Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Zara Thehar Jao (Episode 05)

Zara Thehar Jao by Malaika Rafi

” ادھر گول گپے کدھر سے لاؤں میں اب ” طلال بےچارگی سے اسے دیکھ رہا تھا وہ آنسو آنکھوں میں لیے اسے دیکھنے لگی ” میرا دل کر رہا ہے نا مجھے نہیں پتہ بس گول گپے چاہئے مجھے “

” او یار میری بیگم صاحبہ میری جان ۔۔ یہاں نہیں ملتے یار ” وہ بے چارگی سے بولا

” تو پاکستان سے لے کے آؤ ” وہ ضدی لہجے میں بولی تو طلال ہنس پڑا ۔ نیہان اسے شاکی نظروں سے دیکھنے لگی” ہنس رہے ہو تم ۔۔ اب میرے بس میں نہیں ہے نا ۔۔ میرا بہت دل کر رہا ” وہ منہ بسور کے بولی تو طلال کو اس پہ پیار آ گیا ” سو سوری نہیں ہنستا اب ۔۔ کچھ اور سوچتے ہیں یار ۔۔ باہر جا کے کچھ مزے کا کھا کے آتے ہیں “

” اسپائسی ہونا چاہیے بس ۔۔ بہت ساری مرچیں ہو اس میں ” وہ چٹخارے لیتے کہنے لگی تو طلال کو ہنسی آ گئی ” جو حکم میری جاناں ” وہ اس کے ہاتھ تھام کے اسے اٹھانے میں مدد دی اور پھر اس کا ہاتھ یونہی تھامے باہر کی طرف بڑھ گیا ۔

” ہیلو طلال “ڈاکٹر عینا کی آواز پہ اس نے سرسری نظر اس پہ ڈالی ” ہیلو ” پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا ۔۔ عینا بھی ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھ گئی ” بہت بزی ہو ؟”

” ہمممم ” وہ مصروف انداز میں بولا ۔۔ عینا اس کا جائزہ لینے لگی ۔۔ کوئی اتنا بھی ہینڈسم ہو سکتا ۔۔ وہ سوچ کے مسکرا رہی تھی جب طلال کسی کام سے عجلت میں اپنی جگہ سے اٹھ کے کمرے سے نکل گیا ۔۔ عینا کے ہونٹ سکڑ گئے ۔۔ اسی لمحے طلال کے موبائل پہ کال آئی جو طلال ٹیبل پہ رکھ کے بھول گیا تھا اس نے دیکھا تو مائی کوئین ۔۔ کا نمبر جگمگا رہا تھا وہ زہریلی مسکراہٹ سجا کے موبائل اٹھا کے اس نام کو دیکھنے لگی پھر کان سے لگا کے ایک ادا سے ” ہیلو ” کہا ۔ تو دوسری طرف نیہان کا دل دھڑک اٹھا طلال کا موبائل کس کے پاس ہے ” ہیلو کون “

” میں عینا ” نیہان کا دماغ کھول اٹھا ” میرے ہسبینڈ کا موبائل تمہارے پاس کیا کر رہا ہے ؟ “

” یہ تم اسی سے پوچھ لو ” وہ ایک ادا سے بولی ۔۔ نیہان جیسے غصے سے کھول اٹھی ” کیا بکواس ہے یو بچ ” نیہان غصے سے چلائی ۔ عینا اس کی کیفیت سے لطف اندوز ہو رہی تھی ۔۔ اسی وقت طلال اندر آیا تو عینا نے گھبرا کے موبائل اس کی طرف بڑھایا اس نے کان سے لگایا ” ہاؤ ڈئیر یو کہ میرے ہسبینڈ کا موبائل تم ۔۔ “

” نیہان ؟” طلال نے جلدی سے اس کا نام لیا ” ط۔۔۔طلا۔۔ل “

” نیہان ۔۔ نیہان ” وہ بار بار اس کا نام لے رہا تھا دوسری طرف خاموشی تھی ۔۔ ” ڈیم اٹ ” عینا کو ناگواری سے دیکھا ” کیا کہا ہے نیہان کو تم نے ” وہ کندھے آچکا گئی ۔۔ طلال عجلت میں کمرے سے نکل گیا جبکہ عینا مسکرا پڑی ” نیہان کا پتہ صاف “

طلال عجلت میں بیلا کا نمبر ملانے لگا لیکن آف تھا ” شٹ ” گاڑی میں بیٹھ کے تیزی سے گاڑی ڈرائیو وے پہ ڈال دی ۔۔ اسے نیہان کی فکر کھائے جا رہی تھی ۔۔ وہ چھ مہینے کی پریگننٹ تھی اور اس کا بی پی جلدی جلدی شوٹ کر جاتا ۔۔ ” نیہان ایم کمنگ ہنی ” وہ خود سے بول رہا تھا ۔

گھر میں داخل ہو کے وہ کمرے کی طرف بھا گا ۔۔ نیہان نیچے بےہوش پڑی تھی ۔۔ طلال نے اسے بیڈ پہ لٹایا اور اسے ہوش میں لانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔ کچھ دیر بعد اس نے آنکھیں کھول دی ۔۔ طلال کو پاس دیکھ کے وہ بے ساختہ اس کے گلے لگ گئی ” ط۔۔۔ طلال کہاں تھے تم ” وہ رونے لگ گئی ۔۔ طلال نے اسے نرمی سے بانہوں میں لے لیا ” میری کوئین ایم ہئیر “

” و۔۔۔وہ ” وہ رونے لگ گئی ۔۔ طلال اسے خود سے الگ کر کے پریشانی سے دیکھنے لگا ” ط۔۔طلال مجھے ڈر لگتا ۔۔ مجھ سے دور مت جایا کرو ۔۔ تمہارا سیل اس کے پاس کیوں تھا “

” میں ٹیبل پہ بھول گیا تھا ایم سوری اب نہیں ہوگا ایسا ” وہ اس کے آنسو اپنی انگلیوں کی پور سے صاف کرنے لگا ” مت رویا کرو نیہان ۔۔ مجھ سے تمہارے آنسو نہیں دیکھے جاتے ۔۔ یو نو ناں ؟” وہ اثبات میں سر ہلانے لگی ” ط۔۔ طلال “

” جی جان طلال ” وہ اسے بانہوں کے حصار میں لیے بیٹھا تھا ” مجھ سے بور تو نہیں ہوگے “

” یہ کیا بات ہوئی؟” وہ حیران ہوا

” میں موٹی ہو گئی ہوں نا ” وہ اس کی معصومیت پہ مسکرا پڑا ” میری موٹو ” نیہان اسے گھورنے لگی تو وہ اس کے گال چھوتا بولا ” آئی لو یو سو مچ نیہان ۔۔ آئی لو یو سو مچ میری جان ۔۔ تم چاہو تو میں ہر دو منٹ بعد آئی لو یو بول دیا کروں ۔۔ میری جان تم سے محبت کرتا ہوں بہت زیادہ ” نیہان اسے وارفتگی سے دیکھنے لگی ” آئی لو یو طلال ۔۔ ” طلال اسے دیکھ کے مسکرا پڑا ۔۔ اسے نیہان کی محبت کی شدت کا اندازہ تھا اسے ڈر لگتا وہ کہیں خود کو کچھ کر نہ دیں ۔۔

” ڈاکٹر طلال آپ خود ڈاکٹر ہے ۔۔ آپ کو پتہ ہونا چاہئے پریگننسی کے لاسٹ منتھ میں ہیڈک کا بار بار ہونا ٹھیک نہیں ہوتا ماں کے لئے ” نیہان کو اکثر سر درد رہتا ۔۔ طلال اسے ڈاکٹر کے پاس لے کے گیا تھا ۔۔ اس کا چیک اپ کروا کے اسے گاڑی میں بٹھا کے اب وہ خود ڈاکٹر نرمین کے ساتھ بیٹھا بات کر رہا تھا ” آفٹر ڈلیوری نیہان کو شارٹ میموری لاس کا مسلہ بھی ہو سکتا ہے ۔۔ وہ باتیں بھولنے لگے گی ۔۔ اسے کافی دیر تک کچھ یاد نہیں رہے گا مے بی وہ آپ کو بھی نہ پہچان پائے یا مے بی وہ کچھ کہیں رکھ کے یا کوئی کام کرتے ہوئے بعد میں بھول جائے کہ وہ کیا کر رہی ہے ۔۔ گھر کا ایڈریس بھول سکتی ہے اپنا نام یا فون نمبر کچھ بھی ” طلال پریشانی سے انھیں دیکھنے لگا ” تو ۔۔ کیا کر سکتے اب ۔۔ اینی آئیڈیا “

