Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zara Thehar Jao (Episode 01)

Zara Thehar Jao by Malaika Rafi

اسے ہوش آ چکا تھا ۔۔ آنکھیں کھول کے اس نے ادھر ادھر نظر دوڑائی تو اچانک ہڑبڑا کے اٹھ بیٹھی ۔۔ وہ گاڑی میں تھی اور ایک ہینڈسم سا نوجوان ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا ترکی کے مختلف سڑکوں سے ہوتے ہوئے گاڑی ڈورا رہا تھا وہ شیشے کے پار دیکھنے لگی لیکن اسے کون سا سمجھ آنی تھی وہ خود یہاں نئی تھی ۔۔ ” کون ہو تم ؟” طلال نے ایک اچٹتی نظر بیک ویو مرر سے اس پہ ڈالی اور پھر سے سڑک پہ نظر جما دی ” میں نے پوچھا کون ہو تم ؟” وہ تھوڑا اونچی آواز میں بولی تھی اس دفعہ لیکن جواب ندارد ۔۔ ” او مائی گاڈ تم نے مجھے کڈنپ کیا ہے .. ” وہ پیچھے سے اس پہ جھپٹ پڑی ” گاڑی روکو ۔۔۔ میں نے کہا گاڑی روکو ” طلال بمشکل گاڑی روک کے اسے مڑ کے غصے سے دیکھنے لگا ” ابھی ایکسیڈنٹ ہو جاتا “

” مجھے کڈنپ کر رہے تھے تم “

” او ہیلو مس ۔۔ اتنی خوشفہمی بھی اچھی نہیں ہوتی صحت کے لیے “

طلال طنزیہ نظروں سے اس کے خوبصورت سراپے کو دیکھتا بولا ۔۔ وہ گاڑی سے نکلی تو طلال کو بھی اترنا پڑا ” کدھر جا رہی ہے اپ “

وہ تیز تیز چلنے لگی ” میرے پیچھے مت آنا ورنہ چلانا سٹارٹ کر دوں گی کہ یہ آدمی مجھے کڈنپ کر کے لے جا رہا “

” وہاٹ ۔۔ میں آپ کو کڈنپ ۔۔۔ آڑ یو ان یور سینسز ۔۔ ائیرپورٹ پہ بےہوش ہوئی تھی آپ ۔۔ ہاسپٹل لے کے جا رہا تھا آپ کو ۔۔ اینڈ رکئیے”

” کیوں رکوں ؟” وہ رک کے اسے غصے سے دیکھنے لگی ” مما کدھر پھنسا دیا مجھے اففففف” موبائل پہ نمبر ملانے لگا ” کسے کال کر رہے اب آپ ۔۔ میں آپ کا پلان سکسیزفل نہیں ہونے دوں گی ۔۔ ” وہ چلنے لگی طلال نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا ” رکئیے” وہ منہ کھولنے والی تھی لیکن طلال کی ڈانٹ پہ چپ ہو گئی ” چپ ایکدم چپ ” وہ شاکی نظروں سے اسے دیکھنے لگی جھنجلاہٹ طلال کے چہرے پہ عیاں تھی ” ہیلو مما ۔۔ یہ لیں ” موبائل اس کی طرف بڑھایا وہ اسے دیکھتی موبائل لے کے کان سے لگایا ” ہ۔۔ہیلو ” اور دوسری طرف بیلا کی آواز سن کے مسکرانے لگی ” بیلا آنٹی ۔۔ ٹھیک ہوں ۔۔ آپ کیسی ہے ؟ “

” میں ٹھیک ہوں نیہان بیٹا ۔۔ طلال کو میں نے تمہیں لینے کے لیے بھیجا تھا ۔۔ بیٹا ہے میرا ۔۔ گھر آؤ جلدی سے ۔۔ آرام سے باتیں کرے گیں ” ” جی ..” کہہ کے اس نے شرمندہ نظروں سے طلال کو دیکھا جو آبرو اچکا کے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔ ” میں ۔۔ وہ ۔۔ میں ” اور جلدی سے گاڑی میں بیٹھ گئی ” میں آپ کا ڈرائیور تو ہوں نہیں ۔۔ آگے آ کے بیٹھ جائیے آپ ” نیہان اسے غصے سے دیکھنے لگی پھر اٹھ کے فرنٹ سیٹ پہ آ کے بیٹھ گئی تو طلال بھی ڈرائیونگ سیٹ پہ آ بیٹھا ابھی اس کی طرف دیکھا ہی تھا جب نیہان بولنے لگی ” دیکھئیے مسٹر وہاٹ ایور ۔۔ تمیز سے بات کرے مجھ سے ۔۔ میں آپ کو نہیں جانتی تھی ۔۔ تو اتنا بولی میں اٹس ناٹ مائی فالٹ اب مجھے کیا پتہ تھا کہ آپ میری مما کی بیسٹ فرینڈ کے بیٹے طلال ہے ۔۔ ” طلال اسے سپاٹ نظروں سے دیکھ رہا تھا ” ہو گیا ہو تو سیٹ بیلٹ باندھ لیں یہ پاکستان نہیں ہے ” وہ کہہ کے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا جبکہ نیہان گھور کے اسے دیکھنے لگی ۔۔

کھڑکی سے باہر پڑتی پھوار کو دیکھتے ۔۔ اس لمحے کو یاد کر کے اس کے لب مسکرائے ۔۔ وہ اکثر اس کمرے میں ا کے دیر تک بیٹھا رہتا اور ماضی کی خوبصورت یادوں میں کھو جاتا ۔۔ اس نے رخ مڑ کے بیڈ پہ نیہان کے وجود کو دیکھا جو ایک سال سے اسی بیڈ پہ تھی ۔۔ وہ اٹھ کے اس کے بیڈ کے پاس آیا اور نیہان کے معصوم چہرے کو اپنی انگلی کی پور سے چھوا ” کب اٹھو گی اس نیند سے نیہان ۔۔ کب ؟ اتنی لمبی نیند ۔۔ اب تو اٹھ جاؤ مجھے تمہاری باتیں سننی ہے ۔۔ اپنی بے قراریاں بتانی ہے محبت کا اظہار کر کے تمہاری ان خوبصورت آنکھوں میں خود کو دیکھنا ہے ۔۔ میری جان ” وہ ایک سال سے کومہ میں تھی ۔۔ کچھ پتہ نہیں تھا کب اٹھے وہ یا کب ایسے ہی موت کی نیند سو جائے ۔

” پاپا ” دعا کی آواز پہ وہ اچانک مڑا تھا اور مسکراتے ہوئے اسے گود میں لے لیا ” جی پاپا کی پرنسز “

” ہاسپٹل سے آ کے آپ نے مجھے کس بھی نہیں کیا “

” اوہ ۔۔ میری دعا تو سو رہی تھی ۔۔ ابھی کر دیتے ہیں ” وہ اس کے دونوں گال چومنے لگا پھر دعا کی نظر نیہان پہ پڑی ” میری مما بھی نا۔ کتنا سوتی ہے ۔۔ لک پاپا ایم مسنگ ہر ۔۔ ٹیل ہر جلدی سے اٹھے دعا از مسنگ ہر ” ” اٹھ جائے گی آپ کی مما ویری سون انشا اللہ ۔۔ چلیں ہم ڈنر کرتے ہیں ابھی “

“اوکے پاپا ” وہ طلال کی گود سے اتر کے نیہان کے پاس گئی اسے پیار کیا پھر طلال کا ہاتھ پکڑ کے اسے دیکھنے لگی ” چلیں پاپا ” طلال نیہان پہ نظر ڈال کے دعا کے ساتھ کمرے سے نکل گیا

” میں پاپا کے ساتھ سوؤں گی ” دعا ضد کیے جا رہی تھی بیلا نے بے چارگی سے اسے دیکھا ” آپ کے پاپا ابھی بزی ہے دادو کے پاس سو جاؤ “

” نو ۔۔ آئی وانٹ مائی پاپا ” وہ بیڈ سے اتر کے بھاگتی ہوئی طلال کے کمرے میں آئی ۔ ” پاپا ” طلال جو نیہان کو دیکھ رہا تھا چونک کے دعا کو دیکھنے لگا تین سال کی چھوٹی سی دعا اس کی گود میں چڑھ کے بیٹھ گئی ” پاپا آئی وانٹ ٹو سلیپ وڈ یو ” طلال کی نظر دروازے پہ پڑی جہاں بیلا کھڑی تھی طلال نے انھیں اشارے سے آرام سے سونے کا کہا تو بیلا چلی گئیں ۔۔ پھر وہ دعا کو دیکھنے لگا جو آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی تھی مبادا اس کی دادی اسے اپنے ساتھ نہ لے کے جائے ۔۔ طلال نے اسے پیار کیا وہ نیہان کی فوٹو کاپی تھی بس آنکھوں کا کلر طلال پہ گیا تھا ۔۔ اس کی بھی گرے آنکھیں تھی طلال کی طرح ۔۔ باقی ناک ۔۔ ہونٹ ۔۔ گالوں پہ پڑتا ڈمپل نیہان کی طرح تھی وہ ۔۔

طلال جب ہاسپٹل سے آیا تو نیہان بیلا کے ساتھ بیٹھی ہنسے جا رہی تھی اسے دیکھ کے کہنے لگی ” ہیلو مسٹر کھڑوس ” طلال کے گھور کے دیکھنے پہ وہ سنبھلی ” آئی مین مسٹر ڈاکٹر ” اور لب دانتوں تلے دبا گئی طلال نے اس کی اس حرکت کو غور سے دیکھا اور صوفے پہ بیٹھ گیا ” آج زیادہ تھکے ہوئے لگ رہے ہو طلال ” بیلا اپنے خوبرو بیٹے کو پیار سے دیکھ رہی تھی ” یس مما بہت۔۔۔ کافی ملے گی ” بیلا اٹھنے والی تھی جب نیہان نے انھیں روکا ” میں بنا دیتی ہوں ۔۔ ویسے بھی مجھے بھی پینا تھا ” وہ مسکراتے ہوئے کچن کی طرف گئی طلال اسے ہی دیکھ رہا تھا بیلا مسکرا پڑی ” بہت پیاری بچی ہے ۔۔ صاف دل کی بچی ” طلال نے منہ بنا کے انھیں دیکھا ” جی آپ کی بیسٹ فرینڈ کی بیٹی جو ہوئی ” بیلا اسے ناراضگی سے دیکھنے لگی

” کیا میتھس کے کوئسچنز کی طرح گھور رہے ہو مجھے ” نیہان جو ٹی وی دیکھ رہی تھی طلال کے یوں دیکھنے پہ وہ اسے بنا دیکھے کہنے لگی طلال نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا ” وہاٹ ” نیہان نے ایک نظر اس پہ ڈالی ” ہاں ناں ۔۔ میتھس کی بک ہو تم تو ” ” اتنا مشکل تو نہیں ہوں میں “

” اتنے ایزی بھی نہیں ہو ۔۔ بورنگ ۔۔ ان رومینٹک “

” وہاٹ ؟” طلال اسے حیرت سے دیکھنے لگا نیہان کو اپنی بات کا احساس ہوا تو لب دانتوں تلے دبا دیے پھر اپنے لبوں پہ زپ کا اشارہ کرتے بولی ” منہ سے نکل گیا میں چپ اب ” وہ پھر سے ٹی وی دیکھنے لگی نیہان کی اس حرکت پہ اس کے لبوں پہ مسکراہٹ ٹھہر گئی ” کھبی موقع آیا تو رومینٹک بھی ہو لوں گا ” یہ کہہ کے طلال ہنسی دباتا منہ موڑ گیا جبکہ نیہان اسے گھور کے دیکھنے لگی ۔ پھر اٹھ کے وہاں سے اپنے کمرے میں آ گئی ۔۔ طلال مسکرا پڑا ۔ اس معصوم سے صاف دل کی لڑکی میں اسے دلچسپی ہونے لگی تھی ۔۔وہ اس جذبے کو اس احساس کو کوئی نام نہ دے پایا تھا ابھی لیکن کھبی کھبی وہ دل کے بہت قریب لگتی اسے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *