Teri Chah Ka Mousam 1947 by Eshal Khan NovelR50634 Last updated: 20 April 2026
Rate this Novel
Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 01)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 02)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 03)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 04)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 05,06)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 07)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 08)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 09)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 10)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 11,12)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 13)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 14)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 15)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 16,17)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 18)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 19)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 20)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 21)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 22)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 23)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 24)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 25)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 26)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 27)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 28)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 29)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 30)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 31)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 32)Teri Chah Ka Mousam 1947 (Last Episode)
Teri Chah Ka Mousam 1947 by Eshal Khan
اس چھوٹے سے گاؤں گنجنگ سنگھ جو لاہور سے 3,4 گھنٹے کی مسافت پر تھا اس گاؤں میں چوہدریوں کی بہت عزت تھی کیونکہ چوہدریوں میں اپنی امارت اور دولت کا غرور نہیں تھا وہ گاؤں کے باقی لوگوں سے محبت سے ملتے تھے اسی وجہ سے گاؤں والوں کے دلوں میں انکی بہت عزت و احترام تھا
چوہدری سجاول باہر برآمدے میں تخت پر اماں کے ساتھ بیٹھا ہوا کچن میں کام کرتی سونی کو دیکھ رہا تھا کچن کی دیوارگیر کھلی کھڑکی سے وہ اسے چولہے کے پاس پیڑی پر بیٹھی جھلک دکھلا رہی تھی
چوہدری اسے دیکھ دیکھ اپنا دل ہارے جا رہا تھا
ایسا بانکپن تو اس نے کسی لڑکی میں دیکھا نا تھا کہ نظر انداز کرتی بھی دل پر چھریاں چلا رہی تھی
سدا کی کام چور نازنین پھرتی سے کچن میں آئی شربت بنا نےلگی
سونی اسے مکمل نظر انداز کیۓ چولہے کی طرف متوجہ تھی
اماں اسے پاس بیٹھاۓ شہد لہجے میں بات کرہی تھی
"سونی" اماں نے اسے آواز لگائی
سونی ان سنی کیۓ ہانڈی بھونتی رہی
"سونی " اب اماں کی آواز میں وارننگ تھی سونی کو بحالتِ مجبوری اٹھنا ہی پڑا
"بولو اماں" چوہدری کو مکمل نظر انداز کیۓ سونی نے اماں سے کہا
نازنین بھی اسی تخت پر اماں کے ساتھ بیٹھی تھی جہاں سجاول پراجمان تھا
"سجاول کو ایک پڑھی لکھی لڑکی کی ضرورت ہے پورے گاؤں میں ایک تو ہی پڑھی لکھی ہے اتنی, باقی جو پڑھی ہوئی تھی بھی تو وہ نالائق ہیں"
سونی اماں کی بات کو سمجھ نہیں سکی وہ ہونقوں کی طرح اماں اور سجاول کو دیکھ رہی تھی
"سجاول اپنے گھر میں بڑی عمر کی عورتوں کو ابتدائی تعلیم سے روشناس کرانا چاہتا ہے جوگھروں میں رہتی ہیں مگر انہیں پڑھنےکا شوق ہے اسی لیۓ تیری ضرورت ہے آئی تیری موٹی عقل میں بات" اماں کو اتنی تفصیلی بات بتانے پر جلال أگیا تھا
سجاول نے سر جھکا کر اپنی ہنسی دبائی
"اماں لیکن میں...." ابھی سونی انکار کرہی رہی تھی اماں نے اسے بیچ میں ٹوک دیا
"چپ رہ تو کرتی کیا ہے دن بھر ,اچھا ہے لوڑ لوڑ پھرنے سے کوئی اچھا کام ہی کر لے تو" اماں نے اسے لتاڑ کر رکھ دیا
"میں نیک نیتی سے یہ کام کرنا چاہتا ہوں گاؤں کی عورتیں ایک خط پڑھانے کے لیۓ بھی کسی کا سہارا تلاش کرتی ہیں میں انہی عورتوں کو اتنا پڑھا دینا چاہتا ہوں کہ وہ کم از کم خود پڑھ کر ایک خط لکھ سکے اس کام میں مجھے آپکی ضرورت ہے " چوہدری سجاول اب براہِ راست اسے دیکھتے ہوئے بول رہا تھا
سونی اسکے ساتھ یہ نیک کام کرنے کے حق میں نہیں تھی اسے پہلے کے سونی کچھ بولتی اماں نے جھٹ کہا "یہ ضرور آۓ گی بے فکر رہو نیک کام تو بھاگ کر کرنے چاہۓ"
سونی اماں کو دیکھ کر رہ گئی
چوہدری سجاول کچھ دیر بیٹھ کر مسکراہٹ اچھال کر چلا گیا اسکے جاتے ہی اماں نے سونی کے لتے لیۓ
"تیرا دماغ ٹھیک ہے تو چوہدری کے کام کو کیسے منع کر سکتی ہے احسان فراموش ہے تو, اس گاؤں پر چوہدریوں کے اتنے احسانات ہیں کے گنواۓ نہیں جا سکتے" اماں سخت تیش میں آئی ہوئی تھی
سونی خاموشی سے کھانا بنا کر اب روٹیاں بنا رہی تھی
سونی نے کوئی جواب نہیں دیا اماں خود تھک ہار کر اسے بکتی جھکتی چلی گئیں
شام کو اماں نے ابا کو خوب مرچ مصالحہ لگا کر آج کا واقعہ بتایا اور اس میں سونی کی ان گنت بد تمیزی گنوائی
ابا کا بھی خون خوب جوش مار اٹھا "پڑھ لکھ کر ڈبو دیا اس لڑکی نے" ابا سخت مایوس ہو چکے تھے "کیسی نا حلف اولاد اللہ نے عطا کی" ابا مایوسی سے اب شکوہ کناں تھے "مولا تیرے کام نرالے" ابا نے آسمان کی طرف منہ اونچا کر کے کہا
"ابا میں نہیں پڑھانا چاہتی " سونی نے أہستہ سے ڈرتے ڈرتے کہا
"زابان درازی نہ کر " ابا دہاڑ اٹھے " جو تیری ماں نے کہہ دیا سو کہہ دیا سمجھی" ابا کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو رہی تھی
سونی نے ابا کو دیکھا اور ایک نظر اماں اور نازنین کو دیکھا انکے چہروں پر ہنسی کھل رہی تھی جو استہزا سے بھرپور تھی.
ان سب میں سونی نے خود کو بہت تنہا محسوس کیا وہ اماں اور نازنین کو کچھ نہیں کہتی تھی اسکے باوجود دونوں اسے دشمنی نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی تھیں
سونی اداسی سے اپنے کمرے میں آگئی
اور چارپائی پر لیٹ گئی
