Aseer-E-Dilberm By Fari Shah Readelle50313

Aseer-E-Dilberm By Fari Shah Readelle50313 Aseer-E-Dilberm (Episode 22) Last Episode

399.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer-E-Dilberm (Episode 22) Last Episode

Aseer-E-Dilberm By Fari Shah

بھیگی بھیگی سے صبح نے دسمبر کو خوش آمدید کہا تھا۔

باہر ہر شے اس بارش کے رنگ میں بھیگی سی تھی اتنی حسین صبح کا منظر شاید ہی کسی نے دیکھا ہو۔

یشم کو حصار میں قید وہ اسکے سینے سے لگی گہری نیند میں تھی۔

رات باہر دنیا بارش میں بھیگی تھی مگر یہاں وہ اس شخص کی محبت میں بھیگی تھی اور اس بارش کی بات ہی الگ تھی اپنے محبوب کی سنگت میں قیمتی وقت گزارنا۔

وہ اسکے بانہوں کے حصار میں مقید دنیا کو بھلا گئی تھی۔

اس شخص کی قربت میں ناجانے ایسا کیا جادو تھا کہ وہ دنیا کو بھول جاتی تھی اپنا ہر دکھ تکلیف اسے سب بے معنی سے لگتا تھا۔

خنکی کا احساس بڑھا تو اس نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں اور پھر اپنے پہلو میں گہری نیند سوئے یشم کو دیکھا۔

گھڑی صبح کے سات بجا رہی تھی مگر ایسا لگتا تھا جیسے ناجانے کتنی رات ہو رہی ہو۔

اسکے ہاتھ پر اپنا سر رکھتے اس نے اپنا ہاتھ اسکے اوپر رکھا تو یشم نے بے ساختہ اسے خود می۔ بھینچا۔

“آپ جاگ رہے ہیں ؟”اسے حیرت ہوئی تھی کیونکہ ایسا تو کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ جاگ رہا ہے۔۔۔

“محبت پہلو میں ہو تو نیند کا کم بخت کو جاتی ہے جاناں”اسکے ماتھے پر لب رکھتے وہ آہستہ سے بولا تو شرمگیں مسکراہٹ نے اسکے لبوں پر بسیرا کیا تھا۔

“اپ کو پتا ہے آج کی صبح کتنی حسین ہے؟”اسکے بالوں کو سنوارتے وہ آہستہ سے لب اسکے ماتھے پر ثبت کرتا مسکرایا۔

“بہت کیا میں سانگ پلے کروں”ہاتھ بڑا کر موبائل اٹھاتے اس نے پوچھا تو آنکھیں بند کرتے وہ اثبات میں سر ہلایا اسکے ماتھے پر لب رکھ گیا۔۔اس نے موبائل اٹھا کر سانگ پلے کیا اور ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھ زرا سا اٹھ اس نے آنکھیں موندے لیٹے یشم کو دیکھا۔

“یہ گانا اس شخص کے نام جس کے نام میں نے اپنی ساری زندگی کی ہے” اسکی گال پر لب رکھتی وہ سرگوشی کے انداز میں کہتی اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی۔

تیرے ہاتھوں کی طرف

میرے ہاتھوں کا سفر

روزانہ،روزانہ..

تیری آنکھوں سے کہے

کچھ تو میری نظر

روزانہ،روزانہ..

روزانہ میں سوچوں یہیں

کہاں آج کل میں ہوں لا پتا

تجھے دیکھ لوں تو ہنسنے لگے

میرے درد بھی کیوں خوامخواہ

ہواوں کی طرح

مجھے چھو کے تو گُزار

روزانہ،روزانہ..

تیرے ہاتھوں کی طرف

میرے ہاتھوں کا سفر

روزانہ،روزانہ..

ان آنکھوں سے یہ بتا

کتنا میں دیکھوں تجھے

رہ جاتی ہے کچھ کمی

جیتنا بھی دیکھو تجھے۔

روزانہ میں سوچوں یہی

کہ جی لونگی میں بے سانس بھی

ایسے ہی تو مجھے ملتا رہے اگر

روزانہ،روزانہ..

تیرے ہاتھوں کی طرف

میرے ہاتھوں کا سفر

روزانہ،روزانہ..

یوں آ ملا تو مجھے

جیسے تو میرا ہی ہے

آرام دل کو جو دے

وہ ذکر تیرا ہی ہے۔

روزانہ میں سوچوں یہث

کہ چلتی رہے باتوں تیری

آتے جاتے یونہی میرے لیے ٹہر

روزانہ،روزانہ..

تیرے ہاتھوں کی طرف

میرے ہاتھوں کا سفر

روزانہ،روزانہ..

روزانہ، روزانہ۔۔۔

اسکی آنکھوں پر لب رکھتے اس نے آہستہ سے اسکے کشادہ پر پڑے بالوں کو سمیٹا تھا۔

“میں چاہتی ہوں جب ہم برف سے ڈھکی اس جائیں تو آپ مجھے بتائیں کہ مجھ سے کتنی محبت آپ کو۔۔۔ وہ پہاڑ ہماری محبت کے گواہ ہونگے۔

دہکتا الاؤ ہمارے سامنے ہوگا ستاروں بھری رات ہوگی میں یونہی وہ کے کندھے سے سر ٹکائے بیٹھی رہوں گی اور آپ میرے کانوں میں محبت کا ساز انڈیلنا”

اسکی پلکوں کو انگلی کی پور سے چھوتے وہ اپنے دل کا حال اسے بتا رہی تھی۔

“اور میں چاہتا ہوں بلند وبالا پہاڑوں کی وادی میں ہمارا نام لکھ آؤ تاکہ جب ہمارے بچے بڑے ہوں تو وہ وہاں جاکر دیکھیں”

اسکی کمر کے گرد گرفت مضبوط کرتا وہ وہ اسے مزید خود پر جھکا گیا۔

کہ اسکے بال آبشار کی طرح بکھرے تھے۔

چہرے پہ مرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن

کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دن

رازوں کی طرح اترو مرے دل میں کسی شب

دستک پہ مرے ہاتھ کی کھل جاؤ کسی دن

پیڑوں کی طرح حسن کی بارش میں نہا لوں

بادل کی طرح جھوم کے گھر آؤ کسی دن

خوشبو کی طرح گزرو مری دل کی گلی سے

پھولوں کی طرح مجھ پہ بکھر جاؤ کسی دن

گزریں جو میرے گھر سے تو رک جائیں ستارے

اس طرح مری رات کو چمکاؤ کسی دن

میں اپنی ہر اک سانس اسی رات کو دے دوں

سر رکھ کے مرے سینے پہ سو جاؤ کسی دن۔

(امجد اسلام امجد)

سرگوشی کے سے انداز میں اسے غزل سناتا وہ سکے کان لو کا چھوتا اسکی کنپٹی کو چھوتا اسے مکمل طور پر اپنے بانہوں کے مضبوط حصار میں باندھتا اس پر دسترس حاصل کرگیا۔

کسی روز تو ملے مجھے

اپنی بے تابیاں بیان کروں تجھ سے

تیرے آنے سے پہلے کی اذیتیں شمار کروں

تیرے لمس سے مہکتا میں جاناں

اپنا دل تیرے نام کروں میں۔۔۔۔

اسکے لبوں کو چھوتے وہ اسکا سر اپنے سینے پر رکھتا آنکھیں موند گیا۔

“یشم سونا نہیں ہے نا” اسکا یوں آنکھیں موند لینا اسے سخت برا لگا تھا تبھی اس نے زرا سی چٹکی اسکے گال پر کاٹی تو وہ بے ساختہ مسکرایا۔

“سوئے شیر کا جگا رہی ہیں غلط کر رہی ہیں”اسکی طرف کروٹ لیتا وہ اس پر اپنا ہاتھ رکھ گیا تو ایک چپت اس نے یشم کے ہاتھ پر ماری تھی۔

“اتنا حسین موسم ہورہا ہے ٹھنڈا ٹھنڈا باہر چلتے ہیں نا۔۔”کھڑکی سے آتی ہوا محسوس کر وہ بے چین ہوئی تھی۔

یہ موسم اسکا پسندیدہ تھا۔

“ویسے شوہر سے زرا محبت نہیں ہے وہ بیچارہ آپ کے وقت کے لئے ترستا ہے اور آپ کو موسم کی پڑی ہے”

“ہائے اللہ “اسکی ناک کھینچتے وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔

یشم نے اسکے سرخ پڑتے چہرے کو لمحے کو دیکھا اور پھر وہ اچانک سے اسے تکیے پر گراتا اس پر حاوی ہوا تھا۔

اس حملے کے لئے وہ تیار نہیں تھی تبھی بے ساختہ اسکی چیخ نکلی تھی۔

“یشم۔۔۔۔جان نکال دی میری”اسکے کندھے پر ہاتھ مارتے وہ غصے سے بولی

مگر وہ ڈھیٹ بنا اسکی گردن پر جھک لمحوں میں اسکا حال سے بے حال کرگیا۔

______________

عبدالعزیز صاحب کے گھر آج معمول سے زیادہ رونق تھی ہر طرف خوشیوں بھرے گیت گائے جارہے تھے۔

پورے گھر کو برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا۔۔

آج بالآخر زین اور عائشہ کے نکاح کی تقریب تھی ۔

“امی آپ لوگ کب تیار ہونگے ؟”

کوثر بیگم کو ایسے کی گھومتے دیکھ وہ ناراضگی سے بولی تو انہوں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔

“بھئی اب تو لڑکے والے ہم پر رعب جمائیں گے”

وہ زین کی طرف سے بارات لانے والی تھی اور اسی بات پر انہوں نے اسے شرارت سے تنگ کیا تو وہ ہنس دی۔

“آپ کی بیٹی کو نند بن کر تنگ بھی تو کرنا ہے نا ساری بدلے لوں گی میں”

“چلو یہ بھی اچھا ہے اپیا میری بیوی کم از کم آپ کے عتاب سے بچ جائے گی”عزیر کی آواز پر اس نے گھور کر اسے دیکھا جو دروازے پر استادہ بالکل تیار کھڑا تھا

“ماشاءاللہ بھئی میرا بھائی تو شہزادہ لگ رہا ہے” وائٹ شلوار قمیض میں ملبوس وہ اسے شہزادہ ہی تو لگا تھا۔

“امی نظر اتار دیجئے گا میرے بھائی کی ورنہ کئی چڑیلیں آج عاشق نا ہوجائیں”اس گال پر رکھتے اس نے شرارت سے کہا تو وہ اسے اپنے ساتھ لگا گیا۔

“امی اپیا تو سادگی میں اتنی پیاری ہیں ان کی نظر پہلے اتاریں آپ”

“اگر آپ دونوں بھائی بہنوں کی محبت ختم ہوگئی ہو تو زرا ماں کی بھی تعریف کردو دونوں مجھ پر ہی گئے ہو۔”

“یار اپیا امی جیلس ہو رہی ہیں”وہ دونوں اب ان کو تنگ کر رہے تھے

“جارہی ہوں میں تیار ہونے کرتے رہو ایک دوسرے کی تعریف ” ان دونوں کو ایک ایک چپت رسید کرتیں وہ اندر بڑھ گئی تو ان کے قہقہوں کے دور تک ان کا پیچھا کیا۔

اب آپ بھی تیار ہوجائیں میں جارہا یشم بھائی کے پاس تاکہ وہ ریڈی ہونے آسکے”

“ویسے وہ ایسے بھی ہیرو ہی لگتے ہیں لوگوں کی طرح تیار ہو کر نہیں “شرارت سے کہتے اس نے عزیر کو چڑایا

“کیسی دوغلی ہو یارا اپیا”۔

اسکے انداز پر وہ قہقہ لگا اٹھی

“ویسے تم نکاح کے بعد یشم بھائی کے گھر جارہی ہو ؟”

“ہاں فائنلی انہیں فرصت مل گئی اب وہاں جا کر ایک بہت ضروری کام ہے جو مجھے کرنا ہے”

“خوشی ہوگی اگر اپنے کام میں کامیاب ہونگی آپ “وہ اسکا اچھے سے جانتا تھا تبھی اسے بیسٹ وشزز دیتا وہ چلا گیا تو وہ تیار ہونے روم میں آئی تھی۔

عائشہ نے کہا بھی تو پارلر چلے مگر وہ کمفرٹیبل نہیں تھی۔

اپنی تیاری مکمل کر اس نے آئینے میں خود کو دیکھا تو اپنے ساتھ کسی اور کا عکس بھی آئینے میں نمایاں ہوا تھا۔

رف سی شرٹ و ٹراؤزر پہنے میسی بالوں کے ساتھ وہ پاکٹ میں ہاتھ ڈالے دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔

اسے اپنے ساتھ دیکھ اسکے لبوں پر ایک بھرپور مسکراہٹ آئی تھی آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہوا تھا۔

“یش میں کیسی لگ رہی ہوں؟” اسکی طرف پلٹتے اس نے پوچھا تو یشم نے بغور اسے ریکھا۔

آئس گرین کی گھٹنوں تک آتی فراک جس پر کوپر کی ایمبرائیڈری تھی۔

گولڈن غرارہ پہنے بالوں کو سائیڈ کر اس نے جھومر لگایا تھا۔

یشم کی پسند کی جیولری پہنے وہ ایک بار پھر اسکا دل دھڑکا گئی۔

“ہمیشہ سے بھی زیادہ حسین خوبصورت دلکش پیاری شہزادی “اسکے قریب آتا وہ وہ ایک ایک لفظ پر زور دے رہا تھا جب بنفشے نے اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ اسے مزید کچھ کہنے سے روکا۔

“یہ لفظوں کی تعریف سے زیادہ مجھے یہاں اپنا عکس دیکھنا پسند ہے”اسکی آنکھوں کو اپنی پوروں سے چھوتے وہ دلفریب سا مسکرائی۔

“پہلے ہی بندہ فدا ہے آپ پر ہر بار کیوں ایسے جان لیوا بن جاتی ہیں میرے لئے”؟

“کیونکہ مجھے آپ سے عشق ہے بے تحاشہ عشق اگر اپنی محبتوں کا شمار کرنے بیٹھوں تو سارے پلڑے کم پڑ جائیں گے لیکن آپ شمار نہیں کر پائیں گے کہ محبت کے کس درجے پر رکھا ہے آپ بنفشے یشم یوسفزئی نے”

“آپ کو اس کا جواب اس سے زیادہ دلکش انداز میں دیتا اگر تو دیر نا ہو رہی ہوتی”اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکائے وہ منہ بنا گیا تو وہ ہنس پڑی۔

