود سے دور کیا ” حریم میری بیوی ہے اور نکاح ہوا ہے ہمارا ” ” بد ذات ” وہ آگے بڑھا ہی تھا جب حریم اس کے سامنے کھڑی ہو گئی ” ادا سائیں حد میں رہئیے اپنے ۔۔ آٹھ سال پہلے جو گھٹیا حرکت کر چکے ہیں آپ تو اب کس منہ سے آپ اشعر کو بد ذات کہہ رہے ہیں ۔۔ “
” حریم زبان سنبھال ۔۔۔ ” وہ طیش میں اسے دیکھ رہا تھا حریم اس سے زیادہ زور سے چلائی ” کیوں سنبھالوں میں اپنی زبان ؟؟ خون بہا تو آپ کے ہی رسم رواج ہیں نا تو یوں سمجھئیے آپ کی بہن بھی خون بہا میں اشعر کے نکاح میں آئی ہے ۔۔ ونی ہے آپ کی بہن ۔۔اپ کے کالے کرتوت کے نتیجے “
” ونی چھوٹے خاندانوں کے لئے ہوتا ہے تم سردار کی بیٹی ہو ۔۔ ۔۔ “
” کیوں چھوٹے خاندان کے لوگ انسان نہیں ہوتے ۔۔ کچھ بھی کر لیں گے کوئی پوچھے گا بھی نہیں ۔۔۔ ” ” بکواس بند کرو ” حریم کو تھپڑ مارنے کے لئے اس نے ہاتھ اٹھایا ہی تھا جب اشعر نے اس کا ہاتھ ہوا میں ہی روک لیا اور اس کی آنکھوں میں اپنی سرخ ہوتی آنکھوں سے دیکھا ۔۔ سالار نے پہلے حیرت سے اسے دیکھا پھر غصہ در آیا ان آنکھوں میں ” میری بہن کو خود کشی پہ مجبور کیا ۔۔ میری ماں میرا باپ دونوں تیری وجہ سے اس دنیا سے گئے ۔۔ سزاوار تو تو ہے سردار سالار ” ” پکڑو اس کتے کو ” سالار دھاڑا تھا اپنے آدمیوں پہ ۔۔ انھوں نے آگے بڑھ کے اشعر کو دبوچ لیا ۔۔ حریم چلانے لگی ” چھوڑ دو اشعر کو ۔۔ ” سالار نے اسے بالوں سے کھینچا ” اپنے خاندان کی عزت پامال کرتے ہوئے شرم نہیں آئی تمہیں ” سالار کے چیخنے پہ وہ اسے خونخوار نظروں سے دیکھنے لگی اس پہ تھوکتی ہوئی چیخی ” آپ کو آئی تھی ؟” سالار نے زور کا تھپڑ اس کے نازک گال پہ مارا تھا ” چپ کر ۔۔۔ ” اسے کھینچتے ہوئے وہ لے جانے لگا بوا آوازوں پہ باہر آئی تھی حریم کی حالت دیکھ کے ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے وہ سالار کو روکنے کے لئے آگے بڑھی ” چھوڑ دیں میری بچی کو چھوٹے سرکار ” ” تیرے اعتبار پہ اپنی بہن کو ادھر چھوڑا تھا بوا ۔۔ دور رہو ” انھیں دھکا دے کے وہ حریم کو بالوں سے کھینچتالے جانے لگا ۔۔ اشعر خود کو چھڑانے لگا لیکن سالار کے آدمی اسے بھی گھسیٹ کے لے جا رہے تھے ۔۔ حریم کی حالت اس کے دل کے ٹکڑے کر رہا تھا ۔۔ لیکن وہ کچھ کر نہیں پا رہا تھا۔
جاری ہے