Baarish Ki Pehli Boond By Malaika Rafi Readelle50257

Baarish Ki Pehli Boond By Malaika Rafi Readelle50257

Last updated:

0.0(0 ratings)
Episodes
14
Views
111.6K
Status
—

About this novel

Baarish Ki Pehli Boond

By Malaika Rafi

” اشعر ۔۔۔ اشعر ” ایک جانی پہچانی آواز ۔۔ کہاں سنی ہے اس نے یہ آواز ۔۔ کہاں ؟ اسے یاد نہیں آ رہا تھا کہ کہاں سنی ہوئی ہے ۔۔

وہ کھویا کھویا سا اس آواز کے پیچھے چل رہا تھا ۔۔ سسکی کی آواز آئی ۔۔ سسکی لیتے ہو ہے اسے پکارا گیا وہ ہڑبڑا کے

اٹھا بیٹھا ۔۔ وہ نیند سے جاگا تھا وہ متواتر یہ خواب دیکھنے لگا تھا اب ۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ آواز کس کی ہے ۔

۔ سنی ہوئی ۔۔ جانی پہچانی آواز ۔۔ وہ اپنی پیشانی ملتا دوبارہ سے لیٹ گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا ۔۔
وہ آفس سے تھکی ہوئی آئی ہی تھی تھکی تھکی سی وہ جویریہ کو بلانے لگی ” آپی ۔۔۔ آپی ۔۔۔ آ۔۔۔ ” ڈرائنگ روم میں ا کے سامنے

بیٹھے دو اشخاص کو دیکھ کے اس کا منہ کھلا رہ گیا ۔۔ ” اسلام علیکم ” وقار اور اشعر اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے تھے جبکہ اشعر نے اونچی آواز میں اسے سلام۔کیا ۔۔ تھکی تھکی سی وہ کتنی حسین لگ رہی تھی وہ زیر لب مسکرا پڑا ۔۔ حریم جیسے ہوش میں آئی تھی ” اسلام علیکم ” اس نے آگے بڑھ کے انھیں سلام کیا ۔۔ ” بیٹھئے نا ” وہ دونوں اپنی جگہ بیٹھ گئے تو حریم بھی جویریہ کو باہر آنے کے اشارے کرنے لگی انھیں معذرت کر کے وہ دونوں باہر ائیں ” یہ کیا ہے ۔۔ آپ نے بتایا کیوں نہیں مجھے ؟ ”
” وہ سرپرائز کرنا چاہ رہے تھے تمہیں۔ منع کر دیا تھا انھوں نے ” جویریہ اسے بتانے لگی ” میں جا رہی تم بھی فریش ہو کے ا جاؤ ” جویریہ اندر چلی گئی جبکہ حریم نے سر جھٹکا پھر مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا ۔۔
وہ فریش ہو کے ان کے پاس آئی ۔۔ اشعر نے گہری نظروں سے دیکھا ۔۔ اس کا خوبصورت چہرہ کھل رہا تھا ۔۔ حریم نے اشعر

کو دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ حریم کے لبوں پہ مسکراہٹ ٹھہر گئی ۔۔ اس کے چہرے پہ ہزاروں رنگ کھل گئے تھے ۔۔ ” حریم بیٹا سنا ہے آپ کوئی بک لکھ رہی ہے ” وقار کے پوچھنے پہ وہ سنبھل کے انھیں دیکھنے لگی ” جی انکل ۔۔ ” ” تو بھئی ہمارے صاحبزادے کو بھی دکھاؤ وہ کتاب ”
” جی ۔۔۔۔ ” وہ حیران ہوئی ۔۔ وقار آنکھوں سے اسے اشارہ کرتے بہ ظاہر مسکرا رہے تھے ” جی ضرور” وہ مسکرا کے اشعر

کو دیکھنے لگی تو وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا ۔۔ حریم بھی اٹھی اور دونوں کمرے سے نکل گئے ۔ لاونج کی طرف جاتے ہوئے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر کنفیوز ہوتی حریم آنکھیں چرا کے مسکرانے لگی ۔۔ اپنے کمرے کے سامنے پہنچ کے وہ کچھ دیر رکی ” اگر آپ کمفٹیبل نہیں ہے تو ہم یہی لاونج میں بیٹھ جاتے ہیں ” اشعر اسے دیکھتا بولا ” ن ۔۔نہیں ۔۔ آئیے

پلیز ” وہ جلدی سے دروازہ کھولتی اندر آئی ” بیٹھئے پلیز ” اسے صوفے پہ بیٹھنے کا کہہ کے وہ بھی بیٹھ گئی کچھ فاصلے پہ ۔ اشعر کمرے کا جائزہ لینے لگا اور حریم اس کا ۔۔ بلیو جینز پہ بلیک شرٹ کے ساتھ ۔۔ ہلکی شیو کے ساتھ وہ حریم کو بار بار کنفیوز کر رہا تھا ۔۔ سچ جاننے کے بعداسے اشعر پہ پیار آ رہا تھا ۔۔ اپنائیت کا احساس ۔۔ اپنا ہونے کا احساس ۔۔وہ اس کا شوہر

تھا ۔۔ اور وہ اس کے نکاح میں تھی ۔۔ ایک خوبصورت اور پاک بندھن ۔۔ جو ان کے بیچ تھا لیکن اشعر کو یاد نہیں تھا کچھ اور

حریم سب جانتے ہوئے بھی اس سے دور تھی ۔۔ اشعر کی نظر اس پہ پڑی اسے خود کی طرف انہماک سے دیکھتا پا کے وہ اس کی آنکھوں میں کھو گیا ہو جیسے ۔۔ کچھ کہتی آنکھیں ۔۔ لیکن کیا !!! لمحے سرکتے گئے ۔۔ حریم نے سٹپٹا کے نظریں جھکا دی اس کے چہرے پہ ہزاروں رنگ بکھر گئے تھے ۔۔ اس کا دل کسی اور لے پہ ہی دھڑک رہا تھا ۔۔ اس کا مجازی خدا اس کے سامنے ہی تھا ۔۔اس کی محبت ۔۔ لیکن اس میں پلکیں اٹھا کے دیکھنے کی ہمت نہیں تھی ۔۔ اشعر زیر لب مسکرا رہا تھا ۔۔اس کے چہرے کے خوبصورت رنگوں میں وہ کھو رہا تھا ۔۔ ” حریم ۔۔۔ ” حریم نے ایک نظر اسے دیکھا اسے ایک پل کو لگا اشعر

کو سب یاد آ گیا ہو ۔۔ ” آپ بہت خوبصورت ہے حریم ۔۔ شفاف دل کی مالک ہے آپ ۔۔ ” حریم مسکرا پڑی ۔ پھر سنبھل کے کہنے لگی ” میں ۔۔ ہمممم میں آپ کے لئے پانی لاؤں ؟” اس کی بات پہ اشعر مسکرا پڑا ” کیوں آپ کو پیاس لگی ہے ”
” ج۔۔جی جی ” وہ جلدی سے اٹھ گئی اور کمرے سے نکل کے کچن میں آگئی اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے وہ لمبی لمبی سانسیں لینے لگی ۔۔ یہ کیا ہو رہا تھا اسے ۔۔ وہ مسکرانا بھول گئی ۔۔ خواب دیکھنے چھوڑ دیے تھے اس نے ۔۔ محبت کے احساس سے وہ بے خبر ہی ہو گئی تھی ۔۔ سارے احساس اس کے اندر مر چکے تھے لیکن وہ دوبارہ سے زندہ ہو رہی تھی ۔۔۔ محبت کی بوندیں اس کے

دل کی زمین بھگو رہی تھی پھر سے ۔۔اس کی آنکھیں خواب دیکھنے لگی تھی ۔۔ اپنے اشعر کے خواب ۔۔ اس کے چہرے نے خوبصورت

رنگوں کو محسوس کرنا شروع کیا تھا اب !! پل پل اسے لگتا اشعر کو بھی سب یاد آ رہا

۔۔ اس کی آنکھوں میں اسے محبت ۔۔ اپنائیت کے رنگ نظر آنے لگے تھے ۔۔ اس نے جذب کے عالم میں اپنی آنکھیں موند لیں ۔۔

