Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Teri Chah Ka Mousam 1947 (Episode 04)

Teri Chah Ka Mousam 1947 by Eshal Khan

ابو بکر اور امن سنگھ دونوں أمنے سامنے کھڑے تھے

مگر ابو بکر کچھ بھی کہے بغیر اپنا پھینکا گیا بیگ اب جھک کر اٹھا رہا تھا اور بنا امن کو دیکھے دوسری سیٹ پر بیٹھ گیا

سب لڑکے لڑکیاں دونوں کو دیکھ رہے تھے

امن سنگھ نے ابو بکر کی بہت بڑی تذلیل کی تھی اور یہ آج کی بات نہیں تھی وہ ہمیشہ سے ابو بکر کو زلیل کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتا تھا چاہے اکیلے میں ہو یا سب کے سامنے

امن سنگھ کی خود سے نفرت وہ سمجھتا تھا

امن سنگھ اسکی وجہ سے ہمیشہ دوسری پوزیشن پر آتا تھا کیونکہ پہلی ہوزیشن ابو بکر کی ہوتی تھی

امن سنگھ ابھی بھی اسے نفرت سے دیکھ رہا تھا

اسکی نفرت مسلمانوں سے کم ہونے کی بجاۓ دن با دن بڑھتی جا رہی تھی

اب جب کے امن سنگھ ابو بکر کو ذلیل کر چکا تھا اسکے باوجود امن کے دل کی بے جپن کم نہیں ہو رہی تھی وہ گھر آکر بھی اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا

“کیا بات ہے کن سوچوں میں گم ہے امن” ماں اسے گم صم دیکھ کر پوچھےبنا نہیں رہ سکی تھی” اور اسکے ساتھ والے پلنگ پر أبیٹھی

“کچھ نہیں ماں بس پڑھائی کے بارے میں سوچ رہا ہوں پہلی پوزیشن لینی ہے”

امن سنگھ اس بار ہر حال میں پہلی پوزیشن حاصل کرنا چاہتا تھا اسکا دماغ وہی چل رہاتھا

“ماں میں اس دفعہ ٹیوشن پڑھوں گا” وہ ماں سے کہہ رہا تھا

“میں نے تو تمہیں کتنی بار کہا ہے پچھلی گلی والے استاد سے پڑھو مگر تم ہی مسلم سے نہیں پڑھتے ” ماں نے اسے گھورا

“ماں یہ مسلمان بد مذہب ہیں مجھے نہیں پسند ان سے مجھے بو أتی ہے” امن اکتا کر اٹھ بیٹھا اور لیٹی ہوئی ماں کے پاؤں دبانے لگا

اسے اپنی ماں بہت عزیز تھی

اسکے پاؤں دبانے پر ماں مسکرا دی

“امن سنگھ تجھے پتا ہے تو چاند کی 14 تاریخ کو پیدا ہوا اور اس دن بہت خوش نصیب پیدا ہوتے ہیں جن سے گورونانک نے بہت عظیم کام لینے ہوتے ہیں ” اسکی ماں آنکھیں بند کئے بول رہی تھی “میرے چاند تو دیکھنا بہت عظیم کام انجام دےگا”

امن کو ان باتوں پر یقین نہیں تھا مگر وہ خاموشی سے سن رہا تھا

امن کے پتا بھی ساتھ بیٹھے حقہ گڑ گڑا رہے تھے

انکے سر پر دستار تھا جسے وہ کبھی نہیں اتارتے تھے

اس دستار کو وہ اپنی شان سمجھتے تھے

“تجھے مسلمانوں سے اتنی چڑ کیوں ہے ہمارے اچھے پڑوسی ہیں دل بڑا کر ورنہ بٹوارہ ہو جاۓ گا اس دھرتی کا ” پتا جی آج اسکی کلاس لینے کے موڈ میں تھے

امن سنگھ خاموش رہا تو پتا جی بولے ” یہ سر زمین بہت پاوتر ہے امن اسے نفرت کی بھینٹ نا چھڑھا اپنی سوچ بدل یہی بہتر ہے ” امن نے خاموشی سے سر ہلایا مگر وہ اپنے پتا کی بات کو ایک کان سے. سن کر دوسرے سے نکال. چکا تھا

اگلے دن وہ کالج گیا تو ابو بکر اب اسکی سیٹ پر بیٹھنے کی جرات نا کر سکا ہر انسان کو اپنی عزت عزیز ہوتی ہے اور امن جیسے سکھوں کے اندر لحاظ کم ہی ہوتا ہے

امن اسے دیکھ کر طنزیہ مسکرایا

اور اسکی سیٹ پر ہاتھ رکھا اور بولا “کیا ہوا ابو بکر آج تم کیوں میری سیٹ پر نہیں بیٹھے” امن کی أنکھوں میں نفرت بھری شرارت تھی

ابو بکر اسے خاموشی سے دیکھتا رہا

“تم مسلم اتنے ڈرپوک کیوں ہوتے ہو؟” امن تھوڑا جھکا ہوا اسکی أنکھوں میں دیکھ رہا تھا

“امن سنگھ میں تمہارے پاس نہیں آیا تم کیوں میرے پاس آکر میرا صبر آزما رہے ہو؟” ابو بکر اب کھڑا ہو گیا

“تو کیا کر لوگے تم؟” امن اب ہنس دیا

“سن رہے ہو آپ لوگ یہ مجھے ڈرا ریا ہے” امن سنگھ اب کلاس فیلو سے کہہ رہا تھا ” تم بزدل مسلماں ہو ہمارے ٹکڑوں پر پلنے والے تم مجھے آنکھ دیکھا رہے ہو تمہاری اوقات ہی کیا میرے سامنے؟” امن نفرت کا جہاں لیے ابو بکر کے روبرو تھا “تمہیں تو میں چیونٹی کی طرح مسل کر رکھ دوںگا “

ابو بکر اب اسے خاموشی سے دیکھتا رہا اور پھر سکون سے بولا

“تمہاری اس نفرت کی وجہ” ابو بکر اسے اب بازو باندھے سوال کرہا تھا

“کیوں کہ تم بد مزہب ہو” امن کی آواز میں کتے کی غراہٹ کی

“اگر میں سکھ نہیں تو بد مذہب اسی لئے قابلِ نفرت ہوں” اب ابو بکر تھامس کی طرف متوجہ ہوا جو اسکے ساتھ سیٹ پر بیٹھا ہوا تھا ” یہ سکھ نہیں کیا اس سے بھی تم نفرت کرتے ہو”

تھامس بھی بد مذہب والی بات پر غصہ سے کھڑا ہوچکا تھا

“یہ ٹینا تو سرے سے کسی گاڈ کو مانتی ہی نہیں کیا یہ بھی بد مذہب ہے اس سے بھی امن سنگھ تم نفرت کرتے ہو؟ اوم گورو نانک گاڈ کو نہیں مانتا یہ دیوی ماں کا بھاگت ہے کی یہ تمہاری نظر میں بد مذہب ہوا اب تم اسے بھی نفرت کرتے ہو” ابو بکر نے جس جس کی طرف اشارہ کیا تھا سب ایک ایک کر کے کھڑے ہو چکے تھے اور اب غصہ سے امن سنگھ کو گھور رہے تھے

امن ایک دم گھبرا اٹھا تھا ” تم لوگ ہماری دھرتی ماں کے بٹوارے کی بات کرتے ہو تم لوگ ہی صرف بد مذہب ہو” امن غصے سے اب پاگل ہونے لگا تھا ” محمد علی اس ملک کو بانٹ دینا چاہتا ہے اور تم کہتے ہو میں تم سے نفرت کیوں کرتا ہوں”

ابو بکر تھامس کی طرف متوجہ ہوا “تھامس کوئی تمہیں بد ذات کہے تمہیں بد مذہب کہے کیا تب بھی تم وہاں رہنا چاہوں گے کیا تم بٹوارا نہیں چاہو گے ” اابو بکر امن کی طرف مڑا ‘”اب دیکھ لو کتنا فرق ہے تمہاری اور ہماری سوچ میں ہم لوگ اقلیتوں کی عزت کرتے ہیں دوسرے مذاہب کا احترام کرتے ہیں انہیں انکی مذہبی رسوم سے نہیں روکتے مگر تم لوگ ہمیں گاۓ زبح کرنے پر مشکلات سے دوچار کرتے ہو نماز میں ہماری مساجد بند کرواتے ہو ہمارا رہن سہن تم سے مختلف ہے الگ ریاست الگ ملک ہماری بہت بڑی ضرورت ہے اور ابھی بھی تم کہہ رہے ہو بٹوارے کی بات کیوں کرہے ہو ؟ “

تھامس ابو بکر کی بات پر کہہ اٹھا ” میں تمہاری بات سے اگری کرتا ہوں دو الگ سوچ والی قوموں کو اپنی الگ ریاست قائم کرنے کی پوری آزادی ہے” تھامس امن سے کہنے لگا ” تمہیں ابو بکر کتنا نا پسند ہے تمہیں خوش ہونا چاہئے یہ پھر یہاں سے چلا جاۓ گا ہر انسان کو اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانی چاہئے میں ابو بکر کے ساتھ ہوں” تھامس نے ابو بکر کے کاندھے پر ہاتھ رکھا

تھامس کو امن سنگھ کا غرور بھرا لہجہ پسند نہیں تھا

اب تھامس نے ابو بکر کو پیچھے کیا اورخود آگے آیا “بتاؤ تم ہمیں بد مذہب کیوں کہتے ہو؟” تھامس نے اپنی بازون کی أستین کو فولڈ کرتے ہوۓکہا

بےشک تھامس مضبوط تھا مگر امن کے سامنے نہیں اور تھامس نے امن کی طرف قدم بڑھائے

امن کو اس صورتحال کی امید نہیں تھی مگر اب پیچھے ہٹنا بزدلی تھی

وہ دوسرے کلاس فیلو کو خود پر ہنسنے کا موقع نہیں دینا چاہتا تھا اور تھامس جیسے کو تو وہ ایک منٹ میں زمین پر گرا سکتا تھا

“تم بیچ میں مت آؤ میں نے تمہیں نہیں کہا مین نے اس جہنمی کو کہا ہے اسی لئے تم سائیڈ پر ہو جاؤ”

تھامس کو مزید غصہ آنے لگا

“ہم اہلِ کتاب ہیں تم اسے نہیں مجھے جہمنی کہہ رہے ہو تمہاری اتنی جرات کیسے ہوئی “تھامس امن کا گریبان پکڑ چکا تھا

اور امن جیسے مغرور کے لئے یہ ناقابلِ برداشت تھا امن نے بنا سوچے تھامس کو مکا جڑ دیا

امن سنگھ کا مکا عام مکا نہیں تھا وہ اس عمر میں بھی ایک مضبوط مرد تھا سٹرونگ مسلز والا امن سنگھ کا مکا کھا کر تھامس کے منہ سے خون ابل پڑا

“رک جاؤ امن” ابو بکر دونوں کے درمیان میں آگیا

امن نے غصے سے ابو بکر کو دیکھا “فساد کی جڑ تو تم ہو تمہیں تو میں ذندہ نا چھوڑوں اب”

تھامس سمبھل.کر اب امن کی طرف أرہا تھا اور کرسی اثھا کر تھامس نے امن سنگھ کو مارنی چاہی اسے وقت سر کلاس میں آۓ “یہ کیا ہو رہا ہے” سر امیت زور سے بولے

تھامس سر کے پاس گیا اور اپنا خون دیکھایا

“یہ کس نے کیا؟” سر نے اپنا رومال تھامس کو دییا تاکہ وہ اپنا خون صاف کر سکے

“سر امن سنگھ نے وہ ہمیں بد مذہب اور جہنمی کہتا ہے اور پھر یہ مکا مارا”

امن آج بہت برا پھنسا تھا

سر نےامن کی بہت بری طرح کلاس لی اور سب کے سامنے اسٹک الگ بری طرح ماری

“اس دفعہ میں تمہیں کالج سے نہیں نکلوا رہا مگر یہ تمہارا لاسٹ چانس ہے یہاں سے تو تم نکالے جاؤ گےاور تمہیں کہیں بھی ایڈمیشن نہین ملے گا

سر. نے امن کو اسی وقت کلاس سے نکال دیا اور ایک ہفتہ تک کلاس سے اسے بر خاست کر دیا

—————–

رائٹر کی اجازت کے بنا کاپی پوسٹ اور پی ڈی ایف لنکس مت بنائیں یہ قانونی جرم ہے۔ اس ناولٹ کے تمام جملہ حقوق عیشل خان آفیشل ٹیم پاس محفوظ۔ شکریہ

چوہدری سجاول جا چکا تھا

مگر دونوں مان بیٹی کا میٹر گھوم گیا

“ہم. اسکے نوکر لگ رہے ہیں نا اسکی سیوا کرین خدمت کریں اسکی ماں مرنے سے پہلے ہمیں اسکا خادم بنا کر چھوڑ گئی تھی نا” یہ آواز لہجہ نازنین کا تھا

وہ سونی جو مفت کی نوکرانی بنی گھر کے سب کام بنا ہنگامے کے نجانے کب سے کرتی آرہی تھی اسکے لئے صرف ایک دن کام. کرنے پر دونوں پاگل. ہو رہی تھی

سونی اندر ٹپ ٹپ آنسو بہا رہی تھی

دل کی دنیا بنجر تھی

جنت تک وعدے کرنے والا شیری دنیا میں بھی نبھا نا کر سکا

جس مرد کو گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے کا چسکا لگ جاۓ چاہے وہ بیوی ہو یا محبوبہ وہ ایک پر اکتفا نہیں کرتا وہ منہ کا ذائقہ بدلتا رہتا ہے

شاید شہریار کا شمار بھی انہی میں ہوتا تھا

مگر سونی کے لئے تو بہت بڑی قیامت تھی اس تپتی دھوپ میں شیری ہی اسکے لئے ایک ایسا سایا تھا جس کے ساۓ میں بیٹھ کر وہ ہر غم بھلا دیا کرتی تھی مگر وہی اسے بہت بڑا غم دے گیا تھا

“اٹھتی ہے یا تجھے بتاؤں آکر” اماں اسکے کمرے میں آکر دہاڑی

سونی با مشکل اٹھ سکی تھی مگر چکرا کر رہ گئی

دل کیا اس غم بھری دنیا سے کہیں دور بھاگ جاۓ

اسی پل ابا گھر میں داخل ہوۓ اسے اس طرح کھڑا دیکھ کر بری طرح پریشان ہو گئے “سونی بیٹا کیا ہوا جا کر اپنے کمرے میں بیٹھ میں تیرے لئے اچھی والی بسکٹ لایا ہوں چاۓ کے ساتھ لاتا ہوں”

وہ با مشکل کھڑی تھی اور آہستہ أہستہ آکر باہر تخت پر بیٹھ گئی

اگر سونی کی زندگی کہ یہ برے دن تھے تو اماں اور نازنین جیسے کام چوروں کی بھی أزمائیش بھرے دن تھے

“أج تو میری بڑی بے عزتی کروائی ہے تم دونوں نے” سونی کو ابا کی آواز کچن سے آئی

“چوہدری سجاول آیا تھا کہہ رہا تھا تمہاری بیٹی بیمار ہے کسی نے اسے پانی تک کا نہیں پوچھا تم یہاں کام پر آۓ ہو پیچھے وہ مر مرا جاۓ گی” ابا کافی غصے میں تھے

چوہدری کے سامنے ابا نے بہت سبکی محسوس کی تھی

“اور اس مہارانی کی کتنی خدمت کریں اب ہم سے اس عمر میں اب یہ کام نہیں ہوتے تمہیں ذیادہ درد اٹھ رہے ہیں تو تم خدمت کرو مجھ سے امید نا لگاو” اماں کا صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا تھا

ابا کو اماں سے اتنی بد لحاظی کی امید نہیں تھی

وہ کافی دیر خاموش رہےانہیں دلی صدمہ ہوا تھا

باہر بیٹھی سونی نے بھی سب سنا اور وہ خاموشی کچن میں چلی آئی خود کو سمبھالتی ہوئی

ابا کی خاطر

“ابا میں ٹھیک ہوں لائیں میں خود کام کر لیتی ہوں”

سونی نے مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوۓ کہا

سونی کے دماغ میں جھکڑ چل رہے تھے مگر ابا پر اسے رحم آگیا

اماں فوراً کچن سے نکلی کہ اب سارے کام سونی سمبھالے گی

اور ابا یہ سوچ رہے تھے سونی کو جلد یہاں سے کبریٰ کے پاس بھیجے

ابا نے کبھی اماں پر سختی نہیں کی تھی اسی لئے آج اماں ابا سے بلکل ڈرتی نہیں تھیں

ابا خاموشی سے کچن سے نکل آۓ جہاں انکی بیمار بیٹی اب چولہے کے أگے بیٹھی ہوئی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *