Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zara Thehar Jao (Episode 04)

Zara Thehar Jao by Malaika Rafi

طلال کے کمرے میں سجی سنورج سی بیٹھی وہ طلال کے دل کے تار چھیڑ رہی تھی ۔۔ ایک خوبصورت سا نازک سا چین نیہان کو پہنا کے وہ مبہوت سا اسے دیکھ رہا تھا نیہان مسکرا رہی تھی طلال نے آگے بڑھ کے اس کے گال پہ پڑتے ڈمپل پہ اپنے لب رکھ دیے ۔۔ اس کی قربت میں نیہان جیسے پگھلنے لگی ۔۔ وقت گزرنے کے ساتھ طلال کی محبت میں اس کے لیے شدت آتی جا رہی تھی اور نیہان تو اس قدر اس کی محبت میں ڈوبی ہوئی تھی کہ وہ طلال کو کسی لڑکی کے ساتھ بات کرتے بھی دیکھ لیتی تو اس کی آنکھوں میں اداسی ٹھہر جاتی ۔۔ اسے اپنی کیفیت کا پتہ نہیں چلتا تھا لیکن وہ طلال کو کھونے سے ڈرنے لگی ۔۔ ” کیوں اداسی آتی ہے تمہاری آنکھوں میں نیہان ” طلال اس کے چہرے کو نظروں کے حصار میں لیے پوچھ رہا تھا وہ اداسی سے مسکرائی ” آپ میرے ہیں ناں طلال “

” ہاں میری جاناں ” وہ خوشدلی سے مسکرایا وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگی ” مجھ سے محبت تو کم نہیں ہوگی نا۔ کھبی طلال ؟” طلال اس کی معصومیت پہ مسکرا پڑا اس کے چہرے کے اور قریب ہو کے وہ اسے دیکھنے لگا ” مجھے تم سے اور زیادہ محبت ہو رہی ہے “

” اور ۔۔۔ اور میں پاگل ہو رہی ہوں تمہاری محبت میں طلال ۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی جب تم پاس نہیں ہوتے نا تو سمجھ نہیں آتی کیسے تمہیں اپنے پاس رہنے دوں ہمیشہ ۔۔ تمہیں خود سے دور جانے ہی نا دوں ۔۔ ” نیہان کی آنکھوں میں طلال کو کھونے کا خوف اسے محسوس ہو رہا تھا ” آپ حکم کرے جاناں میں تو آپ کی بانہوں سے نکل کے کہیں بھی نا جاؤں ” نیہان اس کی محبت بھرے لہجے پہ مسکرانے لگی ۔۔ اسے کچھ دیر غور سے دیکھتی رہی ۔۔ طلال بھی اسے دیکھ رہا تھا پھر مسکرا کے اس کے کندھے پہ سر رکھ دیا اور آنکھیں موندے لیں ۔۔ طلال اس کی محبت کی اس شدت پہ مسکرا ہی پڑا

نیہان ہاسپٹل کے سامنے کھڑی تھی ۔۔وہ اج دل سے تیار ہوئی تھی ۔۔ اسے طلال کو سرپرائز کرنا تھا وہ ایک ادا سے چلتی ہوئی ہاسپٹل کوریڈور سے ہوتی ہوئی طلال کے کمرے کی طرف جا رہی تھی طلال کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔۔ سامنے طلال اپنی چئیر پہ بیٹھا کوئی فائل دیکھ رہا تھا جو کسی پیشنٹ کا تھا شاید اور پاس کھڑی ڈاکٹر عینا بہت انہماک سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ ان نظروں سے طلال کو دیکھنے کا حق صرف نیہان کو تھا اور کسی کو نہیں ۔۔ اس کی آنکھیں سلگنے لگی جب فایل سائیڈ پہ رکھتے طلال کی نظر دروازے پہ کھڑی نیہان پہ پڑی وہ اپنی جگہ سے اٹھا ” نیہان ۔۔ جاناں تم ” وہ والہانہ انداز میں اس کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔ پاس آ کے نیہان اس کے گلے لگ کے اسے ملنے لگی ۔۔ عینا بھی انھیں دیکھ چکی تھی ۔۔ نیہان کی سلگتی آنکھیں ابھی اس پہ تھی وہ نظریں چرا گئی ” واؤ یو آڑ لوکنگ گورجئیس مائی کوئین ” طلال اسے سراہ رہا تھا وہ مسکرا پڑی ” سوچا ڈنر پہ چلیں ساتھ میں ” ” ضرور میری جان ” وہ خوشدلی سے مسکرایا ” بیٹھو میں آتا ہوں بس ” پھر اس کی نظر عینا پہ پڑی ” اوہ ہاں ڈاکٹر عینا شی از مائی بیوٹی فل وائف نیہان ۔۔اینڈ نیہان یہ ڈاکٹر عینا ” عینا مسکرائی لیکن وہ ابھی تک اسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔ طلال نے زیادہ توجہ نہیں دی اور چینج کرنے چلا گیا ۔ نیہان اسے ابھی تک غصے سے دیکھ رہی تھی ” جس انداز سے تم طلال کو دیکھ رہی تھی ۔۔ نیکسٹ ایسے دیکھا اسے تو آنکھیں نوچ لوں گی ” عینا شرمندگی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔ پھر سر جھٹک کے جانے لگی تو نیہان اس کے سامنے آگئی ” مائینڈ اٹ ” عینا نے ایک نظر اس کی آگ برساتی آنکھوں میں دیکھا پھر نظریں جھکا باہر چلی گئی ۔۔ نیہان کو کافی وقت لگا تھا اس کے بعد خود کو نارمل کرنے میں ۔۔

نیہان پریگنینٹ تھی طلال خوشی سے چہک رہا تھا ۔۔ اسے نیہان کی طرح ایک خوبصورت بیٹی کی چاہ تھی ۔۔ابھی وہ نیہان کی فرمائش پہ اسے ایک سونگ سنا رہا تھا اپنی آواز میں اور ساتھ ہی گٹار بھی بجا رہا تھا نیہان مگن سی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ وہ طلال کے بال بکھرا کے تھوڑا اور اس کے قریب بیٹھ گئی ۔۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے طلال گانا چھوڑ کے اسے تشویش سے دیکھنے لگا ” کیا ہو مائی کوئین ” وہ روتے روتے مسکرا پڑی ” پیار آ رہا تم پہ ” طلال شرارت سے اسے دیکھنے لگا ” تو لو می نا بیبز ” وہ جھینپ گئی ” طلال اگر میں موٹی ہو گئی ۔۔ بہت زیادہ موٹی ۔۔ پیاری بھی نہیں رہی تب بھی ایسے ہی پیار کرو گے ؟” کیا ڈر تھا نجانے اسے ہمیشہ سے ۔۔ ” تم جب موٹی ہوگی کتنی کیوٹ لگو گی نیہان ۔آئی وانا سی یو بس ” طلال کی شرارت پہ وہ ہنس پڑی ۔۔ پھر رک کے اسے دیکھنے لگی ” بہت محبت کرتی ہوں تم سے طلال ” ” اور میں عشق کرتا ہوں تم سے میری نیہان ” طلال محبت پاش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ نیہان شرما کے خود میں سمٹ گئی ۔۔ کیا تھا اسے خود بھی اندازہ نہیں تھا شاید اپنی شدت کا ۔۔ لیکن طلال کے لئے اس کی محبت میں شدت حد سے زیادہ تھی

عینا کو جیسے ہی پتہ چلا کہ نیہان آئی ہے ہاسپٹل تو اس سے پہلے کہ وہ طلال کے کمرے تک جاتی عینا اس سے پہلے طلال کے کمرے میں پہنچ گئی دو کپ کافی لے کے ۔۔ طلال اسے دیکھ کے حیراں ہوا ” ارے ڈاکٹر عینا ۔۔ میں کافی بس نیہان کے ہاتھ کی پیتا ہوں ورنہ مجھے خاص پسند نہیں کافی ” عینا مسکرائی ” اٹس اوکے میں بھی مزے کا ہی بناتی ہوں ۔۔ ” وہ دل ہی دل میں نیہان کے آنے کا ویٹ کر رہی تھی ۔۔ جیسے ہی نیہان دروازہ کھول کے اندر آئی تو عینا کو دیکھ کے اس کی ہنسی ماند پڑ گئی ۔۔ جبکہ عینا مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ طلال اپنی جگہ سے اٹھتا حیرت زدہ سا مسکراتا ہوا اس کے قریب آیا ” ہیلو کوئین سرپرائز کر دیتی ہو ہمیشہ “

” یہ یہاں کیا کر رہی ہے ؟” وہ عینا کو دیکھتے ہوئے بول رہی تھی اس سے پہلے طلال کچھ بولتا عینا اپنی جگہ سے اٹھی ” اوکے طلال پھر بات ہوگی ۔۔ ٹیک کئیر ” پھر نیہان کو مسکراتی ہوئی دیکھتی کمرے سے نکل گئی ” شی از اسمائلنگ ایٹ می ۔۔ جسٹ لک ایٹ ہر ” پھر طلال کی طرف دیکھنے لگی ” کیوں آتی ہے یہ تمہارے پاس ۔۔ مجھے اس کا تمہاری طرف دیکھنا غصہ دلا دیتا ہے ” وہ سلگ رہی تھی ” ریلیکس ڈارلنگ کچھ نہیں ہے یار ۔۔ جسٹ ڈاکٹر ہے بس ۔۔ کولیگ ہے آؤ بیٹھو “

وہ اسے لیے چئیر تک آیا لیکن اس کا غصہ ابھی تک کم نہیں ہو رہا تھا ” طلال میں سچ بول رہی وہ بہت عجیب سا تمہاری طرف دیکھتی ہے ۔۔ تمہیں اس طرح سے دیکھنے کا حق صرف مجھے ہے صرف مجھے “

” نیہان ۔۔ نیہان ریلیکس جاناں اب بات نہیں کروں گا اس سے ریلیکس ۔۔ ورنہ اگین بی پی شوٹ کر جائے گا تمہارا ” طلال اسے ریلیکس کررہا تھا لیکن عینا کی دو مسکراتی آنکھیں یاد کر کے وہ رو پڑی ” کیا ہوا نیہان ؟” طلال گھبرا کے اسے دیکھنے لگا ” وہ تمہیں ایسے کیوں دیکھتی ہے ۔۔ تم۔میرے ہو صرف میرے ۔۔۔ بس “

” میں تمہارا ہی ہوں نیہان ” وہ اس کے گال پہ اپنے لب رکھ کے بولا ۔ وہ ڈر رہا تھا نیہان کی کیفیت سے ۔۔ اس کی محبت کی شدت سے ۔۔ اسے ڈر تھا کہیں وہ خود کو نقصان نہ پہنچا دے ۔۔ نیہان کا وجود ابھی تک اس کے بازوؤں کے حصار میں کانپ رہا تھا ۔ طلال کو کھونے کا خوف اسے ایک پل چین نہ لینے دیتا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *