399.7K
22

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aseer-E-Dilberm (Episode 2)

Aseer-E-Dilberm By Fari Shah

کمرے میں اس وقت اندھیرا تھا فقط ایک چیز تھی جو اس کمرے کو روشن کی ہوئی تھی وہ تھی کھڑکی سے آتی سنہری روشنی۔۔

سیگریٹ کا گہرا کش لیتے اس نے سامنے ٹیبل پر ایش ٹرے میں سیگریٹ کو مسلا تو ساتھ رکھی فائل پر اسکی نظر پڑی۔۔

اس پر بڑے بڑے حرفوں میں کسی کا نام لکھا تھا

وہ نام پڑھتے اسکے سامنے کسی کا عکس نمایاں ہوا تھا۔

“بنفشے عبد العزیز”

اس نام کو زیر لب دہراتے وہ دھیما سا مسکرایا تھا۔

_________________

یونیورسٹی میں آج معمول سے زیادہ بھیڑ تھی اور وجہ تھی آج ہونے والا اسٹوڈنٹ ویک جس میں کبھی نا آنے والے بھی آکر یونی کو ملاقات کا شرف بخشتے تھے۔

“زین حد ہوگئی ہے یار وہاں سب انجوائے کر رہےہیں اور تو یہاں لائبریری میں سر کھپا رہا۔۔”ریاض کب سے اسے ڈھونڈتا پھر رہا تھا جو اسے بلآخر مل ہی گیا تھا۔

“مجھے قطعی کوئی شوق نہیں ہے ان فضول چیزوں کا مجھے اپنا اسائمنٹ کمپلیٹ کرنا ہے اور اب میں گھر جارہا ہوں۔۔”بکس اٹھاتا وہ بیگ پہنتا باہر کی جانب بڑھا تو ریاض اسکے پیچھے لپکا۔

“ابے یار رک جا نا تھوڑی دیر ہی سہی۔۔”

“ریاض پلیز پھر کبھی سہی ابھی بہت کام ہے اوپر سے میں کافی دنوں سے گھر نہیں گیا ہوں تو امی سے ملنے بھی جانا ہے۔۔”ریاض کو سہولت سے انکار کرتا وہ باہر کی جانب بڑھا تھا کاریڈور سے نکلتے وہ مڑا تھا جب سامنے سے آتا شخص بہت بری طرح سے اس سے ٹکرایا۔۔

“اففففف اففف دیکھتا نہیں ہے اندھے ہو کیا یا آنکھیں گھر بھول آئے ہو۔۔” اپنے سر کو مسلتے وہ بری طرح اس پر چلائی تو زین نے تعجب سے اس مغرور لڑکی کا دیکھا تھا جو خود موبائل میں دیکھ کر چل رہی تھی اور الزام اس پر لگا رہی تھی

“میری آنکھیں یہی ہیں برائے مہربانی اپنی آنکھوں اور زبان کا علاج کروائیں۔۔” اسے جواب دیتا وہ اسکی سائیڈ سے نکلا تھا جب اسے رکنا پڑا کیونکہ اسکا ہاتھ سامنے والی کی گرفت میں تھا۔

اس اچانک حملے پر وہ ایک دم شاکڈ ہوا وہیں وہ غصے سے پلٹتے اسکے سامنے آئی تو لمحے کو اسکی شخصیت نے سامنے والی کو حیران کیا تھا مگر خود کو سنبھالتے وہ اپنی ٹون میں فوراً واپس آئی۔

“میرے آگے زبان چلانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا شرافت سے مجھ سے معافی مانگو تم”

غصے سے اسکا ہاتھ جھٹکتے وہ غرائی تو زین نے بغور اسکا جائزہ لیا جو میک اپ کی دوکان بنی اسکے سامنے تھی اسے سخت کوفت ہوئی تھی اسکے حلیے سے۔۔

“نا میری غلطی ہے نا میں معافی مانگو اب میرے راستے میں مت آنا میرے پاس تم جیسی لڑکیوں سے بحث کا” دوٹوک انداز میں اسے کہتا وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا جب کے اسکے اتنے برے طریقے سے جواب پر وہ سر تا پا سلگ اٹھی۔۔

“آرزو کیا ہوا یہاں کیوں کھڑی ہوں ؟؟”

“یہاں سے چلو مجھے یہاں ایک پل نہیں رہنا ردا۔۔۔”

“کیا ہوا ہے تمہارا موڈ کیوں خراب ہے؟؟”

“کچھ نہیں ہوا فلحال چلو یہاں سے اس سے پہلے میں یہاں کا سارا فنکشن برباد کردوں۔۔”غصے سے کہتے وہ واک آؤٹ کر گئی تو درا اسکے پیچھے بھاگی کیونکہ اس سے واقعی کوئی بعید نہیں تھی کہ وہ کیا کر جائے ۔

“آرزو بات سنو کیا ہوگیا ہے اتنا بھی کیا غصہ “

“میرا دماغ مت کھانا ورنہ انجام بہت برا ہوگا۔۔” غصے سے کہتے وہ اپنی گاڑی میں بیٹھتے زن سے گاڑی بھگا گئی تو اس کے اسپیڈ پر ردا نے سر پکڑا۔۔

___________

“اب کیا مسئلہ ہوگیا ہے تمہیں کیوں منہ لٹکا کر بیٹھی ہو؟”

اسے کلاس میں منہ لٹکا کر بیٹھے دیکھ آسیہ نے پوچھا تو وہ جو کب سے برداشت کر رہی تھی آخر کو اسکے آنسو جھلک پڑے۔

“میرا فارم ریجکٹ کر دیا ہے یار کہتے ہیں کچھ ایشوز ہیں کل لاسٹ ڈیٹ ہے اب میں کیسے سب کروں کیا کروں میری کچھ سمجھ نہیں آرہا اوپر سے آج تائی امی نے آنا ہے میرا سر درد سے پھٹ رہا ہے اب۔۔” آنکھوں میں آنسو لائے وہ بے بسی کی انتہا تھی۔

اسکا فیس واچر مل نہیں رہا تھا اور آفس والوں کو ناجانے کون سی مصیبت پڑ گئی تھی۔

“ایسے کیسے تو ایک کام کر گھر جا اور گھر پر جاکر واچر ڈھونڈ تاکہ پھر یہ مسئلہ حل ہوسکے کچھ نہیں ہوگا اب یہ کالج والے اتنے پاگل نہیں ہیں کہ تیرا سال ضائع کردیں۔”

“وہی تو مگر سر تو میری بات سننے کو تیار نہیں ہیں کہتے ہیں لاپرواہی کی سزا ہے یہ یار اب اس میں میری کیا غلطی ہے۔۔۔” چادر سے چہرہ صاف کرتے اس سر جھکا لیا

“کوئی بات نہیں ہم کل مل کر چلیں گے اور بات کرینگے ان سے ابھی گھر چلتے ہیں تیری وین بھی آنے والی ہے۔۔”اسکا موڈ بحال کرتے وہ اسے لئے آگے بڑھی تھی مگر اسکا خراب موڈ ٹھیک نہیں ہو پایا

پورا راستہ وہ اپنی الجھنوں میں گرفتار رہی گھر جانے کا زرا سا بھی دل نہیں تھا پہلے اسے خیال آیا عارفہ کے گھر چلی جائے مگر پھر اسکی جاب کا یاد آنے پر اسکا دل برا ہوگیا۔

گھف پہنچ کر بھی وہ خاموش ہی رہی۔

“کیا ہوگیا ہے آج کیوں خاموش خاموش ہو طبعیت ٹھیک ہے؟”اسے اوندھے منہ بستر پر لیٹے دیکھ کوثر بیگم کو پریشانی ہوئی تھی۔

“کچھ نہیں ہوا بس تھک گئی ہوں نیند آرہی ہے ۔”

“سونا نہیں تمہارے تایا تائی آنے والے ہونگے جلدی سے جا کر تیار ہو جاؤ ورنہ پھر ان کے شکوہ شکایتوں کی ایک لمبی لسٹ برداشت کرنی پڑے گی ۔” اسکے کپڑے نکال کر سامنے رکھتے وہ خود باہر چلی گئیں تو کپڑوں کو دیکھ کر ہی اسکا موڈ خراب ہوگیا مگر وہ لاکھ چاہنے کے باوجود اس رشتے سے انکاری نہیں ہو سکتی تھی باپ کی خواہش کے آگے وہ اپنی خوشیوں کو ترجیح نہیں دے سکتی تھی۔۔

“آپی آپ کچھ بولتی کیوں نہیں ہے آپ کو وہاج بھائی نہیں پسند تو صاف انکار کردیں ورنہ میں کر دونگی”,

“دماغ خراب ہے عائشہ چپ کر جاؤ بابا نے سنا تو کیا سوچیں گے ؟”

“کیا سوچیں گے کیا مطلب آپی یہ کوئی ایک دو دن کی بات تو ہے نہیں نا”

“کچھ نہیں ہوتا ویسے بھی تائی اماں نے کہا ہے شادی کے بعد بھی میں آگے پڑھ سکتی ہوں تو”

“آپ کو کچھ بھی بولنے کا فائدہ ہی نہیں ہے۔”

“میں جارہی ہوں باہر تائی امی لوگ آگئے لگتا ہے “

اسکی باتوں کو نظر انداز کرتے وہ باہر آگئی جہاں اسکے تایا تائی بیٹھے تھے انہیں سلام کرتے وہ کچن میں آگئی۔

باہر سے ان لوگوں کی باتوں کی آوازیں آرہی تھیں اور موضوع گفتگو اسکی شادی تھی۔

وہ لوگ شادی کی بات کرنے آئے تھے تو بالآخر وہ دن آنے والا تھا۔۔

یہ محفل رات تک چلی مگر اسکا دل ہر چیز سے اچاٹ ہوگیا تھا۔

اسکی اور وہاج کی شادی تین مہینے بعد کی رکھی گئی تھی تائی نے تو یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اگر وہ نوکری کرنا چاہتی ہے تو کر سکتی ہے

سب کچھ تو اسکے حق میں تھا مگر پھر بھی ایک خلش سی تھی جو اسے چبھ رہی تھی۔۔

اگلے دن وہ اپنی پریشانی میں کالج آئی تھی مگر حیرت انگیز طور پر بنا اسکے کچھ کئے اسکا مسئلہ حل ہوچکا تھا یہ دوسری بار تھا جب بنا کچھ کئے اسکے مسئلے حل ہوئے تھے آسیہ تو اس سب کے پیچھے کسی خفیہ عاشق کو ڈھونڈ رہی تھی مگر وہ کہاں ان باتوں پر یقین رکھتی اسکی زندگی میں سوائے اسکے گھر والوں کے کوئی تھا ہی نہیں۔

____________

اس اپارٹمنٹ میں اس وقت سناٹے کا راج تھا لائٹس آف تھیں جبکہ بالکونی سے آتی روشنی اس کمرے کو روشن کر رہی تھی۔

اپارٹمنٹ میں قدم رکھتے اس نے ہاتھ بڑھا کر لائٹس آن کیں تو پورا اپارٹمنٹ روشنی میں نہا گیا۔

کورٹ اتار کر سائیڈ پر رکھتے اس نے شرٹ کے اوپری دو بٹن کھول اپنے قدم بالکونی کی طرف بڑھائے تھے۔

آستین کو کہنیوں تک فولڈ کرتے اس نے جیب سے ایک سیگریٹ نکال کر لبوں سے لگایا۔۔

تا حد نگاہ اندھیرے کا راج تھا پورا چاند اپنی روشنی بکھیر رہا تھا ایسے میں وہ تھا اور اسکی تنہائی اپنوں سے کوسوں دور وہ یہاں تھا۔

گہری کالی آنکھیں سرخ ہوتیں جارہی تھیں۔

انگلیوں کی پور سے سر کو مسلتے اس نے گہری سانس فضا میں چھوڑی اور اپنے کمرے میں آکر بیڈ پر گرنے کے سے انداز میں لیٹا۔

پر سوچ انداز ماتھے کر پڑے بل۔۔

سوچوں کے گرداب میں الجھا وہ ایک دم سے مسکرایا۔

“یشم یوسفزئی اپنی حرکتوں سے باز آجاؤ۔۔”موبائل نکال کر ایک نمبر ڈائل کرتے وہ خود سے بڑبڑایا۔

“فون پہلی ہی بیل پر ریسو ہوا تھا اور اسکے بنا پوچھے ہی دوسری طرف والا جانتا تھا اسے کیا جواب دینا تھا۔

اسکے جواب سے مطمئن ہوتا وہ موبائل سائیڈ رکھتے آنکھیں موند گیا مگر آنکھیں موندتے ہی کسی نے اپنا عکس اسکی آنکھوں میں بسایا تھا۔۔

______________

اسٹوڈنٹ ویک ختم ہوتے ہی روٹین معمول پر آگئی تھی۔

اپنی کلاس لے کر وہ تیزی سے باہر کی جانب بڑھ رہا تھا جب عجیب سے شور نے اسکی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی تھی۔

اسٹوڈنٹس کا رش اور کسی کے چلانے کی آواز

وہ وہی تھی اس دن والی وہ پہچان گیا تھا اور آج بھی وہ اپنی طاقت اور پیسے کا زور دیکھاتی کسی کو زلیل کر رہی تھی۔

زین کا دل کیا جا کر اس مغرور لڑکی کو سبق سیکھائے مگر بے فضول وہ اسکے منہ لگنا نہیں چاہتا تھا اس لئے آگے بڑھ گیا اور اس نے آگے بڑھتے ہی چیختی چلاتی آرزو ایک دم چپ ہوئی۔

” چلو ہوگیا تماشہ نکلو اب”مزے سے کہتے وہ آگے بڑھی تو سب نے حیرت سے اسے دیکھا کہ اب کیا نیا تماشہ تھا۔

“آرزو تمہارے اس طرح کرنے سے تو کچھ نہیں ہوا” اسے پانی کی بوتل تھماتے ردا نے کہا تو وہ ایک دم قہقہ لگا اٹھی۔

“کچھ ہونا بھی نہیں تھا مجھے اب سمجھ آگئی ہے اس کھڑوس انسان سے کیسے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا ہے خود آئے گا گھٹنوں کے بل مجھ سے معافی مانگنے “

اس کے لہجے میں غرور تھا وہ ان لوگوں میں سے تھی جنہیں سوائے اپنے کسی سے غرض نہیں ہوتی اور زین اسکا اگنور کرنا ہی تو اسے آگ لگا گیا تھا مگر یہ بات بول وہ اپنا مذاق نہیں بنوا سکتی تھی۔

“اگر اس نے معافی نہیں مانگی تو؟” ردا کے سوال پر وہ بے ساختہ ہنسی

“تو اسکی سزا اسکا خاندان بھگتے گا”

ردا کو جواب دیتے وہ اپنی جگہ سے اٹھی تو ردا اسے دیکھ کر رہ گئی۔

_____________

“آگئی آپ کو میری یاد آپو”عارفہ کے گلے عائشہ نے شکوہ کیا تو عارفہ بےاختیار ہنس دی

“ارے چندا عمرہ کرنے جانا ہے تو جو ادھورے کام ہیں ان میں بزی تھی اور پھپھو آپ سے ایک اہم بات بھی کرنی تھی”عائشہ کو جواب دیتے وہ کوثر بیگم کی جانب متوجہ ہوئی۔

“پہلے چائے پی لیں آپ ٹھنڈی ہوجائے گی”چائے کا کپ رکھتے بنفشے اسکے پاس بیٹھی تو عارفہ نے مسکرا کر اسکا ہاتھ تھاما۔

“پھپھو میں عمرہ کرنے جارہی ہوں مگر آفس میں مجھے اپنی جگہ کسی کو رکھ کر جانا ہے اور آپ تو جانتی ہیں میں کسی پر بھروسہ نہیں کرسکتی تو کیا بنفشے ایک مہینے کے لئے میری جگہ آفس جوائن کر سکتی ہے؟؟” عارفہ کی بات پر وہ بری طرح چونکی تھی اسکا خواب یوں پورا ہوگا اس نے سوچا نہیں تھا۔

“بچے مجھے تو کوئی اعتراض نہیں تم اپنے پھوپھا سے اجازت لے لو”

کوثر بیگم نے بال اپنے شوہر کے کورٹ میں پھینکی مگر سامنے بھی عارفہ تھی اس کی صلاحیت سے تو ہر کوئی متاثر تھا اور پھر اس نے اپنے طریقے سے عبد العزیز صاحب کو منایا اور پھر یہ طے ہوگیا کہ بنفشے اسکی جگہ سنبھالے گی۔۔

وہ خوش تھی بے تحاشہ خوش یہ جانے بغیر کہ آنے والا کل اسکے لئے ایک نیا موڑ لانے والا ہے..

_____________

“ہمت کیسے ہوئی میری اجازت کے بغیر میٹنگ کینسل کرنے کی ۔” فائل زور سے ٹیبل پر پھینکتے وہ چلایا تو سامنے کھڑے بیگ صاحب نے بے بسی سے اسے دیکھا۔

“سر۔۔ وہ بڑے سر..”

“کیا بڑے سر ہاں ؟” ان کی بات کاٹتے اس نے پیپر ویٹ زور سے زمین پر پھینکا۔

“مسٹر بیگ آج کے بعد میرے معاملات سے انہیں جتنا ہو سکے دور رکھئے گا اور آئندہ کے بعد جو ہوگا یہاں میری مرضی سے ہوگا بڑے سر کی مرضی سے نہیں ۔” ایک ایک لفظ چبا کر کہتے اس نے انہیں جانے کا اشارہ کیا۔

ان کے جاتے ہی اس نے اپنا دھیان لیپ ٹاپ کی جانب کیا تھا۔

نگاہیں لیپ ٹاپ پر جمائے مٹھی ہونٹوں پر رکھے وہ انحماک سے کام میں مصروف تھا جب آفس کا ڈور اوپن ہوا اور کوئی اندر آیا۔

“کس بات پر آگ برسا رہے ہیں آپ محترم”واثق کے سوال پر اسنے واثق کا سوال بری طرح اگنور کیا تو وہ گہری سانس بھر کر رہ گیا۔

“یہ روڈ پر شیلٹر لگانے کا حکم کس خوشی میں صادر کیا گیا ہے؟” سامنے چئیر پر بیٹھتے واثق نے آئی برو اچکاتے اس سے سوال کیا تو اسکے سوال پر یشم نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔

“کیا میں تیرے آگے جواب دہ ہوں؟” اسے کے انداز میں سوال کرتے وہ سیدھا ہوکر بیٹھا تو واثق نے بھرپور گھوری سے اسے نوازہ۔

“کچھ وقت پہلے ہی آپ پاکستان آئے ہیں اپنے گاؤں جانے کے بجائے آپ نے کام کو ترجیح دی اور اب آپ کو خدمت خلق کا بھی شوق چڑھ آیا واہ کیا بات ہے یشم یوسفزئی صاحب آپ کی” ایک ایک دم چبا کر کہتا وہ یشم کو مسکرانے پر مجبور کرگیا.

“میرے بارے میں اتنی اہم معلومات آپ نے رکھیں میں آپ کا شکر گزار ہوں اب آپ برائے مہربانی اپنا یہ منحوس چہرہ یہاں سے گم کریں۔۔ اور اپنے بڑے صاحب کو بتا دیں کہ میرے معاملات سے دور رہیں ورنہ انجام کے زمہ دار وہ ہونگے میں نہیں”

“یشم اتنے سال گزر گئے ہیں بس کردے ان نفرتوں میں کچھ نہیں رکھا۔”

“اگر نفرتوں میں واقعی کچھ نہیں رکھا ہوتا نا واثق تو یہ پوری دنیا نفرتوں کی آگ میں جل کر ایک دوسرے سے لڑ نا رہی ہوتی ایک دوسرے کو تباہ کرنے کے در پر نا ہوتی اس سب کے پیچھے ایک ہی جذبہ چھپا ہے اور وہ ہے نفرت اور میں اس شخص سے اتنی ہی نفرت کرتا ہوں کہ اس شخص کی شکل دیکھنا بھی مجھے گوارہ نہیں۔”

سپاٹ لہجے میں کہتے وہ اسے لاجواب کر گیا۔