399.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer-E-Dilberm (Episode 1)

Aseer-E-Dilberm By Fari Shah

ہال اس وقت مہمانوں سے بھرا پڑا تھا بارات آچکی تھی اور نکاح کی رسم ادا ہوگئی تھی۔

ڈریسنگ روم میں بیٹھے اس نے پریشانی سے ادھر ادھر دیکھا دل میں ایک عجیب سی بے چینی نے ڈیرا جمایا ہوا تھا۔

“کیا ہوا پریشان کیوں لگ رہی ہو بھئی زرا مسکراؤ.”اس کی دلی کیفیت سے انجان آسیہ نے اسے کہا مگر چہرے پر مسکراہٹ آ ہی نہیں سکی۔

جب دل میں ویرانیوں کا راج ہو تو باہر کا شور بھی کچھ نہیں کر پاتا۔۔

“آسیہ آپی امی کہہ رہی ہیں آپی کو لے آئیں ۔۔” اپنا شرارہ سنبھالتے اس کی چھوٹی بہن اندر آئی تو باہر سے حکم ملتے ہی وہ اور آسیہ اسے لئے باہر اسٹیج کی جانب بڑھیں تھیں۔

کمرے کے فلش اسکے چہرے پر پڑ رہے تھے کئی نگاہوں میں ستائش تھی تو کہیں رشک۔۔

دولہن بن کر اسکا روپ ہی الگ تھا وہ کسی ریاست کی شہزادی لگ رہی تھی ہمیشہ سے خود کو سنبھال کر رکھا تھا زمانے کی رنگینیوں سے بہت دور۔۔

اپنے دل کو مار کر اس نے یہ قربانی دی تھی ۔

اسے لے کر اسٹیج پر بیٹھایا ہی گیا تھا کہ دولہا کی آمد کا شور مچ گیا اور اسکی آمد کا سن سجی سنوری اس دولہن کا دل ہتھیلیوں کی دھڑکا تھا

وہ پوری شان سے اسٹیج پر آکر اسکے سامنے کھڑا ہوا تو لوگوں نے ان کی جوڑی سراہا۔

مگر یہ سراہنا محض کچھ وقت کا تھا۔

“اپنی آوارگی چھپانے کو میں ہی ملا تھا تمہیں مگر اچھا ہوا وقت رہتے مجھے تمہاری بدکاری کا علم ہوگیا۔۔” لوگوں کے شور کو چیرتی اس شخص کی تیز آواز گونجی تو سب کو سانپ سونگھ گیا۔۔

“یہ یہ کیا بکواس کررہے ہو؟” سب سے پہلے دولہن کا بھائی آگے آیا تھا۔

“بکواس نہیں حقیقت ہے اپنی بدکردار بہن کو میرے پلے باندھتے شرم نہیں آئی ” اس دولہن کے منہ پر تصویریں پھینکتے اس نے زہر اگلا تو مہندی میں سجے ہاتھ کپکپائے تھے۔۔

اس میں ہمت نہیں تھی کہ اپنے لئے کچھ بول سکتی۔۔

“دماغ خراب ہوگیا ہے تیرا کیا بکواس کر رہا ہے کیا ہے یہ سب۔۔”اتنے لوگوں کے سامنے اس طرح کا تماشہ دولہے کا باپ آگے آیا تھا مگر وہ تو جیسے سب سوچ کر بیٹھا تھا۔

“میں مزید اس تماشے کا حصہ نہیں بن سکتا اور نا اسے اپنی بیوی کی حیثیت سے قبول کرسکتا ہوں اس لئے میں اسے آپ سب کی موجودگی میں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں طلاق دیتا ہوں۔۔”, اسکے منہ سے جملے ادا ہوتے ہی ایک زناٹے دار تھپڑ اسکے منہ پر پڑا تھا۔

اسکا باپ دل تھام کے ایک طرف لڑکھڑایا وہیں اس کی ماں نے اپنی آنکھوں سے قیامت دیکھی۔

کچھ لمحے پہلے جو تین لفظ اسے اس شخص سے باندھ گئے تھے اب یہ تین لفظ اسے سہاگن سے طلاق یافتہ و بدکردار بنا گئے تھے۔