اچھا ہے پھر دونوں ماں بیٹیوں کو خود کام کاج کرنے پڑے گے تب اندازہ ہوگا میں کتنا کام کرتی ہوں اماں کو خود کام کرنا پڑے گا نازنین تو کبھی ایک گلاس نا دھوۓ
سونی سوچوں کے تانے بانے بن رہی تھی
باہر سے اماں نے اسے أواز دی "سونی روٹیاں بنا لے آکر" اماں غصے سے کہہ رہی تھیں
سونی نا چاہتے ہوئے اٹھی اور چولہے میں أگ جلانے لگی أٹا اس نے کچھ دیر پہلے ہی گوندھا تھا
روٹیاں بنا کر اس نے خود دسترخوان لگایا اور کھانا دستر خوان پر چن دیا
نازنین حسبِ معمول ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کھا رہی تھی
"حالات عجیب سے ہو رہے ہیں " ابا اماں سے مخاطب تھے " ملک تقسیم ہوگا تو ملک کا بٹوارہ ہوگا وہاں سے یہاں لوگ آۓ گے"
"بس رہنے دو ملک تقسیم نہیں ہونے کا, کب سے ایسی خبریں سنتے آرہے ہیں آج تک تو ہوا نہیں اب تو ہم بڈھے بھی ہو گئے" اماں کی اپنی لوجک تھی
"ہنہ" ابا نے ہنکار بھرا ایسا ممکن نہیں تھا اماں کچھ کہے اور ابا ہاں میں ہاں نا ملاۓ
اور سونی خالہ کے بارے میں سوچ رہی تھی جس کی بیٹی کی شادی میں اس نے جانا تھا
اچھا ہے وہاں چلی جاؤں کچھ دن سکوں سے تو زندگی گزرے گی
شیری بھی کام ڈھونڈنے میں مصروف ہے
ملک بٹوارے کا سن کر سونی نے بات میں حصہ لیا
"اچھا ہو اگر الگ ملک بن جاۓ ہمیں الگ ریاست ملے گی جہاں مسلمان آرام سے رہے گے ویسے بھی ہم ہندوں سے مختلف ہیں ہمارا مذہب, ہمارا رہن سہن, ہمارا کھانا پینا اور ہماری روایات ان سے مختلف ہیں " سونی نے ابا سے کہا
ابا بھی سونی کی بات سے رضا مند تھے
"مجھے پچپن میں یاد ہے ہندوؤں نے دہلی کے مسلمانوں کو بہت زرک پہنچایا تھا یہ بات سرکار نے دبا لی تھی " سونی کی ہر بات بلکل سچ تھی "ہر بڑی کرسی پر وہی ہندو اور سکھ پراجمان ہیں مسلمان بیچارے بس چوکیداری یا اسی طرح کے عہدوں سے أگے نہیں اتے اب مسلم لیگ پارٹی کی وجہ سے شکر اب مسلمانوں کو حقوق ملنا شروع ہوۓ ہیں اور اگر الگ ریاست بن جاتی ہے تو سوچو ہمارے سارے حقوق تسلیم کیۓ جاۓ گے مسلمان چین سے اور سکون سے رہے گے " سونی کی باتیں اماں کے دل کو بھی لگی مگر وہ اپنی عادت سے بہت مجبور تھی
"بس زیادہ باتیں نا بھگار چل دستر خوان سمیٹ" نازنین تو کھانا کھا کر کمرے میں جا چکی تھی اسکی اپنی دنیا تھی جس میں وہ مگن رہتی تھی گھر کے کام کاج سے اسے کوئی غرض نہیں تھی
دستر خون سمیٹ کر سونی نے برتن دھو کر کچن سمیٹا اور وضو کر کے کمرے میں آئی
کمرا خالی تھا نازنین شاید اماں ابا کے کمرے میں تھی
سونی نے بہت خشو و خضو سے نماز ادا کی اور اپنی اور شیری کے ملن کی دعا سچے دل سے کی ایک وہی تو تپتی دھوپ میں آبشار کی طرح تھا جس کے پیار میں وہ بھیگ جایا کرتی تھی
اور ہمیشہ بھیگتے رہنا چاہتی تھی
نماز پڑھنے سے دل کو سکون ملا جو کل کے خیال سے اداس تھا کل اس نے چوہدریوں کی حویلی جانا تھا
اس نے سوچ لیا جب ایک کام کرنا ہی ہے تو خوشی سے کیوں نا کر لیا جاۓ
اسی میں اسکے لیۓ اللہ پاک کی مصلحت ہوگی
بے شک اللہ جانتا ہے انسان نہیں جانتا
اسی سوچ نے سونی کے دل کو گونا سکون دیا
نماز سے فراغت کے بعد وہ بستر پر لیٹ گئ اور مستقبل کے حسین خواب شیری کے سنگ بننے لگی اور کب اسکی آنکھ لگی اسے خبر نا ہوئی
