53.2K
6

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 01

ابھی وہ کولج سے آئی تھی کچھ دیر آرام کرنے کی نیت سے لیٹی ہی
تھی کے ،،،
دھاڑ!! کی آواز سے کمرے کا دروازہ کھلا تھا ؟؟؟ اور افیفا ہانپتی کانپتی
اندر داخل ہوئی تھی اور اس کے پیچھے صدف اور ندا بھی ۰۰۰۰
کیا ہوا ؟؟ وفانے حیران ہو کرپوچھا ۔۔۔۔
تمہیں پتہ ہے کون آیا ہے ؟؟؟؟؟ افیفا نے جیسے تجسس بڑھایا ۔۔۔۔
کون ؟؟؟ وفا نے سوالیہ نظرو میں پوچھا
مسٹر ہٹلر !!!! ندا نے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے دونوں ٹانگوں کو سمیٹ کر کہا
ابھی دادو کے کمرے کے باہر سے آرہے ہیں ہم ۔۔۔۔
کوئی کھچڑی پک رہی ہے افیفا نے رازداری سے بولا ،،،،، ان سب
میں اسے ہی کان لگاکے سن گن لینے کا شوق تھا ۔۔۔
دادو !!! موسیٰ بھائی کو کسی بات کے لیے منا رہیں تھی ۔۔ اور وہ مسلسل نہ کر رہے تھے ۔۔۔۔
تم لوگ بھی نہ ۔۔۔۔ کیوں بڑوں کی باتوں میں کان لگاتے ہوکسی
دن دیکھ لیا نہ دادو یا کسی اور نے لک تپہ جانا ہے وفا نے ان تینوں
کو تنبیہ کی جس کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا ۔۔۔
او وہ !! وفا تم تو ہو ہی ڈرپوک !!
اچھا ندا زرہ معاذ کو دیکھو تو اسے کچھ پتہ چلا کیا ؟؟؟
افیفا کو ابھی بھی دادو کے کمرے میں ہونے والے باتوں کی فکر تھی ،،،،
نہیں ؟ معاذ ،، شان اور حنان کے ساتھ افسردہ لہجے میں کہتا ہوا
کمرے میں داخل ہوا،،،،،، اور تینوں زمین پر دراز ہو گئے ،،،
تم لوگوں سے کبھی کوئی کام ہوا ہے افیفا نے تڑک کر بولا ۔۔
پورے بیس منٹ بی جمالوں کی طرح کان لگائیں ہیں ۔۔۔۔۔۔
اور تم بول رہی ہو کچھ نہیں کیا شان نے تڑپتے ہوئےکہا۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
دادو کا لاڈلا پوتا ان کی گود میں جو سر رکھے لیٹا تھا ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰کچھ سنائی ہی نہیں دیا کھڑے کھڑے ٹانگیں دکھ گیں معاذ نے ٹانگوں کو دباتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں جارہی ہو ؟؟؟ وفا کو اٹھتے دیکھ ندا بولی ۔۔۔۔
سونے تو تم لوگوں نے دینا نہیں ۔۔۔۔۔ کھانا ہی کھا لوں جا کر وفا نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔
دیکھ کر جانا کہی رستے میں مسٹر ہٹلر کا ہی کھانا نا بن جانا ،،،، ویسے بھی ہر وقت تو وہ کچا چبانے کو تیار رہتے ہیں ••••••••• حنان نے کہا تو سب ہنس پڑے ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰ وہ وفا گھور کر رہ گئی ۔۔۔۔
وہ اپنے خیالوں میں لاؤنج سے گزار ہی رہی تھی کے سامنے سے آتے شخص سے بری طرح ٹکڑا گی ۔۔۔
مقابل کو تو کچھ نہیں ہوا مگر وفا کا سر گھوم کے رہ گیا !!
پھر جو نہی نظر سامنے گئی وہ آتش فضاء بنا کھڑا تھا ۔۔ اندھی ہو دیکھائی نہیں دیتا موسیٰ نے بھڑتے ہوئے کہا ۔۔
سس۔۔ سوری موسیٰ بھائی میں نے دیکھا نہیں ۔ وفا نے ہکلاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔
تو آنکھیں نکال دو جب استعمال نہیں کرنی تو وہ غصے سے پھکارتا ہوا باہر نکل گیا ،،،،،، وفا بس اپنے ہونٹ کاٹتی رہ گئی ۔۔۔
ارے !!!! کوئی بات نہیں موسیٰ بھائی تو ہمیشہ ہی انگارے چبائے ہوتے ہیں معاذ نے ۰۰۰۰۰۰۰۰۔ وفا کے پاس آکر کہا ۔۔۔۔۔۔ تو وہ مسکراتے ہوئے واپس اپنے کمرے کی جانب چل دی ۔۔۔۔۔۔
کے جس کے خاطر وہ آئی تھی ایسی ہی سہی مگر اس کا دیدار تو ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
دل جس کا طلب گار ہے
اسے خبر ہی کہا ہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭🌹🌹٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وفا اور صدف لائن میں بیٹھی کسی کہانی پر تبصرہ کر رہی تھی ۔۔۔
تم لوگوں کی لئے دو بڑی خبریں لائی ہوں افیفا نے بیٹھتے ہوئے کہا
کیا ؟؟؟؟؟ صدف نے جھٹ پوچھا •••••••••••••
پہلی تو یہ کے کل جو کھچڑی دادو کے کمرے میں پک رہی تھی وہ یہ تھی کے تائی ،، چاچی اور دادو مل کر موسیٰ بھائی کو شادی کے لئے راضی کر رہے تھے ۰۰۰۰۰
اور وہ نا نا کر رہے تھے ۔۔ ندا نے باقائدہ سر کے اشارے سے نا نا کر کے دکھایا ۔۔
اور دوسری وفا نے بےتابی سے کہا !!!!! اسے شدید بے چینی ہوئی تھی
دوسری یہ کے عائقہ چاچی کی کوئی دوست ہیں ان کے سپوت سے آپ صاحبہ کا رشتہ انقریب طے ہونے جارہا ہے •••••
کیااااااااااااااا !!! وفا بےساکتہ چیخ اٹھی !!!!!!!