“کوئی نہیں کوئی نہیں ہوتا ہے ہوتا ہے”شرارت سے اسکے دونوں کانوں کو پکڑتے وہ اسکا چہرہ دائیں بائیں ہلاتے بولی تو اسکے اس انداز پر وہ بے ساختہ ہنس دیا۔

“ہنس کیوں رہے ہیں”؟

“دن بہ دن بچی بنتی جارہی ہیں آپ”

“خوش نصیب ہوں نا کہ میرے بچپنے کو ختم نہیں کرنے دیتے آپ اور ایسا شوہر تو پھر نصیب والوں کو ملتا ہے امی کہتی ہیں ہر کوئی آپ کا بچپنا برداشت نہیں کرتا نا قبول کرتا ہے بہت نصیب والی ہوتی نہیں وہ لڑکیاں جن کے شوہر ان کا بچپنا زندہ رکھتے ہیں خود ان کے ساتھ بچے بن جاتے ہیں انہیں ایسا محسوس کرواتے ہیں کہ وہ ان کے لئے کتنی خاص ہیں”اپنے چہرے پر رکھے اسکے ہاتھ پر آہستہ سے لب رکھتے وہ اسے معتبر کر گئی تھی۔

یشم نے جھک کر اسکے ماتھے کو اپنے لبوں سے چھوا تھا۔

“اب آپ ریڈی ہوجائیں میں زین کو دیکھ لوں وہ تیار ہوا کہ نہیں”بیڈ پر رکھے کپڑوں کی طرف اشارہ کرتے اس نے کہا اور پھر وہ باہر آگئی اندر رہتی تو یقیناً رو جاتی

اس شخص کے سحر سے نکلنا بہت مشکل تھا وہ اس سے اتنی محبت کرتی تھی جس کا اسے خود بھی پتا نہیں تھا۔

سیڑھیاں چڑھتے وہ اوپر آئی تو زین بالکل تیار تھا۔

نیرون شیروانی پہنے وہ آئینے کے سامنے کھڑا تھا۔

“کیا بات ہے دولہا صاحب تو پوری شان کے ساتھ تیار ہیں”

“دولہن سادی حالت میں قبول نہیں کرتی نا”

اسکی شرارت کا جواب شرارت سے دیتے وہ صوفے پر بیٹھا تو بنفشے نے کلا اسے پہنایا۔

“یشم تیار ہو رہے ہیں پھر چلتے ہیں ہم امی بابا پہنچ گئے ہیں وہاں اور دولہن بھی بالکل تیار ہے”

“چلیں پھر دیر نہیں کرواتے نا میری دولہن کو”جلدی سے کہتا وہ اسے ہنسنے پر مجبور کرگیا۔۔

___________

پھولوں سے سجے اس خوبصورت اسٹیج پر دولہن بنے بیٹھی وہ زین کی منتظر تھی۔

اسکے سامنے ہی پھولوں کی دیوار بیچ و بیچ بنائی گئی تھی جہاں نکاح کی رسم ادا ہونی تھی۔

گولڈن شرارہ پہنے بیا تو کو سب سے پیاری دولہن لگی۔

وہ لوگ ساتھ نکلے تھے عزیر اسے لینے آیا تھا اور ساتھ کوثر بیگم اور عبدالعزیز صاحب کو ساتھ لایا تھا وہ دولہا دولہن دونوں کی طرف سے اپنا حصہ ڈال رہے تھے۔

“ماشاءاللہ بہت پیاری دولہن”بارات کا شور اٹھا تو وہ اسکی تعریف کرتی اسکے چہرے پر گھونگھٹ ڈال گئی۔

زین کو پھولوں کے پردے کے دوسری طرف بیٹھایا گیا تو وہ اسے لئے اسٹیج سے اتری اور دوسری طرف اسے بٹھایا۔

اپنا وقت یاد آتے آنکھیں اپنے آپ ہی نم ہوئی تھیں۔

نکاح کہ رسم شروع ہوئی اور پھر ایجاب و قبول کے مراحل کے بعد وہ دونوں ایک خوبصورت رشتے میں بندھ گئے تھے۔

اپنی جگہ سے اٹھ زین نے وہ پردہ ہٹایا اور پھر اسکے گھونگٹ کو الٹتے اس نے آہستہ سے اس کے ماتھے پر لب رکھ اسے اس خوبصورت رشتے کی مبارکباد دی تھی۔

فوٹو شوٹ ہوا اور پھر رخصتی کا مرحلہ آیا تھا۔

ابو بکر یوسفزئی اسپیشلی اسکی خواہش پر نکاح اٹینڈ کرنے آئے تھے ہانیہ بیگم چاہ کر بھی نہیں آ سکی تھیں۔

ایک گھر میں جانے کے باوجود اسکی آنکھیں نم ہوگئی تھیں۔

زین نے عائشہ کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما تھا۔

“بیا وہ دولہن ہے اس لئے رو رہی ہے آپ کیوں رو رہی ہیں؟”اسکی نم آنکھیں دیکھ وہ چڑ کر بولا کیونکہ اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھنا کتنا اذیت ناک تھا یہ صرف وہ ہی سمجھ سکتا تھا.

