Zara Thehar Jao by Malaika Rafi NovelR50601 Zara Thehar Jao (Episode 06)
Rate this Novel
Zara Thehar Jao (Episode 06)
Zara Thehar Jao by Malaika Rafi
صبح کی نماز پڑھ کے اس نے دعا کے لئے ہاتھ پھیلائے اسے نیہان چاہئے تھی ۔۔ نیہان کی صحت یابی اس کی دعاؤں کا ہمیشہ سے حصہ رہی تھی ۔۔ اس نے سچے دل سے نیہان کو مانگا اپنے خدا سے ۔۔ اور جائے نماز تہہ کر کے وہ دروازہ کھول کے باہر نکلا ۔۔ سردی کی ایک لہر اس کے وجود سے ٹکرائی ۔۔ برفباری ابھی بھی ہو رہی تھی ۔۔ نیا سال ۔۔ نیا مہینہ ۔۔ نیا دن ۔۔ نئی تاریخ وہ ہلکا سا مسکرایا
” طلال مجھے بارشیں اور اسنو فال بہت پسند ہے ” نیہان کی آواز اس کے کانوں میں گونجی ۔۔ طلال اسے پیار سے دیکھنے لگا ” کیوں ؟”
” بس وہ سنا ہے ناں ۔۔ بارشوں کے موسم میں تمہیں یاد کرنے کی عادتیں پرانی ہے ” وہ جذب سے بولی تھی طلال اسے حیرت سے دیکھنے لگا ” میں تو تمہارے پاس ہوں تو یاد کیوں آنے لگا “
” ہر وقت تھوڑی پاس ہوتے ۔۔ ہاسپٹل جاتے ہو ۔۔ باہر جاتے ہو کسی کام سے “
” تو اتنے تھوڑے سے وقت میں بھی تم مجھے مس کرنے لگ جاتی ہو ” وہ اسے دیکھ رہا تھا ” ہاں نا ۔۔ بہت سارا مس ” وہ اس کا بازو تھام کے بولی طلال ہنس پڑا تھا اور اب وہ نیہان کے لمس کو مس کر رہا تھا ۔۔ ہر ادا کو ۔۔ اس کی محبت کے ہر نقش کو ۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا اس مسکراہٹ میں بھی اداسی تھی ” لوٹ آؤ نیہان پلیز لوٹ آؤ “
” ک۔۔۔کون ہو تم ؟” طلال کے چھونے پہ نیہان اسے اجنبی نظروں سے دیکھنے لگی طلال گھبرا کے اسے دیکھ رہا تھا ” نیہان ۔۔ میں طلال “
” کون طلال ؟” طلال کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہوا ” یہ بچہ کون ہے ؟” طلال نے دعا کی طرف دیکھا پھر نیہان کو ۔۔ وہ اجنبی نظروں سے اپنے شوہر کو اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھی ۔۔ اسے ڈاکٹر کی۔ باتین یاد آئی کہ نیہان باتیں بھولنے لگے گی ۔۔ ” تو کیا ؟” اس کا دل زور سے دھڑکا تھا وہ بس ادھر ادھر دیکھ رہی تھی ۔۔ ” مجھے بھوک لگی ہے طلال ” اچانک نیہان کی آواز آئی تو جلدی سے اس کے پاس بیٹھ گیا ” نیہان “
” کیا ہے طلال بھوک لگی ہے نا ” طلال نے سکون کا سانس لیا ” م۔۔میں میں ابھی کچھ بنا کے لاتا ہوں ۔۔ ” وہ اسے کہتا اٹھ کے کچن میں جانے لگا پھر کچھ سوچ کے نیہان کو بھی چلنے کو کہا ۔ وہ اسے ایک پل کے لیے بھی اپنی نظروں سے دور نہیں کر سکتا تھا ۔۔ ایک نظر دعا پہ ڈالی وہ سو رہی تھی ۔۔
” مما پلیز دعا کو زیادہ ٹائم دیا کرے ۔۔ نیہان بھول جاتی ہے کھبی کھبی دعا کو ۔۔ ” طلال سر جھکائے بیلا سے کہہ رہا تھا ” تم نیہان کا خیال رکھو اسے تمہاری ضرورت ہے ۔۔ میں ہوں نا دعا کا خیال رکھنے کے لیے ” بیلا نے پیار سے اپنے بیٹے کو دیکھتے ہوئے کہا
” تھینک یو مما ” وہ دھیرے سے مسکرایا
” نیہان کو میڈیسنز دے دی ؟” بیلا دعا کو گود میں لیے پوچھ رہی تھی ” جی مما ۔۔ سو رہی ہے وہ ابھی ” طلال دھیرے سے بولا ” مما دعا کرے وہ جلدی ٹھیک ہو جائے “
” انشا اللہ ٹھیک ہو جائے گی نیہان ۔۔ ” بیلا کے کہنے پہ طلال اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگا ۔۔ ” اگر کھبی ایسا ہوا کہ مجھے بلکل بھول گئی وہ ۔۔ مجھے نہ پہچان پائی تو ؟” اس کی آنکھوں میں خوف تھا ” تو تم اسے یاد دلا دینا طلال ۔۔ اپنی محبت کا یقین دلانا ” بیلا نے اپنے بیٹے کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ طلال اثبات میں سر ہلانے لگا لیکن اس کے اندر ایک خوف بیٹھے جا رہا تھا نیہان کو کھو دینے کا خوف ۔
” نیہان میری وائیٹ شرٹ کہاں ہے ” طلال الماری دیکھتے اس سے پوچھنے لگا لیکن کوئی جواب نہیں آیا ” نیہان ۔۔ ” وہ مڑ کے اسے دیکھنے لگا وہ چپ چاپ ایک ہی نقطے کو گھور رہی تھی ۔۔ وہ اس کے پاس آیا ” نیہان ” نیہان کی نظریں اس پہ ٹک گئی ” مجھے یاد نہیں آ رہا ” ” کیا میری جان ؟ ” وہ اس کے پاس بیٹھتے بولا تھا
” میں دعا کو نہلانے کے لیے واشروم لے کے گئی تھی اب یاد نہیں آ رہا اسے نہلا چکی ہوں یا وہیں چھوڑ آئی ہوں ” نیہان کھوئی کھوئی سی بول رہی تھی طلال گھبرا کے اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا اور واشروم کی طرف ڈور لگا دی لیکن وہاں کوئی نہیں تھا وہ دوبارہ سے نیہان کے پاس آیا ” کون سے واشروم ” وہ چپ رہی ” نیہان کون سے واشروم ؟” وہ اونچی آواز میں پوچھنے لگا
” یاد نہیں آ رہا ۔۔ ” وہ ذہن پہ زور ڈالتے بولی ۔۔ طلال کمرے سے باہر کی طرف بھاگا ” مما ۔۔ مما ” بیلا بھاگتی ہوئی آئی ” مما د۔۔۔دعا کہاں ہے “
” کمرے میں سو رہی ہے ” وہ حیرت سے طلال کے خوفزدہ چہرے کو دیکھ رہی تھی ” وہ نہیں ہے ۔۔ نیہان اسے واشروم میں چھوڑ آئی ہے “
” نہیں میں نے ابھی سلایا ہے اسے ۔۔ نیہان میرے ساتھ دعا کو باتھ دے رہی تھی پھر ایکدم سے سب چھوڑ کے واشروم سے نکل گئی تو میں دعا کے نہلا کے اس کا پیٹ بھر کے سلا آئی” بیلا کے کہنے پہ طلال بے جان سا وہیں بیٹھ گیا بیلا اس کے پاس ہی بیٹھ گئی ” کیا ہوا طلال ؟”
“ک….کچھ نہیں مما ” وہ ابھی خوفزدہ سا تھا اگر دعا کو کچھ ہو جاتا تو !!!,۔ بیلا کچھ دیر اس کے جھکے سر کو دیکھتی رہی پھر اس کے سر پہ ہاتھ پھیر کے بولیں ” سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔ ” طلال انھیں دیکھ کے رہ گیا بس !!!
ہاسپٹل کوریڈور میں کھڑی کب سے وہ یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن اسے یاد نہیں آ رہا تھا کہ وہ یہاں کیوں آئی ہے ۔۔ اس کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا خالی نظروں سے وہ سب کو آتا جاتا دیکھ رہی تھی وہ رونے لگی جب کسی نرس نے رک کے اسے پوچھا ” مسز نیہان ۔۔ آڑ یو اوکے “
” م۔۔۔ میں بھول گئی سب ” وہ ادھر ادھر پاگلوں کی طرح دیکھ رہی تھی اس نرس نے کسی کو پکارااوع طلال کو بلانے بھیجا ۔۔پھر وہ نیہان کی طرف متوجہ ہوئی اور اسے تسلی دینے لگی تھی لیکن وہ چاروں طرف دیکھتی روئے جا رہی تھی جب اسے ایک شناسا چہرہ اپنی طرف آتا دکھائی دیا جس کے چہرے پہ پریشانی تھی ” ط۔۔۔طلال ” وہ بو کھلائی سی اس کے پاس آئی وہ اسے بانہوں میں لے کے پوچھنے لگا ” نیہان ۔۔ کیا ہوا “
” ط۔۔طلال سب بھول گئی میں ۔۔ مجھے کچھ یاد نہیں آ رہا ۔۔ میں کہاں ہوں ۔ میں یہاں کیوں آئی ہوں ” وہ رونے لگی گھبرائی ہوئی سی ۔۔ طلال اسے تسلی دینے لگا ” ریلیکس میری جان ۔۔ ریلیکس تم مجھ سے ملنے آئی ہو ” نیہان اسے دیکھنے لگی ” تم سے ۔۔ ہ۔۔ہاں تم سے ملنے ۔۔ لیکن کیوں ؟” وہ روہانسی ہو رہی تھی ۔۔ طلال اسے لیے اپنے کمرے کی طرف جانے لگا ” کیوں طلال ؟” وہ پھر بھی پوچھے جا رہی تھی ” ریلیکس ڈئیر ۔۔ بتاتا ہوں کیوں ” طلال اسے پیار سے سمجھاتا اپنے کمرے میں لے گیا ۔۔ نیہان کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی تھی طلال کو پریشانی نے گھیر لیا اسے کسی بھی طرح سے نیہان کا مکمل خیال رکھنا تھا کیونکہ وہ کھبی بھی کہیں نکل جاتی ہے اور پھر اسے یاد نہیں رہتا کہ کہاں جا رہی ہے وہ ۔۔
