Teri Chah Ka Mousam 1947 by Eshal Khan NovelR50634 Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 03)
Rate this Novel
Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 03)
Teri Chah Ka Mousam 1947 by Eshal Khan
سونی نہیں جانتی تھی وہ کس طرح پلٹ کر سیڑھیاں اتر کر اپنا وجود گھسیٹتی ہوئی واپس کمرے میں آئی تھی
اسے اپنا دھان پان سا جسم اٹھانا دو بھر ہو چکا تھا
ایک شاک کی کیفیت میں وہ چارپائی پر حیرت سے بت بنی بیٹھی تھی
أسمان اس پر أگرا تھا
اسکا وجود حرکت کرنے سے قاصر تھا
جو اسکی آنکھوں نے منظر دیکھا تھا دماغ نے ماننے سے انکار کر دیا تھا
اندر دماغ کی جنگ جاری تھی
دل اوردماغ کہتے جو آنکھوں نے دیکھا ہے وہ غلط دیکھا ہے مگر آنکھیں ڈٹی ہوئی تھیں اور پھر دل و دماغ نے ہتھیار ڈال دیئے
اور سونی پھوٹ پھوٹ کر رو دی
اتنا بڑا دھوکہ یا خدا
کہاں جاؤں
کس پر یقین کروں
شیری یہ تم نے کیا کر دیا میرے ساتھ ؟
میرے پیار کو تم نے یوں رسوا کیا.
شیری کا گھر پچھلی گلی میں تھا پیچھے سے انکی چھت سونی کے گھر کی چھت سے ملی ہوئی تھی اور رات کے اس پہر سونی نے جب چھت پر جا کر نازنین کا پیچھا کیا تو وہاں نازنین کے ساتھ کوئی اور نہیں بلکے شیری تھا
اسکا اپنا شیری
جسے وہ بے پناہ محبت کرتی تھی
جس سے وہ اپنا ہر درد دکھ بانٹا کرتی تھی
وہ شیری جس سے وہ رب سے رو رو کر مانگتی تھی
یہ کیسا درد تھا جو آنکھوں سے دل کی طرف گیا تھا
اتنا بڑا دھوکہ جس کا سونی نے کبھی گمان تک نہیں کیا تھا
نہ زمین پھٹی تھی نہ آسماں گرا تھا
کائنات کا نظام ویسے ہی اپنے طریقے پر رواں تھا
یہ کیسی قیامت ہے جو صرف اسکے لئے ہی برپا ہوئی ہے
مگر اسکی دنیا ضرور اجڑ گئی تھی
سونی تکیے میں منہ چھپائے روتی چلی گئی
دل بے دردی سے توڑا گیا تھا
ایسا یقین تو وہ خود پر بھی نہیں کرتی تھی جتنا اندھا یقین اسنے شیری پر کیا تھا
اسکی محبت کی اتنی بڑی تزلیل وہ کر گیا تھا اور سونی کو اسکی خبر أج ہوئی نجانے وہ کب سے اسے یہ دھوکہ دیتا چلا آرہا تھا سونی نے تو محبت کی ڈور تھامی ہوئی تھی اور شہریار کے پیچھے پیچھے چلی أرہی تھی
مگر
اسے آج علم ہوا کہ وہ راستہ تو غلط راستہ تھا جسکا ہاتھ تھاما ہوا تھا اس نے تو رستہ بدل لیا تھا ایک وہی تنہا سفر کرہی تھی
تمہیں نازنین ہی ملی اس کام کے لئے شیری
شیری تم اتنی بڑی بے وفائی کرو گے گمان تک نہیں تھا
وہ تکیہ میں منہ چھپاۓ بلک بلک کر رو دی تھی
اور ساری رات روتے رہنے کی بدولت صبج سونی بخار میں پھنک رہی تھی
اماں صبح اسے ناشتے کے لئے جگانے آئی تو اسے بخار میں جلتے دیکھ کر پریشان ہونے کی بجاۓ انہیں جلال آگیا
اب یہ کیا ڈرامہ ہے ” سونی اٹھتی ہے یا نہیں ؟” وہ غصے سے سونی کے سر پر کھڑی تھیں “تیرا باپ ناشتہ کرےگا اٹھتی ہے یا بتاؤں تجھے؟”
وہ غصے سے بھری اسکے سر پر سوار تھیں
کچھ لوگ ہوتے ہیں جنہیں خوفِ خدا نہیں ہوا کرتا سونی کی سوتیلی ماں کا شمار انہی میں ہوتا تھا
بیوی کی تیز آواز سن کر سونی کا ابا کمرے میں آگئے
“کیا ہوا ؟” وہ سونی کی چارپائی کے قریب آۓ اور ایک نظر دوسری چارپائی پر ڈالی جہاں نازنین سوئی ہوئی خراٹے لے رہی تھی
ابا نے آواز دی تو سونی با مشکل جنبش کر سکی
اور ابا نے تب اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھا تو گھبرا گئے سونی کا ماتھا انگار بنا ہوا تھا
ابا باہر کو دوڑے
اور کچھ دیر بعد ہی حکیم کو لے کر لوٹے
ابا بہت پریشان ہو گےتھے سونی کبھی بیمار نہیں ہوتی اور اب اتنا تیز بخار.
ابا کی پریشانی بجا تھی
اور اماں اتنا ہی خونخوار ہو رہی تھیں
کچھ دیر بعد حکیم واپس لوٹ گیا اور آرام کی سخت تلقین کی اور وقت پر دوا دینے کا کہا
یہ وہ وقت تھا جب اتنے ڈاکٹر نہیں ہوا کرتے تھے
“اسکے لئے دودھ گرم کر کے لاؤ پھر اسے دوا دیتا ہوں” ابا پاس کھڑی اماں سے مخاطب تھے جنکی نظر نفرت لئے سونی پر جمی ہوئی تھی
اب اس مہارانی کی مجھے خدمت کرنی ہو گی اتنے برے دن آگئے اماں بڑبڑاتی ہوئی دودھ گرم کرہی تھیں
اس وقت ابا کے سامنے خاموش رہیں
با مشکل نیم بے ہوش سونی کو دودھ پلا کر دوا دی گئی
اور دوا نے اثر شروع کیا سونی کا بخار کم ہونا شروع ہو گیا مگر کمزوری سے جسم ٹوٹ رہا تھا
اور اماں کا بس نا چلتا تھا سونی کو دھنک کے رکھ دیں عرصہ بیتا انہوں نے کام سے ہاتھ کھینچ لیا تھا اب ان سے کوئی کام نہیں ہوتا تھا اور اب سونی کی بیماری کی وجہ سے کام انکے سر آگیا نازنین سے تو اماں کو توقع ہی نہیں تھی
اماں جلے دل سے کھانا بنا رہی تھیں اسی وقت دروازہ بجا
ایک تو اس گرمی میں وہ چولہے کے سامنے بیٹھی بجتے دروازے کو انہوں نے کچن سے تیش سے دیکھا
“کون ہے؟” اماں وہی سے دھاڑی اماں کی اتنی اونچی آواز پر نازنین کمرے سے زیادہ اونچی آواز میں چلائی
“اماں آہستہ چیخ ” نازنین کا لہجہ کافی بدتمیزی لئے ہوۓ تھا
باہر کھڑے سجاول نے یہ لہجہ بخوبی سنا اور بہت ناگواری محسوس کی.
امان نے دروازہ اس نیت سے کھولا سامنے بندے کو کھری کھری سنا ڈالے گی
مگر چوہدری سجاول کو دیکھ کر اماں شرمندگی سے بوکھلا اٹھی
“چوہدری سجاول أجائیں آپکو دروازہ بجانے کی کیا ضرورت تھی ” اماں ایک دم سرشار ہو اٹھی کیونکہ سجاول کے ساتھ پھل کی پیٹی تھی جو یقیناً انکے باغ کے تھے
سجاول سر جھکاۓ گھر کے اندر داخل ہوا اور پیٹی صحن میں احتیاط سے رکھ دی
چوہدری سجاول کا سن کر نازنین بہت پھرتی سے باہر نکلی اور سجاول نے کافی ناگواری سے اسے دیکھا
“میں سونیا کا معلوم کرنے آیا تھا وہ آج آئی نہیں” وہ اب باہر تخت پر بیٹھتے ہوئے بولا تھا اور نازنین اسے ہوا جھلنے لگی
نازنین کا اپنے سر پر سوار ہونا چوہدری کو کوفت میں مبتلا کرہا تھا مگر وہ خاموش رہا
“وہ تو بہانہ بناۓ چارپائی توڑ رہی ہے” اماں کو تو جیسے بہانہ مل گیا تھا “صبح سے کمرے سے نہیں نکلی بس پڑی ہے بخار لیے” اماں دل جلے سے بولی
چوہدری سجاول جو ابھی سہی طرح سے بیٹھا بھی نہیں تھا فوراً کھڑا ہوا
“کیا ہوا سونیا کو” سجاول کی بے ساختہ نظر سونی کے کمرے کی جانب اٹھی اور دل کیا فوراً وہاں پہنچ جاۓ
“جا نازنین اسے بلا کر لا مہارانی کو” اماں آج کام کی زیادتی پر کافی غصے سے بھری ہوئیں تھیں
سجاول یہ سن کر دوبارہ بیٹھ گیا
نازنین سونی کے سر پر جا ٹہری
“سونی اٹھ چوہدری آیا ہے” وہ بے دردی سے سونی کا ہاتھ ہلا رہی تھی
سونی کا بخار کچھ کم تھا مگر جسم درد کرہا تھا نازنین کے اسطرح ہاتھ جھلانے سے سونی کا بازو پھوڑے کی طرح کراہ اٹھا
“ہاۓ اماں” سونی کراہی
“مہارانی بیگم اب آپکو بخار نہیں اٹھ جا تیرے باپ کے ہم نوکر نہیں لگے ہوئے ” نازنین کی یہ بدتمیزی باہر تک أرام سے پہنچی اور چوہدری نے اماں کو دیکھا جو جز بز ہو رہی تھیں
اس لڑکی کو چوہدری کا خیال کرتے ہوۓ کم سے کم زبان کو تو لگام دینی چاہئے
اماں کو أج کچھ زیادہ ہی غصہ آرہا تھا
“ہم خود اندر انہیں دیکھ آتے” اور چوہدرج سجاول کمرے میں داخل ہوۓ جہاں سونی چارپائی سے اٹھنے کی کوشش کرہی تھی اور نازنین لا تعلق سے کھڑی تھی
چوہدری کو دیکھ کر نازنین نے فوراً بناوٹی مسکان ہونٹوں پر سجا لی
“آپ لیٹی رہے آپ تو کافی بیمار لگ رہی ہیں”
سجاول دیکھ کر حیرت میں گھر گئے تھے
یہ تو کل والی سونیا لگ ہی نہیں رہی تھی جو انہیں کل ملی تھی
اسکے دل کی بنجر حالت اسکے چہرے سے عیاں تھی
دل ٹوٹنے کا غم معمولی نہیں ہوتا وہ انسان جسے سب کچھ مان لیا جاۓ اگر وہ دھوکہ دے جاۓ اس دھوکے پر یقین کرنا جتنا مشکل ہوتاہے اسےزیادہ مشکل انسان کا سمبھلنا جاتا ہے
سونی بھی رات سے خود کو سمبھال سمبھال کر ٹوٹ چکی تھی
“دوا دی آپکو ؟ ” چوہدری سجاول اب براہ راست سونی سے پوچھ رہے تھے کیونکہ اسکی ماں بہن کا رویہ تو وہ دیکھ ہی چکے تھے
کچھ کھلایا آپنے سونیا کو؟” اب وہ نازنین سے پوچھ رہے تھے جو وہاں کھڑی سجاول کو پنکھا جھل رہی تھی
“اب یہ اتنی بیمار بھی نہیں ہے خود لے سکتی ہے ہاتھ پاؤں اسکے سلامت ہے” نازنین کو تو وہ چارپائی پر لیٹی انتہا کی بری لگ رہی تھی کجا اسکے لئے وہ کچھ پکاۓ
سونی اسے ایک آنکھ تو کیا آدھی آنکھ بھی نہیں بھاتی تھی
بچپن سے اسکے حسن کے قصیدے سن سن کر اسکے اندر سونی کے لئے بہت حسد پیدا ہو چکا تھا اور یہ حسد نفرت کا روپ لئے اسکے دل میں جڑیں پکڑ چکا تھا نازنین کا دل چاہتا تھا وہ سونی کا خوبصورت چہرہ بگاڑ کر رکھ دے
“میں جو پھل لے کر آیا ہوں وہ ٹھنڈا کر کے کاٹ کر لائیں اور سونیا کو کھلائیں” نازنین پاؤں پٹختی کمرے سے نکلی
اور سجاول سونیا کے ابا سے آج بات کرنے کا سوچ رہا تھا ورنہ یہ دونون ماں بیٹیاں اس معصوم کو مار ہی ڈالے گی
سجاول کمرے کے وسط میں کھڑا سونی کے بیمار چہرے کو دیکھ رہا تھا جو ایک ہی دن میں کملا گیا تھا جسے کئیر کی بہت ضرورت تھی
نازنین بہت بری طرح سے پھل کاٹ کر لائی تھی سجاول کا دل کیا اس پھوہڑ لڑکی کو ایک کس کر لگاۓ
مگر ضبط کر گئے
“سونیا کو میرے سامنے کھلاۓ” نازنین کو سونی کی خدمت کرنا دنیا کا خوف ناک کام لگ رہا تھا مگر سجاول جیسے رئیس کے لئے وہ خاموشی سے کرہی تھی
اماں کھانا پکانے میں ہلکان ہوئی جا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ سونی کو بدعا دے رہی تھیں جس کی بیماری کی وجہ سے انہیں یہ دن دیکھنا پڑ رہا تھا
دونوں ماں بیٹی خود غرضی کی بلند ترین چوٹی پر کھڑی تھیں
————————-
یہ تقسیم سے پہلے کا دہلی شہر ہے یہاں کے بازاروں کی رونق تقسیم سے پہلے بھی اپنے عروج پر تھی
1927 میں برطانوی حکومت نے اسے “نیودہلی” کا نام دیا اور 1931 میں اس شہر کو دارلحکومت بنا دیا گیا اس لحاظ سے بھی اس شہر کی ایک اپنی شان تھی.
پرانا قلعہ اس شہر کی بہت بڑی شان تھا جو شیر شاہ سوری نے دفاع کی خاطر تعمیر کرایا تھا
اور اس شہر کے ایک گلی کوچے میں جہاں مسلمان بھی رہتے تھے وہی ایک بڑی حویلی مشہور تھی جہاں سکھ خاندان مسلمانوں کے بیچ آباد تھا
صبح صبح اس خاندان میں ہلچل برپا تھی امن سنگھ نے کالج جانا تھا
پاون سنگھ نے کام پر اور انکے پتا نے آج پٹواری سے ضروری ملنا تھا
کوشلیہ جلدی جلدی سب کو ناشتا پروس رہی تھی
کلدیپ سنگھ سو رہا تھا اسے اس شور ہنگامے کی زرا پروا نہیں تھی
امن سنگھ جلدی جلدی ناشتا کر کے کالج بس میں سوار ہوا اور سیٹھی پر کوئی غزل گنگنا رہا تھا
وہ دلی شہر کے مشہور کالج میں زیرِ تعلیم تھا جہاں لڑکیاں اور لڑکے ایک ساتھ تعلیم حاصل کرہے تھے اور انہی سب میں امن سنگھ کی کتنی لژکیوں سے دوستی تھی اسکی سہی تعداد بتانا کٹھن تھا اور یہ دوستی کس نہج پر قائم تھی یہ بھی بتانا سہل نہیں تھا
امن کالج میں بہت خوش گوار موڈ میں داخل ہوا اور اچانک ہی وہ نیتا سے بری طرح ٹکرا گیا دونوں کے ہاتھوں سے کتابیں جا گریں
“او امن یو آر ویری ناٹی” نیتا بالوں کو جھٹک کر ایک ادا سے بولی
امن اسے دیکھتا ہی رہ گیا
خوبصورتی اسکی بہت بڑی کمزوری تھی اور نیتا خوبصورتی سے مالا مال تھی
“کہیں لگی تو نہیں ” امن زمین پر گری کتابوں کو اٹھاتا ہوا بولا اور نیتا کے ہاتھوں میں اسکی کتابوں کو دیتے ہوۓ اسکے سفید ہاتھوں کو ارادا چھو گیا
نیتا نے اسکی اس حرکت پر پیار بھرا گھورا
امن سنگھ کی پرسنیلٹی عام سکھوں سے مختلف تھی وہ ایک سٹائلش سکھ تھا
جو باقاعدہ ورزش کر کے اپنے جسم کو بہت مضبوط بنا چکا تھا بلیک بیلٹ نا ہوتے ہوئے بھی وہ دس بندوں کو أرام سے مار گرایا کرتا تھا
گندمی رنگت اس پر خوب جچتی تھی وہ ایک خوبصورت نوجوان تھا جو اپنی عمر سے بڑا دیکھائی دیتا تھا
اسی لئے لڑکیاں کچی ڈور کی طرح اسکی جانب کھنچی چلی آتی تھی
اور وہ اس سب کا خوب فائدہ اٹھایا کرتا تھا
“امن سدھر جاؤ” نیتا اسکے چہرے پر فوکس کئے ہوئے بولی
“میں تو سدھرنے کو تیار ہوں بس تم جیسی حسینہ سامنے نا أۓ تو” اس دفعہ امن نے نیتا کو آنکھ ماری
نیتا قہقہ لگ کر ہنس دی
“گندے بچے کلاسں میں جاؤ” اور امن سنگھ کو باۓ بولتے ہوئے وہ کالج میں گم ہو گئی
امن اختتام تک اسے دیکھتا رہا اور پھر اپنی کلاس میں داخل ہوا اور اپنی سیٹ پر ابو بکر کو دیکھ کر اسکے ماتھے پر تیوریاں پڑ گئی
امن سنگھ مسلمانوں کو سخت نا پسند کرتا تھا اور حلانکہ اسکی فیملی مسلمانوں کو بہت پسند کرتی تھی اسکی ماں باقاعدہ مسلمانوں کے تہوار پر مبارک باد دیا کرتی تھی مگر وہ مسلمانوں کو سخت نا پسند بلکے نفرت کیا کرتا تھا
پلید انسان میری جگہ پر کیسے بیٹھا ہے
امن سنگھ غصے سے بھرا ہوا سیٹ پر گیا اور ابو بکر کا بیگ اٹھا کر دیوار میں دے مارا
ابو بکر ہق دق امن سنگھ کی یہ بے حودا حرکت دیکھ کر اپنی مٹھیاں بھینچ گیا
جہاں امن سنگھ کی أنکھوں میں اسکے لئے نفرت تھی وہی ابو بکر کی أنکھیں غصہ سے سرخ ہو گئیں تھی
