399.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer-E-Dilberm (Episode 11)

Aseer-E-Dilberm By Fari Shah

وہ سب اپنی جگہ ساکت تھا اپنی بات کہہ کر وہ رکا نہیں تھا۔

عبدالعزیز صاحب شش وپنج کا شکار تھے اتنی جلدی یہ سب انکی سمجھ سے باہر تھا وہ کیوں ایسا کر کے گیا تھا وہ اسی پریشانی میں تھے جب ٹھیک ایک ہفتے بعد واثق اپنی مدر کے ساتھ آیا۔

اسے یشم نے بھیجا تھا۔

“دیکھیں بھائی صاحب جو بھی ہوا اس میں بنفشے کی تو کوئی غلطی نہیں ہے اور ویسے بھی نکاح پانچ منٹ بھی نہیں رہا تو کیوں آپ اس پر یہ ظلم کر رہے ہیں اسے بھی زندگی جینے کا حق ہے”

“دیکھیں میں ایسے کیسے اسکی شادی اسی انسان سے کردوں جس کی وجہ سے اسے۔۔۔۔ اپنی بات کہتے کہتے وہ ایک دم سے چپ ہوگئے۔

“یہ ناممکن ہے لوگ باتیں بنائیں گے۔”

“لوگوں کے ڈر سے آپ اپنی بیٹی کو زندہ درگور کر دینگے ؟ کیا یہ ظلم نہیں ہے آپ خود سوچیں اگر وہ غلط ہوتا تو کیا یوں رشتہ دیتا اسے احساس ہے اسکی وجہ سے یہ ہوا ہے اور بھائی صاحب میں اس لڑکے کو بچپن سے جانتی ہوں میرے سامنے کا بچہ ہے جب میں اسکی گواہی دے سکتی ہوں تو کیا آپ اپنی بیٹی کر بھروسہ نہیں کر سکتے آپ نے تو اسے خود پالا ہے آپ کو لگتا ہے وہ ایسا کچھ کرے گی؟”

ان کی باتوں نے واقعی عبدالعزیز کو لاجواب کیا تھا۔

“انکل میں نے وہاج کے بارے میں سب معلومات حاصل کی ہیں اور یقین جانئے مجھے حیرت ہوئی کہ آپ اسکے چچا ہو کر اسکی سرگرمیوں سے لاعلم رہے”

اسکی کل ہی تصاریر اور بہت سے چیزیں واثق نے ان کے سامنے رکھی تو ان کے لمحے کو ہاتھ کانپے تھے۔

“وہ کوئی کام نہیں کرتا تھا جوا کھیلتا تھا اور مجھے یقین ہے آپ کو یہ بات معلوم ہی نہیں ہوگی یہ رشتہ ہی جھوٹ کی بنیاد پر بن رہا تھا آپ تو شکر ادا کریں کہ وہ اس جہنم میں جانے سے بچ گئیں۔”

وہ لوگ اپنی پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے حقیقت جان کر کوثر بیگم اور عبدالعزیز صاحب دونوں ہی بولنے کے قابل نہیں رہے تھے۔

“انکل ابھی بھی دیر نہیں ہوئی وقت آپ کے ہاتھ میں ہے یشم کو ایک دنیا جانتی ہے اس ملک کا سب سے نمبر ون بزنس مین ہے وہ”

“دیکھیں بھائی صاحب کوئی زبردستی نہیں ہے ہم بس رشتہ لے کر آئیں ہیں آخری فیصلہ آپ کا ہی ہوگا کہ آپکی بیٹی کے لئے کیا صحیح ہے اور کیا غلط ” واثق کی والدہ نے بال ان کے کورٹ میں ڈال دی تھی۔

وہاج کی سچائی جان کر وہ حیرت زدہ تھے وہ کیسے اپنی بیٹی کو ایسے دلدل میں جھونک رہے تھے۔

“بنفشے نہیں مانے گی”ان کی اگلی بات پر وہ دونوں چونکیں تھے اسکا مطلب وہ راضی تھے۔

“آپ بس اپنا بتائیں بنفشے کو راضی کرنا ہمارا کام یے”انہیں کہتے وہ اب جواب کی منتظر تھیں۔

کوثر بیگم نے ایک امید بھری نظروں سے اپنے شوہر کو دیکھا تھا۔

ان دونوں کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا اپنی بیٹی کو خوشیاں دینے کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتی تھیں۔۔

__________

جب سے اسے اس رشتے کا پتا تھا چلا تھا اسکا بس نہیں چل رہا تھا کیا کر جائے اپنی تکلیف درد سب ایک بار پھر یاد آیا تھا

“سمجھتے کیا ہیں وہ خود کو ہمت کیسے ہوئی یہ سب کرنے کی”

“آپی ریلکس ہو جاؤں کیا ہوگیا ہے اگر پرپوزل آیا ہے تو کیا برائی ہے “

“تم کچھ نہیں جانتیں وہ ایسے ہی ہیں سب سے ہمدردی کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے مگر یہ ہمدردی کر کے وہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں “وہ پاگل تھی بہت بڑی جو الٹا ہی سوچ رہی تھی۔

“عائشہ آسیہ کو بلاؤ پلیز”جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو آخر میں آسیہ کا ہی خیال ہے۔

اور پھر جب تک آسیہ نہیں آئی وہ چلے پیر کی بلی کی طرح گھومتی رہی۔

“خیریت ہے اتنے اچانک بلایا ؟”بیگ رکھتے اس نے پوچھا تو بنفشے نے نم آنکھوں سے اسکی طرف دیکھا۔

“بیا کیا ہوا ہے کیوں ایسے پریشان ہو بتاؤ مجھے”اتنی مشکل سے تو اسے سنبھالا تھا۔

“یشم یوسفزئی نے رشتہ بھیجا ہے اپیا کے لئے”عائشہ نے اس کے سر دھماکہ کیا۔

“کیا واقعی کون آیا تھا ؟”

“ان کے دوست اور انکی مدر آئی تھیں اور تب سے آپی کا سکون نہیں ہے”آسیہ کو بتاتے وہ اپنا سامان اٹھاتے باہر گئی تو آسیہ نے اسے گھور کر دیکھا۔

“بیا تو پاگل ہے یہ سب اللّٰہ کی طرف سے ہے”

“پلیز ان کی ہمدردی اور ترس کو دوسرے معنیٰ نہیں دوں آسیہ مجھے ان سے بات کرنی ہے پلیز مجھے لے کر چلو”اسکی منت کرتے وہ آسیہ کو بےبس کر گئی۔

“تم سے بڑا بیوقوف میں نے آج تک نہیں دیکھا۔”

“کوئی مسئلہ نہیں ابھی جاؤ اور امی سے بات کرو “

غصے سے اسے گھورتے آسیہ باہر گئی اور پھر کوثر بیگم سے اجازت لیتے وہ دونوں باہر آئی تھیں۔

“تم آخر کہو گی کیا ان سے؟”

“انہوں کہوں گی کہ اپنی ہمدردی اپنے پاس رکھیں مجھے کسی کی ضرورت نہیں ہے ایک طلاق یافتہ لڑکی سے شادی کر اگر وہ سب کی تعریف وصول کرنا چاہتے ہیں تو میں ایسا ہر گز نہیں ہونے دونگی۔۔”

“بیا جذباتی فیصلے مت کرو خدا کے لئے یہ پوری زندگی کا معاملہ ہے اپنی محبت کو انا کی بھینٹ مت چڑھنے دو”

“آسیہ میں کسی کی ہمدردی بھری نظریں نہیں دیکھ سکتی خود پر وہ صرف اس لیے مجھ کر ترس کھا رہے کیونکہ ان کی وجہ سے ہوا ہے جو کچھ ہوا ہے اور میں کسی کو خود پر ترس کھانے نہیں دونگی میں نے اپنے کردار پر بہت کچھ برادشت کیا ہے مگر اب مزید نہیں کرونگی یہ میری زندگی ہے اب میں مزید خود کو رسوا نہیں ہونے دونگی چاہے کچھ بھی ہو جائے “

“تمہیں تو ان سے محبت تھی نا”؟

آسیہ کی بات پر اس نے سر جھکایا تھا۔

“میرے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں ہے اور نا آئندہ تم مجھ سے یہ سوال کرنا تمہیں خدا کا واسطہ ہے”اس سے التجا کرتے وہ اندر آفس میں داخل ہوئی تھی۔

__________

“ہمت کیسے ہوئی میرے گھر رشتے بھیجنے کی؟” کمرے کا دروازہ دھاڑ سے کھولتے وہ اندر آئی اپنے کام میں مصروف وہ بری طرح چونکا۔

“ہمت ایسے ہوئی کہ بس ہوگئی۔”ہاتھ کی مٹھی بنا کر ٹھوڑی پر رکھتے اس کے اطمینان سے جواب دینے پر اسکا پارہ ہائی ہوا۔

“مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی ہے آخر یہ بات آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتی ہے؟؟”

اسکا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ کیا کرجائے۔۔

اسکے مطالبے پر وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اسکے روبرو آیا تو اسکے یوں قریب آنے پر وہ ایک دم سے پیچھے ہوئی۔

“کیوں نہیں کرنی آپ کو مجھ سے شادی؟؟”

“یا تو آپ کو کچھ نہیں پتا یا واقعی آپ انجان بن رہے ہیں مگر میری بات کان کھول کر سن لیں مسٹر یشم یوسفزئی میں ایک طلاق یافتہ لڑکی ہوں اور میری زندگی میں آپ کی کوئی گنجائش نہیں۔۔”ایک ایک لفظ چبا کر کہتی وہ اس پر بہت کچھ باور کروا گئی مگر سامنے بھی وہ تھا۔

“لیکن میری زندگی میں تو آپ کی گنجائش ہے مس بنفشے۔۔”

“ایک طلاق یافتہ لڑکی کسی کی بیوی نہیں بن سکتی یشم۔۔”

“تو ٹھیک ہے میں اس لڑکی کو پہلے دولہن بناؤ گا اور پھر ساری دنیا سے اسے اپنی بیوی کی حیثیت سے ملواؤں گا۔۔اور پھر اسکی طرف اٹھنے والی ہر انگلی جڑ سے الگ ہوگی کیونکہ تب وہ لڑکی یشم یوسفزئی کی بیوی ہوگی اسکی محبت” اسکی آنکھوں میں جھانک کر کہتے وہ اسکا دل دھڑکا گیا تھا۔

“فضول بات مت کریں میرے ساتھ مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی تو نہیں کرنی کیوں اپنا اور میرا تماشہ بنا رہے ہیں بس کردیں خدا کے لئے”اسکے آگے ہاتھ جوڑتے وہ یشم کا دل چیر گئی۔

“مت کریں ایسے بنفشے مت کریں مجھے مجبور نا کریں کچھ غلط کرنے پر آپ کو ایسے ٹوٹا بکھرا نہیں دیکھ سکتا میں”اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنی گرفت میں لیتا وہ اسے کرنٹ لگا گیا۔

ایک چھٹکے سے اپنے ہاتھ اسکی گرفت سے نکال وہ بھڑکی تھی۔

“اپنی حد میں رہیں اور یہ خیال دل سے نکال دیں کہ میں آپ سے شادی کرونگی اپنی ہمدردی اور ترس کسی اور کے لئے رکھیں میرا آپ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے آئندہ مجھ سے دور رہیے گا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا”اسے وارن کرتی وہ وہاں سے واک آؤٹ کر گئی اسکی بولتی نظریں اسے خود میں چبھتی محسوس ہوئی تھیں۔

“نہیں یشم یوسفزئی آپ کی باتوں میں نہیں آؤ گی میں کیونکہ حقیقت مجھے پتا ہے”

خود سے کہتے وہ گھر آکر اپنے کمرے میں بند ہوئی تھی۔

“وہ خود بھی نہیں جانتی تھی وہ کیا کر رہی ہے مگر اتنا تو اس نے سوچ لیا تھا اسکی زندگی میں یشم یوسفزئی کی کوئی جگہ نہیں تھی۔

_____________

پورا ہفتہ ہوگیا تھا وہ گھر نہیں گیا تھا نا اسے جانے میں دلچسپی تھی۔

اسکی دلچسپی صرف ایک جگہ تھی جہاں سے اسے پیسہ ملنا تھا۔

اس وقت اسکا رخ اپنی منزل پر تھا چہرے پر ایک معنی خیز سے مسکراہٹ تھی۔

وہ مخصوص جگہ پہنچا تو گارڈ نے اسکا راستہ روکا تھا۔

“اپنی آرزو میڈم کو کہو وہاج ملنے آیا ہے ایک بہت ضروری ہے”اسکی بات پر گارڑ اندر گیا تھا اور پھر تھوڑی دیر بعد ہی اسے اندر بلایا گیا تھا وہ اندر داخل ہوا تو اس عالیشان بنگلے کو دیکھ اسکی آنکھیں چمکیں تھیں۔

“تم یہاں کیوں آئے ہو ؟”اندر آتے ہی آرزو نے سوال کیا تو اس نے ایک مسکراتی نظر اس پر ڈالی تھی۔

“اپنی ہونے والی بیوی سے ملنے آنا پڑا کیونکہ اس نے تو میری خیر خیریت معلوم کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔”

“دماغ خراب ہوگیا ہے تمہارا کیا بکواس کر رہے ہو نشے میں ہو کیا؟”وہاج کی بات پر اسکا دماغ گھوما تھا۔

“ہاں نشہ تو ہوگیا ہے تمہارا “اسکا ہاتھ تھام وہ انتہائی برے طریقے سے اسے اپنے قریب کرگیا تھا تبھی آرزو کا ہاتھ اٹھا اور وہاج کے چہرے پر نشان چھوڑ گیا۔

“اپنی اوقات میں رہو سمجھ آئی تم جیسے کیچڑ آدمی سے اس سے زیادہ کی توقع کی بھی نہیں تھی میں نے دفع ہوجاؤ یہاں سے اور آئندہ اپنی شکل مت دیکھانا”غصے سے کہتے وہ جیسے ہی آگے بڑھی اسکا ہاتھ وہاج کی سخت گرفت میں آیا تھا۔

اس سے پہلے وہ کوئی کاروائی کرتی اسے ایک جھٹکے سے موڑتے وہاج نے اسکا میں دبوچا تھا۔

“تیری وجہ سے گھر بدر ہوا اپنی کزن کو طلاق دی اور تو مجھے کیچڑ بول رہی بتاؤ کہ اصل کیچڑ ہوتی کیا ہے مگر نہیں اتنی آسانی سے کیسے “اسکے کان کے قریب کہتے وہاج نے اپنا موبائل اسکے آگے کیا تو ایک وڈیو اسکے سامنے تھی جسے دیکھ اسکا دل کیا زمین میں گڑ جائے”

“زلیل انسان ڈلیٹ کرو اسے “اپنی انتہائی پرنسنل وڈیو اسکے پاس دیکھ وہ آپے سے باہر ہوئی تھی مگر افسوس وہ کچھ نہیں کر سکی کیونکہ وہاں کی گرفت بہت مضبوط تھی۔

وہ لاکھ بری سہی مگر بدکردار نہیں تھی اسکا دامن صاف تھا مگر وہاج کے پاس اسکی وڈیو نے اسے پاگل کردیا تھا وہ کیسے اتنا گر سکتا تھا اور وہ وڈیو کب بنائی گئی وہ نہیں جانتی تھی.

“اگر یہ وڈیو چاہتی ہو ڈلیٹ ہوجائے تو ایک بھاری بھرکم اماونٹ میرے اکاؤنٹ میں بھیج دینا اور ہاں بہت جلد ماں باپ کو بھیجوں گا رشتہ لے کر ہاں کردینا ورنہ انجام تو پھر..”اپنی بات اُدھوری چھوڑ وہ قہقہ لگا کر ہنس پڑا۔

“میری جان تم اس بار غلط بندے سے ٹکرا گئی ہو مگر کوئی نہیں ہر عروج کو زوال ہوتا ہے اسی طرح ایک برے انسان پر اس سے بھی برا انسان حاوی ہوجاتا ہے”اسے ایک جھٹکے سے زمین پر پھینکتے اس نے حقارت بھری نظر اس پر ڈالی۔

“میرے پاس آنے کے لئے تیار رہنا کیونکہ تمہیں مجھ سے تو کوئی نہیں بچا سکتا مگر بھی جاؤ گی تو قبر سے نکال لونگا تمہیں تو دور جانے کا تو سوچنا بھی نہیں”

اسے وارن کرتا وہ نکلتا چلا گیا اور اسکے جاتے ہی وہ بھاگ کر کمرے میں آتے ہی بیڈ پر گر کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔

“ٹھیک کہا تھا وہاج نے برا کرنے والے کے اوپر ایک اور برا کرنے والا آجاتا ہے”بےبسی کے احساس سے وہ زمین میں بڑھتی چلے گئی۔