Episodes

Episode 1

بارش کی پہلی بوند
از قلم ملائکہ رفیع
قسط نمبر 1
” میں نے صرف اپنی بہن کا بدلہ لینے کے لئے تم سے یہ ڈھونگ رچایا ” اشعر نے نکاح کے کاغذات حریم کے منہ پہ مارتے ہوئے کہا حریم اپنا جھکا سر اٹھا کے حیران نظروں سے اشعر کے چہرے کو دیکھنے لگی جس پہ ایک فاتحانہ مسکراہٹ تھی ۔۔ اس کے اندر کچھ چھن سے ٹوٹا تھا لیکن چپ رہی ۔۔ تو اشعر بولا ” تمہارے ادا سائیں سالار نے میری بہن کی عزت سے کھیل کے اسے خودکشی کرنے پہ مجبور کیا تھا ۔۔ تب سے میں بدلے کی آگ میں جل رہا تھا
اور پھر تمہاری صورت مجھے موقع مل گیا ” حریم نے سر جھکا کے سب پیپرز اٹھا کے سائیڈ پہ رکھ دئیے ۔۔ پھر اپنا دوپٹہ سنبھالتی اپنی جگہ سے اٹھی اور دو قدم اپنی جگہ سے چل کے اشعر کے قریب آئی اور اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی ” مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوا تھا لیکن اتنا ضرور معلوم ہے کہ اگر میرے ادا سائیں تمہاری بہن کی عزت سے کھیلے تھے تو تم میری عزت کے ساتھ ساتھ میری روح ۔۔ میری فیلنگز ۔۔ اور میری محبت سے کھیل چکے ہو ۔۔ یہ جو جیت کا نشہ تم پہ چڑھا ہے اور جو فاتحانہ مسکراہٹ تمہارے چہرے پہ ہے اس سے یہی لگ رہا کہ تم جیت چکے ہو اشعر رحمان ۔۔ براوؤ ۔۔ تالیاں ” ساتھ ہی تالیاں بجانے لگی ۔۔ اشعر اسے خاموش نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔ اسے حریم کی سمجھ نہیں آ رہی تھی اسے لگا تھا کہ وہ اب روئے گی ۔۔ بھیک مانگے گی اپنی عزت کی لیکن وہ تو اس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔۔
” چلو جیت کی خوشی مناؤ اب ۔۔ کیا کرنا باقی ہے اب میرے ساتھ ۔۔۔ نوچ لو میرا جسم بھی اب ۔۔ لے لو مکمل بدلہ اب ۔۔ کرو جانور جیسا سلوک میرے ساتھ اب ۔۔ چلو” اشعر نظریں چرانے لگا تو وہ اس کا کندھا ہلا کے بولی ” یوں کرو اپنے دوستوں کو بھی بلا لو ۔۔ ٹوٹ پڑو مجھ پہ جانوروں کی طرح اب سب ۔۔ “
” حریم ۔۔۔ ” اشعر چیخا تھا اس کی آنکھیں انگارہ ہو رہی تھی ۔۔ لیکن حریم اپنی جگہ سے نہ ہلی وہ آنسو لیے اسے دیکھ رہی تھی ” لیکن مجھے سچ میں تم سے محبت ہو گئی تھی مسٹر اشعر رحمان ۔۔ کسی کا بدلہ نہیں لے رہی تھی تم سے ” وہ خود پہ ضبط کرتی اپنی انگلی اس کے سینے پہ مارتے بولی تھی ۔۔ اشعر کی نظریں جھک گئی ۔۔ حریم اسے چھوڑ کے صوفے پہ جا کے بیٹھ گئی تھی لیکن اشعر اب سر اٹھانے کے قابل بھی نہیں رہا تھا ۔۔ وہ دیر تک اپنے ہاتھوں کی چوڑیوں کو دیکھتی رہی پھر ایک ایک کر کے سب چوڑیاں توڑنے لگی وہ ۔۔ اشعر آگے بڑھا تھا اسے روکنے کے لئے لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس کے پاس بیٹھتا ۔۔ حریم سر اٹھا کے تیز نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھی ۔۔ اشعر وہیں رک گیا وہ پھر اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں پایا ۔
صبح جب وہ کمرے سے باہر نکلی تو فائق اپنی بیوی کے ساتھ صوفے پہ بیٹھا ہوا تھا حریم پہ نظر پڑی پھر نظریں جھکا دی جبکہ فائزہ مسکرا کے کھڑی ہو گئی ” مارننگ حریم ۔۔ ” حریم بھی جوابا مسکرائی ” مارننگ ” یہ اشعر کے دوست کا گھر تھا جہاں ان کا نکاح ہوا تھا اشعر اسے دیکھ کے کھڑا ہو گیا جبکہ حریم اسے نظر انداز کر کے فائق سے کہنے لگی ” فائق بھائی مجھے میرے فلیٹ تک چھوڑ دے گیں ؟”
” جی ضرور بھابی ” وہ اپنی جگہ کھڑا ہو گیا ۔۔اشعر پہ نظر پڑی تو وہ اسے آنکھیں دکھانے لگا ” میں چھوڑ دیتا ہوں ” اشعر کے کہنے پہ حریم نے اسے دیکھا بھی نہیں اور آگے بڑھ گئی فائزہ نے اسے روکنا چاہا لیکن وہ نہ رکی اور دروازہ سے باہر نکل گئی ۔۔ اشعر بھی اس کے پیچھے تھا ۔۔
گاڑی میں خاموشی رہی ۔۔ اشعر ایک نظر اس پہ ڈال بھی دیتا لیکن وہ سامنے روڈ کو ہی دیکھ رہی تھی ۔۔ اس میں ہمت نہیں تھی اب کہ وہ حریم کو پکارے یا اس سے کوئی بات کرے ۔۔ حریم اسے اچھا خاصا آئینہ دکھا چکی تھی فلیٹ کے سآمنے گاڑی رکی اشعر اسے دیکھنے لگا وہ بنا دیکھے گاڑی سے اتری اور تھکے قدموں سے اندر کی طرف بڑھ گئی ۔۔ سیڑھیاں چڑھتے وہ اپنے دروازے کے سامنے رکی۔۔ بیگ سے چابی نکال کے اس نے دروازہ کھولا اور اندر ا کے دروازہ بند کر دیا بوا نہ جانے کدھر تھی ۔۔ وہ اپنے کمرے میں آ کے بیگ پھینک کے واشروم میں گئی اور شاور کھول کے اس کے نیچے کھڑی ہو گئی ۔۔ کب کے رکے ہوئے آنسو بہنا شروع ہو گئے ۔۔۔ اور ضبط کا بندھن ٹوٹا تو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔۔ محبت کا ماتم ۔۔ اعتبار کا سوگ ۔۔ عزت کا سودا ۔۔ کیا کچھ نہیں ہوا تھا اس کے ساتھ ۔۔ وہ روئے جا رہی تھی
سردار محمد یوسف کے دو ہی بچے تھے ۔۔ سالار اور حریم ۔۔ سالار بڑا تھا اور گاؤں میں حویلی میں ہوتا تھا اپنے والد کے ساتھ اور دادی مہناز بیگم کے ساتھ جبکہ حریم شہر میں یونیورسٹی میں پڑھتی تھی ۔۔ اس کے لیے سردار محمد یوسف نے فلیٹ لیا تھا جدھر وہ بوا کے ساتھ ہوتی تھی جس نے اس کی ماں کی موت کے بعد بچپن سے اس کی پرورش کی تھی ۔۔
اشعر ایک چھوٹے گھر کا لڑکا تھا جس کا باپ حویلی میں صدیوں سے سردار محمد یوسف کے ساتھ تھا ۔۔ جب وہ پندرہ سال کا تھا تب اس کی بیس سالہ بہن سردار سالار کی ہوس کا نشانہ بنی تھی اور اس نے خودکشی کر لی تھی ۔۔ دوسرے دن ہی اس کی ماں چل بسی اور پھر ایک مہینے بعد اس کا باپ بھی ۔۔ وہ اکیلا رہ گیا تھا تب سردار محمد یوسف نے اسے اپنی سرپرستی میں لیا ۔۔ اور اسے پڑھایا لکھایا ۔۔ وہ گاؤں کے سکول میں ہی پڑھا تھا پھر کالج شہر گیا اور پھر یونیورسٹی بھی وہیں شہر میں ہی جاتا ۔۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اس کا بدلہ سالار سے ضرور لے گا ۔۔ تب ایک دن اس کی نظر حریم پہ پڑی جو شہر سے یہاں ائی تھی اپنے حویلی ۔۔وہ یہاں کم ہی آیا کرتی تھی ۔۔۔ اس کے صبیح چہرے پہ اشعر کی نظریں رک گئی تھی وہ بار بار نظریں چراتا ۔۔ لیکن بدلے کی آگ اس پہ زیادہ حاوی تھی ۔
لاؤنج میں آئی تو کافی فریش تھی وہ ۔ بوا نے اسے دیکھا وہ ضعیف عمر کی خاتون تھی جسے سنائی کم دیتا تھا ۔۔ انھیں حریم سے بہت محبت تھی ۔۔ ” آگئی میری بچی ۔۔ فنکشن کیسا تھا ؟”
” ٹھیک تھا بوا جی ” وہ آہستہ سے کہہ کے ان کے پاس بیٹھ گئی ۔۔ ” کچھ کھانے کو لاؤں ؟ “
” نہیں دل نہیں کر رہا ” وہ ٹی وی لگانے بیٹھ گئی تو بوا اپنی جگہ سے اٹھی ” میں نماز پڑھ لوں ” ” ہمممم ” اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔ تو بوا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔ اس کی نظریں ٹی وی پہ تھی لیکن اس کا دماغ کہیں اور تھا ۔۔ اسے ایکدم یاد آیا کہ وہ اتنا سب ہونے کے بعد خاموش ہی کیوں رہی ۔۔ وہ لڑی کیوں نہیں اشعر سے ۔۔ وہ ہوتا کون ہے یہ سب کرنے والا اس کے ساتھ ۔۔اس کے ساتھ جھوٹی محبت کا ڈھونگ رچا کے اس کے احساسات سے کھیلنے والا ہوتا کون ہے وہ ۔۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور دروازے کی طرف بڑھی تا کہ ساتھ والے فلیٹ میں جہاں اشعر ہوتا تھا وہاں جا کے وہ اشعر کو سنا دیں جیسے ہی دروازہ کھولا تو دروازے کے پاس بیٹھا اشعر چونک کے کھڑا ہو گیا حریم کی تیوریاں چڑھ گئی ” تم یہاں کیوں بیٹھے ہو ؟” وہ نظریں جھکا کے بولا ” میں نے سوچا آ۔۔آپ کو کسی چیز کی ضرورت نہ ہو ” وہ غصے سے اسے دیکھ رہی تھی ” مجھے کسی چیز کی ضرورت ہوگی میں خود لے لوں گی جا کے “
” جی ۔۔ بابا سائیں نے کہا تھا کہ آپ کا خیال رکھوں ” وہ سردار محمد یوسف کا خاص آدمی تھا اور وہ انھیں بابا سائیں ہی بلاتا ۔ حریم اسے آبرو اچکا کے دیکھنے لگی ” بتایا نہیں بابا سائیں کو کہ ان کی بیٹی کو محبت کے نام پہ لوٹ چکے ہیں اپنے سو کالڈ بدلے کی آگ بجھانے کے لئے ” اشعر نے تڑپ کے اسے دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی ” میں بتا دوں ؟؟ ” وہ نظریں جھکا گیا ” میں بتاؤں انھیں ؟ تم سے پوچھ رہی ” وہ چپ رہا ۔ وہ اسے گریبان سے پکڑ کے آہستہ آواز میں غرائی ” میری طرف دیکھو ” وہ اسے دیکھنے لگا ” مجھے تمہارے اس خیال کی ضرورت نہیں۔ ۔۔ اپنا بوریا بستر اٹھاؤ اور دفع ہو جاؤ گاؤں اپنے سردار سائیں کے پاس ۔۔ جس کام کے لئے میرے قریب آئے تھے اور یہاں تھے وہ کمپلیٹ ہو چکا اب دور رہو مجھ سے ۔۔ میں بابا سائیں کو کال کر کے کہہ دوں گی کہ کسی اور کو بھیجے آئی سمجھ ” اپنی بات کہہ کے جھٹکے سے اس کا گریبان چھوڑ دیا وہ خاموش رہا ۔۔ حریم اندر جانے کے لیے مڑی جب اشعر کی آواز پیچھے سے آئی ” کوئی بھی آ جائے میں آپ کو چھوڑ کے گاؤں نہیں جا رہا ۔۔ آپ میرے نکاح میں ہے اور آپ کا خیال رکھنا میرا فرض ہے ” حریم منہ موڑ کے اسے دیکھنے لگی ” اگر مجھے سب کو بتانا بھی پڑ جائے میں بتا دوں گا کہ ہمارا نکاح ہو چکا اور میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا ” حریم غضبناک انداز میں اسے دیکھ رہی تھی ” مرنا ہے تم نے ؟ تمہیں کیا لگتا ان سب کے بعد وہ تمہیں چھوڑ دے گیں ؟ کتے کی موت مارے گیں تمہیں سب مل کے “
” مجھے منظور ہے ” وہ اسے دیکھ کے بولا حریم کچھ دیر اسے دیکھتی رہی اس کی آنکھوں میں یقین تھا ۔۔ محبت کا یقین ۔۔ ” میں پھر سے ان آنکھوں کا دھوکا نہیں کھاؤں گی اشعر رحمان ” حریم کے لہجے میں کچھ تھا کہ اشعر نظریں جھکا گیا جبکہ حریم دروازہ بند کر کے اندر اگئی ۔۔ اور کافی دیر تک وہ دروازے پہ پشت دیے کھڑی رہی ۔۔ آنسو اس کی آنکھوں میں جمع ہونے لگے اسکا دل چاہا کہ دروازہ کھول کے وہ اشعر کو جا کے کہہ دے کہ بول دو کہ وہ سب جھوٹ ہے جو اس نے کل رات کہی تھی ۔۔ وہ آج بھی اسے محبت کرتا ہے ۔ لیکن وہ کر نہ پائی ۔۔مان ٹوٹا تھا ۔۔
اشعر بند دروازے کو دیکھتا رہا اسکا دل چاہا آگے بڑھ کے دروازے پہ دستک دے اور جب حریم دروازہ کھولے تو وہ اسے اپنی بانہوں میں بھر لیں اور اسے اپنی محبت کا یقین دلائے ۔۔ لیکن !!! سب اتنا آسان نہیں۔ ہوتا
یونیورسٹی جانے کے لئے وہ نیچے آئی تو اشعر اسے گاڑی میں سویا نظر آیا اسے وہ دن یاد آگئے جب وہ حریم کے آتے ہی اس کے لئے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کے کھڑا ہو جاتا ” آئیے حریم میڈم ۔۔ خادم آپ کی خدمت میں ہے ” اور حریم ہنستی ہوئی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ جاتی ۔۔ اشعر کھسیانا سا ہو کے دروازہ بند کر کے اپنی ڈرائیونگ سیٹ پہ آ کے بیٹھ جاتا اور مسکرا کے حریم کو دیکھتا ۔ ” ہمیشہ کی طرح خوبصورت ” توحریم ہنس دیتی ۔۔
وہ یونہی اسے دیکھ رہی تھی جب اشعر کی آنکھ کھلی حریم کو اپنی طرف یوں دیکھتی پا کے وہ کچھ دیر اس کے صبیح چہرے کو دیکھتا رہا ۔ نظریں ملی ۔۔ دل دھڑکے ۔۔ حریم سر جھٹک کے آگے بڑھی جب اشعر گاڑی کا دروازہ کھول کے باہر نکلا اور اس کے لئے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول دیا ۔۔ ” میں خود جا سکتی ہوں “
” آپ میری ریسپانسیبلیٹی ہے ” حریم کچھ دیر طنزیہ نظروں سے اسے دیکھتی رہی عام سے حلیے میں بھی وہ کسی شہزادے سے کم نہیں۔ لگ رہا تھا بلیو جینز پہ بلیک شرٹ پہنے ۔۔ بلیک ہی شال اوڑھے ۔۔ الجھے بالوں اور بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ وہ بہت خاص لگ رہا تھا وہ سر جھٹک کے آگے بڑھی اور پچھلی سیٹ پہ بیٹھ گئی ۔۔ اشعر کے چہرے پہ ایک سایہ سا گزرا ۔۔ کل تک وہ اسے تنگ کرنے کے لئے پچھلی سیٹ کا دروازہ کھولتا اور وہ ہنستی ہوئی فرنٹ سیٹ پہ بیٹھ جاتی اور آج … وہ دروازہ بند کر کے اپنی ڈرائیونگ سیٹ پہ آ کے بیٹھ گیا
“حریم آپ تو پرنسز ہے ۔۔ ہممم ایک بہت بڑی سلطنت کی ملکہ اور میں ایک عام سا انسان جسے آپ سے بے حد محبت ہو گئی ہے ۔۔ ” ماضی کی یادوں میں سے ایک اور یاد اشعر کے ذہن سے ٹکرائی اس نے سر جھٹک کے بیک ویو مرر سے حریم کو دیکھا وہ سپاٹ چہرہ لیے باہر دیکھ رہی تھی ۔۔ اس کے خوبصورت چہرے پہ گہری سنجیدگی تھی وہ لب کاٹتا گاڑی اسٹارٹ کرنے لگا ۔۔ سب ختم ہو چکا تھا اور اس نے خود اپنے ہاتھوں سے سب ختم کر دیا تھا ۔۔ حریم کا اعتبار گھاٹ ۔۔ اس کی محبت کا ۔۔ اس کے احساسات کا تمسخر لیکن حریم نے بنا ڈرے اسے آئینہ دکھا دیا تھا جس میں دیکھ دیکھ کے وہ خود شرمندہ ہو رہا تھا
جاری ہے

Similar Novels

You may also like these novels.

Enjoying this novel?

Tap a star to share your rating

Choose a rating from 1 to 5 stars

Choose your rating

0.0 / 5 · 0 ratings

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Romantic Urdu NovelsUrdu Novels