53.2K
6

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 05

موسیٰ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھا کوئی شو دیکھ رہا تھا ,,,, جب وہ چائے لے کر آئی
چائے !!!! وفا کی پکار پر موسیٰ نے نظر اٹھا کر دیکھا ••••••••تو
جیسے نظر نے پلٹنے سے انکار کردیا تھا ۔۔۔۔۔۔ دھانی رنگ کے رنگ
برنگے دھاگو سے کڑھائی والے سوٹ میں ۔۔۔۔ اس کا نازک سراپا
غضب ڈھا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔ کمر تک آتے ریشمی گھنے بال بکھرے
ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔ میک اپ کے نام پر آنکھوں میں کاجل کی
پتلی سی لکیر موجود تھی ————— جو اس کی آنکھوں کی
خوبصورتی کو بڑھا رہی تھی —————۔ بلاشبہ وہ حسین بھی
اک ٹرانس کی سی کیفیت میں وہ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔
تمہارے بال کتنے خوبصورت ہیں وفا — — — —
موسیٰ نے اس کے بالوں کو اپنی انگلیوں کے پوروں سے چھوتے
ہوئے کہا •••••••••۔ وفا نے حیران ہو کر موسیٰ کو دیکھا
موسیٰ کے اس مٹھاس بھرے لب و لہجے کو دیکھ کر تو وہ خوشی سے مرنے کے قریب تھی ——-
حرا تم اپنے بال کیوں نہیں بڑھاتی ؟؟ تمہیں پتہ ہے نہ مجھے کتنے پسند
ہیں ۔۔ او وہ ۔۔۔ موسیٰ مجھ سے نہیں سمبھالے جاتے حرا نخوت سی جواب دیتی ۔۔۔۔
موسیٰ کے دماغ میں حرا کی بات گونجی تھی ۔۔۔۔ اور موسیٰ کا خمار
ٹوٹا تھا — — — اس نے اک جھٹکے سے وفاکے بالوں کو مٹھی
میں پکڑا تھا ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
سسس !!! وفا کی سسکی نکلی تھی — — — —
اور چائے کا کپ جو ابھی تک اس کے ہاتھ میں تھا ہاتھ سے چھوٹ
کر گرا تھا — — — —اور اس کا پیر جلا گیا تھا
موسیٰ پلیز ۔۔۔۔۔۔میرے بال چھوڑیں ………….. مجھے درد ہورہا ہے — — —- وفا نے روتے ہوئے کہا
کیوں مجھے لبھانے کے لئے ہی تو یہ سب کرتی ہو نا — — — —
موسیٰ نے بالوں کو اور سختی سے جکڑا کر وفا کو اپنے نزدیک کرتے
ہوئے بولا ۔۔۔۔۔۔۔ وفا زرقطار روتے ہوئے اپنے بالوں کو
چھڑوا رہی تھی مگر موسیٰ بے انتہا جلال میں تھا ۔۔۔۔۔ اس کو اسُ
کا رونا قطعی نظر نہیں آرہا تھا وہ جنونخیزی میں انتہا کی حد تک تھا
اگر آج کے بعد میں نے تمہاری زلفوں کو یوں کھلا دیکھا تو یاد رکھنا
ان کے ساتھ ساتھ تمھاری گردن کاٹنے میں بھی دیر نہیں لگاؤں گا
زور سے اس نے وفا کو دھکا دیا تھا — — — — — اور
وہ پاس رکھی ٹیبل سے ٹکرا کر زمین بوس ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔
کب تک !! آخر کب تک چلے گا ؟؟؟؟ یہ سب ۔۔۔۔۔۔
وہ گھٹنوں میں سر دیے اپنے آپ سے سوال کر رہی تھی — —
ایسا پہلی بار تو نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو شادی کے شروع دن
سے ہی ایسا کر رہا تھا ,,,,,,,,, وفا کی ہر چیز سے اسے نفرت تھی
جس کا اظہار وہ ہر لمحے کرتا تھا — — — — ہلکے رنگ پہنتی ،،،،،
اس کی مرضی کا کھانا بناتی — — — — یا اس کی مرضی کے مطابق
کام کرنے کی کوشش کرتی — — — تو کہتا میری پسند میں ڈھل کر مجھے متوجہ کرنے کے چوچلے ہیں مگر میں کبھی فریفتہ نہیں ہوں گا ۔۔
اور اگر ۔۔۔۔۔۔ اس نے برعکس کوئی کام کرتی ۔۔۔۔ تو غصے سے
چیختا کے — — — آج کے بعد یہ سب کیا تو جان سے مار دوں گا
وفا تو ہراساں ہو کر رہ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ کوئی سرا ہی ہاتھ نہیں
آرہا تھا کے ۔۔۔۔۔۔۔ کیا کرے ؟؟؟؟ موسیٰ کے دل سے نفرت
دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
مگر وفا آج بھی وہی کھڑی تھی جہاں سے چلی تھی ؟؟؟؟؟؟
موسیٰ نے تو اسے اپنی نظروں میں جگہ نہیں دی تھی کجا اپنے دل تک پہنچنے کی رسائی کیسے دیتا — —- —— ——
رات وفا نے اپنے رب کے آگے رو رو کر دعائیں کی تھی ۔۔۔۔۔
اے میرے اللہ میں کیا کرو مجھے کوئی راستہ دیکھا ۔۔۔۔
کیسے میں موسیٰ کے دل سے نفرت کو مٹاؤ ،،،،، میں نے ہمیشہ ان کی
خوشی مانگی ہے تجھ سے ۔۔۔۔ موسیٰ کے دل میں میرے لیے محبت
ڈال دے میرے مولا !!! وہ شخص خود اپنا دشمن بناہوا ہے۰۰۰۰۰ ۰۰۰
آنسوں بہاتی دعا کے کیے ہاتھ اٹھائے ،،،، وہ اپنے رب کے اگے فریادیں کررہی تھی۔۔۔۔۔۔
اے میرے رب تو نے اس شخص کا ساتھ دیا ہے اسے میرا بھی
بنادے ۔۔۔۔۔۔ کے تیرے لیے یہ مشکل نہیں ………
رو رو وہ رب کی بارگاہ میں سجدہ زیر ہوگی تھی ۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭🌹🌹🌹٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
موسیٰ کی انکھ انجانے احساس سے کھلی تھی ۔۔۔۔۔۔۔ اس کو ایسا
محسوس ہوا تھا ،،،،،،،، جیسے اس کے پیرو پر کسی کے ہاتھوں کا لمس ہو — —- —- —-
اس نے مندی مندی آنکھوں سے اپنے سامنے دیکھا ۔۔ تو وفا !!
موسیٰ کے پیروں کو تھامیں زمین پر بیٹھی تھی ۔۔۔ موسیٰ کو حیرت کا
شدید جھٹکا لگا تھا،،،، وہ اٹھنا چاہتا تھا مگر وہ ایسا کر نہیں پایا تھا
وہ لمحے موسیٰ کے اندر اتر ہا تھا – ——- کچھ ہی پل بعد وفا
خاموشی سے اٹھی تھی اک نظر موسیٰ پر ڈالی اور سوفے پر لیٹ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
🍁🍁تجھے مفت میں جو مل گیے ہم
تو قدر نہ کرے یہ تیرا حق ہے🍁🍁🍁
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭🌹🌹🌹٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
رات کا اندھیرا اپنے پر پھیلائے ہوےتھا — — — پورے گھرمیں
سکوت تاری تھا ۔۔۔۔۔۔۔ دو دن بعد وہ آج گھر آیا تھا —- اس
نے ہاتھ بڑھا سے لائیٹیں جلائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو سامنے لاؤنج
کے منظر نے اسے ہلا کر رکھ دیا — — — — وفا کارپٹ پراوندھی
پڑی تھی ۔
وہ بھاگتا ہوا اس تک پہنچا تھا — — — — وفا !! وفا ۔۔ اس
نے وفا کا سر اپنی گود میں رکھ کر اسے آوازیں اس کا گال تھتھپا یا مگر
وہ بے سدھ— — ہوش وخراوش سے نیگانہ تھی ۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭🍁🍁🍁٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ڈاکٹر !! وفا ٹھیک تو ہے ،،،،، موسیٰ نے بےچین ہو کر پوچھا —-
ِان کو کوئی شدید زہنی صدمہ ہوا ہے ۔۔۔۔ جس کی وجہ سے ان کی
یہ حالت ہوئی ہے ۔۔ اور پھر شاید کافی وقت سے کچھ کھایا بھی نہیں
ہے — — — — مگر آپ فکرمند نہ ہو ،،،،، میں نے سکون آور
انجکشن دے دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ صبح تک انشاءاللہ ہوش میں آجائیں
گی ۔۔۔۔ڈاکٹر نے تسلی دی ۔۔۔۔۔ تھینک یو !!!! ڈاکٹر
وہ وفا کے پاس اس کے سرہانے بیٹھ گیا وفا کا مرجھایا ہوا چہرہ اس
کے غم کی داستان سنا رہا تھا — — — موسیٰ نے وفا کے گالوں کو
اپنے انگلیوں کے پورو سے چھوا تھا ،،،،،،،، اس کو یاد آیا تھا کے وفا
نے اس کو کہا تھا ۔۔۔۔ جب اس کا غصہ شانت ہوگا تب اسے
احساس ہوگا اس نے کیا کیا ہے — — — — اور ایسا ہی ہوا تھا
حواس بحال ہوتے ہی ۔۔۔۔ موسیٰ کو اپنے کیے کا اندازہ ہوا تھا اور
وہ مارے شرمندگی گھر بھی نہیں آیا تھا ………… بہت مشکل سے
اس نے اپنے آپ کو آمادہ کیا تھا ،، وفا کا سامنا کرنے پر ،، مگر وفا کو
اس حالت میں دیکھ کر تو جیسے —- موسیٰ ندامت کےسمندر میں غرق ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭🍁🍁🍁٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
موسیٰ مرتضی پتھر نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کو پتھر بنایا تھا ۰۰۰۰
اس کے اپنوں نے — — — — اس پر سے اعتبار کی چادر کو
چھین لیا تھا — — — — اس کے انا کو تار تار کیا تھا — —
جیالے احمد !!!! اس کی پھپپھو زاد تھی ۔۔۔ فرح پھپھوکی شادی
احمد صاحب سے ہوئی تھی جن کا دبئی میں اپنا بزنسس تھا ۔۔۔۔
پھپھو شادی کی بعد دبئی چلیں گئیں ۔۔۔۔۔۔۔ دو ، تین سالوں میں
ہی ان کا پاکستان میں چکرلگتا ۔۔۔۔ مگر ان کا رابطہ فون پر تقریباً
ہفتہ میں کئی بار ہوہی جاتا تھا — — — ان دونوں بھی پھپھو اپنی
فیملی کے ساتھ پاکستان آئی ہوئیں تھیں— — — موسیٰ کی حرا سے
منگنی ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ حرا کے سہر میں جکڑا رہتا تھا
مگر موسیٰ کو ایسامحسوس ہونے لگا تھا کے جیسے جیالے کا انداز مختلف
ہو وہ کسی نا کسی بہانے اسکے پاس رہنا چاہتی تھی ۔۔۔۔موسیٰ جہاں
بھی ہوتا اس کی نظریں اسیے اپنے اوپر محسوس ہوتی موسیٰ اس سے
قطرانے لگا تھا —- —— وہ اس کو کچھ بول نہیں سکتا تھا ——
کیوں کے !!! جیالےنے کبھی زبان سے کچھ نہیں کہا تھا تو کس چیز
کے لیے میں اسے منع کرتا — — موسیٰ سوچ ہی رہا تھا کے حرا
کو بتانے کا جیالے کے بارے میں — — — — مگر اس کا موقع ہی
نہیں آیا تھا ،،،،،،،،،،، جیالے کی اک حرکت نے اسے سب کی
نظروں میں مجرم بنا دیا تھا ۔۔۔۔۔ عائیقہ چاچی کے بھائی کی شادی
تھی ،،، سب اس میں شرکت کے لئے اک دن پہلے ہی چلے گئے تھے
مما پاپااور دادی کا شادی والے دن ہی جانے کا ادرادہ تھا۔۔۔۔ ان
دنوں کام کی وجہ سے موسیٰ شہر سے باہر تھا ۔۔۔۔۔ دپہر ہی واپسی
ہوئی تھی ،،،،،،،،، تو تھکن کی وجہ سے وہ سیدھا اپنے کمرے جا کر
سو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔ شام بھر پور نیند لے کر جب باہر آیا تو مما نے
بتایا کے ,,,,,,,, حرا کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے !! وہ پریشان ہو کر
حرا کے روم میں گیا تھا ،،،،،، حرا کو بخار تھا ۰۰۰۰ وہ دوا لے کر سو
رہی تھی ،،، تو موسیٰ واپس آگیا — — —۔ موسیٰ !!! ابھی وہ
اپنے کمرے کی جانب بڑھ ہی رہا تھا کے جیالے کی پکار پر رک گیا
تم گئی نہیں سب کے ساتھ؟؟؟؟؟ موسیٰ نے حیران ہو کر پوچھا
آپ کے بغیر میں وہاں جا کر کیا کرتی ؟؟؟؟؟ جیالے نے اک ادا سے
کہا تو موسیٰ نے کھٹک کر اسے دیکھا ،،، کیا مطلب !!! اب آپ اتنے
نادان نہیں ہیں موسیٰ کے میری فیلینگس سمجھ نا سکیں ؟؟؟
جیالے نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا— — موسی نے اک
جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا تھا،،،،، جیالے یہ کیا حرکت ہے ،، موسی
نے غصے سے کہا ۰۰۰۰۰ موسیٰ میں آپ سے محبت کرنے لگی ہوں یہ
کب ہوا مجھے بھی علم نہ ہوا مگر اب میں آپ کی بغیر اک پل نہیں رہ
سکتی ۔۔۔۔۔۔ اس کے اظہارِمحبت پر موسیٰ کا خون کھول گیا تھا
غصے میں اس کا ہاتھ اٹھا تھا اور جیالے کے گل پر نشان چھوڑ گیا تھا
شرم آنی چاہیے جیالے تمہیں اسی گری ہوئی حرکت کرتے ہوئے
ہٹو میرے سامنے سے ۔۔۔ کے اس سے پہلے میں تمہاری جان لے
لوں وہ غصے سے پھنکارا تھا — — — — موسیٰ تمہیں میرا ہونا ہوگا
اور اس کے لئے میں کچھ بھی کرنے کو تیار ہوں ——— یہ کہنے کے
ساتھ ہی ۔۔۔۔۔ اس نے چیخنا شروع کر دیا تھا ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
موسیٰ !!! چھوڑیں مجھے— موسیٰ پلیز !!!! اس کی آواز پر سب باہر
آئے تھے اور زور و شور سے روتی ہوئی جیالے دیکھا تھا — کیا ہوا
ہے جیالے ۔۔۔۔ تم اس طرح کیوں رو رہی ہو مرتضیٰ صاحب نے
جیالے کو سینے سے لگاتے پوچھا ۔۔۔ ماموں !!!! وہ ماموں موسیٰ
نے !!!!! موسیٰ نے میرے ساتھ — — — اس کے ساتھ ہی وہ
پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔۔۔ موسیٰ کیا ہے یہ سب ؟؟؟؟ مرتضیٰ
صاحب کے پریشانی سے موسیٰ سے پوچھا۔۔۔۔ وہ تو خود اس
صورت حال کو سمجھنے کوشش کر رہا تھا ۔۔۔ وہ کچھ بولتا اس سے
پہلے ہی جیالے بول پڑی — — — موسیٰ نے میرے ساتھ بدتمیزی
کرنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔ جیالے کی بات نے جہاں موسیٰ کو
حیران کیا تھا ونہی سب کو سانپ سونگھ گیا تھا تمہارا دماغ خراب ہو
گیا ہے یہ کیا فضول بول رہی ہو ؟؟؟؟ دادو نے صدمے سے کہا۔۔۔
میرا موسیٰ کبھی ایسا نہیں کرسکتا ۔۔۔۔سچ بول رہی ہوں میں نانو
آپ کو یقین نہیں آتا تو دیکھیں ————— جیالے نے اپنا گال
آگے کیا جس پر موسیٰ کے انگلیوں کی شان واضح تھے۔۔۔۔ موسیٰ
نے کہا یہ مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔ جب میں نے
انھیں منع کیا۔۔۔۔۔ تو غصے میں آپے سے باہر ہو گے اور میرے
ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ یہ جھوٹ ہے میں نے کچھ نہیں کیا موسیٰ درمیان
میں ہی چیخ پڑا اس کے کردار پر جیالے نے شدید وار کیا تھا ۔۔۔۔۔
ہاں میں نے اس پر ہاتھ اٹھایا مگر اسی کی وجہ سے ————- یہ
ساری بکواس اس نے کہ ہے میں نے نہیں ۔۔۔۔۔۔ آپ سب
میرا یقین کرئی ———حرا تمہیں تو میرا یقین ہے نا ——- تم تو
جانتی ہو میں صرف تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔۔ موسیٰ نے حرا
کے ہاتھ تھا م کر کہا ۔۔۔۔۔۔۔ اسی لئے تم بھی مجھے سب کے
ساتھ ہی شادی میں بھیجنا چاہتے تھے تاکہ یہ کر سکو ؟؟؟؟؟؟ حرا
نےاپنا ہاتھ موسیٰ کی گرفت سے کھیچتے ہوئے کہا پل بھر تو موسیٰ اسے
دیکھتا رہ گیا حرا تم ۔۔۔موسیٰ کو اپنے الفاظ گھم ہوتے محسوس ہوئے ۔۔۔۔۔۔ اس کو ایسا لگا جیسے کسی نے اس کا دل جکر لیا
ہو ۔۔۔۔۔۔۔ جیالے نے کئی بار کہا اسے تمہاری نظروں میں
اپنا آپ محفوظ نہیں لگتا———— مگر میں نہ مانی •••••••
کاش !!! میں نے اس کے بات پر یقین کیا ہوتا ؟؟؟؟؟ تو آج یہ سب
نا ہوتا ۔۔۔۔۔۔حرا نے روتے ہوئے کہا ،،،،،،،، جہاں حرا کے
منہ سے یہ الفاظ نکلے تھے تو دوسری طرف مرتضیٰ صاحب کا ہاتھ موسیٰ
پر اٹھا تھا — — — جس نے موسیٰ کے ساتھ سب کو سکتہ میں کر دیا تھا —— ———- ———-
موسیٰ نے بےیقینی سے حرا اور بابا کو دیکھا !!!!! مجھے تم سے ایسی
امید نہیں تھی موسیٰ ؟؟؟؟؟ کہ تم میری تربیت پر انگلی
اٹھاؤگے ۔۔۔۔ اپنے ہی گھر میں نقب لگاتے زرا شرم نا آئی مرتضیٰ
صاحب نے اسے جھنجھوڑکر رکھ دیا ۔۔۔۔۔ نمرا بیگم نے انھیں
سمبھالنے میں ہلکان ہوئی جا رہی تھیں مگر وہ انتہائی اشتیال میں تھے
دادو تو گویا اس پوری صورتِحال سے گنگ ہو کر رہ گئی تھی ۔۔۔۔۔۔
موسیٰ کوتو گویا اپنی ذہنی حالت مفلوج ہوتی دیکھائی دی تھی وہ اپنو
کے بیچ ہو کر بھی تنہا کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ سچا ہو کر بھی جھوٹا ہو گیا
تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی محبت نے بھی اس کا اعتبار نا کیا تھا ،،،،
تم میرا مان تھے موسیٰ !!! مگر تم نے اس مان کے دھجیاں اڑادیں
نکل جاؤ میرے گھر سے اور دوبارہ اپنی شکل بھی نا دیکھانا مرتضیٰ
صاحب نے اسے گھر سے نکل جانے کا اشارہ کیا ——— موسیٰ نے
قہر بار نگاہ جیالے پر ڈالی تھی جو اپنی آنکھوں میں فتح مندی لئے کھڑی
تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اور پھر موسیٰ بےاعتباری اور شک کے پلندوں کا ڈھیر اپنے سینے پر
لیے ممتا ہاؤس سے نکل گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شاید کبھی نا
لوٹتا مگر دادو کی طبیعت نے اسے لوٹنے پر مجبور کیا تھا ———-
پچھلے سال دادو کو ہاٹ اٹیک ہوا تھا ،،،،،،،؟ ڈاکٹر نے انھیں کسی
بھی قسم کا صدمہ دینے سے منع کیا تھا ،،،،، جس کی وجہ سے موسیٰ
دادو سے ملنے کے لیے آنے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اس دن کے وقعے
سے گھر کے بچو کو بےخبر رکھا گیا تھا ۔۔۔۔۔ کے یہ ہی بہتر تھا رفتا
رفتا بڑوں نے اس بات کو کافی حد تک بھولا دیا تھا——— مگر
موسیٰ آج بھی دو سال پیچھے ہی گھڑا تھا— — — — اپنے اندر کے
اٹھتے لاوے کو ہی وہ وفا پر نکالتا تھا مگر وہ ایسا کرنے کے بعد
اضطراب میں آجاتا تھا وفا کے آنسو اسے بےچین کردیتے تھی وہ اپنی
اس کیفیت کو غصے میں بدل دیتا تھا———- وفا کی اپنے لیے فکر
اسے اچھی لگتی تھی ——- اگر وہ جان جاتی تو پاگل ہوجاتی ۔۔۔۔
کیونکہ اس نے وفا کی نظروں میں اپنے لیے محبت دیکھی تھی——-
لیکن وہ محبت کے ہاتھوں پہلے ہی لٹ چکا تھا اس لئے وہ دوبارہ
اس منزل کا سفر نہیں کرنا چاہتا تھا ———— مگر وہ لڑکی اسے
زیروبار کرنے پر تلی تھی کس کی وجہ سے وہ جھنجھلاہٹ کا شکار ہوگیا
وہ جتنا اس سے دور ہونے کی کوشش کرتا وہ مزید اس کے پاس آتی
اس دن بھی یہ ہی ہوا تھا —————- جب حنان نے فون پر
بتایا تھا کے نمرا بیگم کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے ؟؟؟؟؟؟ موسیٰ یہ سن
کر ممتاہؤس پہنچا تھا ۔۔۔۔۔۔: مگر گیٹ پر ہی اس کی ملاقات جیالے
سے ہوئی تھی !!!!!!!! موسیٰ کو علم نہیں تھا کے وہ پاکستان آئی ہوئی
ہے ہائے۔۔۔۔ ہائے موسیٰ کیسے ہو ؟؟؟؟؟؟؟ چہرے پر مسکراہٹ
لئے وہ عام سے لہجے میں پوچھ رہی تھی — اس کا انداز موسیٰ کو سلگا
گیا تھا ——-اس نے اک نفرت پھر نگاہ اس پر ڈالی تھی۔ اور اندر
جانے لگا کے جیالے کی بات کے روک دیا ۔۔۔۔۔۔ کیا وفا کو پتہ
ہے تمہارے بارے میں ؟؟؟ اس نے معصومیت سےپوچھا ۔۔۔ویسے
نہیں پتہ ہوگا ۔۔۔۔ ظاہر سی بات ہے ورنہ وہ کیوں کرتی تم سے
شادی مجھے تم پر بہت افسوس ہوتا ہے کے اپنا گھر ہوتے ہوئے بھی
تم اکیلے رہتے ہو ۔۔۔۔۔ تم کہو تو میں ماموں سے بات کرتی
ہوں ،،،،،، جیالے مصنوعی فکرمندی سے بولی ۔۔۔۔۔ موسیٰ نے
بہت مشکل سے اپنے بڑھتے غصے کو روکا تھا ——- اور بنا کوئی
جواب دیے باہر نکل گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیالے کا قہقہ اسے اپنے پیچھے سنائی دیا تھا ۔۔۔۔۔۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭🌹🌹🌹٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
موسیٰ بھپرا ہوا گھر میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔ وفا نے دیکھا تھا
اس اس کا چہرہ خطرناک حد تک سرخ تھا — — — ———
وفا اک ہی جست میں اس تک آئی تھی !!! موسیٰ کیا ہواہے،،،،،،،
کیا بات ہے ،،،،، آپ ،، آپ ٹھیک تو ہیں — — — وفا نے
اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھنا چاہا ……………. خبردار جو مجھے
ہاتھ لگانے کی کوشش کی تو — — — — موسیٰ اک دم دھاڑا تھا
وہ سہمی ضرور تھی ۔۔۔۔۔۔ مگر اس کے پاس سے ہٹی نہیں آپ
مجھے بتایں ،،، کیا بات ہے ؟؟ کیوں اتنا پریشان ہیں ؟؟
تم ہوتی کون ہو — — یہ سوال پوچھنے والی ؟؟؟؟؟ اور کس نے حق
دیا تمہیں — — — — وہ جھٹکے سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔ اس وقت
اس کا لہجا ہی نہیں وہ خود بھی شعلہ بار ہوا بنا تھا —- —- —-
میں بیوی ہوں آپ کی !!!!! اس حق سے پوچھ رہی ہوں ،،،اچھا تو
زرہ بتاؤ !!! کب میں نے تمہیں اس حق سے نوازہ ؟؟؟؟؟ کاغذی رشتے
پر حق نہیں جمایا کرتے ——-
موسیٰ نے زور سے وفا کے بازو کو پکڑ کے کہا ——- مگر میں آج
تمہیں اس نام نیہاد رشتے سے بھی آزاد کر دوں گا
میں تمہیں !!!!!!!!!!!!! طل ۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
موسیٰ !!!!!!!! ———————
وفا کو جیسے ہوش آیا تھا وہ حلق کے بل چلائی تھی ——— اور اپنا ہاتھ اس کے منہ پر رکھا تھا ——-
خدارا ایسا ظلم نہ کریں میں مر جاؤں گی —-ابھی آپ کو احساس نہیں آپ کیا کرہے ہیں وہ روتے ہوئے موسیٰ
کے پاؤں میں گری تھی اس سے التجا کر رہی تھی وہ غصے میں پیر چھوڑاتا باہر نکل گیا ،،،،،
💔💔زخم جھیلے داغ بھی کھائےبہت
دل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت💔💔