399.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer-E-Dilberm (Episode 14)

Aseer-E-Dilberm By Fari Shah

بے یقینی سی بے یقینی تھی کل تک جس رشتے سے وہ انکاری تھی اج اسی شخص کے نام کی انگوٹھی اسکے ہاتھ میں جگمگا رہی تھی۔

امینہ یوسفزئی نے اسکے سر پر پیار کیا تو کئی آنسو ٹوٹ کر اسکی جھولی میں گرے۔۔

“میرا بیٹا بہت خوش نصیب ہے جسے اتنی پیاری لڑکی ملی “اسکے آنسو صاف کرتے وہ وہ محبت سے بولی تو وہ سر جھکا گئی۔

“بھائی صاحب میں جانتی ہوں یہ تھوڑا جلدی ہے مگر ہم پرسوں نکاح کر سکتے ہیں “

انہوں نے عبدالعزیز صاحب سے اجازت لی اور انہیں بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔

“جیسا آپ کو ٹھیک لگے .”

“کیونکہ یہ بیا کی خواہش ہے کہ سب سادگی سے ہوں تو نکاح اور رخصتی ہم سادگی سے کر لیتے ہیں البتہ ولیمہ گرینڈ ہوگا,”اسکا ہاتھ تھامے وہ آگے کی پلیننگ کر رہی تھیں۔

اور وہ اسکا دل کر رہا تھا کہ اٹھ کر بھاگ جائے اتنی اہمیت بھلا کب اسے کسی نے دی تھی۔۔

“بچے اب آپ بتائیں نکاح کا جوڑا ساتھ چل کر لینگی ؟

“آپ کو جو ٹھیک لگے ” اسکی آواز اتنی آہستہ تھی کہ انہیں بمشکل ہی سنائی دی۔

اس سے مزید وہاں بیٹھا نہیں گیا جبھی اٹھ کر کمرے میں آگئی۔

دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتی کیا تھی اسکی زندگی پل میں کچھ اور پل میں کچھ اور یہی زندگی کا اصول بھی ہے۔۔

شام اسکے لئے گاڑی آئی تھی ناچاہتے ہوئے بھی کوثر بیگم کی ضد پر وہ پارلر گئی۔

کچھ بھی تو پہلے جیسا نہیں تھا نا دل نا دماغ نا خوشی۔۔۔

اگلی صبح بہت روشن تھی مگر اسکے لئے گزرتا ہر پل بھاری تھا ایسا کی اسے لگ رہا تھا اسکا دل بند ہو جائے گا۔۔

سادگی کے باوجود اس کے گھر میں الگ ہی رونق تھی۔

مہندی والی بھی آگئی تھی اسکی آواز نقار خانے میں طوطی کی طرح ہی تھی۔

اسکی ضد جیسے کہیں بے معنیٰ ہوگئی تھی ہو تو وہی رہا تھا جو وہ چاہتا تھا۔

اپنے ہاتھ پر اسکے نام کی مہندی دیکھ وہ ایک نئے سرے سے تڑپی تھی۔

کتنا چاہا تھا کہ وہ شخص اسکی زندگی سے دور ہو جائے مگر یہ تو پہلے سے طے تھا جب جب وہ گرے گی اسے تھامنے کے لئے یشم یوسفزئی کا ہاتھ سب پہلے تھا۔۔۔

لیکن اس بار اسکی چوٹ زیادہ تھی وہ سنبھل نہیں پارہی تھی۔

____________

مسلسل گنگناتے وہ اپنے کام میں مگن تھا جب دروازہ کھول واثق اندر آیا۔

“واہ بھئی واہ مینگنیاں ہورہی ہیں نکاح ہورہے ہیں ہمیں کوئی پوچھ نہیں رہا”

“آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے منگنی بھی ایک ہی ہوئی ہے اور نکاح بھی ایک بار ہی ہوگا “

