111.6K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 7

بارش کی پہلی بوند
از قلم ملائکہ رفیع
قسط نمبر 7
اشعر کے نیم جان وجود میں اور سکت نہیں رہی تھی بھاگنے کی ۔۔ لیکن پھر بھی وہ بھاگ رہا تھا حریم کے ساتھ ۔۔ اسے حریم کا ساتھ دینا تھا اسے حریم کے لئے ہمت سے کام لینا تھا اگر وہ لوگ یہاں سے نکل پاتے تو ایک خوبصورت زندگی ان کی منتظر تھی یہی خیال اسے تقویت بخش رہا تھا لیکن قسمت کو شاید کچھ اور منظور تھا ۔۔ پیچھے سے گاڑیوں کا شور اور سالار کی آواز سن کے وہ ٹھٹھک گئے ۔۔ ” پیچھے مت دیکھو اشعر بھاگو ” حریم نے اشعر کا ہاتھ کھینچا تھا اچانک سے گولی چلی اور اشعر کی پشت پہ لگی ۔۔ اشعر ایکدم سے رک گیا حریم خوفزدہ نظروں سے اشعر کو دیکھ رہی تھی اشعر اسے دیکھتا زمین پہ بیٹھتا چلا گیا ” نہیں اشعر ۔۔ نہیں ” اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتے ایک اور گولی چلی اور اشعر کے کندھے پہ لگی گاڑیاں رکی اور سالار اپنے آدمیوں کے ساتھ باہر نکل کے ان کے پاس آیا حریم اسے خونخوار نظروں سے دیکھنے لگی ” اور کتنا ظالم بنو گے ۔۔ ” وہ روتے ہوئے چیخی تھی ” کیا ملتا ہے تم لوگوں کو یہ سب کر کے ۔۔ دور رہو میرے اشعر سے کتے ” سالار نے اسے بالوں سے کھینچ کے دوسری طرف پھینک دیا پھر اشعر کے وجود کو اپنے پاؤں سے لات مار کے سیدھا کیا ” دور رہو اشعر سے ” وہ اس کی طرف آنا چاہ رہی تھی جب سالار کے آدمیوں نے اسے پکڑ لیا ” بدذات غور سے دیکھ ۔۔ غور سے ہاں میں نے ہی تیری بہن کی عزت لوٹی ۔۔ اس کی عزت سے میں نے کھیلا ۔۔آہ بڑی خوبصورت تھی تیری بہن ۔۔ ” اشعر اٹھنے کی کوشش کرتا اس پہ تھوکا تھا سالار نے اس کے سینے پہ اپنے پاؤں رکھ دیا اور جوتے کی نوک سے اس کا سینہ مسلنے لگا “اس کو میں نے نوچا۔۔ تیرا پورا خاندان مر گیا ۔۔ تو کیوں زندہ ہے تو بھی ادھر ہی جا ” پھر پستول اس کی طرف تھامی ” نہیں ۔۔۔ نہیں اشعر کو مت مارو ادا سائیں ۔۔۔” وہ رونے لگی چیخنے لگی ” تیری موت میرے ہی ہاتھوں لکھی ہے ” اور دو تین گولیاں اس کے سینے میں اتار دی ۔۔ ” اشعر ۔۔۔۔ ” وہ چیخی تھی ۔۔ اشعر نے بےجان وجود اور خون آلود وجود کے ساتھ ایک آخری نظر حریم پہ ڈالی اور اس کی آنکھیں بند ہو گئی ۔۔ ” لے جاؤ اسکی لاش کو کہیں دور پھینک آؤ ۔۔ تا کہ جانور آ کے اس کے جسم کو نوچ نوچ کے ختم کردیں ۔۔ حریم کی آنکھیں وہی۔ ساکت رہ گئی تھی ۔
وہ سسک اٹھی ۔۔ ایڈووکیٹ شعیب ہمدانی اور ان کی بیگم سائیکیٹرسٹ جویریہ ہمدانی کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے ۔۔ ” جانتی ہو حریم ۔۔ تمہیں جب تمہاری دادی ادھر لائیں اور کہا کہ تم امانت ہو میرے پاس ۔۔ تب تمہیں دیکھ کے مجھے بہت دکھ ہوا تھا نیم پاگل سی تھی تم ۔۔ تمہاری اجڑی حالت ۔۔ تمہارا نیم پاگلوں کی طرح ادھر ادھر دیکھنا ۔۔ مجھے لگتا یہ ٹھیک بھی ہو پائے گی کہ نہیں مجھے لگا بس محبت نہ ملنے کے غم میں یہ ایسا ہوئی ہے لیکن آج تمہاری کہانی سن کے مجھے دھچکا لگا ہے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں اپنے اس درد کو کیسے بیان کروں لفظوں میں ۔۔ لیکن تم مہناز آنٹی کی امانت ہو میرے پاس تمہاری حفاظت کرنا میرا فرض تھا لیکن اب تم میرے گھر کی فرد ہو حریم ۔۔ ” حریم آنسو بھری آنکھوں سے اپنے محسنوں کو دیکھ رہی تھی جنہوں نے اسے سہارا دیا تھا شعیب ہمدانی اسے دیکھ رہے تھے ” میں آپ کا کیس لڑوں گا ” حریم نے حیران نظروں سے انھیں دیکھا ” میں اشعر کے قاتلوں کو سزا دلاؤں گا ۔۔ یہ میرا وعدہ ہے آپ سے ۔۔ میں نے آپ کو اپنی چھوٹی بہن مانا ہے اور میں بڑا بھائی بن کے دکھاؤں گا ” اس پیار پہ حریم سسکنے لگی ۔۔ وہ پور پور ان کی ممنون تھی ۔۔۔ برے وقت میں انھوں نے اسے سہارا دیا ۔۔ چھت دی ۔۔ اس کا علاج کرایا اور اسے اپنے گھر کا فرد سمجھا ہمیشہ ۔۔ جویریہ ممنون نظروں سے اپنے شوہر شعیب ہمدانی کو دیکھ رہی تھی جس نے شروع میں مخالفت کی تھی حریم کو یہاں رکھنے پہ ۔۔ لیکن بعد میں وہ بھی دکھی ہو گیا تھا حریم کی حالت دیکھ کے اور آج تو ۔۔۔ ” کیا دیکھ رہی ہو بھئی ” شعیب ہمدانی مسکرائے تھے ” دیکھ رہی ہوں اپنے مجازی خدا کو ۔۔ جو صحیح معنوں میں ایک بھائی ہونے کا فرض نبھا رہا ہے ” جویریہ انھیں پیار سے دیکھتی کہہ رہی تھی ۔۔ شعیب ہمدانی مسکرا پڑے ” اس بچی کے زخم تبھی بھرے گیں جب اشعر کے قاتلوں۔ کو سزا ملے گی اور میں انھیں کورٹ تک کھینچوں گا اور انھیں ان کے کیے کی سزا دے کے رہوں گا انشاء اللہ ” ” انشا اللہ ” جویریہ بھی مسکرائی تھی حریم دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔
کیس فائل ہو چکی تھی ۔۔ شعیب ہمدانی سردار محمد یوسف اور سردار سالار پہ کیس فائل کر کے کورٹ کی طرف سے لیٹر انھیں بھیج چکا تھا جسے سالار ہاتھ میں لیے حیرت سے دیکھ رہا تھا اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ سب کون کر رہا اور کسی کو ان سب کا کیسے پتہ ۔۔ ” اب کیا کریں گے بابا سائیں ” سردار یوسف پر سوچ نگاہوں سے سالار کو دیکھنے لگے ” وکیل کو فون کر کے حویلی بلاؤ ۔۔ وہی کرے گا اب کچھ ” بات اب عدالت تک پہنچی تھی ۔۔ کانپ تو سردار یوسف بھی گئے تھے لیکن خود کو مضبوط دکھا رہے تھے مہناز بیگم مسکراتی نظروں سے انھیں دیکھ رہی تھی ” خدا کے گھر میں دیر ہے لیکن اندھیر نہیں ” سردار یوسف نے اپنی ماں کے مسکراتے چہرے پہ نظر ڈالی لیکن کہا کچھ نہیں ۔۔ خاموش رہے ” اب سردار محمد یوسف اور اس کا بیٹا سردار سالار کورٹ کچہری کے چکر کاٹے گا ۔۔۔ ” وہ ہنسنے لگی ” انصاف ضرور ملے گا انصاف ضرور ہوگا ۔۔ ” سردار محمد یوسف نے انھیں دیکھا گھبراہٹ ان کے چہرے سے عیاں تھی ” گھبرا رہے ہو ۔۔۔ سردار ہو کے گھبرا رہے ہو ۔۔ دو معصوم جانوں کو اپنی غیرت کی بھینٹ چڑھا کے تم سکون سے رہ پاؤ گے ۔۔ یہ تو اللہ بھی کھبی نہیں چاہے گا سردار یوسف ۔۔ ” وہ کہہ کے اپنی جگہ سے اٹھی اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی جبکہ سالار اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا جن کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا
آج کورٹ میں پیش تھی ۔۔ حریم کے ہاتھ پاؤں کانپ رہے تھے جویریہ بار بار اسے دیکھ رہی تھی ” حریم اگر تم نہ جانا چاہو تو کوئی مشکل نہیں ” ” نہیں ۔۔ میں جا رہی ہوں ” وہ جویریہ کو دیکھتی بولی ” تمہارے ہاتھ کانپ رہے ہیں حریم ” جویریہ اس کے ہاتھوں کو دیکھتی بولی حریم
نے اپنے ہاتھ چھپالیے ” نہیں نہیں تو ۔۔ ” جویریہ نے اس کے جھکے سر کو دیکھا ۔۔ کتنے دکھ سہہ چکی یہ بچی ۔۔ وہ سوچ کے ہی رہ گئی ۔۔ وہ دونوں شعیب ہمدانی کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی پورے راستے حریم کا دل زور زور سے دھڑکتا رہا ۔۔ اتنے مہینوں بعد وہ اپنے اشعر کے قاتلوں کو اپنے سامنے دیکھے گی ۔۔ گاڑی کورٹ کے سامنے رکی وہ تینوں نیچے اترے ۔۔ ” چلیں ۔۔ ” تینوں آگے بڑھے جب سالار کی نظر حریم پہ پڑی وہ حیرت زدہ تھا وہ سمجھے تھے کہ حریم مر چکی ہوگی لیکن وہ زندہ ہے ۔۔ مہناز نے کچھ نہیں بتایا تھا حریم کے بارے میں ۔۔ وہ غصے سے آگے بڑھا ” بد ذات ” حریم نے شعیب ہمدانی کا بازو پکڑ لیا اور سپاٹ نظروں سے اپنے بھائی کو دیکھنے لگی جو ایک قاتل تھا ” کچھ نہیں کر سکتا وہ ریلیکس ” وکیل عدنان احمد نے سالار کو روک لیا ” کیا کر رہے ہیں آپ یہ کورٹ ہے ” وہ رک گیا تھا ۔۔ لیکن اس کی غضبناک آنکھیں حریم پہ تھی جسے نظر انداز کر کے وہ آگے بڑھ گئی۔
حریم صوفے پہ بیٹھی اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی ” وہ میری وجہ سے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچائے شعیب بھائی ” حریم کے کہنے پہ شعیب مسکرا پڑے ” یہ شہر ہے ان کا گاؤں نہیں ۔۔ وہ کچھ نہیں کر سکتے ۔۔ تم بے فکر رہو ” حریم سر جھکا گئی شعیب بغور اس کا چہرہ دیکھنے لگے ” کچھ کہنا چاہتی ہو حریم ؟” حریم نے سر اٹھا کے انھیں دیکھا ” کچھ کہنا ہے تو کھل کے کہو ۔۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں ہمیشہ ” حریم کی آنکھوں میں آنسو آگئے ” آپ دونوں تو بہت اچھے ہیں کون کرتا ہے اتنا کچھ ایک غیر لڑکی کے لئے ۔۔ ” جویریہ نے اس کی بات کاٹی ” تم غیر نہیں ہو حریم ۔۔ ” حریم ممنون نظروں سے دیکھنے لگی ” ان دونوں قاتلوں کو دیکھ کے میرا دل چاہا کہ وہیں ان پہ ریوالور سے ساری گولیاں ان پہ چلا دوں ۔۔ ” ” انھیں قانون سزا دے گا حریم ۔۔ “
” سزائے موت سے کم سزا نہیں ہونی چاہئیے ان کے لئے ” جویریہ نے غصے سے کہا تھا ” یہی ہوگا ۔۔ وہ اپنی موت کا انتظار کرے گیں اور پھر خود اپنی موت تک جائیں گے ۔۔ انشا اللہ “
جاری ہے