Zara Thehar Jao by Malaika Rafi NovelR50601 Zara Thehar Jao (Episode 02)
Rate this Novel
Zara Thehar Jao (Episode 02)
Zara Thehar Jao by Malaika Rafi
یونیورسٹی سے ابھی ابھی آئی تھی وہ ۔۔ جب گٹار کی آواز پہ اس کے قدم رک گئے پھر کچھ سوچ کے طلال کے کمرے کی طرف گئی ۔۔ دروازے پہ رک کے وہ طلال کو گٹار بجاتا دیکھنے لگی ۔۔ کتنا پیارا بجا رہا تھا وہ ۔۔ دل کو چھو لینے والی ساز ۔۔ وہ مسکرانے لگی جب طلال کی نظر اس پہ پڑی تو وہ ہاتھ روک کے اسے دیکھنے لگا نیہان کے ہونٹ بھی سکڑ گئے ” کتنا پیارا گٹار پلے کرتے ہو ” وہ اندر آگئی تھی ” تھینک یو ” وہ ہلکا سا مسکرایا ۔ ” گاتے بھی ہو ؟” اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔
” واؤ ڈیٹس گریٹ ۔۔ مجھے بھی سناؤ ناں ” وہ اس کی فرمائش پہ چونک کے اسے دیکھنے لگا وہ معصومیت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ اس کا دل نہیں کیا منع کرنے کو ۔۔ ” بیٹھئے ” وہ اس کے پاس تھوڑا فاصلے پہ جا کے بیٹھ گئی تو وہ گٹار بجاتے گانا سنانے لگا اسے ۔۔ وہ ایک ٹرانس میں بیٹھی اسے دیکھ اور سن رہی تھی ۔۔ طلال کی نظر اس پہ پڑی تو اسے خود کی طرف محویت سے دیکھتا پا کر رک گیا تو نیہان نے گھبرا کے نظروں کا رخ پھیر لیا طلال اس کے معصوم چہرے کو دیکھنے لگا نیہان نے اسے دیکھا وہ اسے ہی محویت سے دیکھ رہا تھا وہ اپنی گھبراہٹ چھپانے کے لیے ایکدم سے بولی ” واؤ تالیاں ۔۔ مزے کا سناتے ہو “
” تھینک یو ” وہ مسکرایا ۔۔ ” آپ کی آنکھیں گرے کلر کی ہے ” نیہان کے ایکدم کہنے پہ طلال چونک کے اسے دیکھنے لگا تو نیہان سٹپٹا گئی وہ منہ پہ ہاتھ رکھ کے کمرے سے ہی نکل گئی طلال کو اس کی اس حرکت پہ ہنسی آ گئی ۔ وہ ایسی ہی تھی بنا سوچے کچھ بھی بول دیتی ۔۔
وہ سردی سے کانپتی ہوئی چاکلیٹ ملک پی رہی تھی جبکہ بیلا اسے پیار سے ڈانٹ رہی تھی ۔۔ ” کیا ضرورت تھی اسنو فال میں باہر جانے کی ۔۔لگ گئی نا۔ سردی اب “
” آنٹی ب۔۔بہت سردی ہے ” بیلا نے پیار سے اسے دیکھا ۔۔” ہیٹر کے تھوڑا اور قریب بیٹھو ” طلال جو موبائل میں مصروف تھا اسے دیکھنے لگا اس کی نازک سی ناک اور گال گلابی ہو رہے تھے وہ زیر لب مسکرا پڑا اسے یہ لڑکی دل کے پاس لگنے لگی تھی ۔۔اوپر سے اس کی معصومیت کچھ بھی بول دیتی تھی بنا سوچے سمجھے ۔۔ ” مما ان سے پوچھئیے اتنی سردی میں بھی کوئی کسی سے لڑتا ہے وہ بھی اسنو فال میں ” نیہان گھور کے اسے دیکھنے لگی تو طلال مسکراہٹ چھپاتے اسے دیکھنے لگا ” ہمیشہ ایسی ہی لڑتی ہے آپ سب سے “
” نہیں کھبی کھبی کاٹ بھی دیتی ہوں ۔۔کاٹوں آپ کو ؟” اس کے بے ساختہ کہنے پہ طلال کو ہنسی آگئی ” کدھر کاٹنا پسند کرے گی آپ ؟” اس کے شرارت بھرے لہجے پہ نیہان سٹپٹا گئی ۔۔ اور منہ پہ ہاتھ رکھ کے وہ منہ موڑ گئی ۔۔ طلال مسکراہٹ دبائے گہری نظروں سے اس کی پشت کو دیکھنے لگا ۔۔ جبکہ بیلا ان کی نوک جھونک سے لطف اندوز ہو رہی تھی جب سے نیہان آئی تھی ۔۔ گھر میں اس کی طلال سے نوک جھونک کی وجہ سے خوشگوار ماحول رہتا ۔
رات تک اسے بخار ہو گیا تھا ۔۔ وہ گھبرا کے بیلا کو دیکھ رہی تھی ” میں مما سے کتنی دور بھی ہوں اگر میں مر گئی مما کو دیکھے بنا ” طلال جو اس کا بخار چیک کر رہا تھا کہنے لگا ” ٹمپریچر سے کوئی نہیں مرتا ” بیلا بھی کہنے لگی ” ہاں بیٹا ٹمپریچر سے کوئی نہیں مرتا میری جان ۔۔ یو ول بی فائن “
” 102 ہے ٹمپریچر ” طلال بیلا کو بتانے لگا نیہان گھبرا کے بیلا کو دیکھنے لگی ” اگر مجھے کچھ ہو گیا تو اپنی بیسٹ فرینڈ کو میری طرف سے ہیلو بول دیجیئے گا ” طلال اسے دیکھ کے سوچ رہا تھا کیا چیز ہے یہ ۔۔ ہر وقت اس کا کوئی نہ کوئی ڈرامہ لگا رہتا ہے ۔۔ نیہان اپنی معصوم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی تو طلال نظریں چرا کے اٹھا اور ٹیبلیٹس لے آیا ” منہ کھولیے اپنا ” نیہان منہ کھولے حیرت سے کھبی طلال کو دیکھتی کھبی بیلا کو ۔۔ ٹیبلیٹ اس کے منہ میں رکھ کے وہ اسے پانی دینے لگا ” منہ بند کر کے پانی پی لے ” وہ سر ہلا کے پانی پینے لگی پھر گلاس لے کے اس نے سائیڈ پہ رکھا اور کھڑے ہو کے اسے سونے کا کہنے لگا ” سو جائیے اب صبح تک ٹھیک ہو جائے گی آپ ” نیہان بیلا کو دیکھتی لیٹنے لگی جبکہ بیلا طلال کو دیکھے مسکرا رہی تھی طلال نے نا سمجھنے والے انداز میں انھیں دیکھا ” وہاٹ مام؟” پھر نیہان کو اس نے سر تک بلینکٹ لے لیا ۔۔ طلال کا تشویش بھرا انداز بیلا کو بھا گیا ۔۔ اسے اچھا لگ رہا تھا طلال کا نیہان کے لیے پریشان ہونا ۔
صبح وہ ناشتہ کرتے ہوئے باتیں کر رہی تھی بیلا سے جب طلال بھی آ کے ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھ گیا ” مارننگ ” ” مارننگ میرا بچہ ۔۔ ” نیہان پہ نظر پڑی تو پوچھنے لگا ” کیسی طبیعیت ہے اب آپ کی ؟ “
” ایم فائن “
” ہاتھ دے گی اپنا ؟” ” کیوں ؟” نیہان اسے حیرت سے دیکھنے لگی بیلا بھی انھیں ہی دیکھ رہی تھی وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا ” ٹمپریچر چیک کرنا ہے ” ” اوہ اچھا اچھا یہ لیں ۔۔ شوق سے لیں ” طلال اس کی بات پہ زیر لب مسکراتا اس کا نازک ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے نبض چیک کرنے لگا پھر اس کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔ نظر ملتے ہی اس نے نظریں چرا لیں ” ٹھیک ہے اب آپ ۔۔ بٹ پھر بھی ٹیبلیٹ لے لیں آپ آفٹر بریک فاسٹ ” وہ اثبات میں سر ہلانے لگی اسے دیکھے بنا ” لے لیں گی آپ یا میں کھلا کے جاؤں ہاسپٹل “
” آپ ہی کھلا دیں ۔۔ تسلی رہے گی پھر آپ کو ” بے ساختہ کہنے پہ طلال مسکرانے لگا جبکہ بیلا اپنی مسکراہٹ چھپاتے کچن میں چلی گئی ۔۔ نیہان منہ پہ ہاتھ رکھ کے دوسری طرف مڑگئی ۔۔ طلال کو وہ بہت معصوم اور عجیب ہی لگتی ۔ وہ اس کے قریب ہو کے سرگوشی میں پوچھنے لگا ” تو کیا خیال ہے ؟”
” کس بارے میں ؟” وہ اچانک مڑی تھی اس کا سر طلال کے سر سے ٹکراگیا ۔۔ طلال اپنی پیشانی سہلاتا اسے دیکھنے لگا ” کھبی ڈھنگ کا کام بھی کرتی ہے آپ کوئی “
” ہاں نا جب آپ نہیں ہوتے میں ڈھنگ سے ہی ہوتی ہوں ” طلال اسے حیرت سے دیکھنے لگا ” اففففففف” کہہ کے وہ منہ پہ ہاتھ رکھ کے وہاں سے اٹھ آئی ۔۔ ورنہ کچھ بھی بولتی رہتی ۔۔ طلال کی ہنسی بےساختہ تھی ۔۔ وہ ایسی ہی تھی بنا سوچے کچھ بھی بول دینا ۔۔ انجانے میں ہی وہ طلال کے دل میں جگہ بنا گئی تھی اپنے لیے
ماضی کی یادوں سے نکل کے وہ حال میں آیا تو صبح ہو چکی تھی ۔۔ اس نے دھیرے سے نیہان کے ہاتھ کی پشت پہ اپنا محبت بھرا لمس چھوڑ دیا پھر اس کے چہرے کو دیکھنے لگا ۔۔ ” ہاسپٹل جانے کا ٹائم ہو رہا مائی ڈئیر وائف ۔۔ وانس اگین آ بزی ڈے ۔۔ شام میں ملیں گے ” اس کی پیشانی کو چومتا وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور آہستہ سے چلتا وہ روم سے نکل گیا ۔۔ یہ طلال کا روز کا معمول تھا ۔۔ اپنے سب کام ختم کر کے وہ نیہان کے پاس بیٹھ جاتا اسے انتظار تھا اس دن کا جب نیہان آنکھیں کھولے گی ۔۔