“ہاں وہی وہی اور آپ محترم نے بتایا ہی نہیں وہ تو امی اور آنٹی ساتھ گئیں تو مجھے پتا چلا “

“چلو پتا چل گیا نا “وہ خاصا اچھے موڈ میں تھا اور ہوتا بھی کیوں نا۔۔

“ہاں ٹھیک ہے اب پتا چل گیا ہے تو شرافت سے اٹھو ہمیں شاپنگ پر جانا ہے “

“میں اپنی شاپنگ کر چکا ہوں”مزے سے چئیر سے ٹیک لگاتے اس نے کہا تو واثق نے تیکھے چتونوں کے ساتھ اسے گھورا۔

“تیری شاپنگ کی بات نہیں کر رہا میں اپنی بات کر رہا ہوں آیا بڑا ہونہہ”اسکا انداز ایسا تھا کہ یشم بے اختیار قہقہ لگا اٹھا۔

“ویسے مشارب صاحب کو بلایا ہے یا نہیں آرزو کو پتا چلے گا مزہ آجائے گا”

“فلحال نکاح ہوجائے پھر دیکھتے ہیں”

“ہاں یہ بھی ٹھیک ہے ویسے آرزو ہے کہاں کافی ٹائم سے آفس بھی نہیں آئی “

“میں اسکا پرسنل اسسٹنٹ نہیں ہوں اور ویسے بھی اسے عادت ہے غائب ہونے کی آجائے گی اپنا موڈ ہونے پر”

ٹیبل سے چابیاں اٹھاتے اس نے جواب دیا تو اسکا موڈ دیکھ واثق جلدی سے اٹھا۔

“یشم میری شاپنگ تو کروائے گا دیکھ میرے جوتے گھس گئے ہیں بھابھی کے گھر جاتے جاتے”

اسکی بات پر اسکا قہقہ گونجا تھا واثق نے حیرت سے اسے دیکھا وہ ناجانے کتنے عرصے بعد یوں ہنس رہا تھا۔

واثق نے بےاختیار ماشاءاللہ کہا وہ نہیں چاہتا تھا اسکے دوست کو کسی کی بھی نظر لگے۔۔

____________

آج ایک بار پھر اسکے گھر میں چہل پہل تھی خوشی سب کے چہروں سے نمایاں تھی۔

آج بالآخر وہ یشم یوسفزئی کے نام ہونے جارہے تھی۔

بے چینی حد سے سوا تھا پارلر والی کو گھر ہی بلایا گیا تھا۔

مہندی بھرے ہاتھ بار بار نم ہورہے تھے۔

اسکے میک اپ ہو آخری ٹچ دیتے پارلر والی نے وائٹ دوپٹہ اسکے سر پر اوڑھایا جس کے کناروں پر گولڈن بھاری کام تھا۔

پارلر والی کے کہنے پر اس نے نظریں اٹھا کر آئینے میں اپنا عکس دیکھا تو لمحے کو مہبوت رہ گئی۔

ماتھے پر سجا ٹیکا ناک میں موجود نتھ گھنیری خم دار پلکیں سرخ ہونٹ۔۔۔

وہ کسی کو بھی پاگل کر سکتی تھی اپنے حسن سے۔

اسے کچھ خاص لگا خود میں کیا وہ نہیں سمجھ سکی پہلے بھی تو وہ دولہن بنی تھی تو تب کیوں اسے یہ تبدیلی محسوس نا ہوئی۔۔

“ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو”اسکے کان کے پیچھے کاجل لگاتے آسیہ نے کہا تو وہ بےساختہ نظریں جھکا گئی۔

“تمہیں پتا ہے آنٹی بتا رہی تھی یہ نکاح کا ڈریس یشم بھائی کی پسند ہے”

اسکا دوپٹہ ٹھیک کرتے وہ اپنی رو میں ہی اسے بتا رہی تھی یہ جانے بغیر کہ اسکا دل اس نام پر دھڑکنا بھول جاتا ہے۔۔