یہ صدمہ اتنا شدید تھا کہ وہ بنا کچھ بولے ہی ہوش وحواس سے غافل ہوئی تھی۔۔۔

_________________

سڑکوں پر رواں دواں ٹریفک لوگوں کی بھیڑ اور اسی بھیڑ ایک ایک حصہ وہ۔۔

تپتی دھوپ میں کتاب کا سایہ خود پر کئے گاڑی کی منتظر ۔۔۔

“افف اللہ جی یہ گاڑی کیوں نہیں آئی آج اب تو اتنا ٹائم ہوگیا ہے۔” چادر کے پلو سے چہرہ صاف کرتے اس نے گھڑی پر ایک نظر ڈالی جو اس وقت ساڑھے بارہ کا ہندسہ دیکھا رہی تھی یعنی اسے یہاں دھوپ میں جلتے ہوئے آدھا گھنٹہ ہونے کو آیا تھا کالج تو کب کا بند ہوچکا تھا۔

“ہائے اللّٰہ آج ہی سب کچھ ہونا تھا کاش موبائل ہی لے آتی کم از کم بابا کو ہی کال کر لیتی۔۔” دھوپ سے بے حال وہ سخت مضطرب تھی۔۔

ادھر ادھر دیکھتے وہ کبھی کھڑی دیکھتی تو کبھی ناک پر ٹکا چشمہ ٹھیک کرتی۔۔۔

اب تو روڈ پر بھی سناٹا ہونے لگا تھا کہ اتنی گرمی میں کوئی پاگل ہی یوں کھڑا ہوگا۔۔

ہاتھ کی پشت سے چہرہ صاف کرتے اس نے ایک بار پھر امید بھری نظروں سے روڈ کے بائیں جانب دیکھا تو آنکھوں میں چمک سی آئی تھی چہرے پر چھائی بیزاری ایک دم خوشی میں تبدیل ہوئی تھی۔۔

یہ مزاج کی تبدیلی سامنے آتی گاڑی کو دیکھ مزید بڑھتی جارہی تھی کہ اتنے میں ایک سیاہ مہران اسکے سامنے آکر رکی تو اسکی اٹکی سانس بحال ہوئی۔

“شکر ہے تم آگئے میں کب سے انکل کا انتظار کر رہی ہوں مگر وہ آئے ہی نہیں۔۔” کھڑکی سے اندر دیکھتے اسنے فوراً دکھڑا رویا۔۔

“پہلے اندر بیٹھ جاؤ پھر سارے رونے رو لینا اور میری بھی کچھ سن لینا بہنا۔۔”عزیر کی بات پر وہ جلدی سے دروازہ کھولتی اندر بیٹھی اور پھر اسکے بیٹھتے ہی عزیر نے گاڑی اسٹارٹ کی تھی۔

“اب بتاؤ نا اب کیوں چپ بیٹھے ہو ؟ پتا ہے میں کب سے اتنی گرمی میں کھڑی ہوں اوپر سے سناٹا مجھے تو وحشت سی ہونے لگی تھی ۔”

“ارے انکل کی وین خراب ہوگئی تھی تو انہوں نے بابا کو کال کر دی تھی میں ایک جگہ پھنس گیا تو آنے میں وقت لگ گیا۔”

“اوو چلو کوئی نہیں ویسے بھی کچھ دنوں کی بات ہے پھر جان چھوٹے گی ان راستوں سے۔۔” کتاب بیگ میں واپس رکھتے اسنے اپنا رخ کھڑکی کی جانب کرلیا کیونکہ ایک یہی تو کام تھا جو اسے بے حد پسند تھا۔

مختلف لوگوں کو دیکھنا ان کے چہروں کو کھوجنا اور پھر خود سے ہی کہانی بننا۔۔

“اپیا تمہارے سسرال والے آرہے ہیں پرسوں۔۔۔” وہ جو باہر کے مناظر کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی عزیر کی بات پر اسکے مسکراتے لب سمٹے تھے خود کو کمپوز کرتے اسنے مسکرا کر عزیر کو دیکھا۔

“کوئی نئی بات بتاؤ عزیر تایا ابو اور تائی امی تو ہر دوسرے تیسرے دن ہی آئے ہوئے ہوتے ہیں۔۔.”خود کو نارمل ظاہر کرتے وہ ہنس کر بولی تو عزیر بے ساختہ ہنس دیا۔۔

“بات تو تمہاری بھی سہی ہے اب مہمان کم ہی پڑوسی زیادہ لگتے ہیں۔۔”عزیر کے شرارتی انداز پر وہ بے ساختہ ہنس دی۔۔

