Aseer-E-Dilberm By Fari Shah Readelle50313 Last updated: 10 November 2025
Rate this Novel
Aseer-E-Dilberm (Episode 1)Aseer-E-Dilberm (Episode 2)Aseer-E-Dilberm (Episode 3)Aseer-E-Dilberm (Episode 4)Aseer-E-Dilberm (Episode 5)Aseer-E-Dilberm (Episode 6)Aseer-E-Dilberm (Episode 7)Aseer-E-Dilberm (Episode 8)Aseer-E-Dilberm (Episode 9)Aseer-E-Dilberm (Episode 10)Aseer-E-Dilberm (Episode 11)Aseer-E-Dilberm (Episode 12)Aseer-E-Dilberm (Episode 13)Aseer-E-Dilberm (Episode 14)Aseer-E-Dilberm (Episode 15)Aseer-E-Dilberm (Episode 16)Aseer-E-Dilberm (Episode 17)Aseer-E-Dilberm (Episode 18)Aseer-E-Dilberm (Episode 19)Aseer-E-Dilberm (Episode 20)Aseer-E-Dilberm (Episode 21) 2nd Last EpisodeAseer-E-Dilberm (Episode 22) Last Episode
Aseer-E-Dilberm By Fari Shah
دولہن بن کر اسکا روپ ہی الگ تھا وہ کسی ریاست کی شہزادی لگ رہی تھی ہمیشہ سے خود کو سنبھال کر رکھا تھا زمانے کی رنگینیوں سے بہت دور۔۔
اپنے دل کو مار کر اس نے یہ قربانی دی تھی ۔
اسے لے کر اسٹیج پر بیٹھایا ہی گیا تھا کہ دولہا کی آمد کا شور مچ گیا اور اسکی آمد کا سن سجی سنوری اس دولہن کا دل ہتھیلیوں کی دھڑکا تھا
وہ پوری شان سے اسٹیج پر آکر اسکے سامنے کھڑا ہوا تو لوگوں نے ان کی جوڑی سراہا۔
مگر یہ سراہنا محض کچھ وقت کا تھا۔
"اپنی آوارگی چھپانے کو میں ہی ملا تھا تمہیں مگر اچھا ہوا وقت رہتے مجھے تمہاری بدکاری کا علم ہوگیا۔۔" لوگوں کے شور کو چیرتی اس شخص کی تیز آواز گونجی تو سب کو سانپ سونگھ گیا۔۔
"یہ یہ کیا بکواس کررہے ہو؟" سب سے پہلے دولہن کا بھائی آگے آیا تھا۔
"بکواس نہیں حقیقت ہے اپنی بدکردار بہن کو میرے پلے باندھتے شرم نہیں آئی " اس دولہن کے منہ پر تصویریں پھینکتے اس نے زہر اگلا تو مہندی میں سجے ہاتھ کپکپائے تھے۔۔
اس میں ہمت نہیں تھی کہ اپنے لئے کچھ بول سکتی۔۔
"دماغ خراب ہوگیا ہے تیرا کیا بکواس کر رہا ہے کیا ہے یہ سب۔۔"اتنے لوگوں کے سامنے اس طرح کا تماشہ دولہے کا باپ آگے آیا تھا مگر وہ تو جیسے سب سوچ کر بیٹھا تھا۔
"میں مزید اس تماشے کا حصہ نہیں بن سکتا اور نا اسے اپنی بیوی کی حیثیت سے قبول کرسکتا ہوں اس لئے میں اسے آپ سب کی موجودگی میں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں۔۔", اسکے منہ سے جملے ادا ہوتے ہی ایک زناٹے دار تھپڑ اسکے منہ پر پڑا تھا۔
اسکا باپ دل تھام کے ایک طرف لڑکھڑایا وہیں اس کی ماں نے اپنی آنکھوں سے قیامت دیکھی۔
کچھ لمحے پہلے جو تین لفظ اسے اس شخص سے باندھ گئے تھے اب یہ تین لفظ اسے سہاگن سے طلاق یافتہ و بدکردار بنا گئے تھے۔
یہ صدمہ اتنا شدید تھا کہ وہ بنا کچھ بولے ہی ہوش وحواس سے غافل ہوئی تھی۔۔۔