“بیا میری جان میں جانتی ہوں یہ مشکل ہے مگر تمہیں یشم بھائی کا ساتھ دینا ہوگا تم محبت کرتی تھیں ان سے یہ بات یاد رکھو انا کے ہاتھوں اپنی محبت کا دم نا گھوٹنا۔۔۔” اسکے ہاتھوں کو تھامے وہ ایک دوست ہونے کا فرض ادا کر رہی تھی۔۔

__________

سفید شلوار قمیض پر گولڈن واسکٹ پہنے بالوں کو سیٹ کئے اسنے ایک نظر آئینے میں خود کو دیکھا اور پھر اپنے پیچھے کھڑی اپنی ماں کو جن کی نظروں میں اس کے لئے ستائش تھی محبت تھی۔۔

“ماشاءاللہ” اسکی نظر اتارتے انہوں نے پیسے ملازمہ کو دیئے اور اسکے کندھوں پر روایت کے مطابق شال پہنائی۔

“اس شال کو رخصتی کے وقت بنفشے جو پہنانا اس سے وہ ہمیشہ تمہارے سایے میں رہے گی تمہاری خوشبو سے مہکے گی”

اسکی شال سیٹ کرتے وہ شرارت سے بولی تو اسکے وجہہ چہرے پر دلفریب مسکراہٹ نے احاطہ کیا۔

“آپ ابھی بھی ان رسومات کو مانتی ہیں حالانکہ مجھے ان سب پر یقین نہیں “انہیں بازوؤں کے گھیرے میں لیتے یشم نے آہستہ سے ان کے سر پر بوسہ دیا۔

ایک اس کی خاطر کتنا کچھ سہتی آئی تھیں وہ۔۔۔

“چلو جلدی سے وہاں سب انتظار کر رہے ہونگے “ٹائم دیکھتے وہ اس سے جلدی سے بولیں تو وہ ان کے ساتھ ہی نیچے آیا جہاں واثق کی فیملی اور اسکے کچھ قریبی لوگ موجود تھے۔

ان کے نیچے آتے ہی وہ سب گاڑی میں بیٹھے۔۔

وہ وقت قریب تھا جب وہ اسکی دسترس میں آنے والی تھی یہ سوچتے ہی اسکے چہرے پر دلفریب سی مسکان اپنی جھپ دکھلا کر غائب ہوئی تھی۔

بنفشے کے گھر پہنچتے ہی ان کا اچھے سے استقبال ہوا تھا۔

تقریب گھر میں ہی رکھی گئی تھی اور ان کی طرف سے سوائے چند ایک لوگوں کے کوئی نا تھا۔

وہ جانتا تھا وہ راضی نہیں تھی مگر اسے راضی کرنا اب یشم کا کام تھا.

“نکاح کی کاروائی شروع کریں بھائی صاحب”مسزز یوسفزئی کی اجازت پر انہوں نے ہاں میں سر ہلایا اور پھر کاضی صاحب کو لئے وہ اندر کی جانب بڑھے تھے جہاں وہ موجود تھی۔

بیڈ پر بیٹھے سر پر گھونگھٹ ڈالے وہ ایک بار پھر اسی عمل سے گزر رہی تھی۔

نکاح خواں نے کارؤائی شروع کی تو اس نے سختی سے کوثر بیگم کا ہاتھ تھاما۔

دل باہر آنے کو بیتاب تھا۔

“بنفشے عبدالعزیز کیا آپ کو یشم ولد ذولفقار یوسفزئی سے نکاح قبول ہے؟”

نکاح خواں کے الفاظ ایک چابک کی طرح اس کے دل پر پڑے تھے۔

بہتے اشکوں نے سامنے کا سارا منظر دھندلا دیا تھا۔

“ہاں بولے بچے”مسزز یوسفزئی کی آواز پر اس نے آہستہ سے اپنا سر اثبات میں ہلا کر اپنے سارے حقوق اس انسان کے نام کردئیے جو اسکے دل کی سلطنت میں بنا دستک دیئے داخل ہوا تھا۔

اسکی طرف سے اقرار ہوتے ہی یشم کی رضامندی معلوم کی گئی ایجاب و قبول کے مراحل طے ہوئے تھے اور پھر بنفشے عبدالعزیز یشم یوسفزئی کی ہوگئی تھی۔۔

اس کے باہر آنے پر یشم نے بےاختیار سر اٹھا کر اسے دیکھا۔

وائٹ گولڈن فراک پہنے لال دوپٹے کا گھونٹ لئے ہاتھوں میں اسکے نام کی مہندی لگائے وہ اسکے پہلو میں آکر بیٹھی تو یشم یوسفزئی کو احساس ہوا اسکا وجود کتنا طلبگار تھا اسکا وہ اسکے دل کو اپنے نام سے دھڑکانے والی پہلی لڑکی تھی جو یشم یوسفزئی کی زندگی بن گئی تھی وہ بس اسکی خوشی چاہتا تھا۔

رخصتی کا شور اٹھا تو اس نے تڑپ کے روتی بلکتی بنفشے کو دیکھا جو اپنی ماں کے گلے لگے ناجانے کس کس باپ پر اشک بہا رہی تھی۔

اسکے یوں سسکتے دیکھ یشم نے بےاختیار اپنے لب سختی سے بھینچتے تھے۔

“بس بچے طبعیت خراب ہو جائے گی”ہانیہ یوسفزئی نے آگے بڑھ کر اسے کوثر بیگم سے الگ تو کرلیا مگر اسکا وجود ابھی تک کپکپا رہا تھا۔۔

اسکے گاڑی میں بیٹھتے ہی یشم عبدالعزیز صاحب کے پاس آیا۔

“آپ کی بیٹی کی آنکھوں میں یہ آنسو آخری بار آئے ہیں میرا وعدہ ہے آج کے بعد سے وہ کبھی نہیں روئے گی آپ مجھ پر بھروسہ کردیں”

“تم پر بھروسہ ہے بیٹا”

“ہمارے لئے دعا کیجئے گا اور آج کے بعد سے آپ کو کوئی بھی بات کرنی ہو آپ کا یہ بیٹا حاضر ہے”جھک کر ان کے ہاتھوں کو لبوں سے لگاتا وہ انہیں سرشار کرگیا یہ اسکا طریقہ تھا اپنے بڑوں سے اظہارِ عقیدت کا۔۔۔

____________

گھر پہنچ کر اسکا شایان شان استقبال کیا تھا ایسا تو اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔

ہانیہ یوسفزئی اسے کمرے میں لے کر آئیں تو اسکے قدم تھمے تھے کمرے کی سجاوٹ دیکھ

سرخ گلابوں سے سجا وہ کمرہ اسکا دل بری طرح دھڑکا گیا تھا اسے لگا اسکا دل باہر آجائے گا۔

“آجاؤ بچے پریشان نہیں ہو۔۔”اسے رکتے دیکھ وہ نرمی سے بولتیں اسے اندر لائیں اور بیڈ پر بیٹھایا۔

“آپ کا ویسے استقبال نہیں کر سکی جیسے یوسفزئی خاندان کی بہو کا ہونا چاہیے تھا مگر ہمارا وعدہ ہے آپ سے جب آپ حویلی آئیں گی تو اپنا استقبال آپ کے شایان شان کیا جائے گا آپ وہ شہزادی ہیں جس نے ایک منجمد انسان جو پگھلایا ہے اسکے اندر احساس کو زندہ کیا ہے میں نہیں جانتی آپ یشم کو کتنا جانتی ہیں اور اس نے آپ کو کتنا بتایا ہے مگر بنفشے میں صرف ایک بات کہنا چاہوں گی میرے بچے نے کبھی کوئی خوشی نہیں دیکھی ماں باپ کی طرف سے تو بالکل بھی نہیں اسکا خوشیوں پر حق ہے اور وہ خوشیاں آپ ہی اسے دے سکتی ہیں کیا آپ ایک ماں کی یہ خواہش پوری کرینگی؟”اسکا ہاتھ تھامے وہ التجا کر رہی تھیں۔

اپنا ہاتھ آگے کئے وہ اس سے وعدہ لے رہی تھی اور پھر بنفشے عبدالعزیز نے ان کی بات کا مان رکھ اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دیا تھا۔۔۔

______________

پھولوں سے مہکتے سجے کمرے میں پھولوں سے سجے بیڈ پر بیٹھی وہ بے چین سی تھی۔

کچھ دیر پہلے کیا وعدہ بھولے وہ آہستہ سے بیڈ سے اتری۔

“میں وعدہ نبھاؤ گی مگر آپ کے ساتھ آگے نہیں بڑھ سکتی میں”خود سے کہتے وہ واشروم کی طرف بڑھی ہی تھی کہ روم کا دروازہ ایک قدم کھلا اور واسکٹ بازو پر ڈالے وہ پوری شان سے کمرے میں داخل ہوا مگر اسے یوں کمرے کے بیچ کھڑے دیکھ وہ ٹھٹکا تھا مگر محض لمحے کو۔

آہستہ سے دروازہ بند کرتے اس نے واسکٹ کو پاس رکھے صوفے پر پھینکا اور آہستہ سے اسکی طرف قدم بڑھائے۔

“خںر۔۔خبردار۔۔۔ وہیں رک جائیں میرے قریب بھی مت آئیے گا ا۔۔۔آپ۔۔”لڑکھڑاتا لہجہ پیچھے کو ہوتے قدم یشم نے بغور اسکا جائزہ لیا۔۔

“مجھے روک رہی ہیں آپ ؟”اسکی طرف قدم بڑھاتے وہ اسے حواس باختہ کرگیا۔۔

“میں کہہ رہی ہو آپ جائیں یہاں سے نہیں دیکھنی آپ کی شکل جب جب آپ کی طرف دیکھتی ہوں مجھے آپ کی آنکھوں میں اپنے لئے صرف ترس نظر آتا ہے ہمدردی نظر آتی ہے اور مجھے نہیں دیکھنا یہ سب میں مر جاؤ گی پلیز چلیں جائیں یہاں سے”اسکے آگے ہاتھ جوڑے وہ ناچاہتے ہوئے بھی اپنی دلی کیفیت اس پر آشکار کر گئی۔۔

“آپ کو میری آنکھوں میں اپنے لئے ے ترس نظر آتا ہے بنفشے یوسفزئی ؟؟”اسکے لہجے میں ایک عجیب سی آنچ تھی۔۔۔

اسکے بڑھتے قدم دیکھ وہ پیچھے ہوتے ہوتے دیوار سے لگی تھی۔

فرار کا کوئی راستہ نہیں تھا اس سے پہلے وہ وہاں سے ہٹتی اسکے دونوں اطراف ہاتھ رکھے وہ اسکا راستہ روک گیا۔۔

“ہٹی۔۔۔ہٹیں۔۔۔”

“آپ کو میری آنکھوں میں اپنے لئے ترس نظر آتا ہے ہمدردی نظر آتی ہے مگر آپ کو میری آنکھوں میں اپنے لئے محبت کیوں نظر نہیں آتی کیوں میری الفت میری شدت نظر نہیں آتی آپ جانتی بھی ہیں مجھے ان آنکھوں سے کتنا عشق ہے ؟”اسکی نم آنکھوں پر سلگتے لب رکھتے وہ اسے ساکت کرگیا۔۔۔۔