Baarish Ki Pehli Boond By Malaika Rafi Readelle50257
Last updated: 22 September 2025
Baarish Ki Pehli Boond
By Malaika Rafi
” اشعر ۔۔۔ اشعر ” ایک جانی پہچانی آواز ۔۔ کہاں سنی ہے اس نے یہ آواز ۔۔ کہاں ؟ اسے یاد نہیں آ رہا تھا کہ کہاں سنی ہوئی ہے ۔۔
وہ کھویا کھویا سا اس آواز کے پیچھے چل رہا تھا ۔۔ سسکی کی آواز آئی ۔۔ سسکی لیتے ہو ہے اسے پکارا گیا وہ ہڑبڑا کے
اٹھا بیٹھا ۔۔ وہ نیند سے جاگا تھا وہ متواتر یہ خواب دیکھنے لگا تھا اب ۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ آواز کس کی ہے ۔
۔ سنی ہوئی ۔۔ جانی پہچانی آواز ۔۔ وہ اپنی پیشانی ملتا دوبارہ سے لیٹ گیا اور سونے کی کوشش کرنے لگا ۔۔
وہ آفس سے تھکی ہوئی آئی ہی تھی تھکی تھکی سی وہ جویریہ کو بلانے لگی ” آپی ۔۔۔ آپی ۔۔۔ آ۔۔۔ ” ڈرائنگ روم میں ا کے سامنے
بیٹھے دو اشخاص کو دیکھ کے اس کا منہ کھلا رہ گیا ۔۔ ” اسلام علیکم ” وقار اور اشعر اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے تھے جبکہ اشعر نے اونچی آواز میں اسے سلام۔کیا ۔۔ تھکی تھکی سی وہ کتنی حسین لگ رہی تھی وہ زیر لب مسکرا پڑا ۔۔ حریم جیسے ہوش میں آئی تھی ” اسلام علیکم ” اس نے آگے بڑھ کے انھیں سلام کیا ۔۔ ” بیٹھئے نا ” وہ دونوں اپنی جگہ بیٹھ گئے تو حریم بھی جویریہ کو باہر آنے کے اشارے کرنے لگی انھیں معذرت کر کے وہ دونوں باہر ائیں ” یہ کیا ہے ۔۔ آپ نے بتایا کیوں نہیں مجھے ؟ ”
” وہ سرپرائز کرنا چاہ رہے تھے تمہیں۔ منع کر دیا تھا انھوں نے ” جویریہ اسے بتانے لگی ” میں جا رہی تم بھی فریش ہو کے ا جاؤ ” جویریہ اندر چلی گئی جبکہ حریم نے سر جھٹکا پھر مسکراہٹ نے اس کے چہرے کا احاطہ کیا ۔۔
وہ فریش ہو کے ان کے پاس آئی ۔۔ اشعر نے گہری نظروں سے دیکھا ۔۔ اس کا خوبصورت چہرہ کھل رہا تھا ۔۔ حریم نے اشعر
کو دیکھا وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔ حریم کے لبوں پہ مسکراہٹ ٹھہر گئی ۔۔ اس کے چہرے پہ ہزاروں رنگ کھل گئے تھے ۔۔ ” حریم بیٹا سنا ہے آپ کوئی بک لکھ رہی ہے ” وقار کے پوچھنے پہ وہ سنبھل کے انھیں دیکھنے لگی ” جی انکل ۔۔ ” ” تو بھئی ہمارے صاحبزادے کو بھی دکھاؤ وہ کتاب ”
” جی ۔۔۔۔ ” وہ حیران ہوئی ۔۔ وقار آنکھوں سے اسے اشارہ کرتے بہ ظاہر مسکرا رہے تھے ” جی ضرور” وہ مسکرا کے اشعر
کو دیکھنے لگی تو وہ اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا ۔۔ حریم بھی اٹھی اور دونوں کمرے سے نکل گئے ۔ لاونج کی طرف جاتے ہوئے دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر کنفیوز ہوتی حریم آنکھیں چرا کے مسکرانے لگی ۔۔ اپنے کمرے کے سامنے پہنچ کے وہ کچھ دیر رکی ” اگر آپ کمفٹیبل نہیں ہے تو ہم یہی لاونج میں بیٹھ جاتے ہیں ” اشعر اسے دیکھتا بولا ” ن ۔۔نہیں ۔۔ آئیے
پلیز ” وہ جلدی سے دروازہ کھولتی اندر آئی ” بیٹھئے پلیز ” اسے صوفے پہ بیٹھنے کا کہہ کے وہ بھی بیٹھ گئی کچھ فاصلے پہ ۔ اشعر کمرے کا جائزہ لینے لگا اور حریم اس کا ۔۔ بلیو جینز پہ بلیک شرٹ کے ساتھ ۔۔ ہلکی شیو کے ساتھ وہ حریم کو بار بار کنفیوز کر رہا تھا ۔۔ سچ جاننے کے بعداسے اشعر پہ پیار آ رہا تھا ۔۔ اپنائیت کا احساس ۔۔ اپنا ہونے کا احساس ۔۔وہ اس کا شوہر
تھا ۔۔ اور وہ اس کے نکاح میں تھی ۔۔ ایک خوبصورت اور پاک بندھن ۔۔ جو ان کے بیچ تھا لیکن اشعر کو یاد نہیں تھا کچھ اور
حریم سب جانتے ہوئے بھی اس سے دور تھی ۔۔ اشعر کی نظر اس پہ پڑی اسے خود کی طرف انہماک سے دیکھتا پا کے وہ اس کی آنکھوں میں کھو گیا ہو جیسے ۔۔ کچھ کہتی آنکھیں ۔۔ لیکن کیا !!! لمحے سرکتے گئے ۔۔ حریم نے سٹپٹا کے نظریں جھکا دی اس کے چہرے پہ ہزاروں رنگ بکھر گئے تھے ۔۔ اس کا دل کسی اور لے پہ ہی دھڑک رہا تھا ۔۔ اس کا مجازی خدا اس کے سامنے ہی تھا ۔۔اس کی محبت ۔۔ لیکن اس میں پلکیں اٹھا کے دیکھنے کی ہمت نہیں تھی ۔۔ اشعر زیر لب مسکرا رہا تھا ۔۔اس کے چہرے کے خوبصورت رنگوں میں وہ کھو رہا تھا ۔۔ ” حریم ۔۔۔ ” حریم نے ایک نظر اسے دیکھا اسے ایک پل کو لگا اشعر
کو سب یاد آ گیا ہو ۔۔ ” آپ بہت خوبصورت ہے حریم ۔۔ شفاف دل کی مالک ہے آپ ۔۔ ” حریم مسکرا پڑی ۔ پھر سنبھل کے کہنے لگی ” میں ۔۔ ہمممم میں آپ کے لئے پانی لاؤں ؟” اس کی بات پہ اشعر مسکرا پڑا ” کیوں آپ کو پیاس لگی ہے ”
” ج۔۔جی جی ” وہ جلدی سے اٹھ گئی اور کمرے سے نکل کے کچن میں آگئی اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کے وہ لمبی لمبی سانسیں لینے لگی ۔۔ یہ کیا ہو رہا تھا اسے ۔۔ وہ مسکرانا بھول گئی ۔۔ خواب دیکھنے چھوڑ دیے تھے اس نے ۔۔ محبت کے احساس سے وہ بے خبر ہی ہو گئی تھی ۔۔ سارے احساس اس کے اندر مر چکے تھے لیکن وہ دوبارہ سے زندہ ہو رہی تھی ۔۔۔ محبت کی بوندیں اس کے
دل کی زمین بھگو رہی تھی پھر سے ۔۔اس کی آنکھیں خواب دیکھنے لگی تھی ۔۔ اپنے اشعر کے خواب ۔۔ اس کے چہرے نے خوبصورت
رنگوں کو محسوس کرنا شروع کیا تھا اب !! پل پل اسے لگتا اشعر کو بھی سب یاد آ رہا
۔۔ اس کی آنکھوں میں اسے محبت ۔۔ اپنائیت کے رنگ نظر آنے لگے تھے ۔۔ اس نے جذب کے عالم میں اپنی آنکھیں موند لیں ۔۔
