399.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer-E-Dilberm (Episode 8)

Aseer-E-Dilberm By Fari Shah

وہ بخار میں تپ رہا تھا اور واثق اسے یوں دیکھ اسکی جان نکل رہی تھی۔

اس دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو اس پر اثر انداز ہو سکے مگر اب اسکی حالت دیکھ اسکا دل تڑپ اٹھا تھا۔

وہ بظاہر مضبوط دیکھنا والا انسان اندر سے کتنا ٹوٹا ہوا تھا یہ بات صرف وہی جانتا تھا۔

ابھی ابھی ڈاکٹر اسے نیند کا انجیکشن دے کر گئے تھے اور اب وہ گہری نیند میں تھا۔

اسکا بخار چیک کر واثق دروازہ بند کرتا باہر آگیا۔

زرا سا اسکے چپ ہونے سے یہ گھر آج واثق کو بھی کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا۔

ناجانے اسے کیا سوجھی کہ ایک نظر اوپر اسکے کمرے کو دیکھ وہ یشم کی اسٹڈی میں آیا اور وہاں موجود دراز سے چابیاں نکالیں۔

اب اسکا رخ نیچے روم کی طرف تھا جہاں اسکا جانا بھی منع تھا۔

اس نے جیسے ہی دروازہ کھولا ایک خوشگوار خوشبو اسے معطر کر گئی۔

اندر ایک الگ ہی دنیا تھی یہ وہ دنیا تھی جسے یشم یوسفزئی نے دنیا سے چھپا کر رکھا تھا اس سے پہلے وہ اندر قدم رکھتا کچھ گرنے کی آواز نے اسے بری طرح چونکایا اور یشم کا خیال آتے ہی وہ دروازہ واپس سے بند کرتا اوپر کی جانب بھاگا۔

“یشم ٹھیک ہے تو؟”زمین پر کانچ کا گلاس ٹکڑوں میں پڑا ہوا

“پانی”اپنا سر تکیے پر رکھتے اس نے گہرا سانس بھرا۔

واثق نے اسے اٹھا کر پانی پلایا تو نقاہت کے باوجود وہ اپنی جگہ سے اٹھ بیٹھا۔

“مجھے آفس جانا ہے واثق”

“پاگل ہوگیا ہے تو حالت دیکھ رہا ہے اپنی”

“یہ معمولی سا بخار میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا تو ریلکس کر”اسکا ہاتھ تھپتھپاتے وہ ہولے سے مسکرایا تو واثق نے بغور اسے دیکھا

“میں نے یشم یوسفزئی کو کبھی کمزور پڑتے نہیں دیکھا تو اب کیا ہوا ہے ایسا یشم بڑے سے بڑا طوفان جسے ہلا نا سکا وہ زرا سے بخار سے ڈھیر ہو جائے یہ تو ناممکن سی بات ہے نا۔۔”

“کیوں کیا میں انسان نہیں ہوں یا میں بیماری فری ہوں ؟”سیگریٹ کی طرف ہاتھ بڑھاتے اس نے کہا تبھی واثق نے اپنا ہاتھ اسکے بڑھتے ہاتھ پر مارا۔

“خبردار جو باتوں کو گھمایا یا اس زہر کو اپنے اندر اتارا تو مجھے بھلے نا بتائے میں معلوم کر کے رہوں گا ہر حال میں آرام کر میں جا رہا آفس دیکھتا ہوں کیا حال ہے کھانا ریڈی ہے میڈ کو بول کر بھیج رہا ہوں”

اسے کہتا وہ نیچے آیا اور میڈ کو کھانے کا بول وہ گاڑی لے کر آفس آیا تھا۔

“معلوم کر کے رہوں گا کہ ایسی کون سی بات ہے جو تو مجھ سے چھپا رہا ہے یشم”اسکے آفس کی طرف بڑھتے وہ عزم کر چکا تھا۔

اسکے روم میں آکر وہ اسکی سیٹ پر بیٹھا اور ضروری فائلز چیک کرنے لگا تبھی مسٹر بیگ اندر آئے تھے۔

“آپ نے بلایا”

“جی بیگ صاحب دراصل یشم بیمار ہے تو آج میں اسکی جگہ کام کرونگا تو ایک کام کریں پچھلے مہینے کی اکاؤنٹس ڈیٹیلز مجھے چیک کروائیں۔

