Teri Chah Ka Mousam 1947 by Eshal Khan NovelR50634 Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 18)
Rate this Novel
Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 18)
Teri Chah Ka Mousam 1947 by Eshal Khan
سارا دن سونیا اسی کشمکش میں مبتلا رہی
امن یہ کیا کہہ گیا تھا
کیوں کہا ایسا؟
یہ غلط ہے میں ایسا نہیں کر سکتی
بس دفع کرو میں خود یہاں سے چلی جاؤںگی
وہ خود ہی فیصلہ لیتی رہی
مگر دماغ اسے لتاڑتا رہا
نا محرم کے بغیر سفر کیسے کرو گی
تمہیں یہاں محرم کی ضرورت ہے جو تمہاری حفاظت کر سکے
وہ مجھے ابا کے پاس چھوڑ کر اگر طلاق نا دے تو میں پھر کیا کروںگی؟
میں کسی اور کے ساتھ ہی چلی جاتی ہوں
مجھے اس انسان سے مدد مانگنی ہی نہیں چاہیے تھی
آزادی کے وقت جہاں سب جا رہے ہون گے میں بھی نکل جاؤں گی
ہاں یہی بہتر ہے
عجیب مشکل میں گرفتار تھی
یا اللہ میری مدد فرما
وہ رو دی
مجھے استخارہ کرنا چاہیے اللہ سے مشورہ کرنا ہے
اور استخارہ کر کے وہ سو گئی
“سبزے کی چادر پر چارو طرف پھول ہی پھول بکھرے ہوئے تھے وہ تنہا ابو بکر کو پکار رہی تھی
ابو بکر کہاں ہو؟ سامنے آؤ ابو بکر بہت چیخ کر سونیا نے ابو بکر کو پکارا تھا
اور جھٹکے سے سونیا اٹھ بیٹھی
میں ابو بکر کو کیوں پکار رہی تھی ؟
سونیا حیران سی تھی
مگر اس سوال کا جواب اسے جلد ملنے والا تھا
سونیا کو ابھی بھی چارو طرف سے پھولوں کی مہک آرہی تھی
شاید رب بھی یہی چاہتا ہے
سونیا نے فیصلہ لیا
سحری کا وقت تھا
سونیا آہستگی سے اٹھ کر نیچے آئی
فیصلہ تو وہ لے چکی تھی مگر دل اداس تھا
امن سنگھ پر ایک دم غصہ آنے لگا
کوئی اور راہ نہیں نکال سکتا تھا وہ ؟
یہی راہ کیوں آخر؟
سحری کرنے کے بعد سونیا اسی کمرے میں آئی جہاں امن سنگھ بیٹھا ہوا تھا
سونیا کو لگا وہ اسی کے انتظار میں تھا
کان اسکے دروازے کی آہٹ پر تھے
ایک تسبیح اسکے ہاتھ میں تھی جس پر وہ شاید کلمہ پڑھ رہا تھا
بغیر چونکے وہ اسے دیکھے گیا
“مجھے…… آپ سے…….. نکاح….. منظور ہے” یہ الفاظ ادا کرتے ہوئے سونیا کی زبان لڑکھڑا گئی
شاید اسکی آواز بھرا گئی تھی
اور شاید اسکا وجود بھی کانپا تھا
امن نے اثبات میں اپنا سر ہلایا
سونیا کو امن کا ہلتا سر اس وقت بہت زہر لگا
وہ قدرت پر حیران تھا من چاہا ساتھی کا ساتھ رب اسے عطا کرنے والا تھا
سونیا رکی نہیں فوراً مڑ گئی تھی
اپنے کمرے میں آکر بے تحاشہ وہ رو دی
یہ أزمائیش نجانے اب کب ختم ہوں
یا اللہ مجھ پر رحم فرما
دور کہیں فجر کی اذان دی جا رہی تھی
خاموشی میں اذان کی آواز روح تک کو سکون دے رہی تھی
سونیاکی روح کو بھی قرار آنے لگا
یا اللہ مجھے تنہا نا چھوڑنا
نماز کی نیت باندھنے سے پہلے سونیا نے دعا کی
————–
باہر کی کھٹر پٹر سے سونیا کی آنکھ کھلی اور کچھ دیر تو وہ سست سی اپنی جگہ پر پڑی رہی اور پھر جھٹکے سے اٹھ بیٹھی
اور کمرے سے باہر آئی
ماں چولہے کے پاس بیٹھی ناشتا بنا رہی تھی
“ماں مجھے جاگا دیتی آپ کیوں بنا رہی ہیں ابھی آپ ٹھیک نہیں ہوئیں
سونیا ماں کے پاس آئی
“سارا دن بھوکی پیاسی میری چندا کام کرتی ہے میں بلکل ٹھیک ہوں” ماں اسے پچکار کر بولی ” جا کمرے میں نیند پوری کر.” ماں نے اسے اندر بھیجنا چاہا مگر سونیا کا دل نہیں مانا اور ماں کی مدد کروانے لگی
ماں کو اس پر بہت پیار آیا
اسی دوران امن سنگھ کمرے سے نکلا “کہاں جا رہا ہے؟” ماں دروازے کی طرف جاتے دیکھ کر اسے بولی
“ماں کچھ دیر میں أتا ہوں فکر نا کرو” وہ یہ کہہ کر باہر نکل گیا
سونیا جان بوجھ کر اسے دیکھ نہیں رہی تھی
اسے نکاح کا کہہ تو دیا تھا لیکن اب دل خوف ذدہ تھا کہیں یہ اسلام سے پھر نا جاۓ ؟
پھرتا ہو تو پھر جاۓ میں نے کونسا ساری زندگی اسکے ساتھ رہنا ہے
دل تھوڑا مطمئن ہوا
ماں کی مدد کروا کر اب سونی برتن دھو رہی تھی
اس گھر میں کام کر کے سونیا کو وہی سکون ملتا تھا جو اپنے گھر میں کرنے سے ملا کرتا تھا
آج پاون اور کلدیپ دکان پر گئے تھے
پتا بھی گھر پر نہیں تھے
ظہر کی ازان پر وہ ظہر کی نماز پڑھ رہی تھی
تب انجلی اور اسکے پتا گھر میں آۓ
“تم نے مسلم لڑکی کو گھر میں پناہ آخر کیوں دی ہے؟
انجلی کے والد منوج سنگھ اپنی بھابھی پر سخت برہم تھے
“معصوم سی لڑکی ہے ہمارے ساتھ رہ رہی ہے بیٹی کی کمی پوری ہو گئی ہے” کوشلیہ نے اپنے آواز دھیمی رکھی مگر دوسرے کمرے سے اسکے کمرے تک یہ آواز سونیا نے سلام پھیرتے ہوۓ سن لی تھی
یقیناً بھڑکانے آۓ ہیں
میری وجہ سے انکی زندگیوں میں کوئی أفت نا آجاۓ مجھے یہان سے جلد نکلنا ہوگا
دعا مانگتے ہوئے سونیا کا زہن تانے بانے بن رہا تھا
“آپ لوگ جلد سے جلد اس لڑکی کو یہاں سے نکالے اور اس ملک میں بھیجے جس کے لئے یہ مسلمان تڑپ رہے تھے ورنہ مجھے کوئی اور قدم اٹھانا ہوگا” منوج سنگھ کے ارادے نیک نہیں تھے
سونیا دل و جان سے کانپ اٹھی
کوشلیہ کو بھی جوش أگیا “کیوں یہ تمہارے گھر میں رہ رہی ہے جو تمہیں اتنی تکلیف ہو رہی ہے؟” کمر پہ ہاتھ رکھے کوشلیہ غصہ میں کھڑی تھی
“بھابھی تم ایک غیر لڑکی کی خاطر ہم سے لڑائی کرہی ہو؟”منوج سنگھ کا بس نہیں چل رہا تھا سونیا کو دھکے دے کر اس گھر سے نکال دے
“ٹھیک ہم خود بھی سونیا کے ساتھ یہاں سے چلے جاۓ گے اگر تمہیں ہم برداشت نہیں ہو رہے تو” کوشلیہ اب تھک کر پلنگ پر بیٹھ گئیں
انجلی خاموش کھڑی تھی جیسے اس گفتگو سے اسے کوئی سروکار نا ہو
منوج سنگھ خاموش رہے
“یہ لڑکی کوئی جادو گرنی ہے جس نے آپ سب پر جادو کر دیا ہے جو اسکی ہی زبان بول رہے ہو” اسی دوران امن گھر میں داخل ہوا اور سیدھا چچا کے پاس رکا
“امن تم ہی اپنی ماں کو سمجھاؤ کیوں ایک مسلم کو گھر میں رکھ کر نحوست پھیلائی ہوئی ہے اور اسکی وجہ سے برادری تمہارے گھر پر بھی حملہ کر جاۓ گی سمجھاؤ اپنی ماں کو” منوج سنگھ اب امن کی طرف مڑ گئے تھے
“کاکا یہ لڑکی اتنے مشکلات دیکھ کر آئی ہے اگر ہم نے ہمدردی میں اسے پناہ دے دی تو دنیا کو اسے کیا مسئلہ ہے ہم اسکا خرچہ کسی سے مانگ تو نہیں رہے یا اسکا کھانا کسی کے گھر سے أرہا ہے؟تو پھر اسکے یہاں سورج سنگھ کے گھر پر رہنے پر دنیا کو کیوں اعتراض ہے” امن سنگھ کی آواز اور لہجہ کافی بلند تھا منوج سنگھ خاموش ہو رہے
“کیا أپکا دھرم کسی مجبور بے کس کی مدد سے أپکو روکتا ہے”؟ وہ چچا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھ رہا تھا
“میرا نہیں خیال دنیا کو کوئی دھرم اس نیکی سے روکتا ہوگا تو پھر آج ہم انسانیت کو کیوں بھول گئے ہیں کیوں بے گناہوں کا قتلِ عام کرتے ہوئے ہمارے ہاتھ نہیں کانپے اور اگر ہم نے اس لڑکی جسکا سرے سے کوئی قصور ہی نہیں پناہ دے دی تو دنیا کو کیوں تکلیف ہو رہی ہے”امن سنگھ چچا کے سامنے آکھڑا ہوا تھا
“امن سنگھ تم یہ اپنے حق میں اچھا نہیں کرہے ہو بیچ میں دھرم کو مت لاؤ” منوج سنگھ انگلی اٹھاۓ امن سے کہہ رہے تھے
“کاکا میرا دل اور میری روح شانتی محسوس کرہی ہے میرا دل مطمئن ہے بس یہی کافی ہے”
امن سنگھ اب چچا سے منہ پھیرگیا تھا
کوشلیہ خاموش تھی
بیٹھے بٹھائے کیا مصیبت آگئی تھی
منوج سنگھ کے تیور بہت خطرناک تھے
اور اگلے ہی پل وہ اور انجلی یہاں سے چلے گئے
کچھ دیر بعد پتا جی بھی آگئے کوشلیہ نے انہیں ساری کہانی سنائی
“یہ منوج شروع سے ہی ہم سے بغض رکھتا تھا اب اس موقعہ پر اپنی خار نکال رہا ہے” پتا جی بہت متفکر ہوگیے تھے
“منوج کا دل بہت کالا ہے نجانے اسکے کالے دل میں اب کون سی کھچڑی پک رہی ہوگی” ماں بہت پریشان بیٹھی ہوئی تھیں
دل انجانے وسوسوں کا شکار تھا
گھر کی فضا ایک دم اداس ہو گئی تھی
اندر سونیا خود کو کوس رہی تھی جس کی وجہ سے اس گھر پر آفت آنے لگی تھی
مجھے خود ہی یہاں سے نکل جانا چاہیے
وہ شش و پنج مبتلا تھی
نجانے میری وجہ سے اس خاندان پر کوئی بہت بڑی آفت نا آجاۓ
وہ اپنی سوچوں میں بری طرح گھری ہوئی تت
“سونیا بٹیا” ماں اسکے کمرے میں اسکے پاس آئی
“میں اور تمہارے پتا جی منڈیر والے مندر چڑھاوا چھڑہانے جا رہے ہیں گورونانک ہماری مدد کرے اس مندر کی مننت کبھی رد نہیں ہوتی یہاں امن سنگھ ہے تم پریشان مت ہونا” ماں اسے حوصلہ دیتی چلی گئ
سونیا امن سنگھ کے ساتھ اس گھر میں تنہا رہ گئی
اور کچھ ہی دیر بعد امن اسکے پاس آیا
“بڑی سی چادر پہن کر آپ خود کو چھپا کر باہر آجاۓ” امن سنگھ دروازے کے باہر سے بولا
سونیا کا دل گھبرا اٹھا مگر وہ چادر پہنے باہر آگئی
امن سنگھ نے اسے باہر گھر سے نکلنے کا اشارہ کیا
سونیا حیران ہوئی
کیا یہ مجھے گھر سے نکال رہا ہے
دل اندیشوں میں گھِر چکا تھا
وہ باہر آکر کھڑی ہوئی اور اگلے ہی لمحے امن سنگھ باہر نکل آیا اور گھر کے بڑے سے دروازے پر تالہ لگا دیا
“چہرہ چھپا لیں” آگے چلتے ہوئے امن نے اسے اگلی ہداہت جاری کی
سونیا نے اسکی بات پر خاموشی سے عمل کیا
اور اسکے پیچھے اسکی ہمراہی میں وہ چل رہی تھی
یہ آخر مجھے کہاں لے کر جا رہا ہے
سونیا صرف سوچ رہی تھی مگر پوچھنے کی ہمت اسکے اندر نہیں تھی
ایک چھوٹے سے گھر میں وہ داخل ہوئے
گھر کے دروازے کے ساتھ بنے کمرے میں وہ امن کے ساتھ داخل ہوئی وہاں ایک مولوی بیٹھے قران پاک پڑھ رہے تھے
“آجاؤ بیٹا” وہ امن اور سونیا کو دیکھتے ہوئے بولے
“بیٹھ جاؤ” وہ دونوں خاموشی سے چٹائی پر بیٹھ گئے
سونیا کا دل پسلی توڑ کر باہر آنے کو بے تاب تھا
وہ سمجھ چکی تھی امن اسے یہاں کیوں لایا ہے
“بیٹا یہ نکاح آپ اپنی مرضی سے سے کرنا چاہتی ہیں؟” وہ بہت شفقت سے سونیا سے پوچھ رہے تھے
“جی” بہت پھنسی ہوئی آواز میں سونیا بول سکی تھی
کچھ ہی دیر میں گواہ بھی آ موجود ہوۓ
سونیا کی حالت بہت درگور تھی أنسوں بند توڑ کر بہہ رہے تھے
ابا
دل نے بے ارادہ باپ کو یاد کیا
ہتھیلی پسینے سے تر تھی
دل کا حال عجیب تھا
دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دے رہی تھی
گواہ میں کون کون تھا سونیا کو کچھ خبر نہیں تھی
ایک لڑکا سونیا کے بھائی کا کردار ادا کرہا تھا پاس آکر اس نے سونیا کے سر پر ہاتھ رکھا تھا
ایک آنسو اسکی آنکھ سے ٹوٹ کر گال پر بہا تھا
“سونیا ولد کریم دین آپکو ابو بکر ولد سورج سنگھ بعوض حق مہر بتیس روپے نکاح میں قبول ہے؟ مولوی صاحب سونیا سے سوال کرہے تھے
سونیا تشدر بیٹھی ابو بکر نام پر پتھر بن گئی
کمرے میں چارو طرف ابو بکر کی بازگشت سنائی دے رہی تھی
سوال دوبارہ دہرایا جا رہا تھا
“جی قبول ہے”
آنسوں بھری آواز میں بہت دکت سے وہ بول سکی تھی