“آپ مجھے رونے کیوں نہیں دیتے؟”

اسکے چڑنے پر وہ غصہ ہوئی تو بس گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔

عائشہ اور زین کے لئے اس نے اسپیشل ارنجمںٹ کروایا تھا اس لئے انہیں وہاں روانہ کرتا وہ اندر آیا جہاں بنفشے ابو بکر یوسفزئی سے بات کرنے میں مصروف تھی

“باہر آجائیں میں انتظار کر رہا ہوں” انہیں نظر انداز کرتے وہ اسے کہتا مزید وہاں نہیں رکا تو بنفشے نے اداسی سے انہیں دیکھا۔

“میں سب ٹھیک کر دوں گی وہ آپ سے نارمل بات کرنے لگے گے آئی پرامس”

“مجھے یقین ہے اپنی گڑیا پر”اسکے سر پر ہاتھ رکھتے وہ اسکے ساتھ ہی باہر نکلے تھے۔

____________

فون پر بات کرتا وہ اپنی کار کے پاس آکر کھڑا ہوا تھا۔

اسکا سارا دھیان کال پر تھا جسے سن اسکے ماتھے کے بلوں میں اضافہ ہوتا جارہا تھا۔

وہ خود سے اتنا لاپرواہ ہوگیا تھا کہ اپنے دل کے مقام پر وہ لال ڈاٹ اسے نظر ہی نہیں آیا۔

سامنے جھاڑیوں میں چھپا وہ نقاب پوش اس کا نشانہ باندھے کھڑا تھا۔۔

اسکی شاطر نظریں اپنے نشانے پر تھیں۔

اندر سے آتے ابو بکر یوسفزئی اور بنفشے باتوں میں مصروف تھے کہ اچانک بنفشے کی نظر یشم کی طرف اٹھی تھی۔

“بابا وہ رہے یشم”اسکی انگلی کی سمت ابو بکر یوسفزئی نے سامنے دیکھا تو انہیں جھٹکا لگا تھا اسکے سینے پر اس نشان کو دیکھ۔

“یشم۔۔۔۔۔”وہ وہیں سے چیخے تھے۔

ان کی چیخ پر بنفشے کو کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا تھا۔۔

اور پھر۔۔۔

وہ چیخی تھی۔

“یشم۔۔۔۔۔۔۔”اس سے پہلے وہ اس تک پہنچتی اس شوٹر نے ٹریگر دبایا تھا۔

سرخ سیال سے اسکا دامن بھیگا تھا۔

“یشم۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

وہ گھنٹوں کے بل گری تھی آنکھوں میں بے یقینی تھی۔

پولیس کے سائرن کی آواز چاروں اور گونجنے لگی تھی۔

“بابا”اپنے آگے ابو بکر صاحب کو دیکھ یشم ساکت ہوا تھا کو لہو میں رنگے اسکے سامنے گرے تھے۔

اسکے حصے کی گولی انہوں نے کھائی تھی۔

“بابا”اس سے پہلے ان کا سر زمین پر لگتا یشم نے انہیں تھام ان کا سر اپنی گود میں۔ رکھا تھا۔

“بابا۔۔۔۔۔۔ “بہتے اشک وہ پاگل ہوگیا تھا۔

بنا وقت ضائع کئے انہیں گاڑی میں ڈال اسپتال لے کر آئے تھے بنفشے دوسرے وارڈ میں تھی اسکا بی پی خطرناک حد تک لو تھا

یہ دوسرا صدمہ تھا جو انہوں نے برادشت کیا تھا۔

ابو بکر یوسفزئی اندر آپریشن تھیٹر تھے

“یشم بابا”ہوش میں آتے ہی اس نے سب سے پہلے ان کا پوچھا کو سر جھکائے اسکے پاس بیٹھا تھا۔

“یشم بابا کو کیا ہوگیا ہے یشم مجھے بابا کے پاس جانا ہے پلیز”

“بیا وہ آپریشن تھیٹر میں ہیں آپ ریلکس کریں پلیز”اسکی طبعیت کی وجہ سے وہ اسے سنبھال رہا تھا ورنہ دل تو تھا کہ چیخ چیخ کر روئے۔

جس باپ سے اس نے ناجانے کتنے سالوں سے بات نہیں کی تھی آج وہ ناراض ہو کر اسپتال کے کمرے میں پڑا تھا آج وہ ان سے بات کرنا چاہتا تھا مگر آج وہ چپ تھے آنکھیں موندے۔

یشم کا دل پھٹ رہا تھا انہیں اس حال میں دیکھ ۔

“یشم آپ ان سے بولیں نا وہ آپ سے بات کریں وہ تو تڑپ رہیں ہیں آپ سے بات کرنے کے لئے پلیز یشم انہوں نے کہا تھا کہ وہ منا لینگے آپ کو وہ ایسے تو نہیں کر سکتے نا یشم”اسکے سینے سے لگی وہ سسک رہی تھی۔

آنکھ سے نکلتا آنسو بیا کے بالوں میں جذب ہوا تھا

آج اس نے جانا تھا ماں باپ چاہیے کچھ بھی کرلیں اور ہم چاہیں ان سے کتنا ہی خفا کیوں نا ہوں مگر ہمارے دل میں ان کی محبت رہتی ہے ان کا رتبہ بہت بڑا ہوتا ہے ۔

جب وہ ہماری خطائیں معاف کرسکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں۔

وہ غلط تھے مگر انہیں احساس تھا اسکا اور آج اسے احساس ہوا کہ اپنوں سے قطع تعلق کرنا کتنا بڑا گناہ ہے اگر وہ دل میں بات لئے چلا جائے تو؟

وہ بیا ہے سات باہر آیا تھا اس کمرے تک یہاں وہ موجود تھے۔

اس نے ایک نظر دروازے کے اس پار بے ہوش وجود کو دیکھا تھا۔

“وہ ٹھیک ہو جائیں تو آپ بات کرینگے ان سے ساری غلط فہمیاں دور کرینگے”

اس کا ہاتھ تھامے وہ اسے سمجھا رہی تھی جس پر یشم نے آہستہ سے ہاں میں سر ہلایا تھا۔

______________

دولہن بنی وہ زین کے انتظار میں بیٹھی تھی جب وہ اسکے پاس آکر بیٹھا اور آہستہ سے اسکا گھونگھٹ اٹھایا تھا۔

“ماشاءاللہ”اتنا کہتا وہ آہستہ سے اسکے ماتھے پر لب رکھ گیا تو حیا سے اسکی پلکیں جھکی تھیں۔

“مانتا ہوں بہت برا ہوں مگر تم سے بہت محبت کرتا ہوں”اسکے حنائی ہاتھوں کو تھامتے اسنے انگلی کی پور اپنے نام پر رکھی تو عائشہ نے نظریں اٹھا کر اس انسان کو دیکھا تھا جس سے وہ بے تحاشہ محبت کرتی تھی حد سے زیادہ۔

“کچھ کہوں گی نہیں ؟”زرا سا اسکی طرف کو جھکتے اسنے پوچھا تو عائشہ نے فوراً سے نفی میں سر ہلایا۔

“ہمم آج بولنے کا دن ہے بھی نہیں ویسے”معنی خیزی سے کہتے اس نے آہستہ سے اپنے لب اسکے رخسار پر رکھے اور پھر اسکی ٹھوڑی پر لب رکھتا وہ اسکے لبوں کو اپنی گرفت میں لے گیا

“زین”رہائی ملتے ہی وہ گہرے سانس لیتی اسے پکار بیٹھی

“آج رہائی ممکن نہیں ساری باتیں کل کے لئے چھوڑتے ہیں آج میں تمہیں یہ احساس دلانا چاہتا ہوں کہ تم میرے لئے کیا ہو “اسکی بند آنکھوں پر لب رکھتے اپنی انگلیاں اسکی انگلیوں میں الجھاتا وہ آج اپنی محبت اس پر لٹا گیا تھا کو ایک عرصے سے اسکی دیوانی تھی۔

اور آج اسے اس دیوانے کا دیوانہ پن جھلینا تھا

وہ اپنے ہر عمل سے اسے بتا رہا تھا کہ کتنی خاص ہے وہ اسکے لئے۔

کھڑکی سے جھانکتا چاند اس پیارے سے جوڑوں کو ڈھیروں دعائیں دے گیا تھا۔۔

__________

پانچ سال بعد۔۔۔۔

تاریک رات کی سیاہی آہستہ آہستہ افق پر ابھرتے آفتاب کی کرنوں تلے کہیں گم سی ہورہی تھی۔۔

اونچے اونچے دیوہیکل پہاڑ برف کی چادر اوڑھے دیکھنے والے کو مہبوت کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

دور کہیں سے آتی بہتے جھرنے کی آواز ماحول میں ایک سرور سا بکھیرتی جارہی تھی۔

پھولوں کی خوشبو سے مہکتی فضا۔۔

اس نے پردے سائیڈ کرتے سنگ مر مر سے مزین بالکونی میں قدم دھرے تھے اور گہرا سانس بھرتے اس خوشبو کو سانسوں کے زریعے اپنے اندر اتارا تھا کہ دل و دماغ میں سکون سا بھر گیا تھا۔

رات پھر مینہ نے برس کر موسم کو مزید سرد کردیا تھا۔

شعاعیں بکھیرتے سورج کی ہلکی سی حرارت محسوس کر اس نے نیچے جھانک کر اپنے ہمسفر کو دیکھا تھا جو اس وقت نیچے لگے پھولوں کے پاس بیٹھ کر ان کو تراش رہا تھا۔

نگاہوں کی تپش پر اس نے زرا سی نظریں اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔

نگاہوں کا تصادم ہوا تو اس کے چہرے پر دلفریب سی مسکراہٹ نے احاطہ کیا تھا۔

“بنفشے یوسفزئی ۔ وہاں کھڑے رہ کر شوہر کو انتظار کی سولی پر لٹکانے سے بہتر ہے تھوڑا اس حسین چہرے کو مزید رونق بخشتے اپنے نازک سے کندھوں پر اپنے چھوٹے سے بیگ کا بوجھ لاد آپ ہمیں اپنی مہمان نوازی کا موقع دیں۔۔” اس کے شرارتی انداز پر اسکے چہرے پر مسکراہٹ نے بسیرا کیا تھا۔

کیا یہ وہی تھا جسے وہ جانتی تھی ؟ اس نے خود سوال کیا تھا۔

“جان یشم باخدا آپ کے یوں سوچ میں ڈوبے رہنے سے آپ جادو سے ہمارے پہلو میں نہیں آ سکیں گی زرا اپنے ان نازک قدموں کو خدمت کا موقع دیں”

“یشم۔۔۔” اسکی بات پر اس نے دانت پیس کر اسے کہا تو اس خاموش فضا میں اسکا قہقہ گونج کر چاروں اور جلترنگ بکھیر گیا۔

تھوڑی ہی دیر بعد وہ اسکے روبرو تھی۔

یشم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر دلکشی سے مسکراتے اپنا ہاتھ اسکی جانب بڑھا کر اسکا مومی ہاتھ اپنی گرفت میں قید کیا تھا۔

“یہ موسم کا کمال ہے یا ہماری محبت کا

ہمارا محبوب دلکشی کی انتہا کو جا پہنچا ہے۔”

اسکے کان میں سرگوشی کرتے وہ محبت سے اسکی کنپٹی چھوتے بولا تو اسکی گھنیری پلکیں حیا کے بوجھ سے جھک گئی معصوم سے چہرے پر حیا کے رنگوں نے اپنا ڈیرا جمایا تھا۔

کیا یہ وہی بنفشے تھی۔۔؟”

وہ براؤن لیدر جیکٹ پہنے اسکا ہاتھ تھامے دھیان سے آگے بڑھ رہا تھا۔

جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس نے باغ سے توڑا سیب اسکی طرف بڑھایا تھا۔

“یوں چوری کرکے کھانا خانوں کو زیب نہیں دیتا یشم یوسفزئی۔۔۔” اس نے زرا سی گردن موڑ اسکے یوں دھڑلے سے دوسرا سیب جیب میں رکھنے پر اس پر چوٹ کی تو اسنے حیرت سے اسے پھر ہاتھ میں پکڑے سیب کو دیکھا تھا۔

“اللّٰہ کی زمین ہے اور اللّٰہ کی طرف سے جو ملے وہ خوشی خوشی قبول کرنا چاہیے۔۔” اسکی بات کے پیچھے چھپے مفہوم کو وہ بہت اچھے سے سمجھ چکی تھی۔

اسے وہ دن یاد آیا جب اسکے مسلسل انکار کے بعد وہ باذات خود اسکے روبرو آیا تھا۔

“مجھ سے شادی نا کرنے کی وجہ نا پوچھنا یشم ۔” اسکے آنے کا مقصد اخذ کرتے اس نے صاف لفظوں میں اسے کہا تو اسکے وجہہ چہرے پر دل کو موہ لینے والی مسکان نے ایک جھلک دکھلائی تھی۔

“مجھ سے شادی نا کرنے سے آپ کی فیکٹری کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے میں یہ جاننے آیا ہوں۔۔”

“میری کوئی فیکٹری نہیں ہے تو نقصان کیسا؟..”

اپنا دوپٹے کا پلو گود میں رکھتے اس نے ناسمجھی سے اس شاطر انسان کو گھورا.

“اوووو اچھا۔۔۔ مجھے لگا آپ کے پاس انا ،غصہ اور نفرت کی فیکٹری ہیں اور مجھ سے شادی کر کے ان کو بڑا نقصان ہوجائے گا۔۔”

“مجھے لفظوں کے جال میں نہ پھنساؤ کیونکہ میں اپنا فیصلہ نہیں بدلنے والی۔” دوٹوک انداز میں کہتے اس نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگانی چاہی تھی مگر تبھی اسکا ہاتھ یشم یوسفزئی کی گرفت میں آیا تھا۔

“بیوی تو تم یشم یوسفزئی کی ہی بنو گی بنفشے خانزادہ اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں اس انکار کو دل کے اوپر لوہے سے لکھ کر انا میں آجاؤ گا تو یہ بھول ہے یشم یوسفزئی کا اور اس انا کا کوئی تعلق نہیں اور محبت کے معاملے میں تو بلکل بھی نہیں تو تم بھی اس تعلق کو یہی ختم کردو اور میرے ساتھ چلو میرے نگر برف کی وادی میں جہاں تمہاری نفرت ختم ہوجائے گی اور میری محبت تمہارے دل میں برف ہوئی محبت کو اپنی محبت کی آنچ سے پگھلا دے گی ۔”

اور آج اسکی ہمراہی میں یوں کھڑے پہاڑوں کو دیکھ اسے لگا اسکے اندر جو ایک آتش فشاں ہر وقت پھٹنے کو تیار رہتا تھا وہ کہیں برف سا ہوگیا تھا اور اب جو اس دل و دماغ میں تھی وہ تھی بس اس بے غرض انسان کی بے حد اور بے تحاشہ محبت۔۔۔

وہ پرسوں سے اس جگہ موجود تھے برف باری کا سلسلہ رک چکا تھا اس لئے گھر جانے کی جلدی اسے سب سے زیادہ تھی۔

_________

چاروں طرف خوبصورت پھولوں سے ڈھکی ان کی حویلی جس کی راہداری برف سے ڈھکی تھی جسے اب صاف کیا جارہا تھا۔

گاڑی سے اترتے شال کو اچھے سے لپیٹ اسنے فوراً سے اندر قدم بڑھائے تو سامنے ہی لاونج میں ہیٹر کے پاس وہ سب بیٹھے تھے۔

“اسلام وعلیکم مما بابا”سلام کرتے وہ ہانیہ بیگم کے پاس آئی اور ان سے مل کر اس نے مسکرا کر ان کے پاس کمبل میں دبکی بیٹھی اپنی شہزادی کو دیکھا تھا جسے ضرورت سے زیادہ ہی سردی لگتی تھی۔

“ماہے نور مما آگئی ہیں”اسکے ناراضگی سے پھولے پھولے گالوں کو پیار کرتے اس نے اپنی لاڈلی کو گود میں بھرا تھا۔

“اسلام وعلیکم”لاونج میں داخل ہوتے یشم نے زور سے سب کو سلام کیا اور آگے بڑھ ابو بکر یوسفزئی کے گلے لگا تھا

جو گولی انہوں نے کھائی تھی اسکا زخم تو مندل ہوگیا تھا اور وہ اپنے ساتھ ساری پرانی تلخیاں بھی لے گیا تھا۔

“آبان کہاں ہیں مما؟”اپنے بیٹے کو نا پا کر اس پوچھا تو جواب ابو بکر صاحب کی طرف سے آیا تھا۔

پچھلے حصے میں گیا ہے کہتا کہ برف دیکھنی ہے “

“مما زین اور عائشہ آرہے بچوں کے ساتھ چھٹیوں پر”

اپنی لاڈلی کو گود میں لیتے یشم نے بتایا اور پھر ایک نظر چھوٹی ماہے کو دیکھا۔

سرخ و سفید پٹھانوں جیسی۔۔

کتنی مکمل ہوگئی تھی ان کی زندگی۔

اسکے ماتھے پر لب رکھتے وہ اسے سینے سے لگا گیا۔۔

“وہاج نے خود کشی کر لی ہے “یشم کے بتانے پر اس نے حیرت سے اسے دیکھا۔

یشم پر حملہ کرنے کے بعد وہ وہاں سے فرار ہوتا اپنے ایک دوست کے پاس گیا تھا جنہوں نے ایک لڑکی کو اغوا کر اسکا ریپ و قتل کردیا مگر قمست ان کی خراب تھی کہ وہ لوگ فوراً ہی پکڑے گئے تھے اسکی سزا بڑھتی جارہی تھی اور آج بالآخر وہ چلے گیا تھا۔

اولاد کی صحیح پرورش بہت ضروری ہوتی ہے ورنہ قسمت بہت برا سلوک کرتی ہے ان کے ساتھ۔۔۔

____________

“تمہارے بابا مر گئے بیٹا اور یہ سب اس لڑکی کی وجہ سے ہوا ہے یشم یوسفزئی کی وجہ سے ہوا ہے۔۔”

پانچ سالہ بچے کو سینے سے لگائے وہ رو رہی تھی سسک رہی تھی۔

اور وہ بچہ حیرانگی سے اپنی ماں کو روتے سسکتے دیکھ رہا تھا۔

“مجھ سے وعدہ کرو میرے بچے اس انسان کی اولاد کی زندگی برباد کردو گے وہ بھی ایسے تڑپیں گے جیسے میں تڑپ رہی ہوں وعدہ کرو مجھ سے “اپنا ہاتھ اس معصوم کے آگے پھیلائے وہ اسے غلط راہ کی طرف لے جارہی تھی

اپنی ماں کی حالت دیکھ اس نے اپنا چھوٹا سا ہاتھ اپنی ماں کے ہاتھ میں رکھا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ برباد کردے گا یشم یوسفزئی کو ۔۔

آج اور کھیل کی ابتدا ہونے کو تھی۔۔۔۔۔…

ختم شد