ان کے باہر جانے کے بعد وہ اٹھ کر لاکر تک آیا تھا مقصد ایک فائل نکالنا تھا مگر سامنے پڑی چیز پر نظر پڑتے ہی اسکے ہاتھ اسکی طرف بڑھے تھے۔

________________

آئینے میں خود کو دیکھتے وہ وہ پھیکا سا مسکرائی۔

ٹیبل پر رکھے اپنے نکاح کا کارڈ دیکھتے اس نے آہستہ سے اسے اٹھا کر اپنے بیگ میں ڈالا۔

“ہوگئیں تیار چلو بچے جلدی جانا جلدی آنا”

“امی ضرورت کیا ہے اسکی ؟”

“ایسے کیسے ضرورت نہیں ہے بھلے ایک مہینے ہی سہی تم نے وہاں کام کیا ہے تو نکاح کا کارڈ دے کر آؤ اور جلدی آنا پرسوں نکاح ہے تو آسیہ آئے گی آج پھر پارلر چلی جانا”

“جی ٹھیک ہے امی”بے دلی سے کہتی وہ باہر آئی تو زین اسکا منتظر تھا

“عزیر کہاں ہے زین؟”

“وہاج بھائی کے ڈریس لے لئے گیا ہے مجھے نکاح ہر اتنی فضول خرچی سمجھ نہیں آرہی”بائیک اسٹارٹ کرتے وہ منہ بنا کر بولا تو وہ ہنس دی۔

“کوئی بات نہیں بعد میں سمجھ لینا ابھی جلدی سے چلو”

پورے راستے وہ خاموش ہی رہی زین اسکی خاموشی کو اچھے سے سمجھ رہا تھا مگر اسکے پاس کوئی آپشن ہی نہیں تھا کیا کہتا کیسے کہتا بڑوں کے فیصلوں کے آگے اس نے ہمیشہ سر جھکایا تھا اب کیسے ان کے سامنے زبان چلاتا دنیا تو پہلے ہی سو باتیں کرتی تھی وہ خود پر ہر چیز برادشت کر سکتا تھا مگر اسکے پیاروں پر کوئی آنچ آئے یہ تو وہ مر کر بھی برداشت نہیں کرسکتا تھا۔

“تم یہیں رکو میں کارڈ دے کر آتی ہوں”آفس پہنچ کر وہ بائیک سے اتری اور زین جو رکنے کا بول اندر بڑھ گئی۔

“ارے بنفشے بیٹا”اسے دیکھ بیگ صاحب کو خوشگوار حیرت ہوئی۔

“اسلام وعلیکم سر کیسے ہیں”

“وعلیکم السلام میں ٹھیک ہوں آپ سناؤ سب خیریت ؟”اسکے سر پر ہاتھ رکھتے انہوں نے نرمی سے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔

“سب ٹھیک ہے سر پرسوں نکاح ہے تو اسی کا کارڈ دینے آئی تھی یشم سر کو”کتنا مشکل ہوتا ہے وہی بات بار بار کہنا جس پر آپ کا دل ہی راضی نا ہو۔

“اوو ارے مبارک ہو پر یشم سر تو آفس آ ہی نہیں رہے”ان کے بتانے پر اسے جھٹکا لگا۔

“کیوں خیریت سر؟”اپنی بے اختیاری پر اسنے سر جھکایا۔

“ہاں ان کی طبعیت نہیں ٹھیک ہے آج بھی ان کی جگہ واثق صاحب آئے ہیں لیکن آپ فکر نہیں کرو بیٹا میں کارڈ ان تک پہنچا دوں گا”

وہ جو اس امید کے ساتھ تھی کہ اس دشمن جان کو ایک آخری بار دیکھ لے گی وہ آخری امید بھی اس سے چھین لی گئی تھی۔

“اوکے تھینک یو.”کارڈ انہیں تھماتے وہ بجھے دل سے باہر آگئی تو بیگ صاحب نے ایک افسوس بھری نظر اس پر ڈالی یشم کے ناہونے کا سن کر جو مایوسی انہوں نے محسوس کی تھی اس نے ان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔

سر جھٹک کر وہ اندر آئے اور لارڈ واثق کے سامنے رکھا۔

“یہ کس کا کارڈ ہے ؟”کارڈ کو دیکھتے اس نے حیرت سے پوچھا تو بیگ صاحب نے گہری سانس بھری.

“بنفشے کا کارڈ ہے واثق صاحب”

“بنفشے کون اسکی اسسٹنٹ جو آئی تھیں؟”

اس نے کارڈ پڑھتے تصدیق چاہی جس پر بیگ صاحب نے اثبات میں سر ہلایا۔

“آپ کے دماغ میں کچھ چل رہا ہے بیگ صاحب ؟”

ان کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ وہ ایک دم سے سیدھا ہوکر بیٹھا۔

“پتا نہیں یہ بات سچ ہے یا نہیں مگر مجھے ایسا لگتا ہے یہ دونوں ایک دوسرے کے لئے جذبات رکھتے ہیں”

“ایسا کیسے ہوسکتا ہے ناممکن ہے یشم کبھی لڑکیوں میں انولو نہیں رہا اب کیسے رہ ناممکن”

وہ ماننے کو تیار ہی نہیں تھا۔

“شاید آپ کی بات درست ہو مگر پچھلے مہینے سر کے ایک کالج کے باہر شیلٹر لگوایا تھا لوگوں کے لئے اور پھر اسی کالج کی کسی طلبہ کا کوئی مسئلہ ہوا تھا جو یشم سر کے کہنے پر حل ہوا۔”

“تو اس سب سے بنفشے کا کیا تعلق ہے وہ ایسے کام کرتا رہتا ہے”

“کرتے رہتے ہیں مگر سب کے لئے کسی ایک انسان کے لئے نہیں آپ جانتے ہیں جس لڑکی کے لئے انہوں نے کام کروایا وہ کون تھی؟”

“کون؟”ان کی بات میں کچھ ایسا تھا کہ وہ چپ نہیں رہ سکا۔

“بنفشے تھیں نا صرف یہ بلکہ وہ اسی کالج میں بھی پڑھتی ہیں “

“تو آپ کے کہنے کا مطلب ہے یشم نے یہ سب اس کے لئے کیا ہے؟”

“مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے اور جب سے بنفشے نے آفس چھوڑا ہے اس دن کے بعد سے سر بھی آفس نہیں آئے اور آج وہ اپنے نکاح کا کارڈ دینے آئی تو اسکی آنکھوں کو نمی و خالی پن کہیں سے نہیں لگ رہا تھا پرسوں اسکا نکاح ہے واثق صاحب کہیں کچھ تو ایسا ہے جو غلط ہورہا ہے٫”وہ یشم کے پرانے ورکر تھے وہ چاہتے تھے وہ زندگی میں آگے بڑھے۔

ان کی باتوں پر وہ لاجواب ہوگیا تھا اسکے پاس کوئی جواب نہیں تھا وہ کیسے اتنی بار بات اس سے چھپا سکتا تھا۔

__________

اسے ایک آخری بار دیکھنے کی امید بھی ٹوٹ گئی تھی پارلر سے آکر بھی اسکا دل اسی بات میں اٹکا رہا۔

“آپی کیا ہوا ہے ٹھیک ہو؟” اسے یوں سوچ میں گھیرے دیکھ عائشہ اسکے پاس آکر بیٹھی تو وہ بےاختیار چونک اٹھی۔

“ہاں ٹھیک ہوں کیا ہوا؟”

“کچھ نہیں آپ کب سے ایک ہی حالت میں بیٹھی ہیں آپ کو کیا ہوا ہے؟”

“مجھے کیا ہونا ہے پاگل بس ویسے ہی کچھ سوچ رہی تھی تم بتاؤ سارے کام ہوگئے تمہارے ؟”

“ہاں کام تو کب کے ہوگئے بس اب کل مہندی لگانی ہے آسیہ آپی آئینگی نا ان سے لگواوں گی “

“ہممم “

“آپی میں جانتی ہوں آپ خوش نہیں ہیں مگر جب اتنا بڑا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو خوش ہونے کا ناٹک ہی کرلیں “

“کس بات کا ناٹک کرنا ہے؟” جواب اسکی بجائے کمرے میں داخل ہوتے عبدالعزیز صاحب کی طرف سے آیا تو ان دونوں کے چہرے کے رنگ اڑے تھے۔

“کک۔کچھ نہیں ابو وہ۔۔ بس نکاح میں کچھ چیزیں کرنی ہیں ان کا بول رہی تھی میں”خود کو سنبھالتے وہ فوراً سے بات بنا گئی۔

“ہمم اچھا جاؤ میرے لئے چائے لے کر آؤ”اسے وہاں سے ہٹاتے وہ خود بنفشے کے سامنے آکر بیٹھے.

“پرسوں نکاح ہے تمہارا اور مجھے خوشی ہے کہ تم میرے بھائی کے گھر جارہی ہو میرا بھائی بہت اچھا ہے وہ سب بہت اچھے ہیں اور اب اس نکاح کے بعد تمہارا رشتہ ہم سے ٹوٹ کر ان لوگوں سے جڑ جائے گا ایک باپ کے لئے یہ تھوڑا مشکل عمل

ہی سہی مگر بعد میں مجھے سکون ہوگا کہ میرے کندھے کا بوجھ کچھ کم ہوا آج کل ویسے بھی بیٹی کی شادی سب سے مشکل کام ہے۔”

“جی ابو”ان کی اتنی تمہید وہ سمجھ نہیں سکی تھی جبھی فقط اتنا ہی کہہ سکی۔

“نکاح کے بعد جلد ہی رخصتی کر دینگے بس اپنے باپ کی عزت رکھ لینا وہاج میرے دل کے بہت قریب ہے ایسا کچھ نا کرنا کہ اسکا دل دکھے کیونکہ اسکا دل دکھے گا تو میرا بھی دکھے گا”اسکے سر پر ہاتھ رکھ وہ اٹھ گئے تو وہ ان کے آنے کا مقصد سمجھ نہیں سکی وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے کیا وہ اسکے دل کا راز جان گئے تھے یا اسے یہ بتانے آئے تھے کہ ان کی زندگی میں اس سے زیادہ وہاج کی اہمیت ہے۔

آنسو ایک ایک کر اسکی آنکھوں سے گرے تھے دل اس بے حسی پر کرلایا تھا

_________________

لاونج میں صوفے پر بیٹھے وہ سامنے ٹیبل کو دیکھ رہا تھا جہاں اسکی شادی کا کارڈ پڑا تھا مگر اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ایک بار کارڈ اٹھا کر اسے دیکھتا۔

“کیا ہوا ایسے اسٹل کیوں بیٹھا ہے طبعیت ٹھیک ہے ؟”کافی کا مگ اسکے آگے رکھتے واثق اسکے سامنے صوفے پر بیٹھا تو اس نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔

“تو یہ کارڈ یہاں کیوں لایا ہے؟”

“تیری اسسٹنٹ کا نکاح ہے مجھے لگا تو جائے گا اس لئے یہاں لے آیا”

کافی کا سپ لیتے وہ مزے سے بولا۔

“میں آج تک کتنی شادیوں میں گیا ہوں جو تجھے ایسا لگا واثق ؟” آگے ہوکر اس نے بغور واثق کو دیکھ آئی برو اچکائی مگر اسکے اطمینان میں زرا فرق نہیں آیا۔

“جب تو اس کے لئے اتنا کچھ کر سکتا ہے جیسے کالج میں اسکے مسئلے حل کر سکتا ہے تو نکاح میں جانا تو پھر بنتا ہی ہے نا”مزے سے کہتا وہ اسکا سکون غارت کرگیا۔

“تو محبت کرتا ہے نا اس سے ؟”

“فضول بکواس مت کر واثق”اسکے اس اچانک وار پر وہ غصے سے بولا تو واثق اپنی جگہ سے اٹھا۔

“کیوں کیوں نا بولوں میں یہی تو سچ ہے نا مگر تیری انا تیرا غرور تجھے یہ بات قبول کرنے سے روک رہا ہے کہ تجھے بنفشے سے محبت ہوگئی ہے مگر تجھ جیسا انسان کہاں یہ بات قبول کرے گا تیرے لئے تو محبت جیسی چیز کا کوئی وجود ہی نہیں تھا نا اب محبت ہوگئی ہے تو اپنی بات سے پھیرنا تیری شان کے خلاف ہوگا نا”

“شٹ اپ واثق “غصے سے واس زمین پر پھینکتے وہ واثق کو خاموش کروا گیا۔