“چلو دھیان سے گاڑی چلاؤ اور مجھے میرا کام کرنے دو۔۔”,عزیر کو کہتے وہ واپس سے کھڑکی کی جانب متوجہ ہوئی تھی مگر چہرے پر چھائی مسکراہٹ اب کہیں چھپ سی گئی تھی۔

_______________

“اسلام وعلیکم امی۔۔”گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے زور سے سلام کیا تو صوفے پر بیٹھی کوثر بانو نے کھڑکی سے جھانک کر اسے دیکھا۔

“وعلیکم السلام شکر آگئیں مجھے تو فکر لاحق ہورہی تھی اوپر سے تمہارے بابا بھی آج مصروف تھے۔۔

اسکا بیگ لے کر سائیڈ پر رکھتے انہوں نے کہا تو فریج سے پانی کی بوتل نکال وہ ان کے پاس آ بیٹھی۔

“امی آج اتنی گرمی ہے کہ حد نہیں اوپر سے کوئی شیلٹر ہی لگا دے یہ گورنمنٹ مجھے تو لگا تھا میں نے ہوش ہوجاؤ گی۔۔”

“بس میں بابا سے بات کرتی ہوں خود لانے کی ڈیوٹی سنبھالیں یا عزیر کو دیں ویسے ہی حالات اتنے خراب ہیں۔۔”

“نہیں امی ایسے نہیں کرینگے آپ جانتی ہیں نا وین والے انکل کو کتنی ضرورت ہے پیسوں کی میری وجہ سے ان کی سیٹنگ میں مسئلہ ہو جائے گا اور وہ کون سا روز لیٹ آتے ہیں۔۔”عادت سے مجبور اس نے فوراً سے انہیں منع کیا تو گہرا سانس بھر کر رہ گئیں۔۔

“اچھا تم جاؤ کپڑے تبدیل کرو میں کھانا لگاتی ہوں۔۔”

“ٹھیک ہے مگر عائشہ کہاں ہیں نظر نہیں آرہی؟”ادھر ادھر نظر دوڑاتے اس نے اپنی چھوٹی بہن کو ڈھونڈا۔

“یہاں نہیں ہے مدرسے گئی ہے تم بھی کھانا کھا کر نماز پڑھو مجھے بازار بھی جانا ہے تمہارے تایا تائی آئیں گے۔۔” اسے طویل جواب دیتے وہ کچن کی جانب بڑھی گئی تو اندر کمرے میں آگئی۔

آنے والے مہمانوں کا نام سن کر حلق تک کڑوا ہوجاتا تھا مگر وہ اچھی بیٹی تھی اسے اچھی بیٹی بن کر ہی رہنا تھا۔۔

کھانا کھا کر نماز سے فارغ ہو کر وہ بیڈ پر لیٹی تو دل و دماغ میں کئی الجھنیں تھیں۔

میٹرک کرتے دوران ہی تایا تائی نے اسے اپنے بڑے بیٹے کے لئے مانگ لیا تھا وہ اس رشتے کے خلاف تھی بھی نہیں مگر اب گزرتا وقت اسے عجیب سے الجھن میں لپیٹ لیتا۔

یہ تو اسکی زندگی کا مقصد نہیں تھا۔

“افف ایک تو یہ دماغ میرا “اپنی سوچوں سے جھنجھلاتے اس نے کروٹ لی اس بار نیند میں خلل لائٹ نے ڈالا تھا جو اپنا وقت ہوتے ہی یوں غائب ہوتی تھی جیسے گدھے کے سر سے سنگ۔۔

سخت جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتے وہ اپنی جگہ سے اٹھ بیٹھی تھی نیند تو اب اسکے نصیب میں تھی نہیں۔۔

______________

“وہاج۔۔۔ وہاج دیکھو زرا اس لڑکے کو ایسے کانوں میں روئی ٹھونس کر بیٹھتا ہے کہ بندہ آوازیں دے دے کر پاگل ہو جائے مگر مجال ہے جو یہ سن لے..”سیڑھیاں چڑھتے سلمہ بیگم اوپر اسکے کمرے میں داخل ہوئیں تو بستر پر اوندھے منہ لیٹا وہاج ایک دم سے سیدھا ہوا تھا اور فوراً سے موبائل سائیڈ پر رکھا

“یہ کیا طریقہ ہے امی بندہ آنے سے پہلے دروازہ ہی بجا دیتا ہے۔۔”

“نواب صاحب میں تجھے کب سے آوازیں دے رہی ہوں مجال ہے جو تیرے کانوں پر جوں دینگے تو مجھے خود آنا پڑا۔۔”اسکے کمر پر دھپ رسید کرتے انہوں نے کہا تو اسکے منہ کے زاویے بگڑے تھے۔

“اب بولیں بھی کیا کام ہے کیون آوازیں دے رہی تھی اور کیوں اوپر آنا پڑا۔۔”

“تیرے ابا کا فون آیا تھا ٹھیکیدار نے بلایا ہے تجھے ان کے ۔۔”

“اففف بھئی کتنی بار کہا ہے مجھے نہیں کرنی کسی کی غلامی ابا کو آخر سمجھ کیوں نہیں آتی۔۔۔”

“تو کیا یونہی بے روزگار بیٹھا رہے گا پرسوں جارہے ہیں شادی کی بات کرنے اور تو ہے کہ بے روزگار۔۔”

“تو یہ بات چچا کو کون سا پتا ہے اور امی میں پہلے ہی بتا رہا ہوں بنفشے کو گھر بیٹھانے کی ضرورت نہیں ہے پہلے ہی بول دینا چچا کو کہ شادی کے بعد نوکری کرواؤ گا میں اسے۔۔”

“تو اسکی نوکری کو چھوڑ اپنی ڈھونڈ تیرے چچا پوچھیں گے تو کیا جواب دینگے ہم۔۔”

“ارے بھئی وہی بولنا جو اتنے وقت سے بولتے آرہے ہو کون سا چچا نے جا کر وہاں معلوم کرلینا ہے۔۔”ڈھٹائی سے کہتے وہ اپنی جگہ سے اٹھا تو سلمہ بیگم سر تھام کر رہ گئیں۔

“یہ لڑکا تو ہاتھوں سے ہی نکلتا جارہا ہے کرتی ہوں اسکے ابا سے بات جلد از جلد شادی کریں تاکہ کچھ زمہ داری کا احساس ہو ۔۔” غصے سے بڑبڑاتے وہ اسکا پھیلاوا سمیٹنے لگیں۔

جب کے ان کے بڑبڑاتے دیکھ وہ موبائل اٹھا کر باہر آگیا اور موبائل میں نمبر ڈائل کر اس نے موبائل کان سے لگایا دوسری طرف سے کال فوراً اٹھائی گئی۔

“سوری جان یار ڈیڈ کی کال تھی ایک اہم کال تھی لاکھوں کا نقصان ہوجاتا میرا ۔”

“اوو سوری وہاج مجھے پتا نہیں تھا خیر آپ کام کرلیں۔۔”

دوسری طرف سے اس بیچاری نے شرمندگی سے کہا۔

“ارے میری جان اٹس اوکے میں بس جا ہی رہا تھا ڈرائیور گاڑی نکال رہا ہے میں بعد میں بات کرتا ہوں۔۔” اسے کہتے فون کاٹ اسنے گہرا سانس بھرا۔۔

“اففف آج تو امی نے جان ہی نکال دی تھی۔

اپنی کھٹارہ بائیک نکالتا وہ ایک بار پھر آوارہ گردی کے لئے نکل چکا تھا۔

_______________

“امی میں جارہی ہوں خیال رکھئے گا۔۔”چادر کو اچھے سے لیتے اسنے گیٹ کھولتے اس نے وہی سے ہانک لگائی اور چھپاک سے باہر غائب ہوئی تھی وین آ چکی تھی اور اسکا مزید لیٹ ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔

“افف ایک تو یہ لڑکی ہمیشہ ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتی ہے۔۔” گیٹ بند کرتے وہ اندر آئیں تو سامنے ہی تخت پر عبد العزیز صاحب براجمان تھے۔

“کیا ہوگیا بھئ؟

“کچھ نہیں خیر آپ ابھی مجھے سامان کا دیجئے گا کل بھائی بھابھی نے آنا ہے۔۔” ٹرے ان کے سامنے سے سائیڈ کرتے وہ اپنی جگہ پر بیٹھی تو موبائل میں مصروف انہوں نے سر ہلا دیا۔۔

“میں ایک بار سوچ رہی تھی۔۔”

“کیا کہوں۔۔”

“آپ برا مت مانئے گا مگر ناجانے کیوں مجھے اپنی بیا اور وہاج کا کوئی جوڑ ہی نہیں لگتا وہ کسی کام میں دلچسپی نہیں دیکھاتا ناجانے شادی کے بعد کیا ہوگا؟؟” وہ ماں تھیں جانتی تھی بنفشے لاکھ اس رشتے کو ناپسند کرے مگر وہ کبھی خود سے کچھ انہیں نہیں بولے گی۔

“ارے یہ کیا بات کر رہی ہیں آپ ماشاءاللہ سے اتنا قابل ہے میرا بھتیجا اور کام میں کیا دلچسپی دیکھائے بھائی صاحب بتا رہے تھے اپنا بزنس شروع کرنا چاہتا ہے اور بھئی اس عمر میں سارے لڑکے ایسے ہی ہوتے ہیں لاابالی آپ فکر نا کریں۔۔ بلکہ سامان لکھ کر دیں میں عزیر کے ہاتھ بھیج دونگا۔۔”اپنی بات مکمل کر کے وہ باہر کی طرف بڑھ گئے تو ان کی بات پر وہ بس خاموش ہوکر رہ گئیں اب کیا بتاتی اور کیا کرتیں ان کی سمجھ سے باہر تھا۔

_____________

وہ کالج کے پاس پہنچی تو اسکی آنکھیں حیرت سے پھٹی تھیں سامنے کا منظر اسکے لئے حیران کن تھا مگر اتنے لوگوں کی موجودگی میں وہ وہاں مزید نہیں رک سکی لیکن پورا دن اسکا دھیان باہر کی طرف ہی رہا۔

“بیا کیا ہوگیا ہے صبح سے سوچوں میں گم ہو خیریت ہے؟؟” آسیہ صبح سے اسکے سوچوں میں گھرا دیکھ رہی تھی جب رہا نا گیا تو آخر کار اس نے پوچھ ہی لیا۔

“آسیہ پتا ہے آج باہر جہاں ہم گاڑی کا ویٹ کرتے ہیں نا کسی نے بس شیلٹر بنایا ہے مطلب یار راتوں رات اتنا اچھا اور زبردست ۔۔”

“ہاں تو کسی کو آگیا ہوگا تم جیسی مظلوم پر ترس جو کل اتنا وقت دھوپ میں کھڑی رہی ہے ۔”آسیہ کی بات پر اس نے کھینچ کر ایک مکا اسے مارا تو وہ کھل کر ہنس دی

“اس میں جھوٹ بھی تو نہیں ہے ایک کم سن لڑکی گہری کالی غلافی آنکھوں والی جس کے گال پر پڑتا ڈمپل اسے سب سے منفرد بناتا ہے اوپر سے متضاد یہ چشمہ۔۔” آسیہ کی تعریف پر وہ ایک دم جھینپ گئی اور اسکے انداز پر آسیہ نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔

“حد ہوگئی ہے آسیہ کوئی بہت ہی بدتمیز ہو تم۔۔”

“لو جی میں نے کیا کیا اب سامنے والا تعریف کے قابل ہے تو۔۔”

“اچھا اچھا بس۔۔۔” اسکی بات کاٹتے اس نے آسیہ کو اسٹاپ کیا تھا۔

“ایک بات بتاتی چلوں میں میں منگنی شدہ ہوں کوئی شہزادہ آ بھی گیا تو میری زندگی میں اسکی کبھی جگہ نہیں بنے گی۔۔” اپنی بات بولتے بولتے اچانک اسکے لہجے میں اداسی گھلی تھی مگر اسے اپنا آپ چھپانا آتا تھا۔

کالج سے باہر نکلتے وہ اس شیلٹر کے نیچے کھڑی ہوئی تو سائڈ میں لگے فین نے اسے مزید حیرت سے دوچار کیا تھا۔

“یہ کون لینڈ لارڈ آگیا ہے؟”آسیہ کی حیرت بھری آواز پر اس نے کندھے اچکائے۔

“یقین کرو کوئی ہیرو ہی ہوگا جس نے یہ کیا۔۔٫”

“بس کردو آسیہ ہماری زندگی میں کسی ہیرو کی اینٹری نہیں ہوسکتی نکل آؤ اس خیالی دنیا سے۔۔”اسے کہتے وہ سامنے سے آتی وین کی طرف بڑھ گئی۔