53.2K
6

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

صبح موسیٰ کی آنکھ کھولی تو اپنے برابر والی جگہ کو خالی پایا ۔۔۔ ۔۔
شاید وفا پہلے ہی نیند سے بیدار ہو چکی تھی ———- اس کی
طبیعت کا سوچتے ہوئے ۰۰۰۰۰۰۰۰۰ وہ اٹھ بیٹھا ۔۔ سلیپر کو پاؤں میں
ڈال کر وہ نیچے آگیا۔۔۔۔ دیکھا تو وہ کچن میں مصروف ناشتہ بنا رہی
تھی —— موسیٰ کچن کے دروازے میں جا کھڑا ہوا ۔۔۔۔ وفا کی
نظر موسیٰ پر پڑی وہ خاموشی سے چائے کا کپ سلیب پر رکھ کر کچن سے نکلنے لگی۔۔۔ تو وفا کا کاندھا موسیٰ کے شانے سے ٹکرایا —- وفا
نے اک نظر ٹھہرکراسے دیکھا ۔۔۔۔۔ مگر پہلی بار موسیٰ نے کچھ نہیں کہا تھا
وہ چپ چاپ وہاں سے چلی گئی — —- —- موسیٰ اسے پکارنا چاہتا
تھا لیکن الفاظ تھے ہی نہیں تھےاس کے پاس وہ کیسے روکتا اسے اور کیا کہتا
دن یوں ہی گزر رہے تھے وفا نے چپ سادھ لی تھی اس نے موسیٰ کے سامنے آنا بھی کم کر دیا تھا ——- موسیٰ کو اس کی
خاموشی کھلنے لگی تھی مگر وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں بول پارہاتھا ۔۔۔
🍁عادت ان کی اب کچھ اس طرح ہوگئی
کے اب ان کی بےرخی سے جان جارہی ہو جیسے 🍁
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭🌹🌹🌹٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ جو بری طرح کا میں مصروف تھا۔۔۔ اسی دوران فون کی تیز بجتی
گھنٹی نے اسے اپنے جانب متوجہ کیا— — — — موسیٰ نے اجلت
میں فون اٹھا کی کان سے لگایا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہیلو !!
ہائےموسیٰ !!!!!! اسپیکر سے نکاتی آواز نے موسیٰ کی کنپٹیوں کو
سلگایا تھا۔۔۔۔۔۔۔ کیوں فون کیا ہے — — — — واہ تم تو
مجھے آواز سے ہی پہچان گئے شٹ اپ وہ دھاڑا !!! ریلیکس موسیٰ ،،،،،
کول ڈاؤن !!! میں نے تو یہ بتانے کے لیے فون کیا ہے کے ؟؟؟؟؟؟
بیجاری وفا کا وہاں صدمے سے برا حال ہے اور تم ہو کے کام میں
لگےہو تمہیں اپنی بیوی کا زرا خیال نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مطلب کیا
ہے تمہارا !!!!!! لو اب ظاہرسی بات ہےکسی بیوی کواس کےشوہر
کے گردشتہ کارنامے کا علم ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔ تو اس پر کیا گزرے گی
جیالے !!!!! کیا کہا ہی تم نے اسے ۔۔موسیٰ نے غصے سے کہا
ہممم !! سچ کہا ہے
میں نے سوچا تم نے تو بتایا نہیں میں ہی بتادوں ۔۔۔کیوں اس کو
اندھیرے میں رکھنا ؟؟؟؟؟ ابھی تم سے پہلے اسے ہی فون کیا تھا ۔۔وہ تو کچھ بولنے کے قابل ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔۔۔
جیالے نے سفاکی سے کہا ——-مجھے ٹھکراکر تم نے اچھا نہیں کیا تھا
موسیٰ ،،جب تمہیں میں اپنا نہیں بنا سکی—- تو میں کسی کے قابل
بھی نہیں چھوڑوں گی ،، جس آگ میں میں جلی ہوں ——- تمہیں
پوری زندگی جلاؤں گی غصے سے کہتے ہوئے اس نے فون کاٹا تھا —-
مگر موسیٰ کتنے ہی پل ہل بھی نہ سکا تھا ———
انتہائی رش ڈرائیونگ کر کے وہ گھر پہنچا تھا مگر گھرمیں مکمل سناٹاتھا
اس کو وہشت ہورہی تھی اس کو کچھ سمجھ نہیں آرہاتھاکے کیا کرے اس نے اپنے بالوں کواپنے مٹھی میں جکڑ رکھا تھا ۔۔۔ اف وفا تم
اک بار تو مجھ سے سچ معلوم کرتیں ۔۔۔۔۔۔کیسے کرتی ؟ کیا تم نے
کبھی موقع دیا ؟ اس نے بہت کوشش کی تھی تمہارا دکھ باٹنے کی اس کے دل نے موسیٰ کو ملامت کی تھی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭🌹🌹🌹٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سب ہی لوگ لاؤنج میں ہی پرجمان تھے ———— معاذ اور افیفا
کے نکاح کے بارے میں باتیں ہورہی تھیں ۔۔۔۔۔۔ جب وہ گھر
میں داخل ہوئی ،،،،،، وفا !!!! نمرا بیگم کی نظر اس پر پڑی ۔۔۔۔
ان کے پکار نے پر سب نے ان کی طرف دیکھا۔۔۔ یہ کیاحال بنایا
ہواہےاورموسیٰ !!موسیٰ کہاں ہے انھوں نے تشویش سے پوچھا —-
بکھرے بال ،،، ملگنجھا حلیا ،،،، اور سرخ آنکھیں ۔۔۔ وفا کی حالت
دیکھ کر سب کو فکر ہوئی تھی —- وفا میں کچھ پوچھ رہی ہوں ؟؟؟؟
اس بار عائیقہ نے پکارا !!! مگروہ ان کو نظراندازکرکے جیالے کے پاس
گئی تھی ۔۔۔۔۔ اور زور دار طماچہ اس کو مارا تھا ——- جہاں
جیالےنےاسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھا تو باقی بھی دنگ رہ گئے
اور دروازے میں موجود موسیٰ کو تو گویا سکتہ ہی ہو گیا تھا ——
وفا کیا کررہی ہو یہ !!!!!!! نمرا بیگم نے آگے بڑھ کر وفا کو روکا اس
نے اک جھٹکے سے ان سے اپنا آپ چھڑوایا تھا ۔۔۔۔ میں جان
سے مار دوں گی اسے وفا نے لپک کر جیالے کا گلا پکڑا تھا ۔۔۔۔ وفا
چھوڑو اسے کیا پاگل ہوگئی ہو عائیقہ اور ندا نے بامشکل اسے روکا تھا
ہاں ہوگئی ہوں پاگل،؟؟؟؟؟
یہ ۔۔۔ اس کی ہمت کیسے ہوئی موسیٰ کے کردار پر انگلی اٹھانے کی ؟؟؟وفا نے چیختے ہوئے کہا تو لمحے بھر کوسب خاموش ہوگئے
اور کیا کہاتم نے موسیٰ میرے قابل نہیں ان کے کردار میں کھوٹ
ہے میں انھیں چھوڑ دوں تو مسز جیالے جس شخص کی محبت بچپن
سے میرے دل میں پروان چڑھی ہو جب اس کا ساتھ مجھے نصیب ہوا تو میں اسے تمہاری جھوٹی باتوں میں آکر چھوڑنہیں سکتی ——
اس نے اک اک لفظ کو چبا چبا کر کہا سب کی نظر ایک ساتھ وفا پر اٹھی تھی اورموسیٰ تو حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہو گیا تھا
میں نے کوئی جھوٹ نہیں کہا تمہیں سچ سے ہی آگاہ کیا ہے تم چاہو تو
سب سے پوچھ لو اس دن کیا ہوا تھاجیالے نے صاف اپنا دامن بچاتے ہوئے کہا حالانکہ اسے وفا سےاس ردِعمل کی توقع نہیں تھی
بات کی تصدیق وہاں کی جاتی ہے جیالے ،،،،،،،، جہاں یقین نا ہو اور
مجھے موسیٰ پر خود سے زیادہ بھروسہ ہے ،،، تمہاری باتوں پر باقی ایمان لاسکتے ہیں ۔۔۔ مگر میں نہیں ۔۔۔۔۔۔ سمجھی وفاکے اس پختہ لہجے پر
موسیٰ کو اپنے دل پر سے پتھر سرتا محسوس ہوا تھا ۔۔۔ وہ کبھی
سوچ بھی نہیں سکتا تھا کے جس لڑکی پر اس نے اول روز سے ظلم
ڈھائے تھے وہ اسپر اتنا بھروسہ کرئے گی ۔۔۔۔ تمہیں کیا لگا حرا آپی کی طرح تم مجھے بھی اپنے باتوں کے جال میں پھانس لو گی اور میں پھنس جاؤں گی غلط ،، بلکل غلط سوچا تم نے
اس بار بھی تمہارا وار سخت تھا مگر افسوس وہ خالی گیا جیالے احمد،،،
کیوں کے اس بار مقابل تمہاری جان سے پیاری دوست یا کوئی اور
نہیں تھا بلکہ اس بار تمہارے مدِمقابل موسیٰ مرتضیٰ کی بیویٰ کھڑی
تھی !!!! وفا موسیٰ موجودتھی وفا نے انگلی کے اشارہ ہے باور کروایا میں موسیٰ کی چاہ میں پوری دنیا سے لڑسکتی ہوں پھر یہاں تو صرف تم ہو جیالے ۔۔
اور آپ سب نے ۔۔۔۔ جو بات مجھے پہلے ہی بتادینی چاہیے تھی وہ چھپائے رکھی کتنی بار پوچھا سب سے کے حرا آپی نے رشتہ کیوں توڑا ،، آخر موسیٰ کے گھر چھوڑنے کی کیا وجہ ہے مگر ہر بار کوئی نا کوئی بہانا کر کے بات ٹالتے رہے ——-
مجھے لگا حرا آپی کے چھوڑ دینے کا غم موسیٰ کو کھائے جارہا ہے میں
اپنی محبت سے ان کے دل کے زخموں کوبھرنے کی کوشش کرتی رہی ——مگر مجھے کیا معلوم تھا
انھیں تو اپنوں کی بے اعتباری نے مارا تھاوہ کیسے مجھ پر یقین کرتے
میری وفاؤں کا اعتبار کرتے وہ تو تار تار ہوئی انا کو اپنے اندر لیے
گھوم رہیں تھے وفا نے روتے ہوئے سب پرنظر ڈالی پورا گھر بت بنا کھڑا اسے صرف سن رہا تھا
کسی کے پاس کہنے کے لئے کوئی الفاظ نہیں تھے سچ ہی تو تھا سب نے ہی تو اسُ پر سے اعتبار کی چادر کو ہٹایا تھا ،،،وہ چلتی ہوئی مرتضیٰ
صاحب کے پاس آئی تھی —— تاتا جان !!!! آپ اپنی بھانجی سے
بہت محبت کرتے ہیں ؟؟؟ مگر کیا بیٹے سے زیادہ کے آپ کوایک بار
بھی موسیٰ صحیح نہیں لگے کیا آپ کے دل نے ایک بار بھی گواہی نہیں دی کے وہ آپ کی تربیت پر کبھی بھی آنچ آنے نہیں دے سکتے
بےشک فیصلہ کرنا مشکل تھا ؟؟؟؟؟؟!! کے دو میں سے کسی اک کا
ساتھ دینا دوسرے پر شک کرنے کے مترادف ہی تھامگر کیا یہ بہتر نہیں
ہوتا کے فیصلہ کرنے میں آپ تھوڑا انتظار کر لیتے آپ خود سوچتے تاتا
جان کیا موسیٰ کا جیالے سے شادی کرنا مشکل مرحلہ تھا؟؟؟؟؟ خاندان
کا لاڈلا بڑا بیٹا ،،،،،، جسکو گھر بھر کی حمایت حاصل ہو ،،،،،، دادو کا
سپورٹ ہو پھر۔اور ویسے بھی ۔۔۔ دادو کے فیصلے پر تو آپ سمیت
سب سر جھکا دیتے ہیں نا پھر ؟؟؟؟؟مشکل تو جیالے کے لیے تھانا
اک تو موسیٰ کی منگنی ہوچکی تھی اور پھر وہ حرا آپی سے محبت بھی
کرتے تھے ؟؟؟؟ اس نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
آپ بتائیں لقمان تاتا موسیٰ اپنے گھر میں ہوتے ہوئے یہ جانتے ہوئے
بھی کے اس وقت گھر میں اس کے ماں باپ ،، دادو یہاں تک کے
منگیتر بھی موجود ہے ،،،، موسیٰ نے اتنا دیدہ دلیری دیکھاتے ہوئے
جیالے کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے کوشش کی ؟؟؟؟ توگھر کو چھوڑنے
کے بعد کچھ کیوں نا کیا ؟؟؟ کے تب تو انھیں آزادی تھی کے وہ کسی
کو جواب دہ بھی نہیں تھے ۔۔ اگر کو موسیٰ کے کردار میں جھول ہوتا
تو کیا جیالے اپنی عزت اور مان کے ساتھ آپ لوگوں کے سامنے
ہوتی اور حرا آپی کی شادی آپ سب اتنے سکون سے کرواسکتے تھے ؟؟
تاتا جان !! کبھی سوچا کے ؟؟؟؟ آپ آج تک موسیٰ کی غلطی جو
انھوں نےکی ہی نہیں۔۔۔۔ اس کو بھلا کیوں نہیں پائے وہ اس
لئے کے آپ کو کبھی بھلانے کا موقع نہیں دیا پھپھو نے وفا نے مدہم پڑتے لہجے میں کہاتو
مرتضیٰ صاحب نے چونک کر اسے دیکھا ؟،،،،
یہ سچ ہی تو تھا جب بھی بات ہوتی آخر میں فرح ضرور یاد دلاتیں کی موسیٰ نے جو کیا اچھا نہیں کیا ،،،،،
کیوں پھپھو جیالے کو روکنے کے بجائے آپ نے اسی کا ساتھ دیا اسےصحیح اور موسیٰ کو غلط بول کر دلوں میں نفرت بڑھاتی رہیں کیوں پھپھو کیوں سے !!!!
وہ تو پہلے ہی مارے شرمندگی کے سر نہیں اٹھا پارہیں تھیں اس کے
طرح کہنے پر تو زمین میں گھڑگیں —————-
اففف !!!! آپ سب نے یہ کیا کیا ؟؟؟؟؟ آپ لوگوں نے مل کر
موسیٰ سے ان کا سب کچھ چھین لیا —— ان کی عزت ——- انا
—— رشتے یہاں تک کے محبت ——- بھی وفا نے بکھرے لہجے میں کہا
پورے لاؤنج میں سکوت طاری تھی ہر کوئی ایک دوسرے سے نظریں
چرا رہا تھا ،،،، دھند کے بادل چھٹے تو سب صاف دیکھائی دیا تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭🌹🌹🌹٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
آج ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں تھی مرتضی صاحب !!! موسیٰ سے
سخت شرمندہ تھے مگر موسیٰ نے انھیں گلے سے لگا کر ان کے
پچتاوے کو بڑھنے نہیں دیا اور ممتاز ہاؤس ہمیشہ کے لیے لوٹ آیا تھا
پھپھو اور جیالے اُسی سن واپس چلے گئے تھے سچ سامنے آنے پر
سب کی نظروں میں واضع ناراضی تھی نفرت کی آگ میں جل کر
جیالے نے ناصرف خود کی بلکے پھپھو کی بھی عزت کا جنازہ نکالا تھا۔
رونوں نے معافی مانگی تھی اور سب نے معاف بھے کر دیا تھا وفا کے
کہنے پر مگر دلوں میں اک خلش سی حائل ہوگئی تھی ۔۔۔۔
لان کو رنگ برنگی قمقمی روشنیوں سے سجایا گیا تھا ہر طرف جشن کا سا
سماں تھا جہاں اک طرف معاذ اور افیفا کا نکاح تھا دوسری طرف
موسیٰ کے لوٹنے کی خوشی —— آج کتنے عرصے بعد ممتاہاؤس کی
درودیواروں نے موسیٰ کے ہنسی کو سنا تھا ————
وفا !! وہ لان میں اک جانب کھڑی تھی جب۔ موسیٰ نے اسے پکارا
موسیٰ کے آواز اس نے پلٹ کر دیکھا———- سیاہ شلوار سوٹ
میں بے حد پرسکون اور شاندار لگ رہا تھا ——- چہرے پر وہی
پرانی رونق لوٹ آئی تھی وہ آنکھوں میں چمک اور ہونٹوں پر نرم سی مسکراہٹ لیے اسے ہی دیکھ رہا تھا
جی !!! وفا نے مدھم آواز میں پکارا ————- کیا تم نے مجھے
معاف کردیا ؟؟؟ میں نے تو آپ کو تبھی معاف کردیا تھا جب سچ کا
علم ہوا تھا بس تھوڑا غصہ آیا تھا کے کاش آپ اک بار مجھ پر
بھروسہ کر لیتے۔ ————— وفا نے صاف گوئی سے جواب دیا
کیسے کرتا بھروسہ وفا؟؟؟؟سب ہی کے شک نے اندر سے توڑ دیا تھا
اور پھر حراکے بےاعتباری نے تو محبت پر سے یقین ہی مٹا دیاتھا
تو اب یقین ہوگیا محبت پر ؟؟؟ وفا نے آنکھیں سکیڑ کر پوچھا ہاں ایک
دیوانی نے اپنا سحر ایسا بکھیرا کے یہ بندہ گوٹی گوٹی اس کے عشق میں
ڈوب گیا ۔۔۔ اچھا میں کیسے مان لو ؟؟؟؟ کہو تو کوئی ثبوت کی طور پر
مظاہرہ پیش کر دیتے ہیں وہ بولتے بولے آخر میں وہ شوخ ہوا ۔۔۔۔۔
موسیٰ !!! خبردار جو پٹری سے اترے تو وفا نے سرخ پڑتے مصنوعی
غصے سے کہتے ہوئے موسیٰ کو دیکھا ———- مگر اگلے ہی پل نظریں
جھکا گئی کیونکہ موسیٰ کی آنکھوں میں محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا
آج سے ہم اپنی نئی زندگی شروع کرئیں گے وفا جہاں پر محبت چاہت
اور اعتبار ہوگا یہ کہتے ساتھ ہی موسیٰ نے وفا کے بالوں کو کیچر سے
آزاد کیا تھا۔ یہ کیا۔ کیا وفا نے حیرت سے دیکھا ہوئے کہا تم ان کھلے
بالوں میں اور بھی حسین لگتی ہو ——- موسیٰ نے اس کے بالوں کو چھوتے ہوئے کہا ۔۔
وفا نے سوچا بیشک اعتبارکا راستہ ہی محبت کی منزل ہے !!!!! اور
دونوں مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئے جہاں سب ان کے منتظر تھے
چاند بھی دونوں کو دیکھ کر مسکرایا تھا اور بدلیوں میں چھپ گیا تھا
🌹کے جا طرح ٹوٹ کے گرتی ہے زمین پر بارش
اس طرح خود کو تیری ذات پر مرتے دیکھا 🍁
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭🌹🌹٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