بلکل ابھی میں نمرا تائی اورعائقہ چاچی کی بات سن کرآرہی ہوں افیفا نے وفا کا ردےعمل دیکھ کر وضاحت کی •••••
وفا اک جھٹکے سے اٹھی تھی اور دادو کے کمرے کی طرف گئی تھی ۔۔۔۔
وہ کمرے میں آکر دادو کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گی ۔۔
کیا بات ہے ؟ میری گڑیا کیوں اداس ہے !!! انھوں نے اس کے بال سہلاتے ہوئے کہا ۔۔
دادو میں شادی نہیں کرنا چاہتی ؟
آپ مما بابا کو کہ دیں نا ! وفا نے ان کی ہاتھ تھام کر کہا ،،،
گھر کے سبھی بچے دادو کے زیادہ قریب تھے ان سے ہر مسلئے پر کھول کر اظہار کرتے تھے اور وفا !! جو اپنی کوئی بھی بات کسی سے نہیں کرتی تھی دادو سے بلا جھجھک بول دیتی تھی ۔۔۔۔ اور ابھی بھی ایسا ہی ہوا تھا ،،،
کیوں وفا ؟ ایسا کیوں !
بس دادو پلیز !!!! وہ بیٹھتے ہوئے بولی مگر ہم سب تو چاہ رہے تھے کے موسیٰ اور تمہاری ساتھ ساتھ شادی کر دیں ۔۔۔
نہیں دادو مجھے شادی نہیں کرنی ؟؟ وفا نے بے چین ہوکر انھیں دیکھا
وفا کے انداز سے تو وہ پہلےہی ،، جان گئیں تھیں،،،،، مگر وفا کی اس بے کلی نے آج واضح کر دیا تھا ۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭🌹🌹🌹٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ کیسے ممکن ہے اماں ؟؟ مرتضیٰ صاحب نے حیرت سے کہا ! کیوں ممکن نہیں ؟ یہ آپ کہ رہی ہیں اماں سب کچھ جانتے ہوئے بھی۔۔۔۔۔۔۔ مرتضیٰ صاحب نے تاسیف سے سر ہلایا !! کب تک تو موسیٰ کو اس کی اک غلطی کی سزا دیتا رہے گا ؟؟؟؟
حرا نے اس سے رشتہ ختم کر دیا ،،،، تو اُس سے بات نہیں کرتا اپنا گھر اور گھروالوں کے ہوتے ہوئے اکیلے رہتا ہے وہ ۰۰۰۰۰۰۰۰۰
کیا یہ سزا کافی نہیں ؟؟؟؟؟
اب ختم کر دے اس قصے کو ۰۰۰۰۰۰۰۰۰ دادو نے دکھ بھر لہجے میں کہا ۔۔۔ اماں ٹھیک کہ رہی ہیں بھائی صاحب ،،،،
مبشر صاحب نے دادو کی بات کی تاکید کرتے ہوئے کہا ۔۔۔ بھائی صاحب ہم سب جانتے ہیں موسیٰ سے اک سنگین غلطی ہوئی تھی اور وہ آج تک اس کی سزا بھی تو کاٹ رہا ہے ••••••
اگر آپ راضی ہیں تو مجھے اور عائیقہ کو اپنی بیٹی وفا کا ہاتھ موسیٰ کے ہاتھ میں دینے سے کوئی اعتراض نہیں ۔۔۔۔۔
اور پھر کسی نا کسی سے تو موسیٰ کی شادی ہونا ہے نا تو پھر وفا کیوں نہیں ؟؟؟؟ وفا سمجھ دار بچی ہے اور موسیٰ کی ہم مزاج بھی !!
وہ اک دوسرے کے ساتھ خوش رہیں گے !!!!
دیکھ مرتضیٰ جو بات پچھلے دو سالوں سے اس گھر کی چار دیواری میں قید ہے اسے قید ہی رہنے دے اگر جو باہر نکلی تو سو افسانوں میں پھیلے گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر جو وفا کو علم ہوا تو ؟؟؟ مرتضیٰ صاحب نے خدشہ ظاہر کیا
بھائی صاحب !!! وفا۰۰۰۰۰ حرا نہیں ہے مجھے بھی افسوس ہے کے میری بیٹی نے اک بھی موقع دیے بغیر موسیٰ سے رشتہ توڑ دیا
مگر مجھے یقین ہے وفا ایسا نہیں کرے گی لقمان صاحب نے ان کا خدشہ دور کیا اور ویسے بھی موسیٰ کی اک غلطی کی پیچھے ہم اس کی اچھائیاں تو نہیں بھولا سکتے ۔۔۔۔۔
🌻جاری ہے 🌻