” آپ خود کو تیار کر لیں ڈاکٹر طلال ۔۔ اس کا خیال رکھیں فی الحال اسے کسی بھی طرح کی ٹینشن سے یا پریشانی سے دور رکھنا ہے ۔۔ وہ کافی مینٹلی ڈسٹرب رہی ہے ۔۔ ایک ہی بات کو بار بار سوچ کے وہ خود کو تکلیف دیتی رہی ہے آپ نیہان کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھیں ۔۔ “

” تھینک یو ڈاکٹر ” وہ اٹھنے لگا کیونکہ بار بار نیہان کی کال آ رہی تھی وہ خدا حافظ کہہ کے باہر نکلا ۔ نیہان میں اس کی جان بستی تھی ۔۔ جتنی محبت نیہان کو اس سے تھی اس سے کہیں زیادہ اسے نیہان سے تھی وہ کیسے برداشت کر سکتا نیہان کو ایسے تکلیف میں دیکھے لیکن اسے خود کو ہر طرح کے حالات کے لیے تیار رکھنا تھا ۔۔ وہ مسکراتا ہوا گاڑی میں بیٹھ گیا اور اس کی پیشانی پہ اپنے لب رکھ دیے پھر اسے دیکھنے لگا ” سوری لیٹ ہو گیا ” نیہان اسے پیار سے دیکھنے لگی ” اٹس اوکے ۔۔ تمہیں مس کرنے لگ جاتی ہوں میں ” طلال کو اس کی سادگی پہ پیار آیا ” مس می مور ” طلال ہنستے ہوئے کہنے لگا پھر گاڑی ڈرائیو وے پہ ڈال دی ۔۔ نیہان کی محبت بھری نظریں اس پہ تھی ۔۔ نیہان کو خود بھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ کیوں اتنی محبت کرتی ہے اس شخص سے ۔۔ اس کا دل کرتا طلال اس سے ایک پل بھی دور نہ جائے ۔۔ طلال نے مسکرا کے اس پہ ایک پیار بھری نظر ڈال دی ۔۔ ” بہت پیار آ رہا مجھ پہ جناب ” نیہان نے مسکرا کے سر جھکا لیا پھر اسے دیکھنے لگی ” آئی لو یو طلال ” طلال مسکرا پڑا ” آئی لو یو ٹو مائی کوئین ” نیہان نے مسکرا کے نظریں روڈ پہ جما دی ۔

طلال کے موبائل پہ عینا کا میسج دیکھ کے اس کا دماغ کھول اٹھا وہ آنکھیں کھولے اس میسج کو دیکھ رہی تھی اچانک سے اس کا سر چکرا گیا ۔۔ اسے سمجھ نہیں آیا کمرا اسے گھومتا ہوا محسوس ہوا وہ گرنے والی تھی جب طلال نے آگے بڑھ کے اسے تھام لیا اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھی ” نیہان ۔۔ نیہان ” اس کے ہاتھ سے طلال کا موبائل چھوٹ کے نیچے گر گیا ۔۔ وہ اسے جلدی سے لیے باہر کی طرف جانے لگا ۔۔ ” مما ۔۔ مما ” بیلا کو بلاتا وہ باہر کی طرف جا رہا تھا ۔۔ بیلا نیہان کو یوں دیکھ کے بھاگتی ہوئی آئی ۔۔ ہاسپٹل پہنچ کے وہ دونوں ہاسپٹل کوریڈور میں بےصبری سے انتظار کر رہے تھے اور دعا کیے جا رہے تھے نیہان کی صحت یابی کی جب انھیں بیٹی ہونے کی خوشخبری دی گئی ۔۔ ” نیہان کیسی ہے ” وہ بے چینی سے نیہان کا پوچھنے لگا ” شی از فائن ناؤ ۔۔ ” ڈاکٹر کے کہنے پہ وہ رونے ہی لگ گیا ۔۔ بیلا نے بڑھ کے اسے گلے لگا لیا ” مما میری نیہان ۔۔ ” ڈاکٹر مسکرا کے واپس آئی سی یو میں چلی گئی جبکہ طلال رو رہا تھا ” میری نیہان کو کچھ نہ ہو میں تو جی نہ سکوں گا “

” وہ بھی ٹھیک ہے طلال ۔۔ ” بیلا اپنے بیٹے کو پیار کرتے کہنے لگی ۔۔

” یا اللہ آپ کا لاکھ لاکھ شکر میری نیہان ٹھیک ہے “

” چٹاخ” عینا اپنے گال پہ ہاتھ رکھے بےیقینی سے طلال کو دیکھ رہی تھی جس کی آنکھیں انگارے برسا رہی تھی ” نیہان کو کچھ بھی ہو جاتا تو میں تمہیں قتل کر دیتا ۔ کیا سوچ کے وہ گھٹیامیسج سینڈ کیا تھا مجھے “

” میں تم سے پیار ۔۔۔ ” عینا ٹوٹے لفظوں میں کہنے لگی تو طلال نے اسے ہاتھ اٹھا کے اسے روکا ” شٹ اپ ۔۔ میں نیہان سے محبت کرتا ہوں دور رہو میری بیوی سے ورنہ میں تمہیں یہاں سے نکلوا دوں گا ڈاکٹر عینا رحمان ۔۔ وہ میری بیوی ہے کوئی کٹھ پتلی نہیں کہ اپنا کوئی بھی گیم اس پہ چلاؤ ۔۔اپنی حد میں رہنا سیکھو ورنہ مجھے اچھی طرح سے حدیں یاد دلانا آتا ہے ۔۔ وارننگ سمجھ کے اپنے مائنڈ میں بٹھا لو یہ بات “وہ اسے وارننگ دیتا وہاں سے چلا گیا اور عینا دیر تک اس کے الفاظ کی سختی کو محسوس کرتی رہی

وہ پیار سے نیہان کو دیکھ رہا تھا اور نیہان کے چہرے پہ ہزاروں رنگ بکھرے پڑے تھے ۔۔ ” تھینک یو مائی کوئین ” طلال آنسو بھری آنکھوں سے اسے کہہ رہا تھا وہ مسکرا پڑی ” اس کی آنکھیں تم پہ گئی ہے طلال “

” آخر پاپا ہوں اپنی بیٹی کا میں ” وہ اترا کے بولا ۔۔ نیہان ننھی سی جان کو پیار سے دیکھ رہی تھی طلال مسکرا کے نیہان کے گال چومتا بولا ” اور اس کے گال ۔۔ ناک اور لپس تم پہ گئے ہیں ” نیہان ہنس پڑی ۔۔ بالوں پہ ریڈ ہئیر بن لگائے وہ پری لگ رہی تھی ۔۔ طلال کو اپنے دل کے بہت پاس محسوس ہو رہی تھی وہ ۔۔

حال

ایک آنسو اس کی گال پہ پھسلا ۔۔ وہ ماضی کی یادوں سے نکل کے دیر تک نیہان کے وجود کو دیکھتا رہا ” نیہان ۔۔ مائی کوئین یہ دسمبر بھی گزر گیا ۔۔ ہیپی نیو ائیر میری جان ” اٹھ کے اس کے ماتھے پہ بوسہ دیا ۔۔ اس کے سوئے وجود کو دیکھتا رہا ۔۔ ایک سال سے زیادہ ہو گیا نیہان کو کومہ میں گئے ہوئے ۔۔ ” اب تو ختم کر دو میری سزا نیہان ۔۔ جاناں بہت مشکل ہو رہی ہے یوں زندگی ۔۔ مجھے تمہیں سننا ہے ۔۔ تمہاری آنکھوں میں اپنے لیے محبت دیکھے ہوئے صدیاں بیت گئی ہے مجھے ۔۔ میری جان اٹھ جاؤ ۔۔ دعا کے لئے ۔۔ ہماری دعا کے لئے ۔۔ اٹھ جاؤ پلیز ۔۔ تمہاری آنکھوں کی وارفتگیاں دیکھنے کے لیے میں ترس رہا ہوں ۔۔ ” وہ رو پڑا تھا اس کی آنکھوں سے آنسو نیہان کے نازک ہاتھ پہ گرے تھے ۔۔ اس کے نازک سے ہاتھ میں ہلکی سی حرکت ہوئی تھی طلال کچھ دیر یونہی بیٹھا رہا پھر اٹھ کے کمرے سے نکل گیا ۔۔ اس کی نظر شاید نیہان کے ہاتھ پہ نہیں پڑی تھی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *